Umair Hayat Khan

Umair Hayat Khan Hello Friends, If You Have Any Complaint, Please Contact Me

Subscribe My Youtube Chennal UHK Vlog

19/02/2026

خوش آمدید ماہِ رمضان 🌙
​وقت ہے توبہ کا، وقت ہے سکون کا۔ اس رمضان کوشش کریں کہ ہم صرف دسترخوان ہی نہیں، بلکہ اپنا اخلاق اور اپنی سوچ بھی سنواریں۔

​اپنی دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیے گا۔ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔

​ #رمضان #برکت #دعائیں ​ ​

19/02/2026

سیرت النبی ﷺ (قسط نمبر 21)

ظہورِ قدسی
چمنستانِ دہر میں بارہا روح پرور بہاریں آ چکی ہیں۔ چرخِ نادرہ کار نے کبھی کبھی بزمِ عالم اس سرو سامان سے سجائی کہ نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئی ہیں۔
​ولادت
لیکن آج کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیرِ کہن سالِ دہر نے کروڑوں برس صرف کر دیے۔ سیارگانِ فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے، چرخِ کہن مدت ہائے دراز سے اسی صبحِ جان نواز کے لیے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کارکنانِ قضا و قدر کی بزم آرائیاں، عناصر کی جدت طرازیاں، ماہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں، ابر و باد کی تر دستیاں، عالمِ قدس کے انفاسِ پاک، توحیدِ ابراہیم، جمالِ یوسف، معجز طرازیِ موسیٰ، جان نوازیِ مسیح (علیہم السلام) سب اسی لیے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں اور شہنشاہِ کونین ﷺ کے دربار میں کام آئیں گے۔
​آج کی صبح وہی صبحِ جان نواز، وہی ساعتِ ہمایوں، وہی دورِ فرخ فال ہے، اربابِ سیر اپنے محدود پیرایہ بیان میں لکھتے ہیں کہ: "آج کی رات ایوانِ کسریٰ کے 14 کنگرے گر گئے، آتش کدہ فارس بجھ گیا، دریائے ساوه خشک ہو گیا۔" لیکن سچ یہ ہے کہ ایوانِ کسریٰ نہیں، بلکہ شانِ عجم، شوکتِ روم، اوجِ چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے، آتشِ فارس نہیں بلکہ عجم شر، آتش کدہ کفر، آذر کدہ گمراہی سرد ہو کر رہ گئے، صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی، بت کدے خاک میں مل گئے، شیرازہِ مجوسیت بکھر گیا، نصرانیت کے اوراقِ خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔
​توحید کا غلغلہ اٹھا، چمنستانِ سعادت میں بہار آ گئی، آفتابِ ہدایت کی شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں، اخلاقِ انسانی کا آئینہ پرتوِ قدس سے چمک اٹھا۔
یعنی یتیمِ عبداللہ، جگر گوشہِ آمنہ، شاہِ حرم، حکمرانِ عرب، فرمانروائے عالم، شہنشاہِ کونین ﷺ۔
​عالمِ قدس سے عالمِ امکان میں تشریف فرمائے عزت و اجلال ہوئے، اللھم صل علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم۔
​تاریخِ ولادت
تاریخِ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں ​انہوں نے دلائلِ ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ولادت 9 ربیع الاول روزِ دوشنبہ مطابق 20 اپریل 571ء میں ہوئی تھی۔
آپ کا نام "محمد ﷺ" رکھا گیا اور عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالمطلب نے یہ نام رکھا تھا۔
​رضاعت
سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو آپ کی والدہ نے اور دو تین روز کے بعد ثویبہ نے دودھ پلایا۔ (جو ابولہب کی لونڈی تھی)۔
​حلیمہ سعدیہ
ثویبہ کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ نے آپ کو دودھ پلایا، اس زمانہ میں دستور تھا کہ شہر کے رؤسا اور شرفا شیر خوار بچوں کو اطراف کے قصبات اور دیہات میں بھیج دیتے تھے، یہ رواج اس غرض سے تھا کہ بچے بدوؤں میں پل کر فصاحت کا جوہر پیدا کرتے تھے اور عرب کی خالص خصوصیات محفوظ رہتی تھیں۔
​شرفائے عرب نے مدت تک اس رسم کو محفوظ رکھا، یہاں تک کہ بنو امیہ نے دمشق میں پائے تخت قائم کیا اور شاہانہ شان و شوکت میں کسریٰ و قیصر کی ہمسری کی، تاہم ان کے بچے صحراؤں میں بدوؤں کے گھر میں پلتے تھے۔ ولید بن عبدالملک خاص اسباب سے نہ جا سکا اور حرم شاہی میں پلا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاندانِ بنی امیہ میں صرف ولید ہی ایک شخص تھا جو عربی صحیح نہیں بول سکتا تھا۔ ​غرض دستورِ مذکور کی بنا پر سال میں دو مرتبہ دیہات سے عورتیں آیا کرتی تھیں اور شرفائے شہر اپنے شیر خوار بچوں کو ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے۔ اس دستور کے موافق آنحضرت ﷺ کی ولادت کے ​چند روز بعد قبیلہِ ہوازن کی چند عورتیں بچوں کی تلاش میں آئیں، ان میں حضرت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) بھی تھیں۔ اتفاق سے ان کو کوئی بچہ ہاتھ نہیں آیا۔
​آنحضرت ﷺ کی والدہ نے ان کو مقرر کرنا چاہا تو ان کو خیال آیا کہ یتیم بچے کو لے کر کیا کروں گی۔ لیکن خالی ہاتھ بھی نہ جا سکتی تھیں، اس لیے حضرت آمنہ کی درخواست قبول کی اور آنحضرت ﷺ کو لے کر گئیں، ان کی ایک صاحبزادی تھی، جن کا نام شیما تھا، ان کو آنحضرت ﷺ سے بہت انس تھا، وہی آپ کو کھلایا کرتی تھیں، دو برس کے بعد حلیمہ آپ کو مکہ میں لائیں اور آپ کی والدہ ماجدہ کے سپرد کیا۔ چونکہ اس زمانہ میں مکہ میں وبا پھیلی ہوئی تھی، آپ کی والدہ نے فرمایا کہ واپس لے جاؤ۔ چنانچہ دوبارہ گھر میں لائیں، اس میں اختلاف ہے کہ آپ حضرت حلیمہ کے یہاں کتنے برس تک رہے، ابن اسحاق نے وثوق کے ساتھ 6 برس لکھا ہے۔
​ہوازن کا قبیلہ فصاحت و بلاغت میں مشہور ہے، ابن سعد نے طبقات میں روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ: "میں تم سب میں فصیح تر ہوں، کیونکہ میں قریش کے خاندان سے ہوں اور میری زبان بنی سعد کی زبان ہے۔" بنی سعد ہوازن ہی کے قبیلہ کو کہتے ہیں۔
​حضرت حلیمہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو بے انتہا محبت تھی، عہدِ نبوت میں جب وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ "میری ماں، میری ماں" کہہ کر لپٹ گئے، یہ دلچسپ واقعات آگے آئیں گے۔
​ابن کثیر (رحمۃ اللہ علیہ) نے لکھا ہے کہ حضرت حلیمہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے وفات پا گئیں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ابن ابی خیثمہ نے "تاریخ" میں، ابن جوزی نے "حدائ" میں، منذری نے "مختصر سنن ابی داؤد" میں، ابن حجر نے "اصابہ" میں ان کے اسلام لانے کی تصریح کی ہے، حافظ مغلطائی نے ان کے اسلام پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام "التحفة الجسیمة فی اثبات اسلام حلیمة" ہے۔
​آنحضرت ﷺ کے رضاعی باپ حضرت حارث
حضرت حلیمہ (رضی اللہ عنہا) کے شوہر یعنی آنحضرت ﷺ کے رضاعی باپ کا نام حارث بن عبدالعزیٰ ہے، وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں آئے اور اسلام لائے۔
​حارث آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ یہ یتیم کیا کہتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں وہ دن آئے گا کہ میں آپ کو دکھا دوں گا کہ میں سچ کہتا تھا۔" حارث مسلمان ہو گئے۔

