Chitral News Plus CNP

Chitral News Plus CNP news update

تحریر:امتیاز احمد۔.                                                  فطرت کے مہمان اور ہماری ذمہ داری.چترال فطرت کا وہ ح...
11/05/2026

تحریر:امتیاز احمد۔. فطرت کے مہمان اور ہماری ذمہ داری.
چترال فطرت کا وہ حسین خطہ ہے جہاں پہاڑ، دریا اور وادیاں ایک مکمل ماحولیاتی توازن کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی نظام کا ایک نہایت اہم اور خوبصورت حصہ وہ پرندے ہیں جو ہر سال ہزاروں میل کا سفر طے کرکے یہاں آتے ہیں۔
یہ پرندے وسطی ایشیا اور سائبیریا کے سخت سرد علاقوں سے ہجرت کرکے چترال کی نسبتاً معتدل وادیوں کو ایک عارضی آرام گاہ بناتے ہیں۔ چترال چونکہ مرکزی فلائی وے پر ایک نسبتاً چھوٹا مگر نہایت اہم مختصر قیام کا مقام ہے، اس لیے ہر سیزن میں یہاں ہزاروں سے لے کر لاکھوں تک پرندے مختصر یا درمیانی قیام کرتے ہیں۔ وہ یہاں کچھ دیر آرام کرتے ہیں، خوراک حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے طویل سفر کی طرف آگے بڑھ جاتے ہیں۔
ان میں کونج، راج ہنس، جنگلی بطخیں، لق لق، شاہین اور چیلیں شامل ہیں۔ ان کی موجودگی صرف وادی کے حسن میں اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ یہاں کا ماحول ابھی تک کسی حد تک زندہ اور متوازن ہے۔
موسمِ بہار میں جب وادیاں سبز لباس پہن لیتی ہیں تو چھوٹے پرندوں کی چہچہاہٹ ہر طرف سنائی دیتی ہے۔ فاختہ اور دیگر مقامی پرندے دیہی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ کھیتوں، دریا کناروں اور درختوں کے درمیان تیزی سے اڑتے چھوٹے پرندے فطرت کو ایک مسلسل حرکت اور زندگی دیتے ہیں۔
اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تو یہ پرندے ہمارے “مہمان” ہیں۔ ہر سال آتے ہیں، کچھ وقت گزارتے ہیں اور خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ان مہمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟
بدقسمتی سے شکار اور ماحولیاتی دباؤ نے ان کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ جدید طریقوں اور بڑھتے ہوئے انسانی دباؤ کی وجہ سے ان پرندوں کے لیے محفوظ جگہیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔
حالانکہ یہ پرندے صرف خوبصورتی نہیں بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ یہ کیڑوں کو قابو میں رکھتے ہیں، بیجوں کی ترسیل میں مدد دیتے ہیں اور قدرتی توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ ان کی کمی پورے ماحول، زراعت اور حیاتیاتی تنوع کو متاثر کرتی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ پرندے ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے مہمان ہیں۔ اور مہمانوں کے ساتھ احترام، حفاظت اور ذمہ داری کا رویہ ہی تہذیب کی پہچان ہوتا ہے۔
چترال کی اصل شناخت اس کے پہاڑ، دریا اور یہ پرندے ہیں۔ اگر یہ محفوظ رہے تو زندگی بھی متوازن رہے گی، اور اگر ہم نے انہیں کھو دیا تو ہم صرف پرندے نہیں بلکہ اپنے ماحول کا ایک قیمتی حصہ کھو بیٹھیں گے۔

چترال (اسٹاف رپورٹر)لوئر چترال پولیس نے بڑی تعداد میں مال مویشی ڈاؤن ڈسٹرکٹ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادیضلعی انتظامیہ ک...
09/05/2026

