11/02/2025
خال و خد تیرے بناۓ تو جلا بیٹھے ہاتھ
پھر بنا کے جو مٹاۓ تو جلا بیٹھے ہاتھ
جو اندھیروں سے نکلنے کی تمنا میں ہاتھ
جانب شمع بڑھاۓ تو جلا بیٹھے ہاتھ
کل کہ تھے طنز زلیخا میں مگن ہم لیکن
آج یوسف نظر آۓ تو جلا بیٹھے ہاتھ
ایک دن ہم نے اسے چاند سمجھ کر یوں ہی
ہاتھوں سے ہاتھ ملاۓ تو جلا بیٹھے ہاتھ
جیسے تیسے ترے لہجے کی کھنک سہہ لی مگر
جب ترے ناز اٹھاۓ تو جلا بیٹھے ہاتھ
ہجر کی ظلمتوں نے دل ہی جلایا تھا فقط
روشنی کی طرف آۓ تو جلا بیٹھے ہاتھ
عبد الصمد