21/07/2026
چترال اوورسیز الائنس یو اے ای — اتحاد، خدمت اور اعتماد کا کامیاب سفر
چترال اوورسیز الائنس یو اے ای کا قیام بیرونِ ملک مقیم چترالی برادری کو ایک منظم پلیٹ فارم پر متحد کرنے، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کے مقصد سے عمل میں لایا گیا۔
تقریباً تین سال قبل چند مخلص اور خدمت کے جذبے سے سرشار چترالی افراد نے متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنی کمیونٹی کو منظم کرنے کا تصور پیش کیا۔ ابتدائی عرصے میں باہمی رابطوں اور رضاکارانہ تعاون کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ تقریباً ایک سال قبل باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ، ذمہ داریاں اور منظم طریقۂ کار تشکیل دیا گیا۔
عجمان کے افسوس ناک واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے مرحوم ممتاز اور مرحوم امیر کی میتوں کو باعزت طریقے سے چترال منتقل کرنا چترال اوورسیز الائنس یو اے ای کے لیے پہلی بڑی اور غیر معمولی عملی آزمائش تھی۔
یہ ذمہ داری صرف مالی وسائل جمع کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ میتوں کی حوالگی، قانونی دستاویزات کی تیاری، متعلقہ سرکاری اداروں سے اجازت، سفارت خانے سے مسلسل رابطہ، نمازِ جنازہ، فضائی ٹکٹوں کے انتظام اور پاکستان منتقلی جیسے کئی حساس اور پیچیدہ مراحل پر مشتمل تھی۔
اللہ تعالیٰ کے فضل، پوری چترالی برادری کے اعتماد اور رضاکاروں کی مسلسل محنت سے تمام قانونی اور انتظامی مراحل انتہائی مختصر وقت میں مکمل کیے گئے اور دونوں مرحومین کی میتوں کو ان کے آبائی علاقے چترال پہنچایا گیا۔
دستاویزی اور قانونی کارروائی میں تنظیم کے نئے رکن قاضی عمیر صاحب نے اہم کردار ادا کیا۔ میتوں کی حوالگی کے ابتدائی مرحلے سے لے کر سفارت خانے اور متعلقہ سرکاری اداروں کے بار بار دوروں، ضروری دستاویزات کی تیاری اور قانونی تقاضوں کی تکمیل تک انہوں نے مسلسل عملی تعاون فراہم کیا۔
تنظیم نے میتوں کی وطن واپسی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ مرحومین کے اہلِ خانہ کے لیے خاطر خواہ مالی امداد بھی جمع کی۔ یہ تعاون محض مالی مدد نہیں بلکہ پوری چترالی برادری کی جانب سے غم زدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی، ہمدردی اور عملی سہارے کا اظہار تھا۔
اس مہم میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ سعودی عرب اور دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم چترالی بھائیوں نے بھی بھرپور مالی اور اخلاقی تعاون کیا۔ چترال اوورسیز الائنس یو اے ای پر دنیا بھر کے اوورسیز چترالیوں کا اعتماد ہمارے لیے باعثِ اعزاز بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس کامیابی کا کریڈٹ کسی ایک فرد، عہدیدار یا گروہ تک محدود نہیں۔ اس میں ہر اس شخص کا حصہ شامل ہے جس نے مالی مدد فراہم کی، کسی متعلقہ ادارے سے رابطہ کیا، ضروری معلومات پہنچائیں، سفری انتظامات میں تعاون کیا یا اپنا قیمتی وقت اور وسائل تنظیم کے لیے وقف کیے۔
چترال اوورسیز الائنس یو اے ای کی موجودہ انتظامی ٹیم:
صدر: فیض محمد خان صاحب
چیئرمین: حاجی رحمت صاحب
نائب صدر: ظفر سیرنگ صاحب
جنرل سیکرٹری: امیر حسین صاحب
فنانس سیکرٹری: سمیع اللہ صاحب
جوائنٹ سیکرٹری: احمد فیاض صاحب
سیکرٹری انفارمیشن: افتخار حسین صاحب
مشیر برائے میڈیا و فنانس: آفتاب احمد
ایگزیکٹو باڈی:
ذوالفقار عالم صاحب
شہباز صاحب
شیر قادر صاحب
ضیاء الاسلام صاحب
منیر صاحب
تنظیم میں حالیہ عرصے کے دوران متعدد مخلص اور فعال افراد بھی شامل ہوئے ہیں۔ ایاز صاحب نے نہ صرف خود تنظیم میں شمولیت اختیار کی بلکہ مزید خدمت کے جذبے رکھنے والے افراد کو تنظیم کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
قاضی عمیر صاحب، مسٹر عالمگیر اور ڈاکٹر محمد حسنین صاحب کی شمولیت تنظیم کے لیے ایک مثبت اضافہ ہے۔ خصوصاً کمیونٹی کے افراد کو قریب لانے، باہمی اعتماد پیدا کرنے اور مختلف حلقوں کو مشترکہ مقصد کے لیے متحد کرنے میں ڈاکٹر محمد حسنین صاحب اور مسٹر عالمگیر کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔
ہم تنظیم میں شامل ہونے والے تمام نئے اراکین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ کسی بھی تنظیم کی اصل طاقت صرف عہدیداران نہیں بلکہ وہ تمام خاموش کارکن، رضاکار اور معاونین ہوتے ہیں جو بغیر کسی ذاتی تشہیر کے اپنے وقت، صلاحیت اور وسائل کے ذریعے خدمت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
چترال اوورسیز الائنس یو اے ای مالی شفافیت، باہمی مشاورت، یکساں احترام اور اجتماعی فیصلوں کو اپنی بنیادی ترجیحات سمجھتا ہے۔ میتوں کی وطن واپسی اور متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت ایک نمایاں کامیابی ضرور ہے، لیکن ہم اسے سفر کا اختتام نہیں بلکہ خدمت کے ایک زیادہ منظم مرحلے کا آغاز سمجھتے ہیں۔
مستقبل میں تعلیم، صحت، روزگار، قانونی رہنمائی، ہنگامی امداد اور متحدہ عرب امارات میں مقیم چترالی افراد کے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے مزید منظم اور مؤثر اقدامات ہماری ترجیحات میں شامل ہوں گے۔
چترال اوورسیز الائنس یو اے ای اپنے تمام عہدیداران، ایگزیکٹو ممبران، نئے اراکین، رضاکاروں، مالی معاونین اور دنیا بھر میں مقیم چترالی بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس مشکل وقت میں ہم پر اعتماد کیا اور عملی تعاون فراہم کیا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم ممتاز اور مرحوم امیر کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتحاد، شفافیت اور اخلاص کے ساتھ اپنی برادری کی خدمت جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
آپ چترال اوورسیز الائنس یو اے ای کی اس پہلی بڑی کامیابی اور دنیا بھر میں مقیم چترالی بھائیوں کے باہمی تعاون کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کمنٹ میں اپنی رائے، تجاویز اور نیک خواہشات ضرور لکھیں۔
Chitral Overseas Alliance UAE, Chitrali community UAE, overseas Chitralis, community welfare organization, body repatriation to Chitral, financial support for bereaved families, Chitrali unity, Ajman incident, UAE Chitralis