10/07/2026
مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب
لیکچرر ڈیپارٹمنٹ اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز یونیورسٹی آف سوات
قوموں کی پہچان ان کے اساتذہ سے ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے معلمین کی عزت کرتی ہیں وہ دنیا میں سرخرو ہوتی ہیں ہمارے دور میں مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب اس عظیم روایت کے امین اور علم و عمل کا حسین نمونہ ہیں۔ وہ صرف لیکچر نہیں، وہ دلوں کے معمار ہیں۔
حقانی صاحب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بیک وقت مدرسہ اور یونیورسٹی دونوں دنیا کے تاجدار ہیں۔
وہ جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے فاضل ہونے کیساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی ہے ہیں۔ قرآن کا نور ان کے سینے میں ہے اور دینی علوم میں گہری بصیرت رکھتے ہیں۔
وہ یونیورسٹی آف سوات کے ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز میں لیکچرر ہیں اور پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں۔
اسی امتزاج کی بدولت ان کے لیکچر میں مدرسے کی روحانیت بھی ملتی ہے اور یونیورسٹی کی تحقیق بھی۔
آپ کی ایک گھنٹہ کی کلاس چند سیکنڈ بن جاتے ہیں آپ روایتی استاد نہیں ان کی کلاس میں بوریت داخل نہیں ہو سکتی۔
سیرت، اصولِ فقہ اور اقبالیات پر ان کو خصوصی دسترس حاصل ہے۔ مشکل سے مشکل مسئلہ وہ سادہ مثال سے سمجھا دیتے ہیں۔
اللہ نے انہیں اردو، پشتو، انگلش، عربی اور کوہستانی زبانوں پر مکمل عبور دیا ہے۔ ہر طالب علم کی ذہن میں آسانی سے بات سمجھا دیتے ہیں۔
آپ کی کلاس کی انذار بہت دلنشین ہے آپ کبھی قرآن کی آیت، کبھی حدیث، کبھی اقبال کا شعر، کبھی تاریخی قصہ، کبھی لطیفہ، کبھی ضرب المثل۔ ان کے یہ "تدریسی ہتھیار" سبق کو دل میں اتار دیتے ہیں۔طلبہ کا جملہ مشہور ہے "سر کی کلاس میں گھڑی کی سوئی نہیں چلتی، علم کی شمع جلتی ہے"
آپ کی شخصیت میں دو رنگ ہیں جو مل کر کمال بنتے ہیں۔ وہ وقت کے بہت پابند ہیں۔ شاگردوں کے غیر حاضر ہونے یا لیٹ آنے پر انہیں حقیقی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کا اصول ہے: علم کی عزت وقت کی پابندی سے شروع ہوتی ہے۔ کلاس کے اندر وہ فوکس اور سنجیدگی کے استاد ہیں۔کلاس سے باہر وہی استاد شفیق والد بن جاتا ہے۔ وہ ہر طالب علم کو نام سے جانتے ہیں۔ ان کی مجلس میں طنز و مزاح، خندہ پیشانی اور رہنمائی کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔
آپ طلباء کو یہ سکھاتے ہیں کہ علم صرف ڈگری نہیں، کردار ہے۔ تحقیق صرف کتاب نہیں، سیرت ہے۔انہوں نے ثابت کیا کہ ایک معلم صرف نصاب نہیں پڑھاتا، وہ نسل سنوارتا ہے۔
مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب ہمارے لیے فخر ہیں۔ وہ علم کے سمندر، ادب کے پیکر اور اخلاص کی مثال ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ان کے علم، عمر اور عمل میں برکت عطا فرمائے۔ ان کی محنتوں کو صدقہ جاریہ بنائے اور ہمیں ان جیسے اساتذہ کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین