Chitral News Plus CNP

Chitral News Plus CNP news update

لندن (پ ر) چترال کی معروف دینی و سماجی شخصیت قاری فیض اللہ چترالی نے برطانیہ کے شہر باٹلے کے اسلامک سینٹر میں محافظِ ختم...
02/08/2026

لندن (پ ر) چترال کی معروف دینی و سماجی شخصیت قاری فیض اللہ چترالی نے برطانیہ کے شہر باٹلے کے اسلامک سینٹر میں محافظِ ختمِ نبوت مرحوم عبدالرحمن یعقوب باوا کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی، جس میں برطانیہ بھر سے بڑی تعداد میں علماء کرام، دینی رہنماؤں اور تحریک تحفظ ختم نبوت سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں قاری فیض اللہ چترالی نے کہا کہ ختم نبوت اکیڈمی لندن کے بانی اور عالمی مبلغ عبدالرحمن یعقوب باوا نے اپنی پوری زندگی عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، دینی خدمات اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کیے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم انتہائی مخلص، بے لوث، منکسر المزاج اور مقصد سے وابستہ شخصیت تھے، جنہوں نے خاموشی سے ایسی خدمات انجام دیں جن کے اثرات آئندہ نسلوں تک باقی رہیں گے۔
قاری فیض اللہ چترالی نے اپنے مرحوم سے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے پہلی ملاقات 1980ء میں کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں ہوئی تھی، جبکہ آخری ملاقات برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں ہوئی، جہاں شدید علالت اور جسمانی کمزوری کے باوجود ان کے جذبۂ خدمت، عشقِ رسول ﷺ اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا عزم پہلے کی طرح مضبوط تھا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کی دینی خدمات، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کی تعمیر و ترقی میں کردار اور دعوتی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مرحوم کے صاحبزادے مولانا سہیل باوا بھی اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف ممالک میں دینی و دعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر مرحوم عالمی مبلغ عبدالرحمن یعقوب باوا کے درجات کی بلندی، مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔

مسلم لیگ (ن) لویر چترال کے نائب صدر نور الہی نے چترال کے پسماندہ دیہات میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی پر وزیراعلی پنجاب محتر...
28/07/2026

مسلم لیگ (ن) لویر چترال کے نائب صدر نور الہی نے چترال کے پسماندہ دیہات میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی پر وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز کو درخواست ارسال کر دی۔

27/07/2026
10/07/2026

چترال (محمدرحیم بیگ) ڈویژنل فارسٹ افیسر چترال آصف علی شاہ نے کہا ہے کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور ٹمبر کی اسمگلنگ سمیت ماحول دشمن سرگرمیوں کے لئے محکمہ جنگلات زیر و ٹالیرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں سے اس علاقے کو بچایا جاسکے۔ اپنے دفتر میں مقامی میڈیا کو جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری مہم پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جنگلات کے تحفظ اور ترقی کے لئے موثراقدامات محکمہ کی ترجیحات میں سرفہرست ہے جس کے افسراور جوان دن رات اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قانون شکنی میں ملوث افراد کا قلع قمع کرنے کے لئے ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں 1.128میلین روپے کا جرمانہ کی وصولی کی گئی جبکہ 23کیسز بنائے گئے جن میں ملوث 9افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور بار بار قانون شکنی کرنے والے 10افراد کو 3ایم پی او کے تحت گرفتاری کے وارنٹ قانونی کاروائی کی تکمیل کے بعد جاری کئے گئے ہیں۔ آصف علی شاہ نے میڈیا کے ذریعے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری مہم میں محکمے کا ساتھ دیتے ہوئے غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر ہیلپ لائن 0943-413381 پر دیں۔

ڈی پی او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی پریس کانفرنسچترال(محمدرحیم بیگ) اندھے چوری کیس کا سراغ، مرکزی ملزم گرفتار، 37 لاکھ 2...
08/07/2026

