21/05/2026
نظامِ اراضی و ملکیت — جدید بندوبست کا سفر
حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت سے لے کر موجودہ دور کی ڈیجیٹائزیشن تک، لینڈ ریکارڈ سسٹم نے شفافیت، انصاف اور عوامی سہولت کے سفر میں کئی اہم مراحل طے کیے۔
شیر شاہ سوری کے منظم نظام، مغلیہ دور کی اصلاحات، برطانوی قانونِ اراضی، قیامِ پاکستان کے بعد ریونیو قوانین، اور آج خیبر پختونخوا میں جدید کمپیوٹرائزیشن و ڈیجیٹائزیشن-
یہ تمام اقدامات زمینوں کے ریکارڈ کو محفوظ، درست اور عوام دوست بنانے کی ایک تاریخی جدوجہد کی عکاسی کرتے ہیں۔
سن 2022 میں صوبائی حکومت خیبر پختونخواہ نے ضلع دیر پائین، ضلع دیر بالا اور تحصیل کالام میں جدید ترین آلات اور جدید ڈیجیٹل بندوبست اراضیات کا آغاز کیا، جس کا مقصد زمینوں کے ریکارڈ کو شفاف، محفوظ اور عوام کے لیے آسان بنانا تھا۔
اس جدید نظام کے تحت رابطہ عوام، شجرہ نصب، ٹھاک بست، پیمائش، کھتونی مالکان، تکمیلی کام، تصدیق آخرِ گرداور، پرچہ کتھونی، تصدیق آخرِ تحصیلدار، واجب العرض، ایم آئی ایس اور مثلِ حقیقت اور حوالگی ایس ڈی سی سمیت تمام مراحل کو جدید انداز میں مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ اراضی ریکارڈ میں درستگی، شفافیت اور عوامی اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔
محمد یونس یوسفزئی
سیٹلمنٹ آفیسر ضلع دیر پائین