18/08/2026
دنیا کے سب سے بڑے بیٹری سے چلنے والے الیکٹرک طیارے نے پہلی مرتبہ کامیاب آزمائشی پرواز مکمل کرلی، جسے ماحول دوست ہوابازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
گلف نیوز کے مطابق سویڈن میں قائم اور امریکا میں سرگرم کمپنی’’ ہارٹ ایرو اسپیس ‘‘ نے 12 اگست 2026 کو نیویارک کے پلاٹس برگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے مکمل جسامت والے ’’ایکس ون‘‘ طیارے کو پہلی بار کامیابی سے فضا میں اڑایا۔
کمپنی کے مطابق ایکس ون تقریباً 27 منٹ تک فضا میں رہا اور اس دوران 335 میٹر، یعنی تقریباً 1,100 فٹ کی بلندی حاصل کی۔ 11 ٹن سے زائد وزن رکھنے والے اس تجرباتی طیارے میں بیٹری سے چلنے والی چار برقی موٹرز نصب ہیں، جو مجموعی طور پر ایک میگاواٹ سے زیادہ طاقت پیدا کرتی ہیں۔
اس آزمائشی پرواز کی ایک دلچسپ بات یہ رہی کہ طیارے نے تقریباً 5 ڈالر مالیت کی بجلی استعمال کی۔ تاہم کمپنی نے واضح کیا کہ یہ صرف پرواز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت ہے، جس میں پائلٹ، ایئرپورٹ فیس، انشورنس، بیٹری اور دیگر آپریشنل اخراجات شامل نہیں۔
ایکس ون مسافروں کی باقاعدہ نقل و حمل کے لیے تیار کیا جانے والا حتمی طیارہ نہیں بلکہ ایک تجرباتی پلیٹ فارم ہے۔ اسے بیٹری، برقی موٹرز، طیارے کے مختلف نظام اور پیداواری طریقہ کار کو حقیقی پرواز میں جانچنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ہارٹ ایرو اسپیس کا اصل ہدف 30 نشستوں والا ای ایس-30 علاقائی طیارہ تیار کرنا ہے۔ کمپنی کے منصوبے کے مطابق یہ طیارہ تقریباً 200 کلومیٹر تک مکمل طور پر برقی توانائی پر پرواز کرسکے گا، جبکہ ہائبرڈ نظام کے ذریعے اس کی پرواز کی حد 800 کلومیٹر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
کمپنی کے مطابق ای ایس-30 کو خاص طور پر مختصر فاصلے کے سفر اور چھوٹے شہروں کو ایک دوسرے سے ملانے والے روٹس کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ ایسے فضائی راستوں پر روایتی ایندھن سے چلنے والے طیاروں کا زیادہ ماحول دوست متبادل فراہم کیا جاسکے۔
Disclaimer: This Content is for Informational and News Purposes Only.