24/01/2026
علی ہر صبح الارم بند کر دیتا تھا۔
“پانچ منٹ اور…”
یہ پانچ منٹ دنوں میں بدلے، دن مہینوں میں، اور مہینے برسوں میں۔
وہ سوشل میڈیا پر کامیاب لوگوں کی ویڈیوز دیکھتا، موٹیویشنل کوٹس شیئر کرتا، اور خود کو یقین دلاتا کہ “ایک دن میں بھی کچھ بڑا کروں گا۔”
مگر وہ دن کبھی نہیں آتا تھا۔
ایک شام وہ ایک پرانے دوست سے ملا۔ دوست عام کپڑوں میں تھا، مگر آنکھوں میں اعتماد تھا۔ باتوں باتوں میں پتا چلا کہ وہ اپنا کام شروع کر چکا ہے، ناکام بھی ہوا، گرا بھی، مگر رکا نہیں۔
علی نے گھر آ کر آئینے میں خود کو دیکھا۔
وہی خواب، وہی بہانے، وہی ڈر۔
اسی رات اس کا فون بند ہو گیا۔ انٹرنیٹ نہیں تھا۔ خاموشی تھی۔
پہلی بار اُس نے خود سے بات کی۔
“اگر آج بھی نہیں بدلا، تو کب؟
اگر میں نے خود کو نہیں جگایا، تو کوئی نہیں آئے گا۔”
اگلی صبح الارم بجا۔
اس بار اس نے بند نہیں کیا۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی—
یہ وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں بہانے ختم ہوں۔
یاد رکھو:
دنیا اُنہیں نہیں یاد رکھتی جو جاگنے کا ارادہ رکھتے تھے،
دنیا اُنہیں یاد رکھتی ہے جو جاگ گئے۔