ماخوذ از سیرت النبی ﷺ (تخریج شدہ ایڈیشن) علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ

تسہیل و تلخیص: میرا پرسپیکٹیو

آپ کا ایک لائیک اور شیئر ہمارے کام کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ مزید بہترین ویڈیوز اور تحریروں کے لیے جڑے رہیے اور پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں


08/02/2026

سیرت النبی ﷺ (قسط نمبر 10)

​تبصرہ
(فنِ سیرت پر)
​سیرت کی یہ ایک اجمالی اور سادہ تاریخ تھی، اب ہم اس پر مختلف پہلوؤں سے نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔
​امہاتِ کتبِ سیرت
(1) سیرت پر اگرچہ آج بھی سینکڑوں تصنیفیں موجود ہیں، لیکن سب کا سلسلہ جا کر صرف تین چار کتابوں پر منتہی ہوتا ہے، سیرت ابن اسحاق، واقدی، ابن سعد، طبری، ان کے علاوہ جو کتابیں ہیں، وہ ان سے متاخر ہیں، اور ان میں جو واقعات مذکور ہیں، زیادہ تر انہی کتابوں سے لئے گئے ہیں۔ (کتبِ حدیث کا جو ٹکڑا ہے اس سے اس مقام پر بحث نہیں۔) اس بنا پر ہم کو مذکورہ بالا کتابوں پر زیادہ تفصیل اور تدقیق سے نظر ڈالنی چاہیے۔
​ان میں سے واقدی تو بالکل نظر انداز کر دینے کے قابل ہے، محدثین بالاتفاق لکھتے ہیں کہ وہ خود اپنے جی سے روایتیں گھڑتا ہے اور حقیقت میں واقدی کی تصنیف خود اس بات کی شہادت ہے، ایک ایک جزئی واقعہ کے متعلق جس قسم کی گوناگوں اور دلچسپ تفصیلیں وہ بیان کرتا ہے، آج کوئی بڑے سے بڑا واقعہ نگار چشم دید واقعات اس طرح قلمبند نہیں کر سکتا۔
​واقدی کے سوا، باقی اور تینوں مصنفین، اعتبار کے قابل ہیں، ابن اسحاق کی نسبت اگرچہ امام مالک اور بعض محدثین نے جرح کی ہے، تاہم ان کا یہ رتبہ ہے کہ امام بخاری اپنے رسالہ "جزء القرائۃ" میں ان کی سند سے روایتیں نقل کرتے ہیں اور ان کو صحیح سمجھتے ہیں، ابن سعد اور طبری میں کسی کو کلام نہیں، لیکن افسوس ہے کہ ان لوگوں کا مستند ہونا، ان کی تصنیفات کے مستند ہونے پر چنداں اثر نہیں ڈالتا، یہ لوگ خود شریکِ واقعہ نہیں، اس لئے جو کچھ بیان کرتے ہیں اور راویوں کے ذریعہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن ان کے بہت سے رواۃ، ضعیف الروایہ اور غیر مستند ہیں، اس کے علاوہ ابن اسحاق کی اصلی کتاب (ہندوستان میں) موجود نہیں، ابن ہشام نے ابن اسحاق کی کتاب کو ترتیب اور تہذیب کے بعد جس صورت میں بدل دیا وہی آج موجود ہے، لیکن ابن ہشام نے ابن اسحاق کی کتاب کو زیاد بکائی کے واسطہ سے روایت کیا ہے، بکائی اگرچہ ثقہ شخص ہیں، تاہم محدثین کے اعلیٰ معیار سے فروتر ہیں، ابن مدینی (امام بخاری کے استاد) کہتے ہیں کہ "وہ ضعیف ہے اور میں نے اس کو ترک کر دیا"۔ ابو حاتم کہتے ہیں: "وہ استناد کے قابل نہیں۔" نسائی کہتے ہیں: "وہ ضعیف ہے۔"
​ابن سعد کی نصف سے زیادہ روایتیں، واقدی کے ذریعہ سے ہیں، اس لئے ان روایتوں کا وہی رتبہ ہے جو خود واقدی کی روایتوں کا ہے، باقی رواۃ میں سے بعض ثقہ ہیں اور بعض غیر ثقہ۔
​طبری کے بڑے بڑے شیوخِ روایت مثلاً: سلمہ ابرش، ابن سلمہ وغیرہ ضعیف الروایہ ہیں۔ اس بنا پر مجموعی حیثیت سے سیرت کا ذخیرہ، کتبِ حدیث کا ہم پلہ نہیں، البتہ ان میں سے تحقیق و تنقید کے معیار پر جو اتر جائے وہ حجت اور استناد کے قابل ہے۔

​کتبِ حدیث و سیرت میں فرقِ مراتب
سیرت کی کتابوں کی کم مائیگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تحقیق اور تنقید کی ضرورت احادیثِ احکام کے ساتھ مخصوص کر دی گئی، یعنی وہ روایتیں تنقید کی زیادہ محتاج ہیں جن سے شرعی احکام ثابت ہوتے ہیں، باقی جو روایتیں سیرت اور فضائل وغیرہ سے متعلق ہیں، ان میں تشدد اور احتیاط کی چنداں حاجت نہیں، حافظ زین الدین عراقی جو بہت بڑے پایہ کے محدث ہیں، سیرتِ منظوم کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:
"طالب کو جاننا چاہیے کہ سیرت میں سبھی طرح کی روایتیں ہوتی ہیں، صحیح بھی اور غلط بھی۔"

