23/06/2020
کمپیوٹر کے ساتھ دوستی
ہماری دوستی بہت پرانی ہے۔ اس مصنوعی دوست کے ساتھ میرا مظبوط رشتہ ہے۔ چلیں آپ کو بھی اس دوستی کا ایک مختصر قصہ سناؤں
سال 2000 جب میں محض چھ سال کا تھا ہمارا پہلا ملاقات کچھ یوں ہوا ۔
ہمارا والد صاحب(الله تعالیٰ مغفرت فرمائے ) دیر سے واپس گھر لوٹ رہا تھا تب میں شرینگل میں دادی کے ہاں مقیم تھا اس کا کال موصول ہوا کال پر پتہ چلا کہ وہ کمپیوٹر خرید کر آرہا ہے چونکہ ان دنوں اس کے ایم ایڈ کے تھیسز ہورہے تھے جس کے لئے کمپیوٹر کا ساتھ ہونا ضروری تھا ۔
میں لپک کر گھر سے نکلا شرینگل بازار میں اس کا انتظار کرنے لگا، اس وقت پرانا سڑک آمدورفت کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے مجھے دیر رات تک انتظار کرنا پڑا، کمپیوٹر؟ کیسا ہوگا؟ کیا کریں گے اس پر؟ طرح طرح کے سوالات ذھن میں اٹھ کھڑے ہو جاتے اور اکیلا رات کی تاریکی میں سڑک کے کنارے بیٹھ کر ہر آنیوالی گاڑی میں داجی کو ڈھونڈتا رہا ۔ بلآخر وہ پہنچ گیا مجھے ساتھ لے کر ڈوگدرہ چل آئے ۔ وہ اپنے ساتھ ایک آپریٹر بھی لے کر آئے تھے، آپریٹر نے کمپیوٹر فٹ کرکے آن کر دیا میں تو دیکھتے ہی رہ گیا، بڑے سائز کا سی پی یو اور مانیٹر، بال والا ماؤس اور 97 ونڈو سب کچھ عجیب لگ رہے تھے، مگر چند منٹ بعد کچھ فنی خرابی کے باعث کمپیوٹر بند ہو گیا آپریٹر کے کوششوں کے باوجود دوبارہ آن ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، جبکہ داجی اور میں یوں توجہ سے دیکھ رہے تھے ۔ کل صبح وہ اسے دوبارہ دیر لے کے گئے واپسی میں تین سے چار دن لگ گئے اور میں ہم عمر ساتھیوں کو روز کمپیوٹر کے قصے سناتا رہا وہ بھی توجہ سے سن کر حیران ہوجاتے، میں جیسے کمپیوٹر کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں ان کو گائیڈ کرتا رہتا مگر ابھی تو مجھے اس کا ABC نہیں پتہ تھا ۔ اندھے کے ہاتھی چھونے کے مترادف تھا ۔
مگر پھر ایک دوپہر کمپیوٹر واپس گھر لایا گیا بچے بوڑھے جوان سب پہنچ گئے جیسے ہمارے گھر کوئی ڈولی لے کر آرہے تھے کمپیوٹر کی فٹنگ کی گئی اب بجلی کا انتظار کیا جانے لگا چونکہ ہمارے ہاں لوکل ہائیڈروپاور جنریٹرز ہے جو شام کو سٹارٹ کیا جاتا ہے، ہم شام ہونے کا انتظار کرتے رہے اور لوگوں کا جم غفیر یو بڑتا گیا بالکل شادی جیسا ماحول تھا.