ڈی پی او لوئر چترال ریشم جہانگیر کی پریس کانفرنس
چترال(محمدرحیم بیگ) اندھے چوری کیس کا سراغ، مرکزی ملزم گرفتار، 37 لاکھ 29 ہزار روپے مالیت کا مالِ مسروقہ برآمد
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لوئر چترال ریشم جہانگیر (PSP) نے اپنے آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مورخہ 25 جون 2026 کو زرگراندہ چترال میں ایک رہائشی گھر میں چوری کی واردات رپورٹ ہوئی تھی جس میں نقد رقم ، طلائی زیورات اور دیگر قیمتی سامان چوری کیا گیا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد تھانہ سٹی چترال میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔
ڈی۔پی او لوئر چترال نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ کیس تھا جس کے سراغ اور ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تھی ۔تفتیشی ٹیم نے جدید سائنسی تفتیشی طریقہ کار ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے منسلک سی سی ٹی وی کیمروں، تکنیکی شواہد اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور مسلسل پیشہ ورانہ کوششوں کے بعد مرکزی ملزم رقیب گل ولد جاوید گل سکنہ ریحانکوٹ کو گرفتار کرلیا۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کی نشاندہی پر چوری شدہ نقد رقم، طلائی زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء برآمد کر لی گئی ہیں، جن کی مجموعی مالیت 37 لاکھ 29 ہزار روپے ہے۔ برآمد شدہ سامان قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اصل مالکان کے حوالے کیا جائے گا۔
ڈی پی او لوئر چترال ریشم جہانگیر نے میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لوئر چترال پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں پر یقین رکھتی ہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلع لوئر چترال میں قانون شکن عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں آئندہ بھی بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

چترال (نمائندہ خصوصی)  لینک دربار تنازعے کے نئی رخ دیتے ہوئے اہالیان دنین لشٹ نے جمعرات کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ...
25/06/2026

چترال (نمائندہ خصوصی) لینک دربار تنازعے کے نئی رخ دیتے ہوئے اہالیان دنین لشٹ نے جمعرات کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ریسٹورنٹ کے لئے لی گئی اراضی کے بابت جو ایگریمنٹ غلام جیلانی کے ورثائ کے ساتھ ہوئی ہے، وہ سراسر غلط ہے کیونکہ یہ جائیداداہالیان دنین لشٹ کی ہے جس کا فیصلہ ہائی کورٹ نے ان کے حق میں دے دیا ہے اور لینڈ سیٹلمنٹ میں بھی ان کے نام پر اندراج ہوئی ۔ دنین لشٹ کے نمائندوں منور احمد، شاکرا للہ، عمران خان، شیر حیدر، صابر خان، شاکراحمد، کریم اللہ، فتح الرحمن، سرفراز شاہ اور نورعزیز اللہ نے کہا کہ لینک دربار کے مالکان کی نقصان کا ازالہ غلام جیلانی کے ورثائ کو کرنا چاہئے جنہوں نے ایک سازش کے تحت ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے جبکہ فیس بک سمیت دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ا س واقعے کو غلط رنگ میں اچھالا جارہا ہے جوکہ حقیقت کے برخلاف ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر لینک دربار کو دوبارہ اس کے مالکان کے حوالے کیا گیا تو دنین لشٹ کے عوام روڈ بلاک کرکے احتجاج پر مجبورہوں گے جبکہ اس ریسٹورنٹ کے مالکان کو چاہئے کہ وہ اس جگہے کا دوبارہ رخ نہ کرے اور اپنے لئے متبادل جگہ تلاش کرے۔

تحریر:یوسف زیب.                                               .  چترال کی بیٹی کی پہلی پارلیمانی للکاریہی نمائندگی ہوتی ...
15/06/2026

تحریر:یوسف زیب. . چترال کی بیٹی کی پہلی پارلیمانی للکار
یہی نمائندگی ہوتی ہے۔
جمہوریت کے ایوانوں میں بعض تقریریں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ تاریخ کے صفحات پر اپنا مستقل نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں چترال سے منتخب معزز خاتون ایم این اے کی پہلی مفصل، مدلل اور پُراثر تقریر بھی انہی یادگار خطابات میں شمار کی جا سکتی ہے۔ یہ تقریر نہ صرف ایک عوامی نمائندے کی سیاسی بصیرت کا اظہار تھی بلکہ اس میں چترال کے عوام کی امنگوں، محرومیوں اور امیدوں کی بھرپور ترجمانی بھی موجود تھی۔
چترال کی اس باوقار بیٹی کا تعلق ایک ایسے معزز اور تاریخی خاندان سے ہے جس نے صدیوں تک اس خطے کی تہذیب، روایات، شرافت اور عوامی خدمت کی روایت کو زندہ رکھا۔ شاہی خاندانِ چترال ہمیشہ سے علم، وقار، رواداری اور خدمتِ خلق کا استعارہ رہا ہے۔ اسی خانوادے کی چشم و چراغ ہونے کے ناطے ان کی شخصیت میں وقار، سنجیدگی، شائستگی اور قیادت کی وہ تمام خصوصیات نمایاں ہیں جو ایک کامیاب عوامی نمائندے کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
قومی اسمبلی میں ان کی پہلی تقریر سننے والوں پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ وہ محض ایک سیاسی نام نہیں بلکہ ایک باشعور، مطالعہ رکھنے والی اور اپنے علاقے کے مسائل سے مکمل آگاہ رہنما ہیں۔ انہوں نے چترال کی پسماندہ سڑکوں، ترقیاتی منصوبوں، سیاحت، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے مسائل کو نہایت مدلل انداز میں پیش کیا۔ ان کی گفتگو میں جذبات کے ساتھ ساتھ اعداد و شمار، دلائل اور زمینی حقائق بھی موجود تھے، جو ایک سنجیدہ قانون ساز کی پہچان ہیں۔