​فنِ سیرت میں محدثین کی مسامحت
یہی وجہ ہے کہ مناقب اور فضائلِ اعمال میں کثرت سے ضعیف روایتیں شائع ہو گئیں اور بڑے بڑے علما نے اپنی کتابوں میں ان روایتوں کا درج کرنا جائز رکھا، علامہ ابن تیمیہ کتاب التوسل (مطبوعہ مطبع المنار، صفحہ 99) میں لکھتے ہیں:
"اس حدیث کو ان لوگوں نے روایت کیا ہے، جنہوں نے رات دن کے اعمال میں کتابیں تصنیف کی ہیں۔ مثلاً: ابن السنی اور ابو نعیم اور اس قسم کی کتابوں میں کثرت سے جھوٹی حدیثیں موجود ہیں، جن پر اعتماد کرنا ناجائز ہے اور اس پر تمام علما کا اتفاق ہے۔"

​حاکم نے مستدرک میں یہ حدیث روایت کی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے خطا سرزد ہوئی تو انہوں نے کہا: "اے خدا! میں تجھ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دیتا ہوں کہ میری خطا معاف کر دے۔" خدا نے کہا: "تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر جانا؟" حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: "میں نے سر اٹھا کر عرش کے پایوں پر نظر ڈالی تو یہ الفاظ لکھے ہوئے دیکھے ((لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ)) اس سے میں نے قیاس کیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ جس شخص کا نام ملایا ہے وہ ضرور تجھ کو محبوب ترین خلق ہو گا" خدا نے کہا: "آدم! تم نے سچ کہا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تم کو پیدا بھی نہ کرتا۔" حاکم نے اس حدیث کو نقل کر کے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ حاکم کا یہ قول نقل کر کے لکھتے ہیں:
"حاکم کا اس قسم کی حدیثوں کو صحیح کہنا ائمہ حدیث نے اس پر انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ حاکم بہت سی جھوٹی اور موضوع حدیثوں کو صحیح کہتے ہیں۔ اسی طرح حاکم کی مستدرک میں، بہت سی حدیثیں ہیں جن کو حاکم نے صحیح کہا ہے، حالانکہ وہ ائمہ حدیث کے نزدیک موضوع ہیں۔

​علامہ موصوف ایک اور موقع پر ابوالشیخ اصفہانی کی کتاب کا تذکرہ کر کے لکھتے ہیں: (صفحہ 105، 106)
"اور اس میں بہت سی حدیثیں ہیں جو قوی ہیں اور حسن ہیں اور بہت سی ضعیف اور موضوع اور مہمل ہیں اور اسی طرح وہ حدیثیں جو خیثمہ بن سلیمان، صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل میں روایت کرتے ہیں اور وہ حدیثیں جو ابو نعیم اصفہانی نے ایک مستقل کتاب میں خلفا کے فضائل میں روایت کی ہیں اور حلیۃ الاولیاء کے اول میں اور اسی طرح وہ روایتیں جو ابوبکر خطیب اور ابو الفضل اور ابو موسیٰ مدینی اور ابن عساکر اور حافظ عبدالغنی وغیرہ اور ان کے پایہ کے لوگ روایت کرتے ہیں۔