پڑوسی بھی سارے کے سارے موجود تھے ۔ شام کو کمپیوٹر آن کر دیا گیا کمرہ لوگوں سے بھرا پڑا تھا ہم نظریں سکرین پر جمائے بیٹھے ہوئے تھے ۔ داجی نے کاغذ کا ایک ٹکڑا اٹھا کر اس پر لکھے ہوئے کچھ طریقہ کار پڑھ لی اور پھر "راوڑہ بندے بندے چی اوپیلونہ جانانہ بیری تہ رازہ چہ اوزنگونہ، اس گانے کو پلے کیا گیا، ہم نے پہلی مرتبہ کسی ویڈیو کو دیکھ لیا ۔ اس رات دیر تک ہم یوں سکرین کو دیکھتے رہے ۔ بعد میں پتہ چلا کہ کاغذ کے اس ٹکڑے پر کمپیوٹر بند کرنے اور کھولنے کا طریقہ درج تھا ۔
تین دن تک یہی تماشا چلتا رہا چوتھے روز داجی نے کہا "آج کے بعد ہم اسے صرف کام کیلئے بروئے کار لائیں گے، بھلا اس سے اور بھی کچھ ہوسکتے ہیں کیا ہمیں کیا پتہ تھا ۔
پھر یوں ہوا کہ ٹائپنگ ماسٹر نامی ایک سافٹ وئیر کو کھول کر داجی نے ہمیں ٹائپنگ سیکھنے کا ٹاسک سونپا ۔ اس پر ایک گیم کھیلا جاتا bubbles جو آج بھی ایڈوانس ورژنز میں دستیاب ہے ۔ اس گیم سے کی بورڈ کے سارے alphabets دبانے کا موقع ملتا ۔ اور ٹائپنگ سپیڈ بڑھ جاتا ۔ اس میں سکور کاؤنٹ کیا جاتا ۔ تب ہمارے درمیان مقابلہ ہوا کرتا جیتنے والے کو خوب داد دیا جاتا جبکہ ہارنے والا تنقید کا نشانہ بن جاتا ۔ پہلے نمبر پر داجی کھیل لیتے، بھائی نعمان صاحب دوسرے میں تیسرے عیان چوتھے جبکہ ریحان آخری نمبر پر کھیلتے ۔ سب اپنے اپنے سکور نوٹ کرلیتے آخر میں موازنہ کیا جاتا۔
ابتداء میں کوئی بھی دس سے ذائد سکور نہیں کرپائے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم سیکھتے گئے۔
میں اکثر جیت جاتا اور سب کے داد حصول کرلیتا بلخصوص داجی کا وہ واحد حریف تھا جو میری جیت کی خوشی میں اپنا ہار بھول جاتا اور میرے ساتھ celebrate کر جاتا ۔
میں اوسطاً بیس سکور کے ساتھ پہلے نمبر پر ہوتا داجی دوسرے جبکہ عیان اور ریحان 5،6 سکور کے آس پاس رہتے بھائی نعمان کو اکثر ہار کی منہ دیکھنا پڑتا ۔
تقریباً ایک مہینے بعد ہم مقابلہ کرنے بیٹھ گئے اس دن میں پہلی مرتبہ ایک ہزار کا ہندسہ عبور کرگیا ابھی گیم جاری تھا کچھ دیر بعد دوہزار تک پہنچ سکا سب سکرین کے پر توجہ مرکوز کرگئے تھے گیم کے آخری لمحات تھے میں پوری کوشش کے ساتھ کھیل رہا تھا اور آخری لمحات میں تین ہزار کراس کرکے گیم ختم ہوگیا ۔ سب جھوم اٹھے تین ہزار سکور! عجیب لگ رہا تھا اتنے میں داجی نے زوردار تھپڑ میرے کمر پر مارا اس کا جشن بھی عجیب تھا بھلا یہ بھی کوئی celebration کا طریقہ ہے کیا؟ مگر وہ خوشی کا تھپڑ تھا میں نے خوامخواہ برداشت کر لیا ۔ اس کے بعد تالیاں بجائی گئیں۔ آخر میں داجی نے کمپیوٹر الماری کے چابیاں میرے حوالے کر دئیے ۔ گو کہ اس کھیل میں اس کا مقصد کمپیوٹر کا حقیقی دوست تلاش کرنا تھا جو مجھے چن لیا گیا ۔