اقبالؔ کا یہ شعر ان پر خوب صادق آتا ہے

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں

ایوان میں ان کی آواز دراصل پورے چترال کی آواز تھی۔ انہوں نے اپنے علاقے کے عوام کے دکھ درد کو جس جرات اور اعتماد کے ساتھ بیان کیا، اس نے ثابت کیا کہ چترال نے ایک باصلاحیت اور توانا نمائندہ ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی وہ ایک قیمتی سیاسی اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ ایسے کارکن اور رہنما کسی بھی جماعت کی اصل قوت ہوتے ہیں جو پارٹی کے بیانیے کو شائستگی، دلیل اور کارکردگی کے ساتھ پیش کریں۔ ان کی پہلی تقریر نے یہ امید پیدا کی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں قومی سیاست میں مزید مؤثر کردار ادا کریں گی اور چترال کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور آواز بلند کرتی رہیں گی۔

بقولِ غالبؔ

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور

قومی اسمبلی میں ان کا اندازِ بیاں بھی منفرد، شائستہ اور مؤثر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پہلی تقریر نے نہ صرف ان کے حامیوں کے دل جیت لیے بلکہ سیاسی مخالفین کو بھی ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا۔
اہلِ چترال کو اپنی اس بیٹی پر بجا طور پر فخر ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے خدمت، دیانت اور عوامی فلاح کے سفر کو مزید آگے بڑھائیں گی۔ ان کی پہلی تقریر ایک کامیاب پارلیمانی کیریئر کا آغاز ہے، اور اگر یہی جذبہ، تیاری اور عوامی وابستگی برقرار رہی تو مستقبل میں وہ نہ صرف چترال بلکہ پورے پاکستان کی سیاست میں ایک نمایاں اور مؤثر مقام حاصل کریں گی۔
چترال کے عوام کی جانب سے اس باصلاحیت خاتون کو دل
کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

امریکہ میں مقیم چترال کی بیٹی سفیرہ سیف - خدمتِ انسانیت کا درخشاں بابتحریر :سید اصف علی شاہدنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوت...
14/06/2026

امریکہ میں مقیم چترال کی بیٹی سفیرہ سیف - خدمتِ انسانیت کا درخشاں باب

تحریر :سید اصف علی شاہ

دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اپنی زندگی دوسروں کی خوشیوں، تعلیم، صحت اور فلاح کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ چترال کے خوبصورت اور تاریخی علاقے اوی گاؤں سے تعلق رکھنے والی سفیرہ سیف بھی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، جو آج امریکہ میں مقیم ہونے کے باوجود اپنے وطن، اپنے علاقے اور اپنے لوگوں کو نہیں بھولیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ انسانیت کی خدمت، غریبوں کی مدد، تعلیم کے فروغ اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

سفیرہ سیف معروف فلاحی و سماجی ادارے ماس ایجوکیشن کے بانی ہیں۔ یہ ادارہ “Meaningful Acts towards Sustainable Success” کے نام سے جانا جاتا ہے اور چترال، گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں تعلیم، صحت، خواتین کی فلاح، یتیم بچوں کی مدد اور غریب خاندانوں کی معاونت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد معاشرے کے محروم طبقات کو سہارا دینا اور انہیں بہتر مستقبل فراہم کرنا ہے۔

سفیرہ سیف نے امریکہ میں رہتے ہوئے بھی اپنے علاقے کے عوام کے مسائل کو ہمیشہ محسوس کیا۔ وہ خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی کوششوں سے کئی غریب اور مستحق طلبہ کو تعلیمی وظائف، کتابیں، فیس اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ مالی مشکلات تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔

چترال اور گلگت بلتستان جیسے دشوار گزار علاقوں میں جہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات محدود ہیں، وہاں سفیرہ سیف اور ان کی تنظیم نے امید کی شمع روشن کی۔