​غور کرو، ابو نعیم، خطیب بغدادی، ابن عساکر، حافظ عبدالغنی وغیرہ حدیث اور روایت کے امام تھے، باوجود اس کے یہ لوگ خلفا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے فضائل میں ضعیف حدیثیں بے تکلف روایت کرتے تھے، اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ خیال عام طور پر پھیل گیا تھا کہ صرف حلال و حرام کی حدیثوں میں احتیاط اور تشدد کی ضرورت ہے، ان کے سوا اور روایتوں میں سلسلہ سند نقل کر دینا کافی ہے۔ تنقید اور تحقیق کی ضرورت نہیں۔
​موضوعاتِ ملا علی قاری میں لکھا ہے کہ بغداد میں ایک واعظ نے یہ حدیث بیان کی کہ "قیامت میں خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ عرش پر بٹھائے گا۔" امام ابن جریر طبری نے سنا تو بہت برہم ہوئے اور اپنے دروازہ پر یہ فقرہ لکھ کر لگا دیا کہ "خدا کا کوئی ہم نشیں نہیں۔" اس پر بغداد کے عوام سخت برافروختہ ہوئے اور امام ​موصوف کے گھر پر اس قدر پتھر برسائے کہ دیواریں ڈھک گئیں۔
​اس موقع پر ایک خاص نکتہ لحاظ کے قابل ہے، یہ مسلم ہے کہ حدیث و روایت میں امام بخاری اور مسلم سے بڑھ کر کوئی شخص کامل فن نہیں پیدا ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کو جو عقیدت اور خلوص اور شیفتگی تھی اس کے لحاظ سے بھی وہ تمام محدثین پر ممتاز تھے، باوجود اس کے فضائل و مناقب کے متعلق جس قسم کی مبالغہ آمیز روایتیں بیہقی، ابو نعیم، بزار، طبرانی وغیرہ میں پائی جاتی ہیں، بخاری اور مسلم میں ان کا پتہ نہیں لگتا، بلکہ اس قسم کی حدیثیں، جو نسائی، ابن ماجہ، ترمذی وغیرہ میں پائی جاتی ہیں، صحیحین میں وہ بھی مذکور نہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس قدر تحقیق و تنقید کا درجہ بڑھتا جاتا ہے مبالغہ آمیز روایتیں چھٹتی جاتی ہیں، مثلاً: یہ روایت کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عالمِ وجود میں آئے تو ایوانِ کسریٰ کے 14 کنگرے گر پڑے، آتشِ فارس بجھ گئی، بحیرہ طبریہ خشک ہو گیا۔ بیہقی، ابو نعیم، خرائطی، ابن عساکر اور ابن جریر نے روایت کی ہے، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم بلکہ صحاحِ ستہ کی کسی کتاب میں اس کا پتہ نہیں۔
​سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں وہ زیادہ تر اسی قسم کی کتابوں (طبرانی، بیہقی، ابو نعیم وغیرہ) سے ماخوذ ہیں، اس لئے ان میں کثرت سے کمزور روایتیں درج ہو گئیں اور اسی بنا پر محدثین کو کہنا پڑا کہ سیرت میں ہر قسم کی روایتیں ہوتی ہیں۔
​محدثین نے جو اصول قرار دیے تھے، سیرت کی روایتوں میں لوگوں نے اکثر نظر انداز کر دیے، محدثین کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ روایت کا سلسلہ اصل واقعہ تک کہیں منقطع نہ ہونے پائے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ ولادت کے متعلق جس قدر روایتیں مذکور ہیں، اکثر منقطع ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کی عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت روایت کے قابل ہو، سب سے معمر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر میں دو برس کم تھے، اسی بنا پر میلاد کے متعلق جس قدر روایتیں ہیں ان میں سے اکثر متصل نہیں اور اسی بنا پر بہت دور از کار روایتیں پھیل گئیں، مثلاً ابو نعیم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کی زبانی روایت کی ہے کہ "جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو بہت سے پرند آ کر مکان میں بھر گئے جن کی زمرد کی منقار اور یاقوت کے پر تھے، پھر ایک سفید بادل آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھا لے گیا اور ندا آئی کہ اس بچہ کو مشرق و مغرب اور تمام دریاؤں کی سیر کراؤ، کہ سب لوگ پہچان لیں۔"
​مغازی کا بڑا حصہ امام زہری سے منقول ہے، لیکن ان کی اکثر روایتیں جو سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد وغیرہ میں مذکور ہیں، منقطع ہیں یعنی اوپر کے راویوں کے نام مذکور نہیں۔
​ موضوعات ملا علی قاری، ص: 13، مطبوعہ دہلی۔
مواہب لدنیہ میں یہ روایت نقل کی ہے اس میں بے انتہا مبالغہ آمیز باتیں ہیں، میں نے معمولی نکڑ نقل کر دیا ہے۔

