Hafiz Roh Ullah Ibrahim

Hafiz Roh Ullah Ibrahim https://youtube.com/? my YouTube channel

  مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحبلیکچرر ڈیپارٹمنٹ اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز یونیورسٹی آف سوات قوموں کی پہچان ان کے اساتذہ ...
10/07/2026


مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب
لیکچرر ڈیپارٹمنٹ اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز یونیورسٹی آف سوات

قوموں کی پہچان ان کے اساتذہ سے ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے معلمین کی عزت کرتی ہیں وہ دنیا میں سرخرو ہوتی ہیں ہمارے دور میں مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب اس عظیم روایت کے امین اور علم و عمل کا حسین نمونہ ہیں۔ وہ صرف لیکچر نہیں، وہ دلوں کے معمار ہیں۔

حقانی صاحب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ بیک وقت مدرسہ اور یونیورسٹی دونوں دنیا کے تاجدار ہیں۔

وہ جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے فاضل ہونے کیساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی ہے ہیں۔ قرآن کا نور ان کے سینے میں ہے اور دینی علوم میں گہری بصیرت رکھتے ہیں۔

وہ یونیورسٹی آف سوات کے ڈیپارٹمنٹ آف اسلامک اینڈ عربک سٹڈیز میں لیکچرر ہیں اور پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں۔

اسی امتزاج کی بدولت ان کے لیکچر میں مدرسے کی روحانیت بھی ملتی ہے اور یونیورسٹی کی تحقیق بھی۔

آپ کی ایک گھنٹہ کی کلاس چند سیکنڈ بن جاتے ہیں آپ روایتی استاد نہیں ان کی کلاس میں بوریت داخل نہیں ہو سکتی۔

سیرت، اصولِ فقہ اور اقبالیات پر ان کو خصوصی دسترس حاصل ہے۔ مشکل سے مشکل مسئلہ وہ سادہ مثال سے سمجھا دیتے ہیں۔

اللہ نے انہیں اردو، پشتو، انگلش، عربی اور کوہستانی زبانوں پر مکمل عبور دیا ہے۔ ہر طالب علم کی ذہن میں آسانی سے بات سمجھا دیتے ہیں۔

آپ کی کلاس کی انذار بہت دلنشین ہے آپ کبھی قرآن کی آیت، کبھی حدیث، کبھی اقبال کا شعر، کبھی تاریخی قصہ، کبھی لطیفہ، کبھی ضرب المثل۔ ان کے یہ "تدریسی ہتھیار" سبق کو دل میں اتار دیتے ہیں۔طلبہ کا جملہ مشہور ہے "سر کی کلاس میں گھڑی کی سوئی نہیں چلتی، علم کی شمع جلتی ہے"

آپ کی شخصیت میں دو رنگ ہیں جو مل کر کمال بنتے ہیں۔ وہ وقت کے بہت پابند ہیں۔ شاگردوں کے غیر حاضر ہونے یا لیٹ آنے پر انہیں حقیقی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کا اصول ہے: علم کی عزت وقت کی پابندی سے شروع ہوتی ہے۔ کلاس کے اندر وہ فوکس اور سنجیدگی کے استاد ہیں۔کلاس سے باہر وہی استاد شفیق والد بن جاتا ہے۔ وہ ہر طالب علم کو نام سے جانتے ہیں۔ ان کی مجلس میں طنز و مزاح، خندہ پیشانی اور رہنمائی کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔

آپ طلباء کو یہ سکھاتے ہیں کہ علم صرف ڈگری نہیں، کردار ہے۔ تحقیق صرف کتاب نہیں، سیرت ہے۔انہوں نے ثابت کیا کہ ایک معلم صرف نصاب نہیں پڑھاتا، وہ نسل سنوارتا ہے۔

مولانا ڈاکٹر حافظ فضل حقانی صاحب ہمارے لیے فخر ہیں۔ وہ علم کے سمندر، ادب کے پیکر اور اخلاص کی مثال ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ان کے علم، عمر اور عمل میں برکت عطا فرمائے۔ ان کی محنتوں کو صدقہ جاریہ بنائے اور ہمیں ان جیسے اساتذہ کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین

  استادِ محترم شکیل احمد صاحب قوموں کی ترقی کا راز اساتذہ کی محنت میں چھپا ہوتا ہے۔ ایک استاد نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ ای...
09/07/2026