انہوں نے کئی مستحق خاندانوں کی مالی مدد کی، بیمار افراد کے علاج میں تعاون کیا، اور غریب بچوں کے لیے تعلیمی و فلاحی پروگراموں کی سرپرستی کی۔ شمالی پاکستان میں مختلف ادارے اسی نوعیت کے منصوبوں کے ذریعے غریب بچوں، یتیموں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں۔

قدرتی آفات، سیلاب اور دیگر مشکلات کے دوران بھی سفیرہ سیف نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ وہ ان شخصیات میں شامل ہیں جو صرف باتوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عملی طور پر لوگوں کے درمیان جا کر ان کے دکھ درد بانٹتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چترال اور گلگت بلتستان کے عوام انہیں عزت، محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

سفیرہ سیف خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کی بھی مضبوط حامی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ عورت پورے معاشرے کو ترقی دے سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت وہ نوجوان لڑکیوں کی تعلیم، تربیت اور اعتماد سازی کے لیے مختلف پروگراموں اور سرگرمیوں کی حمایت کرتی ہیں۔

شمالی علاقوں میں خواتین کی تعلیم اور ڈیجیٹل تربیت کے لیے بھی کئی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔

ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو انسان دوستی اور عاجزی ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہوئے بھی وہ اپنی ثقافت، اپنی مٹی اور اپنے لوگوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ بیرون ملک مقیم افراد اپنے علاقوں کی ترقی میں حصہ ڈالیں اور نئی نسل کو مثبت راستہ دکھائیں۔

چترال اور گلگت بلتستان کے لوگ سفیرا سیف کی خدمات کو فخر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی فلاحی خدمات نہ صرف مستحق لوگوں کے لیے امید کا ذریعہ ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہیں کہ اگر نیت نیک ہو تو دنیا کے کسی بھی کونے میں رہ کر اپنے لوگوں کی خدمت کی جا سکتی ہے۔

بلاشبہ سفیرہ کائے چترال کی ان قابلِ فخر خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے خدمتِ خلق، تعلیم اور فلاحی کاموں کے ذریعے اپنے علاقے کا نام روشن کیا۔ ان جیسی شخصیات معاشرے کے لیے ایک نعمت اور انسانیت کے لیے روشن چراغ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

چترال (رپورٹ:حذیفہ کاکاخیل)ارضِ چترال کی تاریخی اور عظیم الشان شاہی مسجد چترال میں آج بروز ہفتہ ایک انتہائی سادہ، پروقار...
23/05/2026

چترال (رپورٹ:حذیفہ کاکاخیل)
ارضِ چترال کی تاریخی اور عظیم الشان شاہی مسجد چترال میں آج بروز ہفتہ ایک انتہائی سادہ، پروقار اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا گیا، جو نوجوان طالب علم محمد فیضان کی جانب سے مختصر ترین مدت میں حفظِ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے کے اعزاز میں سجائی گئی تھی۔ اس پررونق اور ایمانی ماحول سے لبریز محفل میں چترال کی جید علمی، دینی اور سماجی شخصیات نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

اس مبارک محفل کی ایک خاص بات یہ تھی کہ حفظِ قرآن کی سعادت پانے والے خوش نصیب طالب علم محمد فیضان، شاہی مسجد چترال کے قدیم، مایہ ناز اور ہردل عزیز استاذ مرحوم قاری شعیب احمد صاحب کے بھتیجے ہیں۔ قاری شعیب احمد صاحب مرحوم کی دینی خدمات کو چترال میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور ان کے بھتیجے کا یہ اعزاز یقیناً ان کے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا علمی و روحانی اثاثہ ہے۔

تقریب میں علم و حکمت کے چراغوں نے شرکت کی، جن میں دارالعلوم چترال کے معزز اساتذہ کرام اور چترال کے نامور و معروف معالج ڈاکٹر گلزار احمد صاحب نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ علاقے کی دیگر کئی اہم اور معزز سماجی و علمی شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

تقریب کا سب سے رقت آمیز اور خوبصورت لمحہ وہ تھا جب طالب علم محمد فیضان نے کلامِ الٰہی کا اپنا آخری سبق خطیب شاہی مسجد چترال و صدر دارالعلوم چترال کی خدمت میں پیش کیا۔ جب مسجد کے در و دیوار معصوم آواز میں تلاوتِ قرآن سے گونج اٹھے تو حاضرینِ مجلس کے دل اللہ کی حمد و ثنا سے بھر گئے۔

اس موقع پر خطیبِ محترم اور صدر دارالعلوم چترال نے قرآن مجید کی عظمت، اس کی تلاوت اور اسے سینے میں محفوظ کرنے والے حفاظِ کرام کے بلند مرتبے پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ہدایت کا سرچشمہ ہے اور جو بچہ اسے حفظ کرتا ہے، وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے والدین اور پورے معاشرے کے لیے برکت کا باعث بنتا ہے۔