​تصانیفِ سیرت میں کتبِ احادیث کی طرف سے بے اعتنائی
(2) نہایت تعجب انگیز بات یہ ہے کہ جن بڑے بڑے نامور مصنفین، مثلاً: امام طبری وغیرہ نے سیرت پر جو کچھ لکھا اس میں اکثر جگہ مستند احادیث کی کتابوں سے کام نہیں لیا۔
​بعض واقعات نہایت اہم ہیں ان کے متعلق حدیث کی کتابوں میں ایسی مفید معلومات موجود ہیں جن سے تمام مشکل حل ہو جاتی ہے، لیکن سیرت اور تاریخ میں ان معلومات کا ذکر نہیں۔ مثلاً: یہ امر کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو لڑائی کی سلسلہ جنبشی کس کی طرف سے شروع ہوئی؟ ایک بحث طلب واقعہ ہے، تمام اربابِ سیر اور مؤرخین کی تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا کی، لیکن سنن ابی داؤد میں صاف اور صریح حدیث موجود ہے کہ جنگِ بدر سے پہلے کفارِ مکہ نے عبداللہ بن ابی کو یہ خط لکھا تھا کہ "تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے شہر میں پناہ دی ہے ان کو نکال دو، ورنہ ہم خود مدینہ آ کر تمہارا اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) دونوں کا استیصال کر دیں گے۔" سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں یہ واقعہ سرے سے منقول نہیں۔
​مصنفینِ سیرت میں سے بعض لوگوں نے اس نکتہ کو سمجھا اور جب احادیث کی زیادہ چھان بین کی تو ان کو تسلیم کرنا پڑا کہ سیرت کی کتابوں میں بہت سی روایتیں، صحیح حدیثوں کے خلاف درج ہو گئی ہیں، لیکن چونکہ ان کی تصنیف پھیل چکی تھی، اس لئے اس کی اصلاح نہ ہو سکی، حافظ ابن حجر ایک موقع پر دمیاطی کا ایک قول نقل کر کے لکھتے ہیں:
"یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اکثر واقعات جن میں دمیاطی نے اہل سیر کی موافقت اور صحیح حدیثوں کی مخالفت کی تھی، اپنی رائے سے رجوع کیا، لیکن چونکہ کتاب کے نسخے پھیل گئے تھے، اس لئے اس کی اصلاح نہ کر سکے...

جاری ہے۔۔۔

سیرت النبی ﷺ (تخریج شدہ ایڈیشن)
​تالیف: علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ
ناشر: مکتبہ اسلامیہ


01/02/2026

سیرت النبی ﷺ (قسط نمبر 03)

سیرت کی ضرورت علمی حیثیت سے

​یہ جو کچھ کہا گیا، مقصدِ تصنیف کا مذہبی پہلو تھا، اسی مسئلہ کو علمی حیثیت سے دیکھو، علوم و فنون کی صف میں سیرت (بائیو گرافی) کا ایک خاص درجہ ہے، ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کے حالات زندگی بھی حقیقت شناسی اور عبرت پذیری کے لئے دلیل راہ ہیں، چھوٹے سے چھوٹا انسان بھی کیسی عجیب خواہشیں رکھتا ہے، کیا کیا منصوبے باندھتا ہے، اپنے چھوٹے سے دائرہ عمل میں کس طرح آگے بڑھتا ہے، کیونکر ترقی کے زینوں پر چڑھتا ہے، کہاں کہاں ٹھوکریں کھاتا ہے، کیا کیا مزاحمتیں اٹھاتا ہے، تھک کر بیٹھ جاتا ہے، سستاتا ہے اور پھر آگے بڑھتا ہے، غرض سعی و عمل، جدوجہد، ہمت و غیرت کی جو عجیب و غریب نیرنگیاں سکندرِ اعظم کے کارنامہ زندگی میں موجود ہیں، بعینہٖ وہی منظر ایک غریب مزدور کے عرصہ حیات ​میں بھی نظر آتا ہے۔

اس بنا پر اگر سیرت اور سوانح کا فن عبرت پذیری اور نتیجہ رسی کی غرض سے درکار ہے تو "شخص" کا سوال نظر انداز ہو جاتا ہے، صرف یہ دیکھنا رہ جاتا ہے کہ حالات اور واقعات جو ہاتھ آتے ہیں، وہ کس وسعت اور استقصاء و تفصیل کے ساتھ ہاتھ آتے ہیں، تاکہ مراحلِ زندگی کی تمام راہیں اور ان کے پیچ و خم ایک ایک کر کے نظر کے سامنے آ جائیں، لیکن اگر خوش قسمتی سے فردِ کامل اور استقصائے واقعات دونوں باتیں جمع ہو جائیں تو اس سے بڑھ کر اس فن کی کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے۔

​وجوہِ مذکورہ بالا کی بنا پر کون شخص انکار کر سکتا ہے کہ صرف ہم مسلمانوں کو نہیں، بلکہ تمام عالم کو اس وجودِ مقدس کی سوانح عمری کی ضرورت ہے، جس کا نام مبارک "محمد" (رسول اللہ ﷺ) ہے۔ (اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَسَلِّمْ صَلٰوۃً کَثِیْرًا کَثِیْرًا) یہ ضرورت، صرف اسلامی یا مذہبی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک علمی ضرورت ہے، ایک اخلاقی ضرورت ہے، ایک تمدنی ضرورت ہے، ایک ادبی ضرورت ہے اور مختصر یہ ہے کہ مجموعہ ضروریاتِ دینی و دنیوی ہے۔