استادِ محترم شکیل احمد صاحب

قوموں کی ترقی کا راز اساتذہ کی محنت میں چھپا ہوتا ہے۔ ایک استاد نسلوں کا معمار ہوتا ہے۔ ایسے ہی معماروں میں ایک نام استادِ محترم شکیل احمد صاحب کا ہے۔ وہ صرف استاد نہیں تھے، وہ امید تھے، وہ انقلاب تھے۔

2008 کی بات ہے۔ ہم پرائمری سکول چاگم نمبر 1 میں کلاس 4 کے طالبعلم تھے۔ اس وقت سرکاری سکولوں کا حال بہت خراب تھا۔"اس دور میں تعلیم کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ اکثر اساتذہ اپنے فرائض سے غافل تھے۔ کچھ تو سالوں تک سکول کا رخ ہی نہیں کرتے تھے، اور کچھ اپنی ڈیوٹی کے عوض معمولی اجرت پر کسی دوسرے کو مقرر کر دیتے تھے۔ اگر کوئی مجبوراً سکول آ بھی جاتا تو وہ صرف حاضری لگانے آتا تھا، پڑھانے نہیں۔ نتیجہ یہ تھا کہ بچے اپنا نام تک نہیں لکھ سکتے تھے۔ انگلش تو بہت دور کی بات، اردو اور پشتو کی املاء بھی بہت مشکل تھی۔ کیونکہ اس وقت پرائمری کا نصاب پشتو میں اور میٹرک تک اردو میں تھا۔اسی مایوسی کے عالم میں اللہ نے ہمارے سکول کو شکیل احمد صاحب کی صورت میں نعمت عطا کی۔

استاد محترم نے آتے ہی سب سے پہلے بنیاد مضبوط کی۔
بچے پہلے لکھنا سیکھیں گے، پھر اڑنا سیکھیں گے یہ ان کا اصول تھا۔

انہوں نے اردو اور پشتو کی املاء پر دن رات محنت کی۔ جو بچہ اپنا نام نہیں لکھ سکتا تھا، چند ہفتوں میں وہ مشکل الفاظ درست لکھنے لگا۔ ان کا طریقہ بہت پیارا تھا:
پہلے روزانہ کی بنیاد پر 3 الفاظ، پھر 5 الفاظ، پھر کچھ عرصہ بعد پورا پیراگراف لکھنا شروع کیا تھا۔
روزانہ کی بنیاد پر مشق کرواتے۔ ڈانٹ نہیں، محبت سے سمجھاتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مشکل سے مشکل لکھنا ہمارے لیے کھیل بن گیا۔

شکیل احمد صاحب صرف کتاب نہیں پڑھاتے تھے، وہ زندگی کے آداب بھی سکھاتے تھے۔ ہمیں محنت، نظم و ضبط، سچائی اور ایک دوسرے سے محبت کا درس دیتے تھے۔

ان کی سب سے بڑی قربانی ان کا سفر تھا۔ سکول کا سب سے دور دراز علاقہ ان کا تھا۔ نہ سواری، نہ سہولت۔ روزانہ پیدل ایک گھنٹے سے زیادہ کا سفر طے کر کے وہ اسمبلی سے پہلے سکول میں موجود ہوتے۔ گرمی ہو یا سردی، وہ کبھی لیٹ نہیں ہوئے۔ وہ ہمیں عمل سے سکھاتے تھے کہ "کامیابی کے لیے بہانے نہیں، محنت چاہیے"۔

آج ہم جو بھی ہیں، جیسے بھی اردو لکھ لیتے ہیں، املاء جانتے ہیں، گرائمر سمجھتے ہیں، بول لیتے ہیں یہ سب شکیل احمد صاحب کے مرہونِ منت ہے انہوں نے ہمیں صرف حروف نہیں سکھائے، انہوں نے ہمیں "انسان" بنایا۔

استاد وہ شمع ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ شکیل احمد صاحب واقعی وہ شمع تھے۔ انہوں نے ایک ویران سکول کو علم کا باغ بنادیا۔ ایک کمزور نسل کو باہمت بنا دیا۔

اللہ تعالیٰ استادِ محترم کو صحت، لمبی عمر اور جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ان کی محنت کا مان رکھ سکیں۔ آمین یارب العالمین

  محترم جناب ظہور محمد صاحب زندگی کے ہر میدان میں دیانت، محنت اور علم کی مثال قائم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ جناب ظ...
07/07/2026


