19/02/2026
سیرت النبی ﷺ (قسط نمبر 21)
ظہورِ قدسی
چمنستانِ دہر میں بارہا روح پرور بہاریں آ چکی ہیں۔ چرخِ نادرہ کار نے کبھی کبھی بزمِ عالم اس سرو سامان سے سجائی کہ نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئی ہیں۔
ولادت
لیکن آج کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیرِ کہن سالِ دہر نے کروڑوں برس صرف کر دیے۔ سیارگانِ فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے، چرخِ کہن مدت ہائے دراز سے اسی صبحِ جان نواز کے لیے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کارکنانِ قضا و قدر کی بزم آرائیاں، عناصر کی جدت طرازیاں، ماہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں، ابر و باد کی تر دستیاں، عالمِ قدس کے انفاسِ پاک، توحیدِ ابراہیم، جمالِ یوسف، معجز طرازیِ موسیٰ، جان نوازیِ مسیح (علیہم السلام) سب اسی لیے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں اور شہنشاہِ کونین ﷺ کے دربار میں کام آئیں گے۔
آج کی صبح وہی صبحِ جان نواز، وہی ساعتِ ہمایوں، وہی دورِ فرخ فال ہے، اربابِ سیر اپنے محدود پیرایہ بیان میں لکھتے ہیں کہ: "آج کی رات ایوانِ کسریٰ کے 14 کنگرے گر گئے، آتش کدہ فارس بجھ گیا، دریائے ساوه خشک ہو گیا۔" لیکن سچ یہ ہے کہ ایوانِ کسریٰ نہیں، بلکہ شانِ عجم، شوکتِ روم، اوجِ چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے، آتشِ فارس نہیں بلکہ عجم شر، آتش کدہ کفر، آذر کدہ گمراہی سرد ہو کر رہ گئے، صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی، بت کدے خاک میں مل گئے، شیرازہِ مجوسیت بکھر گیا، نصرانیت کے اوراقِ خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔
توحید کا غلغلہ اٹھا، چمنستانِ سعادت میں بہار آ گئی، آفتابِ ہدایت کی شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں، اخلاقِ انسانی کا آئینہ پرتوِ قدس سے چمک اٹھا۔
یعنی یتیمِ عبداللہ، جگر گوشہِ آمنہ، شاہِ حرم، حکمرانِ عرب، فرمانروائے عالم، شہنشاہِ کونین ﷺ۔
عالمِ قدس سے عالمِ امکان میں تشریف فرمائے عزت و اجلال ہوئے، اللھم صل علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم۔
تاریخِ ولادت
تاریخِ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں انہوں نے دلائلِ ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ولادت 9 ربیع الاول روزِ دوشنبہ مطابق 20 اپریل 571ء میں ہوئی تھی۔
آپ کا نام "محمد ﷺ" رکھا گیا اور عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالمطلب نے یہ نام رکھا تھا۔
رضاعت
سب سے پہلے آنحضرت ﷺ کو آپ کی والدہ نے اور دو تین روز کے بعد ثویبہ نے دودھ پلایا۔ (جو ابولہب کی لونڈی تھی)۔
حلیمہ سعدیہ
ثویبہ کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہ نے آپ کو دودھ پلایا، اس زمانہ میں دستور تھا کہ شہر کے رؤسا اور شرفا شیر خوار بچوں کو اطراف کے قصبات اور دیہات میں بھیج دیتے تھے، یہ رواج اس غرض سے تھا کہ بچے بدوؤں میں پل کر فصاحت کا جوہر پیدا کرتے تھے اور عرب کی خالص خصوصیات محفوظ رہتی تھیں۔