میرے تربیت پر بعد میں خصوصی توجہ دی اور مختلف اساتذہ کے ساتھ مجھے ملواتا رہا ۔ ہمارے گاؤں میں قیوم ڈاکٹر صاحب رہتا تھا جو تیمر گرہ سے تعلق رکھتا تھا اس کا ایک بیٹا عضیر جو کہ اس وقت تقریباً چودہ سے سولہ سال کا ہوا ہوگا میں اسے اپنا پہلا کمپیوٹر استاد تسلیم کرلیتا ہوں وہ اس وقت کے حساب سے کمپیوٹر کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا ہمیں سکھاتا رہتا، ششم جماعت سال 2006 میں ایک مہینے کیلئے دیر جاکر میں نے سرحد کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ایم ایس آفس سیکھ لی ۔ ونڈوز ایکس پی انسٹالیشن سیکھ لی۔ 2008 میں انٹرنیٹ سے متعارف ہوگیا ۔ اور مختلف اساتذہ سے مختلف چیزیں سیکھنے کا موقع ملا ۔ سال 2009 میں ایک افغانی مہاجر نے ہمارے گاؤں کے بازار میں سافٹ وئیر دکان کھول لیا وہ سکھانے میں توڑا کنجوس تھا مگر میں نے اس سے ابتدائی ویڈیو ایڈینگ سیکھ لی وہ بھی میرے استادوں میں سے ایک تھا میری دعائیں اس کے ساتھ ہے ۔ 2010 میں فیس بُک اور یوٹیوب سے روشناس ہوسکا اور یوں گوگل پر بھی عبور حاصل کرنے لگا اس وقت 230kb سپیڈ کا انٹرنیٹ میسر تھا جو بہت تیز تسلیم کیا جاتا۔ 2011 میں ونڈوز 7 لے لی اور 2012 میں ماموں سعید اسلام نے لیپ ٹاپ تحفے میں دیا جو آج بھی میرے زیراستعمال ہے ۔ 2008 میں داجی کے ADO پوسٹ پر تقرری کے بعد اس کے دفتری کاموں میں اس کے ہاتھ بٹھانے کا موقع ملا اس کے لئے مختلف اوقات پر کمپوزنگ کرنے سے ٹائپنگ سپیڈ مزید بڑھ گیا ۔
کالج اور پھر یونیورسٹی میں زیادہ تر ٹائم لیپ ٹاپ کے ساتھ گزار لیتا جس پر باقی دوست پریشان رہتے مگر وہ نہیں جانتے تھے کمپیوٹر سے میری دوستی کتنی پرانی ہے میں اب اس کی باتیں سمجھ سکتا تھا اور سیکنڈز کے اندر اندر اس سے بہت سارے کام سرانجام دے سکتا تھا۔
سال 2017 سے 2019 تک مختلف سکولز میں کمپیوٹر ایجوکیشن مضمون پڑھانے کا موقع ملا۔ خصوصاً جی ایچ ایس میانہ ڈوگ میں بچوں کو فری میں سکھانے کا موقع بھی ملا، چونکہ میں نے انجینئرنگ کی مگر دوسری طرف کمپیوٹر کی دوستی مجھے اپنی طرف کھینچ لیتا رہا ۔ 2019 کے رمضان المبارک میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں سی ٹی آئی ٹی پوسٹ کے لئے اپلائی کیا ٹیسٹ دیا رزلٹ آنے کے بعد میرے تقرری کے امکانات بہت زیادہ روشن تھے مگر کرونا اور سکول بندش رستے میں حائل ہوگیا ۔ بہر حال اب مزید انتظار نہیں کرسکتے اس لئے آج سے ایک فری انفارمیشن ٹیکنالوجی اکیڈمی کھولنا چاہتا ہوں ۔ جس میں جو بھی چاہے آئی ٹی ایکسپرٹ بن سکتا ہے کسی بھی طالب علم سے فیس نہیں لوں گا بہر حال اگر کوئی اکیڈمی کے نام خیرات عطیات دینا چاہتے ہیں تو لے سکتا ہوں اگر محکمہ تعلیم میں آئی ٹی پر میرا انتخاب کردیا گیا تو اس کی ادھی تنخواہ اکیڈمی پر خرچ کیا جائے گا انشاءاللہ تعالیٰ ۔ سارا کریڈٹ والد صاحب کے نام کرتا ہوں اس نے مجھے ایکسپرٹ بنانا چاہا اب دوسروں کو سکھانا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں شاید کوئی اور عرفان ہو جو استاد کی تلاش میں ہو تو اس کے لئے اکیڈمی کے دروازے کھلے ہونگے ۔
ٹائپنگ ماسٹر کا وہ پرانا گیم اب بھی فارغ اوقات میں کھیلتا ہوں آج اس سے بھی زیادہ سکور کرلیتا ہوں مگر کوئی داد دینے والا پاس نہیں ہوتا ۔ کوئی نہیں ہوتا جو اسی طرح تھپڑ مارے اور تالیاں بجائے۔
Muhammad Irfan