چترال (اسٹاف رپورٹر)لوئر چترال پولیس نے بڑی تعداد میں مال مویشی ڈاؤن ڈسٹرکٹ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عیدالاضحی کے موقع پر لوئر چترال سے مال مویشی دوسرے اضلاع منتقل کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان کے خصوصی احکامات کی روشنی میں لواری ٹنل پر ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی سخت چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مال مویشیوں کی غیر قانونی منتقلی کو روکا جاسکے۔
انچارج چوکی لواری ٹنل PASi نثار احمد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دوران ڈیوٹی کارروائی کرتے ہوئے لوئر چترال سے بڑی تعداد میں مال مویشی ڈاؤن ڈسٹرکٹ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔
ملزم ساجد علی خان سکنہ چکیاتن دیر اپر کو گرفتار کرکے ملزم کے خلاف تھانہ عشریت میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج رجسٹر ہوکر مزید قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

غزالہ انجم صاحبہ کا دورہ لٹکوہ۔چترال(رپورٹ:یوسف زیب) ایم این اے غزالہ انجم صاحبہ نے ہز ہائی نس پرنس آغا خان کے متوقع دور...
09/05/2026

غزالہ انجم صاحبہ کا دورہ لٹکوہ۔

چترال(رپورٹ:یوسف زیب) ایم این اے غزالہ انجم
صاحبہ نے ہز ہائی نس پرنس آغا خان کے متوقع دورۂ چترال کے سلسلے میں لٹکوہ، دروشپ کے دیدار گاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر لٹکوہ جاتے ہوئے راستے کی خستہ حالی کا بھی نوٹس لیا۔
انہوں نے اسماعیلی کونسل کے عمائدین اور صدور صاحبان سے تفصیلی گفتگو کی، جبکہ بڑی تعداد میں زائرین کی متوقع آمد کے پیشِ نظر تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی لی۔ ایم این اے صاحبہ نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زائرین کو سہولیات کی فراہمی، ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل اور سڑکوں کی ہمواری کے لیے این ایچ اے حکام اور این ایچ اے نارتھ سے براہِ راست رابطہ کرنے اور مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے اسماعیلی کمیونٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور پرنس کریم آغا خان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر لٹکوہ روڈ کے حوالے سے اپنی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئےک یقین دہانی کرائی کہ ان شاء اللہ آئندہ پانچ سالوں میں لٹکوہ روڈ کو گرم چشمہ تک ترقیاتی اسکیم میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
اس موقع پر مسلم لیگ کے رہنما کوثر ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھے، جنہوں نے چترال، خصوصاً لٹکوہ کے لیے پارٹی کی خدمات کا تذکرہ کیا اور سڑک کے مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
آخر میں لٹکوہ کے عمائدین نے ایم این اے صاحبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔

آزاد اور خودمختار صحافت کے بغیر سچائی، انصاف اور شفافیت کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے_مہر عبدالمتینلاہور(سٹاف رپورٹر)یومِ صح...
03/05/2026

آزاد اور خودمختار صحافت کے بغیر سچائی، انصاف اور شفافیت کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے_مہر عبدالمتین

لاہور(سٹاف رپورٹر)یومِ صحافت کے موقع پر چیئرمین اتحاد پریس کلب® مہر عبدالمتین نے اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، اور آزاد و خودمختار صحافت کے بغیر سچائی، انصاف اور شفافیت کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صحافیوں کو پیش آنے والے خطرات اور آزادیِ صحافت پر بڑھتے ہوئے حملے نہایت تشویشناک ہیں، جو نہ صرف صحافی برادری بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہیں۔
مہر عبدالمتین نے کہا کہ صحافی اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام تک سچائی پہنچاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں دھمکیوں، تشدد، جھوٹے مقدمات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے جو آزادیِ اظہارِ رائے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف بغیر مکمل تحقیقات مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، جس سے یقیناً صحافیوں کے بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل آزادیِ صحافت کے منافی ہے اور اس سے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ حق و سچ لکھنے والے صحافیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے قبل ایک بااختیار تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے، جو معاملات کا گہرائی سے جائزہ لے اور شفاف تحقیقات کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یومِ صحافت ہمیں اس عہد کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ ہم صحافت کے اصولوں، سچائی اور دیانتداری پر قائم رہیں گے۔ انہوں نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین بنائے جائیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ صحافی بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔آخر میں چیئرمین اتحاد پریس کلب® مہر عبدالمتین نے تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اور اتحاد پریس کلب® ہمیشہ صحافیوں کے حقوق، تحفظ اور آزادیِ صحافت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔

موضوع! ہراسمنٹ عیاشی یا تربیت کی کمی              تحریر! شہاب ثنا لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے مرد نہیں، بھیڑیے ہیںمعاشرہ ...
27/04/2026

موضوع! ہراسمنٹ عیاشی یا تربیت کی کمی
تحریر! شہاب ثنا

لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے مرد نہیں، بھیڑیے ہیں
معاشرہ انسانوں سے بنتا ہے، اور انسانیت کی بنیاد احترام، عزت اور احساسِ ذمہ داری پر ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ کچھ لوگ اپنی حرکات سے نہ صرف اپنی ذات کو بلکہ پورے معاشرے کو شرمندہ کر دیتے ہیں۔ جو لوگ لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں، وہ خود کو مرد کہلانے کے لائق نہیں ہوتے، کیونکہ مردانگی کا تعلق طاقت سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتا ہے۔ایک حقیقی مرد وہ ہوتا ہے جو عورت کی عزت کرے، اسے تحفظ دے اور اس کے وقار کا خیال رکھے۔ لیکن جو شخص کسی لڑکی کو تنگ کرتا ہے، اس کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے یا اسے خوفزدہ کرتا ہے، وہ دراصل اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کے لیے خطرہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی سوچ بیمار اور رویہ درندگی پر مبنی ہوتا ہے۔
ای انوس نیویس گینیان گانی نمازگارو ٹائم پھوپھوکان گورزینی بستام اچی گیاوا شام بیتی اوشوئی چھاؤنیو سیرا گیکو ای برار موبائلا ای ژورو ای ہاش دھمکی دویاں کی اسپہ دی رونزیتام اسیتانی چیچیقان ۔ ہے برار ہتے ژورو تین ران کی تیز تان نوغ واٹس ایپ نمبرو متین دیت کی نو پراو اوا ہایا سیرا اسوم یا تان سورو اوغو دریم یا تا کال ریکارڈنگ اور میسجز سوشل میڈیا پھائے لاکوم دوسانا نو تیز دیت ورنہ ۔۔ ای وحشی درندہ غیریستائے۔کھوارا نیوشیکو مقصد ہایا کی اسپہ چترالیاں شوم نظریں لاڑینیان اسپہ بدنام بیتی سوسی مزید بدنام نو بام ۔اور ہایا ای انوسو واقعہ نو ہایا ہمیشہ بویاں اسپہ مہذب چترالی ہانی شوم کیچہ ہوتام کی ہانوں ای عورتو عزتو ہوش نو کوکو باش ۔
لڑکیوں کو ہراساں کرنا کبھی بھی مردانگی کی علامت نہیں رہا، بلکہ یہ انسان کے اندر چھپی ہوئی کمزوری، عدم تربیت اور اخلاقی پستی کا عکاس ہے۔ حقیقی مرد وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار، اپنے رویّے اور اپنی سوچ سے دوسروں کو تحفظ اور عزت کا احساس دے، نہ کہ خوف اور اذیت کا۔۔لہٰذا، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کو ہراساں کرنا بہادری نہیں، بلکہ اخلاقی شکست ہے۔ ایک سچا مرد وہی ہے جو عورت کو تحفظ، عزت اور وقار دے—کیونکہ عزت دینے والا ہی درحقیقت عزت پانے کا حقدار ہوتا ہے۔اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ کو درست کریں۔ مرد اپنی نگاہ اور نیت کو پاکیزہ بنائیں، اور عورت اپنی عزت و وقار کو اپنی پہچان بنائے۔ اپنی ماں باپ کی عزت کو اپنا ڈھال بنائے ایرے غیرے سے بات کرکے اپنے آپ کو تماشا مت بنائیں کہ بات سوشل میڈیا یا خودکشی تک جا پہنچے ۔۔جب دونوں اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گے، تبھی ایک مہذب، محفوظ اور باعزت معاشرہ وجود میں آئے گا، جہاں نہ ہراسانی ہوگی اور نہ اس کا کوئی جواز۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہراسانی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ جب تک ہم سب مل کر اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے، تب تک یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بیٹوں کی تربیت میں احترامِ نسواں کو بنیادی حیثیت دیں، تعلیمی اداروں کو آگاہی پھیلانی چاہیے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے عملدرآمد کروانا چاہیے۔اج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں، خاموشی توڑیں اور ہر اس عمل کے خلاف کھڑے ہوں جو کسی کی عزت کو مجروح کرتا ہو۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں عورت خود کو محفوظ محسوس کرے، اور جہاں مرد اپنی مردانگی کو عزت، برداشت اور اخلاق سے ثابت کریں، نہ کہ ظلم اور ہراسانی سے۔۔۔
خوش رہیں اختلاف کی اجازت ہے ۔۔
شہاب ثنا ۔۔