​میں اس بات سے ناواقف نہ تھا کہ اسلام کی حیثیت سے میرا فرضِ اولین یہی تھا کہ تمام تصنیفات سے پہلے میں سیرتِ نبوی ﷺ کی خدمت انجام دیتا، لیکن یہ ایک ایسا، اہم اور نازک فرض تھا کہ میں مدت تک اس کے ادا کرنے کی جرات نہ کر سکا، تاہم میں دیکھ رہا تھا کہ اس فرض کے ادا کرنے کی ضرورتیں بڑھتی جاتی ہیں۔

​علم کلام کی حیثیت سے سیرت کی ضرورت

​اگلے زمانہ میں سیرت کی ضرورت، صرف تاریخ اور واقعہ نگاری کی حیثیت سے تھی، علم کلام سے اس کو واسطہ نہ تھا، لیکن معترضینِ حال کہتے ہیں کہ اگر مذہب، صرف خدا کے اعتراف کا نام ہے تو بحث یہیں تک رہ جاتی ہے، لیکن جب اقرارِ نبوت بھی جزوِ مذہب ہے تو یہ بحث پیش آتی ہے کہ جو شخص حاملِ وحی اور سفیرِ الٰہی تھا، اس کے حالات، اخلاق اور عادات کیا تھے؟

​یورپ کے مؤرخین، آنحضرت ﷺ کی جو اخلاقی تصویر کھینچتے ہیں، وہ (نعوذ باللہ) ہر قسم کے معائب کا مرقع ہوتی ہے، آج کل مسلمانوں کو جدید ضرورتوں نے عربی علوم سے بالکل محروم کر دیا ہے، اس لئے اس گروہ کو اگر کبھی پیغمبر اسلام ﷺ کے حالات اور سوانح کے دریافت کرنے کا شوق ہوتا ہے تو انہی یورپ کی تصنیفات کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے، اس طرح یہ زہر آلود معلومات آہستہ آہستہ اثر کرتی جاتی ہیں اور لوگوں کو خبر تک نہیں ہوتی، یہاں تک کہ ملک میں ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا ہے جو پیغمبر ﷺ کو محض ایک مصلح سمجھتا ہے جس نے اگر مجمعِ انسانی میں کوئی اصلاح کر دی تو اس کا فرض ادا ہو گیا، اس بات سے اس کے منصبِ نبوت میں فرق نہیں آتا کہ اس کے دامنِ اخلاق پر معصیت کے دھبے بھی ہیں۔

​یہ واقعات تھے جنہوں نے مجھ کو بالآخر مجبور کیا اور میں نے سیرتِ نبوی ﷺ پر ایک مبسوط کتاب لکھنے

​کا ارادہ کر لیا، یہ کام بظاہر نہایت آسان تھا، عربی زبان میں سینکڑوں کتابیں موجود ہیں، ان کو سامنے رکھ کر ایک ضخیم اور دلچسپ کتاب لکھ دینا زیادہ سے زیادہ چند مہینوں کا کام تھا، لیکن واقعہ یہ ہے کہ کوئی تصنیف اس تصنیف سے زیادہ دیرطلب اور جامع مشکلات نہیں ہو سکتی۔

​سیرت اور حدیث کا فرق

​آگے چل کر ہم تفصیل سے بیان کریں گے کہ خاص سیرت (1) پر آج تک کوئی ایسی کتاب نہیں لکھی

​(1) (اس موقع پر ایک نہایت ضروری بحث طے کر دینے کے قابل ہے، جو آج کل کی قلتِ علم اور ناآشنائیِ فن نے پیدا کر دی ہے، بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ سیرت فنِ حدیث ہی کی ایک خاص قسم کا نام ہے، یعنی احادیث میں سے وہ واقعات الگ لکھ دیے گئے جو آنحضرت ﷺ کے اخلاق و عادات سے متعلق ہیں، تو یہ سیرت بن گئی اور چونکہ حدیث میں متعدد کتابیں ایسی موجود ہیں جن میں ایک حدیث بھی ضعیف نہیں، مثلاً صحیح بخاری و مسلم، تو یہ کہنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ "سیرت میں کوئی کتاب آج تک صحت کے التزام کے ساتھ نہیں لکھی گئی۔" اس بحث کے ذہن نشین کرنے کے لئے امور ذیل پیش نظر رکھنے چاہئیں:

