11/06/2026
فیروزی کنارہ
تصویر: NSF Clix
تحریر، ندیم شہزاد فدا
خاورئی، تحصیل جہانگیرہ، ضلع نوشہرہ
خلیج کی خاموش آغوش میں، جہاں آب اپنی شفاف پیشانی پر آفتاب کی کرنوں کا تاج سجاتا ہے، سنگِ گراں کی ایک طویل صف ایستادہ ہے۔ تصویر میں دکھائے گئے چھوٹے چھوٹے پتھر، یہ عام پتھر نہیں، بلکہ گویا زمین کے سینے سے تراشے گئے وہ دیوقامت اجسام ہیں جنہیں وقت نے صدیوں کی ریاضت کے بعد جنم دیا ہو۔ ہر پتھر اپنی جسامت میں ایک داستان اور اپنی خاموشی میں ایک عہد نامہ ہے۔
کہتے ہیں، جب پام جمیرہ ابھی محض ایک خواب تھا اور تصور کے اوراق پر اس کا خاکہ تک مکمل نہ ہوا تھا، تب سمندر نے انسان سے کہا تھا کہ اگر میری وسعتوں میں اپنا خواب تعمیر کرنا چاہتے ہو تو پہلے اپنی استقامت کا ثبوت دو۔ تب دور افتادہ پہاڑوں سے یہ پتھر لائے گئے۔ ایک ایک پتھر اتنا بھاری کہ ایک ٹرک بمشکل دو یا تین ہی منتقل کر سکتا تھا۔ انہوں نے سفر کی صعوبتیں جھیلیں، گرد و غبار کے طوفان سہے، اور آخرکار سمندر کے کنارے آ کر اپنی صفیں بچھا دیں۔ گویا ان کی تقدیر کسی عمارت کا حصہ بننا نہیں، بلکہ ایک خواب کی نگہبانی کرنا تھی۔ برسوں تک مد و جزر کی بے شمار لہریں ان سے ٹکراتی رہیں، مگر یہ خاموش محافظ اپنی جگہ قائم رہے۔ نمک کی تہیں ان پر جمتی رہیں، لیکن ان کی استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی۔
پھر ایک دن، میں نے تقریباً چار سو فٹ کی بلندی سے ڈرون کے ذریعے اس منظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔ زمین پر کھڑے انسان کو محض پتھر دکھائی دیتے ہیں، مگر آسمان کی آنکھ ایک اور ہی منظر دیکھتی ہے۔ ایک جانب فیروزی آب کی بے قرار روانی ہے اور دوسری جانب سنگِ گراں کا خاموش وقار۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت نے حرکت اور ثبات، تغیر اور استقلال کو ایک ہی تصویر میں جمع کر دیا ہو۔
اسی احساس کے تحت میں نے اس تصویر کا نام “فیروزی کنارہ” رکھا۔