02/07/2026
ضلع لوئر چترال کی انتظامیہ سے ایک اہم سوال!
اگر حکومتِ پاکستان نے 11.8 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی سرکاری قیمت 2,848 روپے مقرر کی ہے، تو پھر ضلع لوئر چترال میں یہی سلنڈر 5,250 روپے میں کیوں فروخت ہو رہا ہے؟
آخر فی سلنڈر 2,402 روپے اضافی کس کی جیب میں جا رہے ہیں؟
کیا سرکاری نرخ مقرر کرنا ہی کافی ہے، یا ان پر عملدرآمد کرانا بھی ضلعی انتظامیہ کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے؟ اگر نرخ موجود ہیں تو پھر ان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے، اور متعلقہ ادارے خاموش کیوں ہیں؟
لوئر چترال کے عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ایل پی جی جیسی بنیادی ضرورت کی چیز پر من مانی قیمتیں وصول کرنا عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
ہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، ڈپٹی کمشنر لوئر چترال، متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیا جائے اور سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
خاموشی مسئلے کا حل نہیں، عوام کو انصاف اور ریلیف چاہیے۔