محترم جناب ظہور محمد صاحب

زندگی کے ہر میدان میں دیانت، محنت اور علم کی مثال قائم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ جناب ظہور محمد صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو خدمتِ خلق، تعلیم اور حلال رزق کے لیے وقف کر دیا۔

ظہور محمد صاحب نے اپنی قابلیت، محنت اور دیانت کے بل بوتے پر بڑے بڑے عہدوں کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔

جناب ظہور محمد صاحب پہلے ایک عام استاد تھے لیکن ان کا کام، کردار اور لگن کسی عام انسان جیسا نہیں تھا۔ کلاس روم میں قدم رکھتے ہی ان کے چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں علم کا نور نظر آتا تھا۔ وہ نہایت ایماندار اور محنتی تھے۔ وقت کی پابندی، سبق کی تیاری اور ہر طالبعلم پر انفرادی توجہ ان کا خاصہ تھی۔

وہ اپنے مضمون پر مکمل کمانڈ رکھتے تھے۔ خاص طور پر انگلش زبان میں ان کی مہارت مثالی تھی۔ مشکل سے مشکل گرامر کو وہ اتنی سادگی سے سمجھاتے کہ کمزور سے کمزور طالبعلم بھی سمجھ جاتا۔ وہ صرف کتابیں نہیں پڑھاتے تھے بلکہ کردار بناتے تھے۔

آپ کئی سکولوں میں پرنسپل تھے مگر پرنسپل کی حیثیت سے آپ نے درسگاہ کو صرف عمارت نہیں بلکہ علم و ادب اور کردار سازی کا گہوارہ بنایا۔ آپ کے زیرِ انتظام ادارے میں نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور اخلاقی اقدار کو اولین حیثیت حاصل تھی۔ آپ کے سینکڑوں شاگرد آج مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔

آپ نے ایس ڈی او کے منصب پر سرکاری امور میں آپ نے شفافیت اور میرٹ کی نئی مثال قائم کی۔ آپ کا واضح موقف تھا کہ "سرکاری عہدہ عوام کی امانت ہے"۔ آپ نے ہر فائل، ہر منصوبے اور ہر فیصلے میں قوم کے مفاد کو مقدم رکھا۔

آپ کا نام ہی ایمانداری کی ضمانت ہے۔ عہدے کی طاقت کے باوجود آپ نے کبھی رشوت، سفارش اور اقربا پروری کو اپنے دفتر کی دہلیز پر قدم نہیں رکھنے دیا۔ آپ کہتے تھے کہ اللہ کے نزدیک حلال کا تھوڑا بھی بہت ہے، اور حرام کا بہت بھی کچھ نہیں ہے۔

آپ اپنے طلبہ سے بہت محنت کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ محنت کے بغیر کوئی مقام حاصل نہیں ہوتا۔ آپ دفتر سب سے پہلے پہنچتے اور سب سے آخر میں جاتے۔ ہر کام کو خود چیک کرتے اور باریک بینی سے مکمل کرتے۔ آپ کی یہی محنت تھی جس نے ہر ادارے کو ترقی کی راہ پر ڈالا۔

اب ریٹائرڈ ہوا ہے اکثر لوگ ریٹائرمنٹ کو زندگی کا آخری پڑاؤ سمجھتے ہیں، لیکن ظہور محمد صاحب نے اسے خدمت کا نیا آغاز بنا لیا۔ آپ نے رزقِ حلال کمانے کے لیے علاقہ چاگم کے لوگوں کیلے اپنا جنرل سٹور قائم کیا۔

یہاں بھی آپ کے وہی اصول کارفرما ہیں۔ تول میں کمی نہیں، چیز میں ملاوٹ نہیں، اور بات میں جھوٹ نہیں۔ آپ خود صبح سویرے دکان کھولتے ہیں، ہر چیز کا معیار چیک کرتے ہیں اور ہر گاہک کو عزت دیتے ہیں۔ امیر ہو یا غریب، سب آپ کی دکان سے مطمئن ہو کر جاتے ہیں۔ اس عمر میں بھی آپ کی محنت اور لگن نوجوانوں کے لیے سبق ہے۔

جناب ظہور محمد صاحب نے ثابت کررہے ہیں کہ انسان کی اصل پہچان اس کے عہدے سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ آپ نے پرنسپل شپ سے قوم کے معمار تیار کیے، ایس ڈی او شپ سے ادارے سنوارے، اور اب جنرل سٹور سے سینکڑوں گھروں تک حلال رزق پہنچا رہے ہیں۔

