10/07/2026
کائنات میں 2 ٹریلین گلیکسیز ہیں۔
یعنی ایک انسان کہ بدلے 285 گلیکسیز۔ اور صرف ہماری گلیکسی میں 100 ارب سورج جیسے ستارے ہیں۔
فی انسان کے مقابلے 15 ستارے۔
اور ہماری گلیکسی 2 ٹریلین گلیکسیز میں ایک نارمل درجے کی گلیکسی ہے۔ اس سے بہت بڑی بڑی گلیکسیز موجود ہیں، جن میں سورج سے کئی کئی سو گناہ بڑے اربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہیں۔
ابھی تک سب سے بڑے معلوم ستارے کا radius سورج سے 1700 گناہ بڑا ہے۔ جسکا نام UY scuti ہے۔ اور سب سے بڑی معلوم گیلکسی میں 100 ٹریلین ستارے ہیں یعنی زمین پر موجود ایک ادمی بمقابلہ 1600 سے ذیادہ سورج سے بڑے اور چھوٹے ستارے۔
اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کائنات شاید اس سے بھی بڑی ہے۔
اور ہمارے سولر سسٹم کہ سیاروں neptune, jupiter, uranus, Saturn پر ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
میرا فلسفیوں اور ملحدین سے یہ سوال ہے کہ باقی فلسفہ تو اپنی جگہ۔
لیکن جب کوئی مولانا جنت کی خوبیاں بیان کر رہا ہوتا ہے تو یہ اس طرح دل ہی دل میں ہنستے ہیں کہ کیسے ممکن ہے جنت میں ایسے ہیرے جوہرات ہوں، سونا چاندی ہو، دودھ کی نہرین ہوں۔ اور زعفران عنبر کی نہریں کیسے ہو سکتی ہیں۔ جنت اتنی بڑی کیسے ہو سکتی ہے؟
میرا سوال ہے کہ کائنات کی وسعت اگر اتنی زیادہ ہے اور ہمارے ہی نظام شمسی میں ہیرے جواہرت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ تو کیوں کوئی ایسی جگہ نہی ہو سکتی؟
جو قران و حدیث میں بیان کردہ جنت کی خصوصیات کی حامل ہو؟
پاکستانی فلسفیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سائنس اور بلخصوص علم ریاضیات سے نا واقف ہیں یہ لوگ۔ جو علماء کی بتائی گئی جنت کی خصوصیات پر ہنستے ہیں اور انہیں دل ہی دل میں یہ ناممکن لگتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیوٹرون سٹارکےکریش کے دوران اتنا سونا پیدا ہوتا ہے جو زمین کی تمام سمندروں کو بھر سکتا ہے۔ اہل دانش و بینش سے غوروفکر کی درخواست ہے۔