24/08/2024
سمجھ میں نہیں آتا کہ میں دنیا کے 200 ممالک کو چھوڑ کر لیبیا، عراق، شام، کشمیر یا غزہ کے لوگوں سے صورتحال کے بارے میں کیوں پوچھوں؟
میں چند سو کلومیٹر دور عمان کے لوگوں سے کیوں نہ پوچھوں؟
میں اس کے پڑوسی متحدہ عرب امارات سے کیوں نہ پوچھوں؟
میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، فن لینڈ، ڈنمارک، سویڈن کے لوگوں سے کیوں نہ پوچھوں؟
میں ہمسایہ ملک بھارت سے کیوں نہ پوچھوں کہ جہاں دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
میں دوسرے پڑوسی چین سے کیوں نہ پوچھوں جو دنیا کا مینوفیکچرنگ حب ہے اور اپنے لوگوں کو انتہائی سستی بجلی فراہم کر رہا ہے۔
میں ویتنام سے کیوں نہ پوچھوں جو چند دہائیاں قبل جنگ کی تباہ کاریوں سے ابھر کر معاشی قوت بن گیا تھا۔
میں تائیوان کے چپ سازی کے بے تاج بادشاہ سے کیوں نہ پوچھوں؟
میں جاپان سے کیوں نہ پوچھوں جو ایٹم بم سے مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا اور قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے ۔
میں مثالی ترقی پذیر ترکی سے کیوں نہ پوچھوں؟
میں اس وقت دنیا میں سب سے تیز جی ڈی پی گروتھ والے افریقی ملک گھانا سے کیوں نہ پوچھوں؟
میں قطر سے کیوں نہ پوچھوں جو ایک انتہائی پرامن اور کاروبار دوست مسلم ملک ہے؟
ایسے ممالک کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے عوام آزادی، امن، ترقی، معاشی خوشحالی اور دیگر سہولیات سمیت ہر چیز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
میں ان تمام ممالک کو تنہا چھوڑ کر عراق، لیبیا، شام اور فلسطین جیسے ممالک سے اپنا موازنہ کیوں کروں؟
یعنی
ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ پاکستان اب لیبیا، شام اور عراق سے بہتر ملک ہے۔
اس زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ میں اس سوال کا جواب کیوں نہ پوچھوں؟