آپ جیسی شخصیات کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتی ہے ہماری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمل، عمر اور رزق میں بے پناہ برکت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

    علومِ آلیہ و عالیہ کا آفتاب  فضیلۃ الشیخ مولانا مراد خان فاروقی صاحببعض شخصیات علم کا صرف ایک میدان سنبھالتی ہیں، او...
04/07/2026


علومِ آلیہ و عالیہ کا آفتاب
فضیلۃ الشیخ مولانا مراد خان فاروقی صاحب

بعض شخصیات علم کا صرف ایک میدان سنبھالتی ہیں، اور بعض ہستیاں پوری کہکشاں سمیٹ لیتی ہیں۔ فضیلۃ الشیخ مولانا مراد خان فاروقی صاحب انہی جامع العلوم اساتذہ میں سے ہیں جنہیں دیکھ کر اکابر کا زمانہ آنکھوں میں گھوم جاتا ہے۔

مولانا صاحب نے اپنے علمی سفر کا آغاز 1995 میں جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات سے کیا۔ دو درجات وہاں پڑھنے کے بعد درجہ ثالثہ سے درجہ موقوف علیہ تک جامعہ تعلیم القرآن شاہ پور شانگلہ میں تعلیم حاصل کی اور آخری درجہ براعظم ایشیا کے عظیم ادارہ دارالعلوم کراچی میں پڑھ کر 2003 میں سندِ فراغت حاصل کی۔

استادِ محترم کے مشہور اساتذہ میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی صاحب، شیخ المشائخ مولانا محمد افضل خان شاہ پوری صاحب، حافظ الحدیث شیخ منیر صاحب، شیخ فیاض شاہ پوری صاحب، شیخ عبدالرحیم شاہ پوری صاحب، شیخ سراج الحق المعروف اشاڑے مولوی صاحب، شیخ سلطان عالم المعروف پورن مولوی صاحب اور مولانا امداد اللہ مدنی شاہ پوری صاحب قابلِ ذکر ہیں۔

آپ بیک وقت "علومِ آلیہ" خصوصاً نحو اور اصولِ فقہ اور "علومِ عالیہ" یعنی تفسیر، حدیث، فقہ کے ماہر ہیں۔ آپ کے درس میں جب نحوی ترکیب کھلتی ہے تو طالب علم کو محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ خود بول رہے ہیں۔ اور جب تفسیر کا دریا بہتا ہے تو قرآن کے معانی کے موتی دامن میں بھر جاتے ہیں۔

"فنون" پڑھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ یہ وہ خشک راستہ ہے جہاں ذہن تھک جاتا ہے، مگر آپ کی زبان کی شیرینی اور مثالوں کی سادگی سے مشکل مضمون بھی شہد بن جاتا ہے۔ آپ کے شاگرد گواہ ہیں کہ معقولات کا سبق بھی آپ سے پڑھ کر "منقولات" جیسا لگتا ہے۔

آپ کمزور سے کمزور بچے کو بھی اتنی توجہ سے سمجھاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو کلاس کا ذہین ترین طالب علم سمجھنے لگتا ہے۔ آپ کے نزدیک علم کی کوئی کلاس چھوٹی نہیں ہوتی۔

استاد محترم فرما رہے ہیں کہ:
علم کی عمارت میں ابتدائی قاعدہ پڑھانے والا استاد بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا تفسیر و حدیث پڑھانے والا۔ اور کلاس میں کمزور بچہ بھی اتنا ہی قیمتی ہے جتنا ذہین بچہ۔ دونوں کے بغیر علم کا ادارہ مکمل نہیں ہوتا۔ یعنی کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔ ہر شخص، ہر درجہ اپنی جگہ اہم ہے۔عزت سب کی کرنی چاہیے اور سب کو توجہ دینی چاہیے۔

آپ کی تفسیر کی کلاس میں بیٹھ کر یوں لگتا ہے جیسے قرآن ابھی ابھی نازل ہو رہا ہے۔ شانِ نزول، لغت، نحو، بلاغت اور فقہی احکام سے آپ آیت کا حق ادا کر دیتے ہیں۔ آپ کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں، "قرآن کو دل میں اتارنا" ہے۔