شرفائے عرب نے مدت تک اس رسم کو محفوظ رکھا، یہاں تک کہ بنو امیہ نے دمشق میں پائے تخت قائم کیا اور شاہانہ شان و شوکت میں کسریٰ و قیصر کی ہمسری کی، تاہم ان کے بچے صحراؤں میں بدوؤں کے گھر میں پلتے تھے۔ ولید بن عبدالملک خاص اسباب سے نہ جا سکا اور حرم شاہی میں پلا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاندانِ بنی امیہ میں صرف ولید ہی ایک شخص تھا جو عربی صحیح نہیں بول سکتا تھا۔ غرض دستورِ مذکور کی بنا پر سال میں دو مرتبہ دیہات سے عورتیں آیا کرتی تھیں اور شرفائے شہر اپنے شیر خوار بچوں کو ان کے حوالے کر دیا کرتے تھے۔ اس دستور کے موافق آنحضرت ﷺ کی ولادت کے چند روز بعد قبیلہِ ہوازن کی چند عورتیں بچوں کی تلاش میں آئیں، ان میں حضرت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) بھی تھیں۔ اتفاق سے ان کو کوئی بچہ ہاتھ نہیں آیا۔
آنحضرت ﷺ کی والدہ نے ان کو مقرر کرنا چاہا تو ان کو خیال آیا کہ یتیم بچے کو لے کر کیا کروں گی۔ لیکن خالی ہاتھ بھی نہ جا سکتی تھیں، اس لیے حضرت آمنہ کی درخواست قبول کی اور آنحضرت ﷺ کو لے کر گئیں، ان کی ایک صاحبزادی تھی، جن کا نام شیما تھا، ان کو آنحضرت ﷺ سے بہت انس تھا، وہی آپ کو کھلایا کرتی تھیں، دو برس کے بعد حلیمہ آپ کو مکہ میں لائیں اور آپ کی والدہ ماجدہ کے سپرد کیا۔ چونکہ اس زمانہ میں مکہ میں وبا پھیلی ہوئی تھی، آپ کی والدہ نے فرمایا کہ واپس لے جاؤ۔ چنانچہ دوبارہ گھر میں لائیں، اس میں اختلاف ہے کہ آپ حضرت حلیمہ کے یہاں کتنے برس تک رہے، ابن اسحاق نے وثوق کے ساتھ 6 برس لکھا ہے۔
ہوازن کا قبیلہ فصاحت و بلاغت میں مشہور ہے، ابن سعد نے طبقات میں روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ: "میں تم سب میں فصیح تر ہوں، کیونکہ میں قریش کے خاندان سے ہوں اور میری زبان بنی سعد کی زبان ہے۔" بنی سعد ہوازن ہی کے قبیلہ کو کہتے ہیں۔
حضرت حلیمہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو بے انتہا محبت تھی، عہدِ نبوت میں جب وہ آپ کے پاس آئیں تو آپ "میری ماں، میری ماں" کہہ کر لپٹ گئے، یہ دلچسپ واقعات آگے آئیں گے۔
ابن کثیر (رحمۃ اللہ علیہ) نے لکھا ہے کہ حضرت حلیمہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے وفات پا گئیں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ابن ابی خیثمہ نے "تاریخ" میں، ابن جوزی نے "حدائ" میں، منذری نے "مختصر سنن ابی داؤد" میں، ابن حجر نے "اصابہ" میں ان کے اسلام لانے کی تصریح کی ہے، حافظ مغلطائی نے ان کے اسلام پر ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام "التحفة الجسیمة فی اثبات اسلام حلیمة" ہے۔
آنحضرت ﷺ کے رضاعی باپ حضرت حارث
حضرت حلیمہ (رضی اللہ عنہا) کے شوہر یعنی آنحضرت ﷺ کے رضاعی باپ کا نام حارث بن عبدالعزیٰ ہے، وہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں آئے اور اسلام لائے۔
حارث آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ یہ یتیم کیا کہتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں وہ دن آئے گا کہ میں آپ کو دکھا دوں گا کہ میں سچ کہتا تھا۔" حارث مسلمان ہو گئے۔
ماخوذ از سیرت النبی ﷺ (تخریج شدہ ایڈیشن) علامہ شبلی نعمانیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ
تسہیل و تلخیص: میرا پرسپیکٹیو
آپ کا ایک لائیک اور شیئر ہمارے کام کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ مزید بہترین ویڈیوز اور تحریروں کے لیے جڑے رہیے اور پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں