All About Attock

All About Attock تاریخ،تاریخی مقامات، لوک ورثہ، ثقافت،زراعت،باغبانی،مویشی پالنا،کاروبار،اٹک کا ٹیلنٹ،غربت سے کامیابی تک کی کہانیاں،
(2)

کائنات میں 2 ٹریلین گلیکسیز ہیں۔ یعنی ایک انسان کہ بدلے 285 گلیکسیز۔ اور صرف ہماری گلیکسی میں 100 ارب سورج جیسے ستارے ہی...
10/07/2026

کائنات میں 2 ٹریلین گلیکسیز ہیں۔
یعنی ایک انسان کہ بدلے 285 گلیکسیز۔ اور صرف ہماری گلیکسی میں 100 ارب سورج جیسے ستارے ہیں۔
فی انسان کے مقابلے 15 ستارے۔
اور ہماری گلیکسی 2 ٹریلین گلیکسیز میں ایک نارمل درجے کی گلیکسی ہے۔ اس سے بہت بڑی بڑی گلیکسیز موجود ہیں، جن میں سورج سے کئی کئی سو گناہ بڑے اربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہیں۔
ابھی تک سب سے بڑے معلوم ستارے کا radius سورج سے 1700 گناہ بڑا ہے۔ جسکا نام UY scuti ہے۔ اور سب سے بڑی معلوم گیلکسی میں 100 ٹریلین ستارے ہیں یعنی زمین پر موجود ایک ادمی بمقابلہ 1600 سے ذیادہ سورج سے بڑے اور چھوٹے ستارے۔
اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کائنات شاید اس سے بھی بڑی ہے۔
اور ہمارے سولر سسٹم کہ سیاروں neptune, jupiter, uranus, Saturn پر ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
میرا فلسفیوں اور ملحدین سے یہ سوال ہے کہ باقی فلسفہ تو اپنی جگہ۔
لیکن جب کوئی مولانا جنت کی خوبیاں بیان کر رہا ہوتا ہے تو یہ اس طرح دل ہی دل میں ہنستے ہیں کہ کیسے ممکن ہے جنت میں ایسے ہیرے جوہرات ہوں، سونا چاندی ہو، دودھ کی نہرین ہوں۔ اور زعفران عنبر کی نہریں کیسے ہو سکتی ہیں۔ جنت اتنی بڑی کیسے ہو سکتی ہے؟
میرا سوال ہے کہ کائنات کی وسعت اگر اتنی زیادہ ہے اور ہمارے ہی نظام شمسی میں ہیرے جواہرت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ تو کیوں کوئی ایسی جگہ نہی ہو سکتی؟
جو قران و حدیث میں بیان کردہ جنت کی خصوصیات کی حامل ہو؟
پاکستانی فلسفیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سائنس اور بلخصوص علم ریاضیات سے نا واقف ہیں یہ لوگ۔ جو علماء کی بتائی گئی جنت کی خصوصیات پر ہنستے ہیں اور انہیں دل ہی دل میں یہ ناممکن لگتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیوٹرون سٹارکےکریش کے دوران اتنا سونا پیدا ہوتا ہے جو زمین کی تمام سمندروں کو بھر سکتا ہے۔ اہل دانش و بینش سے غوروفکر کی درخواست ہے۔

میری نانی نے اس بیری کے نیچے دوپٹہ بچھایا تھا۔دربار سُلطان باہو کے عقب میں یہ بیری ھے۔ اس بیری کو حضورن بیری کہتے ہیں۔ ہ...
10/07/2026

میری نانی نے اس بیری کے نیچے دوپٹہ بچھایا تھا۔
دربار سُلطان باہو کے عقب میں یہ بیری ھے۔ اس بیری کو حضورن بیری کہتے ہیں۔ ہر وقت اس بیری کے نیچے عورتیں کپڑا بِچھا کر بیٹھی ہوتی ہیں۔
مشہور ھے کہ اگر کپڑے پر بیر آ کر گِرے تو بیٹا پیدا ہوگا۔ اگر پتہ آ کر گِرے گا تو بیٹی پیدا ہوگی۔

1997 میں میری نانی مرحومہ دردبار سلطان باہو گئیں۔ اس وقت میری دو ممانیوں کے بچے پیدا ہونے والے تھے۔ لہٰذا نانی اماں نے دونوں کی نیت سے علیحدہ علیحدہ 2 دوپٹے بچھائے۔ ایک کا بیر گِرا نانی خوش ہو گئیں کہ میرا پوتا پیدا ہوگا۔ جبکہ دوسری کا کٹا ہوا پتہ گِرا۔ نانی کی پہلی خوشی پر پانی پِھر گیا۔ کہ پتہ اور وہ بھی کٹا ہوا۔ یعنی میری کوئی اپاہج یا عیب والی پوتی پیدا ہو گی۔ نانی اماں دربار سُلطان باہو سے گھر تک روتی ہوئی واپس آئیں۔

