21/06/2026
شہیدِ اسلام کانفرنس چارسدہ: چند گھنٹوں کا جلسہ یا ایک لازوال مشن کا تسلسل؟
18 جون بروز جمعرات، چارسدہ کے تاریخی فاروقِ اعظم چوک پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی "عظیم الشان شہیدِ اسلام شیخ محمد ادریس کانفرنس" محض ایک روایتی اجتماع یا چند گھنٹوں کی سیاسی چہل پہل نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نظریاتی بیداری اور تاریخ ساز دن تھا۔
جب بھی ایسا کوئی بڑا اور کامیاب اجتماع ہوتا ہے، تو کچھ سطحی سوچ رکھنے والے حلقوں کی طرف سے روایتی طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ "اس کانفرنس سے آخر حاصل کیا ہوا؟"۔ یہ سوال وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو کسی تحریک کی ظاہری رونق تو دیکھتے ہیں لیکن اس کے گہرے، خاموش اور دور رس نتائج سے ناواقف ہوتے ہیں۔
مشن کی عالمگیریت: ایک فرد سے لاکھوں دلوں تک
اس کانفرنس کا سب سے بڑا، واضح اور زندہ حاصل یہ ہے کہ کل تک جو مشن صرف شہیدِ اسلام شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد ادریس ترنگزئی صاحب نور اللہ مرقدہ کی زبانِ مبارک تک محدود تھا، آج وہ مشن لاکھوں انسانوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔
ایک وقت تھا جب حضرت شیخ رحمہ اللہ تنہا اس کٹھن راہ پر گامزن تھے اور حق کی آواز بلند کر رہے تھے، لیکن کل چارسدہ کے عوام نے اپنے جمِ غفیر سے یہ ثابت کر دیا کہ اب شیخ صاحب کا وہ فکر و فلسفہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مشن بن چکا ہے۔ ان کا لگایا ہوا پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے جس کی شاخیں لاکھوں دلوں تک پھیل چکی ہیں۔
شہیدِ اسلام کا حقیقی مشن کیا تھا؟
حضرت شیخ رحمہ اللہ کی زندگی جن اعلیٰ اور پاکیزہ مقاصد کے لیے وقف تھی اور جس کے لیے انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، یہ کانفرنس انہی مقاصد کی تجدید کا نام ہے:
دینِ مبین کی عام اشاعت: اللہ کے سچے دین کو ہر فرد اور ہر گھر تک پہنچانا۔
امن و امان کا قیام: معاشرے کو ہر قسم کے خوف اور بدامنی سے پاک کر کے امن کا گہوارہ بنانا۔
معاشرتی برائیوں کا خاتمہ: ظلم، ناانصافی، بے حیائی اور اخلاقی پستی کے خلاف ایک مضبوط دیوار کھڑی کرنا۔
رجوع الیٰ الدین: امتِ مسلمہ کو بھٹکے ہوئے راستوں سے نکال کر دوبارہ دینِ محمدی ﷺ کی طرف لانا اور سنتِ نبوی کا احیاء کرنا۔
کانفرنس کے حقیقی اور دور رس نتائج
جو لوگ اسے صرف ایک دن کا جلسہ سمجھتے ہیں، وہ یہ جان لیں کہ ایسے عظیم الشان اجتماعات معاشرے پر درج ذیل گہرے اثرات چھوڑتے ہیں:
فکری و نظریاتی بیداری: ہزاروں نوجوان جو دنیاوی چکا چوند یا مایوسی کا شکار تھے، وہ اپنے اکابرین کی قربانیوں اور نظریات سے واقف ہو کر دین کے مخلص سپاہی بن کر ابھرتے ہیں۔
عزمِ نو کی تجدید: یہ اجتماعات لاکھوں لوگوں کے ایمان کو تازگی بخشتے ہیں۔ عوام اور کارکنان جب اپنے جیسے لاکھوں ہم خیال لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ان کا حوصلہ ہمالیہ سے بھی بلند ہو جاتا ہے اور وہ نئے عزم کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
اتحاد کا بے مثال مظاہرہ: لاکھوں انسانوں کا ایک نظم و ضبط کے ساتھ ایک جگہ جمع ہونا باطل اور اسلام دشمن قوتوں کے لیے یہ واضح پیغام ہوتا ہے کہ حق کے داعی نہ تو بکھرے ہیں اور نہ ہی خاموش بیٹھے ہیں۔
آخری بات
پس، یہ کہنا کہ "کیا حاصل ہوا؟" سراسر نادانی اور حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ چارسدہ کا یہ تاریخی اجتماع اس بات کا بین ثبوت ہے کہ شہیدوں کا خون کبھی رائے گاں نہیں جاتا۔ شیخ محمد ادریس شہید رحمہ اللہ کل بھی زندہ تھے اور آج ان کا مشن لاکھوں انسانوں کی صورت میں چارسدہ کے چوک چوراہوں پر زندہ و جاوید نظر آ رہا ہے۔ کانفرنسیں نسلیں تیار کرتی ہیں، اور کل کی کانفرنس نے آنے والی نسلوں کو دینِ محمدی ﷺ کا پرچم تھامنے کا حوصلہ دیا ہے۔
خادم ختمِ نبوت و خادم جمعیت ابو زید حنفی
ممبر آف جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا سیل گلف ریجن