صدر دارالعلوم چترال نے مختصر مدت میں یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے پر حافظ محمد فیضان، ان کے والدین اور ان کے جملہ خاندان کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی اس کاوش کو بے حد سراہا۔ یہ خوبصورت اور روح پرور تقریب اپنے روایتی حسن کے ساتھ، امتِ مسلمہ کی سربلندی، ملک و ملت کی سلامتی اور بالخصوص چترال کی امن و ترقی کے لیے مانگی جانے والی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

ملک میں گولی و گالی کی سیاست عام، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں  حافظ نعیم الرحمنہرشعبہ...
16/05/2026

ملک میں گولی و گالی کی سیاست عام، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں حافظ نعیم الرحمن

ہرشعبہ میں کرپشن و اقربا پروری کا راج ہے، تعلیم غریب کی دسترس سے دور ہوگئی

نوجوان مایوس نہ ہوں، اعتماد، اتحاد کے ساتھ آگے بڑھیں، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا چترال میں بنوقابل تقریب سے خطاب

چترال : 16 مئی 2026ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہنگی اور طبقاتی ، ہر شعبہ میں کرپشن اقربا پروری کا راج ہے ، جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں، بنو قابل گیم چینجر (Game Changer) بن گیا، مفت آئی ٹی تعلیم کی فراہمی کے الخدمت پاکستان کے اس پروگرام میں اب تک چودہ لاکھ پچاس ہزار بچے رجسٹرڈ ہوچکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چترال میں بنوقابل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان، سیکرٹری جنرل الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان وقاص انجم جعفری اور امیر ضلع وجہیہ الدین نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ مغفرت شاہ، عبدالحق ، بنو قابل کے چیف ایگزیکٹو شاہد اقبال ، عمیر ادریس اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام مفت آئی ٹی تربیت میں داخلہ کی تقریب میں ہزاروں طلبا و طالبات نے امتحان دیا۔ امتحان پاس کرنے والوں کو مختلف دورانیے کے پروگرامات میں تربیت فراہم کی جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ بنو قابل کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اس میں آئی ٹی کے علاوہ ٹیکنیکل کورسز (Technical Courses) کو بھی شامل کردیا گیا ہے، ملک میں ہزاروں کی تعداد میں آئی ٹی لیبارٹریز (IT Labs) تیار ہوچکی ہیں، بنو قابل کو مزید وسیع کرتے ہوئے اسے زی کنیکٹ (Z-Connect) کا نام دے دیا گیا ہے اور اس پروگرام میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، نوجوان اپنے دین سے رشتہ مضبوط کریں، پاکستان عظیم قربانیوں سے وجود میں آیا، نئی نسل ملک سے مایوس نہ ہو بلکہ اعتماد سے متحد ہوکر آگے بڑھے۔ نوجوان دین اور جدید تعلیم سے آراستہ ہو کر ملک و قوم کی خدمت کریں اور جماعت اسلامی کی نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی جہاں ایک طرف حکومت پر نوجوان نسل کو معیاری اور مفت تعلیم فراہمی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے وہیں ہم اپنے حصہ کا چراغ بھی جلا رہے ہیں، قوم کو مایوسی اور اندھیروں کی دلدل سے نکالیں گے، نوجوانوں کی مدد سے انقلاب برپا کریں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پاکستان کا قیام جس مقصد کے تحت عمل میں آیا بدقسمتی سے وہ مقاصد اناسی برس گزرنے کے باوجود بھی حاصل نہیں ہوئے، اشرافیہ ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ہیں، افسر شاہی کا راج ہے، عوام کو انصاف نہیں ملتا، غریب کے بچے کی تعلیم تک دسترس نہیں ، ظلم کا نظام قائم ہے، عوام اور خصوصی طور پر ملک کے نوجوان اپنے حق کے لیے متحد ہوکر جدوجہد کریں اور موجودہ فرسودہ نظام کی تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ انہوں نے چترال کے مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ علاقہ میں بنیادی سہولیات دستیاب نہیں، حکمران پارٹیاں ایک ہی قسم کی ہیں، کوئی بھی عوام کو حق دینے کے لیے تیار نہیں، جماعت اسلامی پرامن مزاحمت سے قوم کو اس کا حق دلائے گی۔

Address

Chitral

Telephone

+923449449288

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitral News Plus CNP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chitral News Plus CNP:

Shortcuts

Share