خیر نانی اماں کی دونوں بہو رانیوں کی ڈلیوری کا وقت آ گیا۔ جس کا بیر گِرا تھا اس کی بیٹی پیدا ہوئی۔
اور جس کا کٹا ہوا پتہ گِرا تھا اس کا صحیح سلامت بیٹا پیدا ہوا۔

یعنی بات 100 فیصد الٹی ثابت ہو گئی۔ بیر گرنے پر بیٹا پیدا ہونا تھا لیکن بیٹی پیدا ہوئی
کٹا ہوا پتہ گرنے پر عیب زدہ بیٹی پیدا ہونی تھی لیکن تندرست بیٹا پیدا ہوا۔

تو اسے ثابت ہوا کہ بیٹے اور بیٹیاں دینے والی ذات اللہ ہی کی ھے۔ وہی عالم الغیب ھے۔

اللہ پاک ہم سب کو پختگی سے عقیدہ توحید پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے

میں اولیاء اللہ کی عظمت و تکریم کا قائل ہوں لیکن اولیاء سے منسوب ایسی جھوٹی اور خلافِ شرع روایات کا قائل نہیں۔ اولیاء اللہ کے قدموں کی خاک میری آنکھوں کا سرمہ۔ اولیاء اللہ کے پاؤں کے نعلین میرے سر کا تاج
کاپی

08/07/2026

ضلع اٹک کا ایسا تباہ حال گاؤں جو اس وقت اجڑ چکا ہے

تھیلیسمیا کی مریض کا سفر آخرت !ایک دن کی اعزازی ڈپٹی کمشنر . .   منیبہ مقصود ایک معصوم مریضہ , جسے سابقہ ڈپٹی کمشنر اٹک ...
05/07/2026

تھیلیسمیا کی مریض کا سفر آخرت !
ایک دن کی اعزازی ڈپٹی کمشنر . .

منیبہ مقصود ایک معصوم مریضہ , جسے سابقہ ڈپٹی کمشنر اٹک راو عاطف نے اسکی زندگی میں ایک خوبصورت لمحے کا تحفہ دیا تھا . منیبہ مقصود کو ایک دن کی اعزازی ڈپٹی کمشنر بنایا گیا تھا .
اسکی وفات کی خبر نے بہت دکھی کر دیا .
راؤ عاطف صاحب کو بھی زندگی بھر ایک سکون تسلی اور اطمینان کا احساس ضرور رہے گا کہ انہوں نے ایک مریض بچی کو خوشیاں دیں .
ہماری ساری محنت , مشقت , کوشش , چاہے گھر کے لئے ہو , سہولتوں کیلئے ہو , آسانیوں کے حصول کے لئے ہو , ہر ہر کوشش میں جو سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے وہ یقیناً " زندگی " ہے .
اپنی زندگی , اپنے پیاروں کی زندگی , سب سے بڑی خوائش , تمنا , دعا تو زندگی کیلئے ہی ہوتی ہے .
اور زندگی کی دعاؤں میں پھر ہماری ترجیح ہماری اولاد ہوتی ہے .
بیماری یا معذوری ایک ایسا دکھ , تکلیف اور اذیت ہے جس میں انسان دنیا کا ہر سکھ , بھول کر صرف شفا یابی کا منتظر رہتا ہے .
منیبہ کے والدین پر مشکل گھڑی ہے , اللّه انہیں صبر دے , اللّه کی رضا پر راضی رہنے کی ہمت و حوصلہ دے .
منیبہ مقصود کی طرح جتنے بچے تھیلیسیمیا کا یا کسی بھی بیماری کا شکار ہیں اللّه ان پر اپنا کرم کرے , والدین کے لئے , اولاد کے دکھ سے بڑا کوئی دکھ ہے ,نہ ہو سکتا ہے .
امجد اقبال ملک

تحصیل جنڈ کے مکینوں کا پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہونا ایک لمحہ فکریہ اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورز...
05/07/2026

