02/06/2026
تھامس وائٹ کا بلا اور آج کی کرکٹ۔۔۔!!!
ابرار اختر جنجوعہ
تھامس وائٹ 1740 میں انگلینڈ کی کاؤنٹی سرے میں پیدا ہوا۔ اُس نے 1763 سے 1778 تک سرے کی نمائندگی کی، مگر تھامس وائٹ کا سب سے یادگار واقعہ 1771ء میں پیش آیا جس کے باعث اس کا نام کرکٹ کی تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔
چیرٹسی کی طرف سے ہیمبلڈن کے خلاف لالیہم برووے میں کھیلتے ہوئے یہ موصوف ایک ایسا بلا لے آئے جو تقریباً آٹھ انچ چوڑا تھا اور اس نے وکٹوں کو تقریباً مکمل طور پر ڈھانپ لیا تھا۔
مخالف کھلاڑیوں نے اس پر شدید اعتراض کیا اور باضابطہ احتجاج ریکارڈ کروایا۔
اسی طرح کا ایک واقعہ ایک لوکل میچ میں بھی پیش آیا جہاں کوئی صاحب مار دھاڑ کے لیے تختی جتنا چوڑا بلا اٹھا کر کھیلنے پہنچ گئے۔
اسی واقعے کے بعد کرکٹ کے قوانین میں تبدیلی کی گئی اور بلے کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی 4.25 انچ مقرر کر دی گئی۔ یہ واقعہ میں نے آج سے تقریباً بیس پچیس سال پہلے اخبار وطن یا کرکٹر میگزین میں پڑھا تھا۔ آج اچانک یہ واقعہ یاد آیا تو اس کی وجہ بھی سن لیں۔
چکوال میں ٹینس کرکٹ متعارف کرانے کا سہرا استاد چینو کے سر جاتا ہے۔ اُس وقت کی ٹیپ بال کرکٹ، جسے ہم عموماً “ یا ٹینس بال ست ربڑی بال” کہتے تھے، واقعی ایک شاندار سستی اور متوازن تفریح ہوا کرتی تھی۔ ہارڈ بال کے مقابلے میں یہ نہ صرف سستی تھی بلکہ یہ گلی، محلے چھت پر بھی چار چھ دوست آرام سے کھیل لیتے تھے۔ نہ باقاعدہ گراؤنڈ ، نہ مہنگے سامان اور نہ ہی سخت وکٹ (پچ) کی ضرورت ہوتی تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس میں چوٹ لگنے کے امکانات بھی بہت کم ہوتے تھے۔ آج کی طرح گلیمر نہیں تھا۔
ہمارے وقتوں میں 10 سے 12 اوور کا میچ ہوتا تھا جہاں بیٹسمین اور بالر دونوں کو برابر موقع ملتا تھا۔ ایک اچھا فاسٹ بالر اپنے خوبصورت رن اپ اور جمپ کے ساتھ گیند کراتا، وکٹیں اڑاتا تو دیکھنے والوں کا مزہ دوبالا ہو جاتا تھا۔
پھر ٹی ٹوئنٹی آئی اور آہستہ آہستہ کرکٹ کا رنگ ہی بدل گیا۔ چھ، چار، بلکہ دو دو اوورز کے میچز نما “تماشے” شروع ہوگئے۔ گیس والی بڑی گیندیں، سیمنٹ کی بنی وکٹیں، چھوٹے گراؤنڈ، 24 سے 26 فٹ کی پچیں اور لمبے چوڑے بلے۔۔۔اب حالت یہ ہے کہ گیند اس طرح کے بلے کے کنارے سے لگ کر بھی چھکے میں بدل جاتی ہے۔ بعض اوقات گیند فیلڈر کے سر کے اوپر سے ٹپہ کھا کر باؤنڈری پار کر جاتی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے یہ کھیل اب “بیٹسمین بمقابلہ بیٹسمین” بن چکا ہے۔ “بیٹسمین بمقابلہ باؤلر” والا اصل حسن کہیں کھو گیا ہے۔
اب شائقین بھی خوبصورت بولنگ، سوئنگ، یارکر، بہترین باؤنسر یا اڑتی ہوئی وکٹوں سے زیادہ لمبے لمبے چھکے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ کرکٹ اس قدر کمرشل ہوچکی ہے کہ اصل تفریح پیچھے رہ گئی ہے۔
آج کئی برینڈڈ کھلاڑی ایک ایک میچ کا لاکھوں روپے لیتے ہیں۔ اپنے نام کے بلے، اپنی اسپورٹس شاپس، اپنی برینڈنگ، اپنی ٹیمیں۔۔۔ حتیٰ کہ اپنے مخصوص براڈکاسٹر بھی جو ان کی بھرپور تشہیر کریں۔
اگر آپ میچ کی کمنٹری سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ رواں تبصرہ کم اور کھلاڑیوں کی خوشامد زیادہ ہو رہی ہے۔ زمین و آسمان کے قلابے ملائے جارہے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے سیاسی راہنماؤں کے خوشامد پسند ہرکارے سستے نعرے لگا رہے ہوں۔ دوسری طرف کچھ کمنٹیٹر ایسے ہیں جو کبڈی، نیزہ بازی، کراہ، فٹبال اور کرکٹ ہر کھیل میں ایک ہی انداز کی کمنٹری کر لیتے ہیں بلکہ خود کو اس میں فٹ کر دیتے ہیں۔
کرکٹ کے میدان میں کیا ہو رہا ہے، اس سے زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کس سپانسر نے کتنے پیسے دیے، کس نے کون سا انعام رکھا اور کس کھلاڑی کی کتنی تعریف کرنی ہے۔
یہ سب صرف کرکٹ کے ساتھ نہیں بلکہ شائقین کے ساتھ بھی زیادتی ہے، جو ایک خوبصورت کھیل دیکھنے آتے ہیں مگر بدلے میں یہ بے تکے نعرے، دکھاوا اور مصنوعی تعریفیں سننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
تھامس وائٹ تو چلو چوڑا بلا لے آیا تھا۔ ہم نے تو اب ہر چیز بیٹسمین کے حق میں کر دی ہے۔ کندھے سے ذرا اوپر اٹھتی گیند ہو یا آف اسٹمپ سے باہر وائیڈ لائن کے قریب سے گزرتی "ڈاٹ بال" ہو، امپائر سمیت کوئی اسٹار بیٹسمین بھی باؤلر کو رعایت دینے پر تیار نہیں۔
اسی عدم توازن نے ٹیپ بال کرکٹ کے اصل حسن کو گہنا دیا ہے۔