آپ پیشے کے لحاظ سے سرکاری استاد ہیں۔ لیکن آپ کی خدمت صرف کلاس روم تک محدود نہیں۔

ڈیوٹی کے بعد آپ ڈاکٹر کے پیشے سے بھی منسلک ہیں۔ آپ کا علاقہ کالام ہے جو پاکستان کا مشہور سیاحتی مقام ہے۔ یہاں سال بھر لاکھوں سیاح آتے ہیں اور یہ سب کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔

سیاحوں سے ڈبل فیس لینا تو عام بات ہے، مگر مولانا صاحب اس کے برعکس ہیں۔ آپ سیاحوں اور مقامی لوگوں دونوں کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ بغیر فیس کے علاج کرتے ہیں۔ میڈیسن کی قیمت بھی انتہائی کم رکھتے ہیں تاکہ غریب پر بوجھ نہ پڑے۔

نمازِ جمعہ کے بعد مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کا فری معائنہ فرماتے ہیں اور ضرورت کے مطابق گولی لکھ دیتے ہیں۔
اکثر کلاس کے دوران جب کسی مریض کا فون آجاتا تو اٹھا لیتے، اور اگر کوئی بیمار ہو تو کلاس کے بعد خود میسج میں دوائی لکھ کر بھیج دیتے۔

یہی ہیں حقیقی وارثِ انبیاء کہ صبح "شفاء" کے نسخے پڑھاتے ہیں، اور شام کو لوگوں کے جسموں کو شفاء دیتے ہیں۔صبح دلوں کا علاج کرتے ہیں، اور شام کو جسموں کا۔

اللہ تعالیٰ آپ کی دونوں خدمات کو قبول فرمائے اور آپ کے علم و عمل میں مزید برکت اور صحتِ کاملہ کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے۔ آپ کے علم و فیض کو تاایامت جاری رکھے۔آمین یا رب العالمین

03/07/2026
 علم و اخلاص کا مجسم پیکر : شیخ شیرزادہ صاحب صدر مدرس جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی کا ہ...
02/07/2026



علم و اخلاص کا مجسم پیکر : شیخ شیرزادہ صاحب
صدر مدرس جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی کا ہر ورق اخلاص کی روشن سیاہی سے لکھا ہوتا ہے۔ جن کے لیے عہدہ نہیں، خدمت اصل ہے۔ شیخ صاحب انہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک ہیں، جنہیں دیکھ کر سلف صالحین کا زمانہ یاد آ جاتا ہے۔

تیس سال سے زائد عرصہ سے آپ کی زبان قال اللہ و قال الرسول کی صداؤں سے تر ہے۔ صرف و نحو کے گنجلک قواعد آپ کے بیان سے اس طرح حل ہوتے ہیں کہ مبتدی طالب علم بھی ماہر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان بھر کے مدارس میں آپ کے تلامذہ مسندِ درس پر فائز ہو کر علم کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔

آپ کی سب سے بڑی کرامت آپ کی خاکساری ہے۔ دورہ حدیث میں صحیح مسلم شریف اور جامع ترمذی ثانی جیسے عظیم درس آپ کے سپرد ہیں، اور ساتھ ہی آپ درجہ اولیٰ کے نونہالوں کو ترجمہ قرآن کی کلاس بھی اسی محبت اور انہماک سے پڑھاتے ہیں۔ آپ کے نزدیک علم کی کوئی سیڑھی چھوٹی بڑی نہیں۔ مبتدی کا دل جگانا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا منتہی کو کمال تک پہنچانا۔

آپ کی سخاوت کا یہ عالم ہے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ کالام میں زمین کا کوئی تنازعہ ہے ، عدالت میں پیشی کی تاریخ مقرر ہو، تو فریقین مقدمہ پہلے شیخ صاحب سے قیام و طعام کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ آپ کے دسترخوان سے فیض یاب ہو کر، آپ ہی کے گھر سے نکل کر قاضی کی عدالت میں اس کے خلاف کیس لڑنے جاتے ہیں۔ مخالف کو بھی سینے سے لگانا، صرف اہلِ اللہ کا شیوہ ہے۔

نو سال تک آپ نے جامعہ حقانیہ سنگوٹہ کے مدیر کی حیثیت سے ادارے کو اپنی خدمات سے نوازا۔ پھر جب جماعت نے یہ ذمہ داری الشیخ مفتی سید محمود فاروقی صاحب کے سپرد کی، تو آپ نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر مدرس کی حیثیت سے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج بھی آپ اسی ادارے میں ایک عام استاد کی طرح طلبہ کے دلوں میں علم کا نور اتار رہے ہیں۔

