03/06/2026
گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کا بگل بجتے ہی خطے کی سیاسی فضا میں ایک نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ یہ موقع محض نئے نمائندوں کے انتخاب کا نہیں، بلکہ اس بنیادی سوچ کو بدلنے کا ہے جس کے تحت ہم اب تک اپنے نمائندے چنتے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم روایتی، سطحی اور گلی محلوں کی سیاست سے باہر نکل کر قانون ساز اسمبلی (Legislative Assembly) میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور وژنری قیادت کی اہمیت کو تسلیم کریں۔
۱۔ قانون سازی بمقابلہ "سڑک، ٹینکی، اور نکاسی" کی سیاست
دہائیوں سے ہمارے پورے ملک، بالخصوص گلگت بلتستان میں سیاست کو "سڑک، پانی کی ٹینکی، اور گندے پانی کی نکاسی" (نالیوں) تک محدود کر دیا گیا ہے۔ عوام کو اس نہج پر لا کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ پکی سڑک یا پانی کے پائپ کو ہی سب سے بڑی ترقی سمجھنے لگتے ہیں۔
یہ ترقی نہیں، بنیادی حق ہے: سڑکیں بنانا، ٹینکیاں لگانا اور صفائی کا نظام برقرار رکھنا بلدیاتی اداروں (Local Bodies) اور سرکاری محکموں کا کام ہے، نہ کہ قانون ساز اسمبلی کے ارکان کا۔
اسمبلی کا اصل کام کیا ہے؟ اسمبلی میں بیٹھنے والے کا کام قانون بنانا، خطے کے لیے بڑے بجٹ منظور کروانا، آئینی حقوق کی جنگ لڑنا، اور ایسی پالیسیاں وضع کرنا ہے جو نسلوں کو روزگار اور ترقی دیں۔
روایتی سیاست کا نقصان: جب کم تعلیم یافتہ یا روایتی سوچ کے حامل لوگ اسمبلی میں پہنچتے ہیں، تو وہ دوراندیش پالیسی بنانے کی بجائے انہی چھوٹے موٹے ترقیاتی کاموں کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اربوں روپے کے فنڈز گلیوں کی پختگی کی نذر ہو جاتے ہیں، لیکن خطے میں نہ تو کوئی بڑی یونیورسٹی بن پاتی ہے، نہ صحت کا عالمی معیار کا نظام اور نہ ہی نوجوانوں کے لیے روزگار کے جدید مواقع۔
۲۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی اسمبلی میں ضرورت کیوں؟
آج کے جدید دور میں معیشت، پالیسی سازی اور حکمرانی (Governance) پیچیدہ علوم بن چکے ہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نمائندہ درج ذیل صلاحیتوں کی بنیاد پر خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے:
پالیسی اور قانون سازی کی سمجھ: ایک پڑھا لکھا ذہن جانتا ہے کہ قانون کیسے بنتے ہیں، بیوروکریسی سے کام کیسے لیا جاتا ہے اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کو اپنے خطے کے حق میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی سرمایہ کاری اور فنڈز: تعلیم یافتہ قیادت گلگت بلتستان کے سیاحت، معدنیات (Minerals/Gemstones) اور صاف توانائی کے شعبوں کو عالمی سطح پر مارکیٹ کر کے بیرونی سرمایہ کاری لا سکتی ہے۔
نوجوانوں کی ترجمانی: گلگت بلتستان کا نوجوان پڑھا لکھا اور باصلاحیت ہے۔ ان کی صلاحیتوں کو درست سمت دینے کے لیے اسمبلی میں ایسی قیادت چاہیے جو خود جدید دنیا کے تقاضوں سے واقف ہو۔
حلقہ ۵ نگر: جدید اور تعلیم یافتہ قیادت کا ایک بہترین متبادل
جب ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پالیسی کی سمجھ بوجھ رکھنے والی قیادت کی بات کرتے ہیں، تو حلقہ ۵ نگر سے پاکستان تحریک انصاف (PTI) اور مجلس وحدت المسلمین (MWM) کے مشترکہ امیدوار ریاض اکبر کی مثال سامنے آتی ہے۔
عالمی معیار کی تعلیم اور مہارت: ریاض اکبر امریکہ کی شہرہ آفاق جارج ٹاؤن یونیورسٹی (Georgetown University) سے Governance and Policy (حکمرانی اور پالیسی سازی) میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ وہ شعبہ ہے جس کی گلگت بلتستان کی اسمبلی کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
سیاست کا نیا رخ: جارج ٹاؤن جیسے ادارے سے پالیسی سازی کی باریکیاں سیکھنے والا رہنما سڑک اور ٹینکی کی محدود سیاست سے کہیں اوپر اٹھ کر سوچتا ہے۔ ان کے پاس نگر اور پورے گلگت بلتستان کے لیے پائیدار ترقی، معاشی خود انحصاری، اور بہترین طرزِ حکمرانی کا ایک واضح وژن موجود ہے۔
نگر کے لیے امید کی کرن: حلقہ ۵ نگر کے عوام کے پاس یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ روایتی نعروں اور عارضی دلاسوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ایسے نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نمائندے کا انتخاب کریں جو اسمبلی میں جا کر نہ صرف نگر کی محرومیوں کا خاتمہ کر سکے، بلکہ گلگت بلتستان کی سطح پر ایک مضبوط اور موثر آواز بن کر ابھرے۔
حاصل کلام:
بلدیاتی انتخابات کے اس ماحول میں عوام کو یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ گلی محلوں کے کام بلدیاتی نمائندوں کے سپرد کیے جائیں، اور قانون ساز اسمبلی کے لیے ریاض اکبر جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور پالیسی ساز ذہنوں کو آگے لایا جائے تاکہ گلگت بلتستان کا مستقبل محفوظ اور روشن ہو سکے۔