چترال(محمدرحیم بیگ سے)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چترال کے سینئر رہنما اور وی سی سنگور کے چیئرمین امین الرحمن شاہ می...
24/04/2026

چترال(محمدرحیم بیگ سے)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چترال کے سینئر رہنما اور وی سی سنگور کے چیئرمین امین الرحمن شاہ میر نے چترال کی اہم شاہراہوں، بالخصوص چترال-مستوج روڈ کی انتہائی خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاحت، معیشت اور عوامی زندگی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
چترال پریس کلب میں چترال یونیورسٹی کے طلباء کے نمائندہ وفد کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی خراب حالت نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں بلکہ تعلیمی و معاشی نظام کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اس موقع پر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف)، اسلامی جمعیت طلبہ اور دیگر طلبہ تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
امین الرحمن شاہ میر نے خصوصاً یونیورسٹی روڈ کی ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اس مسئلے پر وہ طویل عرصے سے اپنی مدد آپ کے تحت آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرم چشمہ ویلی کی زرعی پیداوار بروقت منڈیوں تک نہ پہنچنے کے باعث کاشتکاروں کو مالی نقصان ہو رہا ہے، جبکہ مریضوں، طلباء اور عام شہریوں کو بھی آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خستہ حال سڑکیں مستقبل میں سی پیک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ممکنہ تجارتی روابط کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی چترال مہتر فاتح الملک کی جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور ڈپٹی کمشنر چترال سے ملاقات کے بعد یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ متعلقہ سڑک پر اتوار سے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد انہوں نے اپنی احتجاجی تحریک اتوار تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے چیو پل کے قریب یونیورسٹی طلباء کے لیے انتظار گاہ تعمیر کرنے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکام کا شکریہ ادا کیا، تاہم واضح کیا کہ اگر اتوار کو کام کا آغاز نہ ہوا تو چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعے باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
امین الرحمن شاہ میر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ سیاحتی سیزن کے آغاز اور شندور فیسٹیول کی آمد کے پیش نظر فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر نہ صرف سیاحت متاثر ہوگی بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

چترال(محمدرحیم بیگ سے)کتاب “روشت استاری” کی تقریب رونمائی، ضلعی سیرت کونسل چترال کا سنہری کردار نمایاںڈپٹی کمشنر راو ہاش...
21/04/2026

چترال(محمدرحیم بیگ سے)کتاب “روشت استاری” کی تقریب رونمائی، ضلعی سیرت کونسل چترال کا سنہری کردار نمایاں
ڈپٹی کمشنر راو ہاشم عظیم کی کاوش، سیرتِ طیبہؐ کی روشنی میں نصابی کتاب کی تیاری اہم سنگ میل قرار
گزشتہ دنوں ٹاؤن ہال چترال میں نصابی کتاب “روشت استاری” کی تقریبِ رونمائی کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبکہ بعض شخصیات مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکیں۔ تقریب کے حوالے سے معلومات ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام تک پہنچ چکی ہیں۔
یہ کتاب ڈپٹی کمشنر چترال راو ہاشم عظیم کی خصوصی دلچسپی اور کاوشوں سے پرائمری اسکول کے بچوں کے لیے مرتب کی گئی ہے، جسے چترال کے عوام کے لیے ایک اہم اور قابلِ قدر اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کتاب نہ صرف چترال بلکہ مستقبل میں پورے صوبہ خیبر پختونخوا کے نصاب کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کتاب میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سیرتِ طیبہ حضرت محمد ﷺ کی روشنی میں نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو ایک اسلامی اور صالح معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس موقع پر ضلعی سیرت کونسل چترال کے کردار کو بھی نمایاں طور پر سراہا جا رہا ہے، جس نے اس منصوبے میں خاموش مگر مؤثر انداز میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ کتاب کی تیاری کے عمل کے دوران ضلعی سیرت کونسل کے پلیٹ فارم سے متعدد کاوشیں کی گئیں، جن کے نتیجے میں ممتاز عالم دین مفتی پروفیسر ڈاکٹر غیاث الدین کو اس بورڈ میں شامل کیا گیا جو اس کتاب کی ترتیب و تدوین پر کام کر رہا تھا۔
ضلعی سیرت کونسل چترال کے اراکین، علمائے کرام، سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس کاوش کو مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آنے والی نسلوں کی اخلاقی و دینی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ سیرتِ طیبہ ﷺ کے فروغ اور تعلیمی میدان میں مثبت سرگرمیوں کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، اور اس طرح کے اقدامات کی ہر ممکن حمایت کی جائے گی۔

20/04/2026

چترال (محمدرحیم بیگ سے) مسلم لیگ ( ن) چترال کے جنرل سیکرٹری اور ایم این اے محترمہ غزالہ انجم کے فوکل پرسن محمد کوثر ایڈوکیٹ نے پارٹی کی ضلعی قیادت کی طرف سے
انجینئر امیر مقام کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی ولولہ انگیز لیڈرشپ کی وجہ سے پارٹی صوبائی اور ضلعی لیول پر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ایک اخباری بیان میں انہوں نے گزشتہ دن پارٹی میٹنگ میں انجینئر امیر مقام پر بےجاتنقید اور کچھ عہدیداراں کا احتجاجاً استعفوں کے اعلان کو حقائق سے لاعلمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انجنئر امیر مقام ھمارے صوبائی قائد ھیں اور چترال و پارٹی کےلیے انکے عظیم خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو تحفظات ہیں تو پارٹی ڈسپلن کے مطابق صوبائی صدر سے ملکر اپنی تحفظات دور کرنے کے بجائے استعفوں کا سوشل میڈیا میں اعلان کرکے پارٹی اور صوبائی صدر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کےسوا کچھ نہ ھے۔ محمد کوثر ایڈوکیٹ نے زور دے کر کہا کہ بطور جنرل سیکرٹری وہ ضلعی قیادت میں اپنے سینئرز سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے استعفوں کے فیصلے واپس لیکر متحد ہو جائیں اور غیروں کو جگ ہنسائی کا موقع نہ دیں اور اپنے صفوں میں اتحاد و اتفاق برقرار رکھ کر ہی ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف اور وزیراعظم اعظم شہباز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں چترال میں 100ارب روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی کام کرچکے ہیں اور ضلعی قیادت کے مطالبے پر چترال میں دانش سکول کی تعمیر کا آغاز ، ہسپتال کے قیام کی منظوری اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لئے فراخدلانہ ایلوکیشن چترال سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی محبت کا بین ثبوت ہے اور اس مرحلے پر پارٹی کی صفوں میں انتشار پھیلانے کا فائدہ مخالفین کو پہنچ سکتا ہے ۔

ہمدردی جو بوجھ ہلکا کرےتحریر: امتیاز احمد بلچ چترال انسانی رویّوں میں احساسِ ہمدردی ایک نہایت اہم جذبہ ہے جو رشتوں کو مض...
01/04/2026