آپ کا عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ بڑائی کرسی سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ دل بڑا ہو، خواہ درجہ چھوٹا پڑھانا پڑے یا بڑا۔

اللہ رب العزت حضرت شیخ کے علم، عمل اور اخلاص میں مزید برکت عطا فرمائے۔ آپ کا سایہ ہم پر تا دیر قائم و دائم رکھے اور ہمیں آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین

  مفتی قاری محمد زکریا عابد صاحبعلم دین کی خدمت اور طلبہ کی تربیت کا شعبہ ہمیشہ ایسے مخلص اور محنتی علماء کا محتاج رہا ہ...
28/06/2026


مفتی قاری محمد زکریا عابد صاحب

علم دین کی خدمت اور طلبہ کی تربیت کا شعبہ ہمیشہ ایسے مخلص اور محنتی علماء کا محتاج رہا ہے جو خود کردار، عمل اور نظم و ضبط کا پیکر ہوں۔مولانا محمد زکریا عابد صاحب انہی مبارک ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو علم، تدریس اور تقویٰ کے لیے وقف کر دیا ہے۔

مولانا صاحب کا تعلق تیمرگرہ دیرلوئر سے ہے مولانا موصوف نے قرآن کریم کے نور سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا اور تبلیغی مرکز تیمرگرہ سے حفظ مکمل کیا۔ تجوید کے باریک نکات آپ نے قاری فضل ربی صاحب کی شفقت بھری نگرانی میں سیکھے۔ بنیادی دینی تعلیم درجہ اولی سے درجہ سابعہ تک دارالعلوم اسلامیہ والمعاصرہ بنڑ مینگورہ میں حاصل کی۔

دورہ حدیث اور فقہ کے اعلیٰ مدارج آپ نے سرکاری دارالعلوم سیدو شریف سے طے کیے۔ 2014ء میں اس دارالعلوم سےدورہ حدیث اور 2015ء میں سند افتاء کی تکمیل کے بعد آپ ایک مستند عالم اور مفتی بن کر میدان میں آئے۔

دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی آپ نے بھرپور استفادہ کیا۔ *میٹرک اور ایف اے سوات بورڈ سے، بی اے اور بی ایڈ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے، ایم اے اسلامیات سوات یونیورسٹی سے اور ایم فل سرحد یونیورسٹی سے جاری ہیں

مولانا صاحب خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے جید علماء کی صحبت پائی۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ قاری لطیف اللہ صاحب، شیخ شیرزادہ صاحب، مفتی فضل اکبر صاحب، مفتی سردارز فیضی صاحب،مولانا امیر الرحمن صاحب، مولانا عبدالحمید صاحب، شیخ بخاری فیضان صاحب دیگر کبار اساتذہ شامل ہیں۔قاری سلیم، قاری عبداللہ، قاری معین الدین اور قاری نواز صاحبان سے بھی آپ نے فیض حاصل کیا۔

مولانا زکریا عابد صاحب کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف آپ کا بے مثال نظم و ضبط ہے۔ آپ کے شاگرد اور ساتھی اس بات کے گواہ ہیں کہ "ریگولرٹی میں آپ ایک منٹ بھی وقت کے بعد نہیں آئے حتی الامکان کوشش کی کہ وقت سے پہلے آئیے"۔

اسی پابندیٔ وقت، ایمانداری اور انتظامی صلاحیت کی وجہ سے اکثر مدارس میں آپ کو مدرسے کی نگرانی کا ذمہ سونپا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہ مولانا محمد زکریا عابد صاحب علم، عمل، اخلاص اور نظم کے حسین امتزاج کا نام ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت دے، ان سے دین و درس کا کام لیتا رہے اور ان کے سایہ کو امت کے لیے دیر تک قائم رکھے۔ آمین۔

  مولانا مفتی اسد اللہ صاحبمدرس جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات علم کی دنیا میں بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف فقیہ یا محدث نہ...
27/06/2026


مولانا مفتی اسد اللہ صاحب
مدرس جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات

علم کی دنیا میں بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف فقیہ یا محدث نہیں ہوتیں، بلکہ ادیب بھی ہوتی ہیں۔ جامعہ حقانیہ سنگوٹہ سوات کے لیے مولانا مفتی اسد اللہ صاحب وہی کامل استاد ہیں جن کی ذات میں محبت وشفقت کی صفات جمع ہیں۔

اصول فقہ کی مشہور کتاب "تسہیل الاصول" ایک گہرا سمندر تھی۔ اللہ نے یہ سعادت مولانا مفتی اسد اللہ صاحب کو عطا فرمائی کہ وہ اس کے *سب سے پہلے شارح* بنے۔ آپ نے مشکل اصطلاحات کو آسان مثالوں سے اور خشک قاعدوں کو عملی زندگی سے جوڑ کر بیان کیا۔ جس کتاب سے طلبہ پہلے گھبراتے تھے آج وہ ان کی محبوب کتاب بن گئی۔

آپ صرف ایک کتاب کے استاد نہیں، بلکہ درسِ نظامی کے نقلی، عقلی اور ادبی فنون کے "جامع استاد" ہیں۔ جامعہ حقانیہ میں آپ یہ علوم پڑھاتے ہیں:

1. طحاوی شریف : عقائدِ اہلسنت کا قلعہ۔ توحید، رسالت اور تقدیر کے نازک مسائل کو اس وضاحت سے پڑھاتے ہیں کہ شاگرد کا عقیدہ مضبوط ہو جاتا ہے۔

2.تسہیل الاصول : اصول فقہ کی بنیاد۔ اس کی شرح کے ذریعے آپ نے شریعت کے دلائل کا دروازہ طلبہ پر کھول دیا۔

3.سراجی : علم میراث۔ حساب کے پیچیدہ قاعدوں کو ایسے سمجھاتے ہیں کہ نالائق شاگرد کچھ دنوں بعد خود حصے نکالنے لگتا ہے۔

4.دیوان متنبی ،: عربی ادب کا کمال۔ آپ شاگردوں کو "دیوان متنبی" پڑھاتے ہیں۔ متنبی کے بلند مضامین، فصاحت و بلاغت اور حکمت بھرے اشعار کو اس ذوق سے سمجھاتے ہیں کہ شاگرد کے دل میں عربی زبان کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ ادب کو صرف قاعدہ نہیں پڑھاتے، بلکہ روح سے پڑھاتے ہیں۔

5.شرح الوقایہ کتاب البیوع : فقہِ معاملات۔ خرید و فروخت کے احکام کو آج کے کاروبار سے جوڑ کر سمجھانا آپ کا خاص انداز ہے۔

6.کافیہ اور علم النحو : عربی زبان کی بنیاد۔ نحو کے پیچیدہ قواعد کو مثالوں سے اتنا آسان کر دیتے ہیں کہ قرآن، حدیث اور شعر سمجھنے کی کنجی ہاتھ آجاتی ہے۔

مولانا مفتی اسد اللہ صاحب سنگوٹہ کے اس مبارک ادارے کا علمی ستون ہیں۔ آپ طحاوی سے عقیدہ درست کرتے ہیں، تسہیل سے اصول آسان کرتے ہیں، سراجی سے حق دلاتے ہیں، متنبی سے ذوقِ ادب جگاتے ہیں، بیوع سے حلال کمائی سکھاتے ہیں، اور کافیہ ونحو سے زبان سنوارتے ہیں۔

آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کتاب سے زیادہ شاگرد کو پڑھتے ہیں۔ طلباء کی طبیعت، ان کے مزاج اور ایام کو دیکھ کر آپ اپنا انداز بدل لیتے ہیں، اسی لیے آپ پڑھاتے کم ہیں اور دل میں اتار زیادہ دیتے ہیں۔ کمزور شاگرد آپ کے پاس آکر بیٹا بن جاتا ہے، اور محنت کرنے والا آپ کی ایک دعا سے اڑان بھر لیتا ہے۔ آپ ہر فن کو ایسی مہارت سے سمجھاتے ہیں کہ لگتا ہے بس یہی آپ کا خاص فن ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمر میں برکت عطا فرمائے اور آپ کے اس نورانی فیض کو ہمیشہ جاری و ساری رکھے۔ آمین۔

سانحہ کربلا
26/06/2026

سانحہ کربلا

  شیخ عبدالرحمان صاحبشیخ الحدیث جامعہ دارالقرآن برہ بانڈی سوات وشیخ الحدیث جامعہ ریاض الجنہ سوات علم کی دنیا میں کچھ ہست...
25/06/2026