​پہلی بحث یہ ہے کہ سیرت کا اطلاق کس چیز پر ہوتا ہے؟ محدثین اور اربابِ رجال کی اصطلاحِ قدیم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خاص غزوات کو مغازی اور سیرت کہتے تھے، چنانچہ ابن اسحاق کی کتاب کو مغازی بھی کہتے ہیں اور سیرت بھی، حافظ ابن حجر فتح الباری کتاب المغازی میں یہ دونوں نام ایک ہی کتاب کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ فقہ کی بھی یہی اصطلاح ہے، فقہ میں جو باب کتاب الجہاد والسیر باندھتے ہیں، اس میں سیرت کے لفظ سے غزوات اور جہاد کے احکام مراد ہوتے ہیں۔ کئی صدی تک یہی طریقہ رہا۔ چنانچہ تیسری صدی تک جو کتابیں سیرت کے نام سے مشہور ہوئیں، مثلاً: سیرت ابن ہشام، سیرت ابن عائد، سیرت اموی وغیرہ، ان میں زیادہ تر غزوات ہی کے حالات ہیں، البتہ زمانہ مابعد میں، مغازی کے سوا اور چیزیں بھی داخل کر لی گئیں، مثلاً: مواہب لدنیہ میں غزوات کے علاوہ سب کچھ ہے۔ اس بنا پر محدثین کی اصطلاح میں مغازی اور سیرت عام فنِ حدیث سے ایک الگ چیز ہے، یہاں تک کہ بعض موقعوں پر اربابِ سیر اور محدثین، دو مقابل کے گروہ سمجھے جاتے ہیں بعض واقعات کے متعلق یہ صورت پیدا ہوتی ہے کہ تمام اربابِ سیر ایک طرف ہوتے ہیں اور امام بخاری و مسلم ایک طرف، ایسے موقع پر بعض لوگ امام بخاری کی روایت کو اس بنا پر تسلیم نہیں کرتے کہ تمام اربابِ سیر کے خلاف ہے، لیکن محققین کہتے ہیں کہ حدیثِ صحیح تمام اربابِ سیر کی متفقہ روایت کے مقابلہ میں بھی قابلِ ترجیح ہے، ہم اس موقع پر ایک دو واقعہ مثال کے طور پر لکھتے ہیں:

​غزوات میں ایک غزوہ ذی قرد کے نام سے مشہور ہے، اس کی نسبت اربابِ سیر متفق ہیں کہ صلح حدیبیہ سے قبل واقع ہوا تھا، لیکن صحیح مسلم میں سلمہ بن الاکوع سے جو روایت ہے [مسلم، کتاب الجہاد، رقم: 1807] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد اور خیبر سے تین دن قبل کا واقعہ ہے، اس حدیث کی شرح میں علامہ قرطبی نے لکھا ہے: لا یختلف اھل السیر ان غزوۃ ذی قرد کانت قبل الحدیبیۃ فیکون ما وقع فی حدیث سلمۃ من وھم بعض الرواۃ۔ "اہلِ سیر میں سے کسی کو اس امر میں اختلاف نہیں ہے کہ غزوہ ذی قرد، حدیبیہ سے پہلے واقع ہوا تھا تو سلمہ کی حدیث میں جو مذکور ہے، وہ کسی راوی کا وہم ہو گا۔" حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری (ذکر غزوہ ذی قرد) میں قرطبی کے اس قول پر بحث کر کے لکھتے ہیں: فعلی ھذا ما فی الصحیح من التاریخ لغزوۃ ذی قرد صح مما ذکرہ اھل السیر۔ "تو اس بنا پر صحیح (مسلم) میں غزوہ ذی قرد کی جو تاریخ مذکور ہے وہ اس سے زیادہ صحیح ہے جو مصنفینِ سیرت نے بیان کی ہے۔"

​دمیاطی ایک مشہور محدث ہیں، انہوں نے سیرت میں ایک کتاب لکھی ہے جو آج بھی موجود ہے، (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

جاری ہے۔۔

سیرت النبی ﷺ (تخریج شدہ ایڈیشن)

​تالیف: علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ

ناشر: مکتبہ اسلامیہ

08/08/2023

Shanwari Hotel Esa Khel | Saraiki Vlog | UHK VlogComment your opinion for new videosYour opinion will be very important to meThe purpose of my video is to sh...

03/08/2023

Song Yaari | Singer Atta Jani Esa Khel | New Super Hit Saraiki Song | Niazi ProductionWelcome To ours Channel Niazi ProductionLike, Share and Subscribe! ...

New Project CompleteSong YariSinger Atta Jani Film By Niazi Production
31/07/2023

New Project Complete
Song Yari
Singer Atta Jani
Film By Niazi Production

01/06/2020

Drone View Kaisa Hai

Address

Isa Khel

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umair Hayat Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share