ہمدردی جو بوجھ ہلکا کرے
تحریر: امتیاز احمد بلچ چترال
انسانی رویّوں میں احساسِ ہمدردی ایک نہایت اہم جذبہ ہے جو رشتوں کو مضبوط کرتا اور دلوں میں قربت پیدا کرتا ہے۔ کسی بیمار، مسافر یا پریشان حال شخص کی خیریت دریافت کرنا بظاہر ایک سادہ اور مثبت عمل سمجھا جاتا ہے، مگر ہر خیرخواہانہ اظہار ہمیشہ یکساں اثر نہیں چھوڑتا۔
اصل بات نیت سے آگے بڑھ کر موقع اور انداز کی ہوتی ہے۔ جب کوئی فرد پہلے ہی جسمانی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو، تو بار بار ایک ہی سوال دہرانا یا مسلسل تفصیلات جاننے کی کوشش کرنا اس کے لیے مزید تھکن اور بوجھ کا سبب بن سکتا ہے۔ یوں نیک نیتی کے باوجود ہمارا رویہ اس کی پریشانی کم کرنے کے بجائے بڑھا بھی سکتا ہے۔
درحقیقت، احساس کا معیار اظہار کی کثرت نہیں بلکہ اس کی مناسبت ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کب بات کرنی ہے، کیسے کرنی ہے اور کس حد تک کرنی ہے۔ بعض اوقات مختصر، سادہ اور پُرسکون انداز زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، جبکہ غیر ضروری سوالات یا بار بار کی گفتگو سامنے والے کے ذہنی سکون میں خلل ڈال سکتی ہے۔
گفتگو کے دوران اپنے تجربات یا ملتی جلتی مثالیں بیان کرنا بعض حالات میں مفید ہو سکتا ہے، مگر یہ ہر موقع کے لیے ضروری نہیں۔ جب کوئی شخص اپنی کیفیت بیان کر رہا ہو تو سب سے اہم چیز اسے توجہ سے سننا ہے، تاکہ اسے یہ احساس ہو کہ اس کی بات کو سمجھا اور قدر دی جا رہی ہے۔
مناسب طرزِ عمل یہ ہے کہ ہم اپنے الفاظ میں نرمی، سادگی اور توازن کو برقرار رکھیں۔ ایسے جملے جو تسلی دیں، حوصلہ بڑھائیں اور ضرورت کے وقت عملی مدد کا یقین دلائیں، زیادہ اثر رکھتے ہیں اور دلوں کو قریب لاتے ہیں۔
اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ہمارے رویّے سے سامنے والے کے بوجھ میں کمی آئے۔ اگر ہمارے الفاظ اسے سکون دیں اور اس کے حوصلے کو مضبوط کریں تو یہی کامیاب اور حقیقی احساسِ ہمدردی ہے۔ لیکن اگر ہمارا انداز اس کے لیے مزید پریشانی کا باعث بنے تو لازم ہے کہ ہم اپنے طرزِ اظہار پر سنجیدگی سے نظرِثانی کریں۔

موضوع “اسامہ وڑائچ شہید پارک: چترال کی خوشیوں اور خوبصورتی کا دلکش مرکز”                            تحریر: شہاب ثنا چترا...
24/03/2026