شیخ عبدالرحمان صاحب
شیخ الحدیث جامعہ دارالقرآن برہ بانڈی سوات وشیخ الحدیث جامعہ ریاض الجنہ سوات

علم کی دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو صرف استاد نہیں ہوتیں، بلکہ شفقت کا سایہ، محبت کا دریا اور اخلاص کا پیکر بن کر شاگردوں کے دل و دماغ پر نقش ہو جاتی ہیں۔ جامعہ دارالقرآن برہ بانڈی سوات اور جامعہ ریاض الجنہ سوات ایسے ہی ایک عظیم استاد کی صحبت سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔

استاد محترم شیخ عبدالرحمان صاحب اعتدال پسندی کی زندہ تصویر ہیں۔ ان کی گفتگو میں نرمی، ان کے عمل میں توازن اور ان کے فیصلوں میں حکمت نمایاں ہے۔ وہ شدت اور افراط و تفریط سے ہمیشہ دور رہ کر قرآن و سنت کی روشنی میں میانہ روی کا درس دیتے ہیں۔ شاگرد ان سے ڈرتے نہیں، بلکہ محبت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو علومِ دینیہ میں غیر معمولی مہارت عطا فرمائی ہے تفسیر میں قرآن کی آیت کی شانِ نزول، لغوی معانی اور عملی تطبیق کو ایسے واضح کرتے ہیں کہ مشکل ترین مقام بھی آسان ہو جاتا ہے۔ شاگرد کہتے ہیں "استاد صاحب پڑھائیں تو قرآن بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے-

حدیث میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے آپ کی سند مضبوط ہے۔ حدیث کے راوی، متن اور فقہی استدلال کو اس ترتیب سے بیان کرتے ہیں کہ درسِ بخاری و مسلم مجلسِ نور بن جاتی ہے۔

فقہ میں مسائل کے دلائل کے ساتھ ان کی علت اور حکمت
بھی سمجھاتے ہیں۔ مقلد کو متعصب نہیں بناتے بلکہ دلیل کی قدر کرنا سکھاتے ہیں۔

بیان و معانی اور دیگر مضامین میں مشکل عربی عبارت کے معانی کو پشتو میں اس خوبی سے منتقل کرتے ہیں کہ درجہ اولیٰ کا طالب علم بھی لطف اٹھاتا ہے۔

آپ صرف مدرسے کے استاد نہیں، شاگردوں کے "بہترین اور پسندیدہ استاد" ہیں۔ ہر طالب علم کو نام سے جانتے ہیں، اس کی کمزوری اور صلاحیت سے واقف ہیں۔ بیمار شاگرد کی عیادت، غریب طالب علم کی خاموش مدد، اور نالائق بچے کے لیے دعا - یہ آپ کا روز کا معمول ہے۔ شاگرد آپ کے سامنے ادب سے بیٹھتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ ہاتھ ڈنڈے کے لیے نہیں، دعا کے لیے اٹھتے ہیں۔

وقت کی کمی کے باوجود آپ جامعہ دارالقرآن برہ بانڈی اور جامعہ ریاض الجنہ مینگورہ دونوں میں بیک وقت شیخ الحدیث کی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ سوات کی سرزمین کے دو بڑے علمی مراکز آپ کے علم و اخلاق سے منور ہیں۔ صبح برہ بانڈی اور دوپہر مینگورہ میں حدیث کا درس- یہ قربانی صرف اخلاص والا استاد ہی دے سکتا ہے۔

آج کے فتنوں کے دور میں آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اعتدال کی تربیت ہے۔ آپ شاگردوں کو بتاتے ہیں: "بیٹا! دین میں سختی نہیں، آسانی ہے۔ اختلاف رائے کو دشمنی نہ بناؤ۔ دلیل سے بات کرو، کردار سے جیتو"۔ اسی لیے آپ کے شاگرد نہ تنگ نظر ہیں نہ لاپروا۔ وہ حقیقی معنوں میں "امتِ وسط" ہیں۔

شیخ عبدالرحمان صاحب جیسے اساتذہ قوم کا سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، عمل اور عمر میں برکت دے۔ آپ کا سایہ ہم پر تادیر قائم ودائم رکھے۔ آمین۔

Address

Shangla Khyber Pakhtunkhwa
Aloch

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Roh Ullah Ibrahim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share