تحصیل جنڈ کے مکینوں کا پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہونا ایک لمحہ فکریہ اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بھنڈر، ڈنگی ناڑی اور گرلز کالج محلہ جیسے گنجان آباد علاقوں میں پانی کا قحط اس گرمی میں عوام کے لیے عذابِ جان بنا ہوا ہے، جبکہ دور دراز کے دیہاتوں کی حالت تو اس سے بھی ابتر ہے۔ یہ صورتحال ہمارے حکمرانوں اور مقامی نمائندوں کی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جہاں سڑکوں کی توڑ پھوڑ، نمائشی منصوبوں اور بجلی کے کھمبوں کی تنصیب کو ترقی کا نام دے کر فیتے کاٹے جا رہے ہیں، وہاں انسانی زندگی کی بقا کے لیے ناگزیر ترین ضرورت یعنی پانی کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ مقامی سیاسی خوشامدیوں کا رویہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے، جنہیں عوام کے دکھ درد سے زیادہ اپنی پروٹوکول اور تصاویر میں دلچسپی ہے۔ ولیموں اور تعزیتوں میں صف اول میں نظر آنے والے یہ لوگ عوامی مسائل پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ حکام بالا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ترقی کا اصل پیمانہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی ہے نہ کہ سطحی تعمیرات۔ جنڈ کے عوام کا صبر اب جواب دے رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر پانی کے منصوبے مکمل کیے جائیں اور عوام کو اس کرب سے نجات دلائی جائے

تحصیل جنڈ میں زیرِ زمین پانی کی سطح کا تیزی سے گرنا ایک خاموش مگر خوفناک ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس آبی قحط کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں سرِفہرست جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہے۔ درخت زمین کے سینے میں پانی جذب کرنے اور نمی کو برقرار رکھنے کا قدرتی نظام ہیں، جنہیں ختم کر کے ہم نے زمین کو بنجر پن کی طرف دھکیل دیا ہے۔ دوسری طرف، سولر ٹیوب ویلز کی بھرمار نے پانی کے بے جا اور بے دریغ استعمال کو فروغ دیا ہے۔ مزید برآں، تمباکو جیسی نقدی فصلوں کی کاشت، جو بہت زیادہ پانی پیتی ہیں، نے مقامی آبی وسائل کو تیزی سے نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں جنڈ کا علاقہ خشک سالی کی شدید لپیٹ میں ہوگا۔
اس سنگین صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ آبی وسائل کا دانشمندانہ انتظام اور پانی کے ذخائر میں اضافہ ہے۔ جنڈ کا جغرافیائی محل وقوع برساتی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ نالہ ریسی، جو برسات کے موسم میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بہتا ہے، ایک بہترین قدرتی ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس مقام پر ایک بڑا ڈیم تعمیر کر دیا جائے، تو نہ صرف ہزاروں ایکڑ زمین سیراب ہو سکتی ہے بلکہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو بھی دوبارہ بلند کیا جا سکتا ہے۔ یہ ڈیم نہ صرف زراعت کے لیے پانی کا ذخیرہ ہوگا بلکہ ماحولیاتی توازن بحال کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شجرکاری کی مہم کو قومی سطح پر چلانا اور زیادہ پانی لینے والی فصلوں کی جگہ متبادل فصلوں کی کاشت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ اور حکومت کو چاہیے کہ قلیل مدتی منصوبوں کے بجائے نالہ ریسی ڈیم جیسے طویل مدتی منصوبوں پر توجہ مرکوز کرے تاکہ آنے والی نسلوں کو پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم نہ ہونا پڑے۔

کچھ ایسے زمیندار بھی ہوتے ہیں جو اپنی زمینوں سے۔ گزرنے والی سڑک کے کناروں کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔
05/07/2026

کچھ ایسے زمیندار بھی ہوتے ہیں جو اپنی زمینوں سے۔ گزرنے والی سڑک کے کناروں کی بھی حفاظت کرتے ہیں۔

ماشاءاللہ ضلع اٹک و گرد و نواح میں ابر رحمت خوب جم کر برسی 🌧️🌧️🌧️🌧️🌧️
01/07/2026

ماشاءاللہ ضلع اٹک و گرد و نواح میں ابر رحمت خوب جم کر برسی 🌧️🌧️🌧️🌧️🌧️

01/07/2026

حسن ابدال میں شدید گرمی کے باعث ایک ہی گھر کے چار افراد نانی کے گھر چلے گئے
ادھر اے سی لگا ہوا تھا

29/06/2026

ضلع اٹک کا ایسا خوبصورت گاؤں جو کسی عجوبے سے کم نہیں اس گاؤں کے لوگ زیر زمین کے اندر زندگی بسر کرتے ہیں زمین کے اندر بنے مٹی کے خوبصورت بھورے گرمیوں کے موسم میں انتہائی ٹھنڈے جہاں پنکھے کا تصور ہی نہیں آئیے آپ کو لے کر چلتے ضلع اٹک تحصیل حسن ابدال کے گاؤں پنڈ اعوان داخلی کوٹ سونڈکی جہاں دنیا ہی الگ ہے ❣️

کالا چٹا پہاڑ پر زیتون کا انقلاب: جلانے والی لکڑی سے قیمتی تیل تک کا سفر!"کالا چٹا پہاڑ کی لکڑی اب چولہا جلانے کے لیے نہ...
27/06/2026

کالا چٹا پہاڑ پر زیتون کا انقلاب: جلانے والی لکڑی سے قیمتی تیل تک کا سفر!

"کالا چٹا پہاڑ کی لکڑی اب چولہا جلانے کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان کی معیشت چمکانے کے لیے استعمال ہوگی!"

کیا آپ جانتے ہیں کہ ضلع اٹک میں واقع کالا چٹا پہاڑ پر جنگلی زیتون (کہو) کے لاکھوں درخت موجود ہیں؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ صدیوں سے ان قیمتی درختوں کی لکڑی کو صرف جلانے یا کوئلہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی سونے کو تانبے کے بھاؤ بیچ رہا ہو!

آج دنیا بھر کے زرعی ماہرین کا یہ تجربہ ثابت کر چکا ہے کہ اگر انھی جنگلی درختوں پر جدید طریقوں سے پیوند کاری (Grafting) کی جائے، تو یہ جنگلی زیتون چند ہی سالوں میں دنیا کے بہترین اور اعلیٰ ترین زیتون میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

کامیابی کی زندہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں!

یہ کوئی خیالی بات نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے کئی اضلاع میں یہ تجربہ سو فیصد کامیاب ہو چکا ہے:

• دیر، باجوڑ اور کرک کے پہاڑوں پر جنگلی زیتون کی قلم کاری کر کے آج اعلیٰ ترین زیتون حاصل کیا جا رہا ہے۔

• *بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ,ژوب اور دیگر علاقوں میں بھی یہ زرعی انقلاب آ چکا ہے اور وہاں کے کسان اب لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔

• اگر یہ سب اضلاع کامیاب ہو سکتے ہیں، تو اٹک کا کالا چٹا پہاڑ کیوں نہیں؟

اعلیٰ اقسام کی قلم کاری اور پودوں کی دستیابی

ماہرین کے مطابق، کالا چٹا کے جنگلی زیتون پر دنیا کی بہترین اقسام جیسے ہسپانوی (Spanish)، اطالوی (Italian)، ترکی (Turkish) اور یونانی (Greek) زیتون کی پیوند کاری انتہائی کامیابی سے کی جا سکتی ہے۔

ان اعلیٰ اقسام کی اصل اور تصدیق شدہ قلمیں اور پودے ہمارے اپنے ملک میں چکوال (بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ) اور پشاور کے ترناب زرعی تحقیقاتی مرکز میں باآسانی دستیاب ہیں۔ بس ضرورت ایک درست مہم اور حکومتی سرپرستی کی ہے۔

زیتون کی اہمیت اور فوائد

زیتون کو قرآنِ پاک میں "مبارک درخت" کہا گیا ہے۔ اس کا تیل (Olive Oil) دنیا کا مہنگا ترین اور صحت بخش تیل ہے، جو دل کی بیماریوں، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے لیے شفا ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالرز کا خوردنی تیل باہر سے منگواتا ہے۔ اگر ہم کالا چٹا کے لاکھوں جنگلی درختوں کو کارآمد بنا لیں، تو نہ صرف ہم تیل میں خود کفیل ہو سکتے ہیں بلکہ اسے باہر ایکسپورٹ کر کے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔

---

ہمارا حکومت اور محکمہ زراعت سے مطالبہ!

ہم حکومتِ پاکستان، محکمہ زراعت پنجاب، اور بالخصوص چکوال اور ترناب کے زرعی تحقیقی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:

1. کالا چٹا زیتون پروجیکٹ کا فوری آغاز کیا جائے اور وہاں کے جنگلی درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی لگائی جائے۔

2. مقامی آبادی اور نوجوانوں کو ترناب اور چکوال کے ماہرین کے ذریعے قلم کاری (Grafting) کی مفت ٹریننگ دی جائے۔

3. مقامی کسانوں کو سستے یا مفت پودے اور قلمیں فراہم کی جائیں تاکہ اس خواب کو حقیقت بنایا جا سکے۔

آئیے اس آواز کو آگے بڑھائیں!

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ مطالبہ اعلیٰ حکام تک پہنچے۔ کالا چٹا پہاڑ کو سرسبز اور خوشحال بنانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔

(ایک محبِ وطن پاکستانی، شہزاد کی طرف سے ایک اہم عوامی و قومی مہم)

---تحقیق اور تحریر: شہزاد اسلام آبادی

Address

Attock

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All About Attock posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All About Attock:

Share