موضوع “اسامہ وڑائچ شہید پارک: چترال کی خوشیوں اور خوبصورتی کا دلکش مرکز”
تحریر: شہاب ثنا
چترال پاکستان کا ایک نہایت پُرامن، دلکش اور اپنی مثال آپ ضلع ہے۔ یہاں کی فطری خوبصورتی انسان کو مسحور کر دیتی ہے۔ بہتی ہوئی شفاف آبشاریں، برف سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑ، فلک بوس چناروں کی قطاریں، سرسبز و شاداب کھیت اور ٹھنڈی، پاکیزہ ہوا—یہ سب مل کر چترال کو جنت نظیر بنا دیتے ہیں۔ یہاں کے باسی بھی اپنی سادگی، مہمان نوازی اور دردِ دل رکھنے والی فطرت کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ چترالی لوگ محبت، خلوص اور رواداری کی جیتی جاگتی مثال ہیں، جو ہر آنے والے کو اپنے پن کا احساس دلاتے ہیں۔اسی خوبصورت خطے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی ذاتی خوشیوں سے بڑھ کر اجتماعی بھلائی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ سکندر اعظم بھی انہی ہستیوں میں شامل ہیں، جنہوں نے اسامہ وڑائچ شہید پارک کی صورت میں اہلِ چترال کو ایک بہترین تحفہ دیا۔اپنی دن رات کی انتھک کوششوں سے خوبصورت اور معیاری تفریحی مقام قائم کیا، جہاں ہر عمر کے افراد—بچے، نوجوان، بزرگ اور خواتین—بلا جھجھک آ کر خوشیوں کے لمحات گزار سکتے ہیں۔ یہ پارک نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ چترال کی مجموعی خوبصورتی میں بھی نمایاں اضافہ کرتا ہے۔یہاں
Ferries wheel, flaying boat, Jett ride, bumper car, zarafa ride, buggy ride, jumping castle etc
کی سہولیات دستیاب ہیں ۔۔ یہاں ہر وقت بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں ہوتی ہیں ،خصوصاً عید کے پُرمسرت دنوں میں اس پارک کا منظر دیدنی ہوتا ہے۔ ہر طرف خوشیوں کی رونقیں، بچوں کی قہقہے، نوجوانوں کی چہل پہل اور خاندانوں کی مسکراہٹیں ایک حسین سماں باندھ دیتی ہیں۔ لوگوں کا اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی، مگر اس کے باوجود ایک خوشگوار اور مہذب ماحول قائم رہتا ہے۔ ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا ہوتا ہے اور ہر دل شکرگزاری کے جذبات سے لبریز ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پر واقعی سکندر اعظم جیسے لوگوں کی تعریف کرنا ضروری ہو جاتا ہے، جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی کو عوام کی خوشیوں کے لیے وقف کیا۔سکندر اعظم بھائی ہمیی آپ جیسے بیٹے کی ضرورت ہے ہمیں آپ پر فخر ہے آپ نے جن چہروں پر خوشی کی لہر قائم کی ہے واقعی آپ داد کے مستحق ہے۔یہ تمام مناظر دیکھ کر دل میں فخر کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے—اپنے آپ پر، اپنے شہر پر اور چترالی ہونے پر۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے چترال ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے، جہاں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جدید سہولیات بھی شامل ہو رہی ہیں۔ یہ ایک روشن، ترقی یافتہ اور مہذب چترال کی جھلک پیش کرتا ہے۔تاہم اس ساری خوبصورتی اور ترقی کے ساتھ ایک نہایت اہم گزارش اہلِ چترال سے کرنا چاہوں گی۔ یقیناً ہمیں زندگی کی خوشیوں سے بھرپور لطف اٹھانا چاہیے، پارکوں، باغات اور تفریحی مقامات کا رخ کرنا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی روایات، اقدار اور اسلامی تشخص کو بھی ہر حال میں برقرار رکھنا ہے۔ چترالی قوم اپنی مضبوط دینی وابستگی اور اعلیٰ اخلاقی روایات کے لیے جانی جاتی ہے۔ ہمارے اسلاف نے ہمیں عزت، حیا، احترام اور حدود کا درس دیا ہے، جسے ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔خاص طور پر خواتین کے احترام کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے، کیونکہ یہی ہماری پہچان ہے۔ اسی طرح صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پارکوں اور عوامی مقامات کو صاف رکھنا نہ صرف ہمارے دین کا حصہ ہے بلکہ ایک مہذب قوم ہونے کی علامت بھی ہے۔ کچرا ادھر اُدھر پھینکنے کے بجائے مقررہ جگہوں پر ڈالنا، نظم و ضبط کا خیال رکھنا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ہم سب پر لازم ہے۔
اگر ہم ان چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتوں کا خیال رکھیں تو یقیناً چترال نہ صرف اپنی خوبصورتی میں بلکہ اپنے کردار، تہذیب اور ترقی میں بھی ایک مثالی خطہ بن سکتا ہے۔ اور تب ہم فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہم صرف ایک خوبصورت علاقے کے باسی نہیں بلکہ ایک مہذب، باوقار اور ذمہ دار قوم کے نمائندے بھی ہیں۔
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں ۔۔
شہاب ثنا ۔۔۔

Address

Chitral

Telephone

+923449449288

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chitral News Plus CNP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chitral News Plus CNP:

Share