11/04/2026
اشوتھاما
جنگ کے بعد کی دنیا... جہاں آسمان بھی راکھ کا رنگ اختیار کر چکا تھا۔
ایک ایسا شہر جو کبھی خوشحالی کی علامت تھا، اب صرف جلتے ہوئے ڈھانچوں اور تباہ شدہ عمارتوں کا قبرستان بن چکا تھا۔ سڑکیں لاشیں اور جلتی ہوئی گاڑیوں سے بھری پڑی تھیں۔ لوگ امید چھوڑ چکے تھے۔
لیکن ایک آدمی ابھی زندہ تھا۔
اس کا نام تھا اشوتھاما۔
وہ کھڑا تھا تباہی کے ڈھیر پر، بازو پھیلائے ہوئے، جیسے پورے جہنم کو چیلنج کر رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں نہ خوف تھا، نہ ہار۔ صرف ایک بھڑکتا ہوا عزم۔
کہتے ہیں کہ مہابھارت کی جنگ کے بعد اشوتھاما کو لعنت مل گئی تھی — ہمیشہ زندہ رہنے کی، ہمیشہ درد سہنے کی۔ صدیوں گزر گئے، لیکن وہ لعنت اب ایک نئی شکل میں لوٹ آئی تھی۔
اس بار وہ کوئی دیوتا یا راکشس نہیں تھا۔
اس بار وہ ایک عام انسان تھا — جس نے سب کچھ کھو دیا تھا۔
اس کے پیچھے آسمان کو چیرتی ایک بھاری ایٹمی دھماکے کی شکل میں آگ کا طوفان اٹھ رہا تھا۔ جلتی ہوئی کاریں، گرتی ہوئی عمارتیں، اور راکھ کی بارش... سب کچھ اس کی موجودگی میں بے بس لگ رہا تھا۔
لوگ کہتے ہیں کہ جب دنیا کا آخری امید کا چراغ بھی بجھ جائے، تب اشوتھاما اٹھتا ہے۔
وہ نہ تو بچانے آیا تھا، نہ تباہ کرنے۔
وہ صرف ایک پیغام لے کر آیا تھا —
"اگر تم نے مجھے مارا نہیں تو میں تم سب کو زندہ رکھوں گا... درد کے ساتھ۔"
اس کی کہانی نہ شروع ہوئی تھی، نہ ختم ہونے والی تھی۔
وہ تھا — آگ کا بیٹا، تباہی کا گواہ، اور اسی تباہی کا بادشاہ۔
اشوتھاما
جہاں وہ کھڑا ہوتا، وہاں موت بھی رک جاتی تھی... صرف اسے دیکھنے کے لیے۔