Jawad ali

Jawad ali I'm interested help with your resume and mvtiwisan videos

ایک نایاب اور قیمتی نسل — حیران کن دمشق بکرا!اپنے لمبے لٹکتے کانوں، منفرد چہرے اور اونچے قد کے ساتھ، دمشقی بکرا کسی دیوم...
08/04/2025

ایک نایاب اور قیمتی نسل — حیران کن دمشق بکرا!

اپنے لمبے لٹکتے کانوں، منفرد چہرے اور اونچے قد کے ساتھ، دمشقی بکرا کسی دیومالائی کہانی کا کردار لگتا ہے!
یہ نسل مشرقِ وسطیٰ کی ہے اور اسے دودھ، گوشت اور یہاں تک کہ نمائش کے جانور کے طور پر بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔
اپنی غیر معمولی شکل کے باوجود، یہ بکرے نرم مزاج، ذہین اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات: دمشق کے بعض بکرے اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ان کی قیمتیں ہزاروں ڈالر تک جا پہنچتی ہیں!

کیا آپ جانتے ہیں کہ زیادہ دیر تک بیٹھنا سگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے؟ہم میں سے اکثر لوگ آرام دہ کرسی پر بیٹ...
18/03/2025

کیا آپ جانتے ہیں کہ زیادہ دیر تک بیٹھنا سگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے؟

ہم میں سے اکثر لوگ آرام دہ کرسی پر بیٹھے رہنے کو نعمت سمجھتے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ تحقیق کے مطابق، روزانہ چھ گھنٹے یا اس سے زیادہ مسلسل بیٹھے رہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھنے کی عادت دل کی بیماریوں، شوگر، ذیابیطس، موٹاپے اور کینسر کے خطرات کو 50 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

سوچیں! ہمارا جسم 600 پٹھوں اور 206 ہڈیوں پر مشتمل ہے، جو حرکت کے لیے بنائے گئے ہیں، لیکن جب ہم گھنٹوں بے حرکت بیٹھے رہتے ہیں تو ہمارے جسم پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں:

🔹 انسولین کی خرابی – جس سے شوگر اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
🔹 دماغی کمزوری – خون کی گردش متاثر ہونے سے دماغ بھی صحیح کام نہیں کرتا۔
🔹 نظامِ ہاضمہ کی خرابی – جس کے نتیجے میں قبض اور معدے کی جلن پیدا ہوتی ہے۔
🔹 ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ – کمر درد، گردن میں تکلیف اور جسمانی اکڑاؤ کا سامنا ہوتا ہے۔
🔹 موٹاپا اور دل کی بیماریاں – جسم میں فالتو چربی جمع ہونے سے دل کی صحت متاثر ہوتی ہے۔
🔹 ہڈیوں کی کمزوری – مسلسل بیٹھے رہنے سے ہڈیاں رفتہ رفتہ کمزور ہو جاتی ہیں۔
🔹 کینسر کا خطرہ – سستی اور نالائقی کے ساتھ ساتھ، جسمانی کمزوری مختلف بیماریوں کو دعوت دیتی ہے۔

یہ خطرات خاموش قاتل کی طرح ہماری صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور ہمیں اس وقت تک احساس نہیں ہوتا جب تک بیماریاں ہمارے جسم میں جڑ نہ پکڑ لیں۔

ابھی حرکت میں آئیں!
اپنی زندگی کو فعال بنائیں، وقفے وقفے سے چہل قدمی کریں، ورزش کو معمول بنائیں اور اس مہلک عادت سے خود کو بچائیں۔ یاد رکھیں، آپ کی صحت آپ کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے! 💙

حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال اور وہم پر مبنی نفسیاتی عوارض، جیسے کہ نرگسیت (نارسسزم...
18/03/2025

حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال اور وہم پر مبنی نفسیاتی عوارض، جیسے کہ نرگسیت (نارسسزم) اور جسمانی بدصورتی کا عارضہ (باڈی ڈسمورفک ڈس آرڈر)، وغیرہ کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔

سائمن فریزر یونیورسٹی کے محققین کی اس تحقیق میں 2,500 سے زائد مطالعہ جات کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ وہم پر مبنی عوارض سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے سب سے زیادہ منسلک ہیں۔

ان عوارض میں نرگسیت شخصیت کا عارضہ (خود کو برتر سمجھنے کا وہم)، ایرٹومینیا (یہ وہم، کہ کوئی مشہور شخصیت آپ سے محبت کرتی ہے)، جسمانی بدصورتی کا عارضہ (اپنے جسم کے کسی حصے میں خامی کا وہم)، اور انوریکسیا (اپنے جسم کے سائز کے بارے میں غلط فہمی) شامل ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایسے حالات پیدا کرتا ہے جہاں یہ وہمات آسانی سے جنم لے سکتے ہیں اور برقرار رہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ پلیٹ فارمز اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کچھ زیادہ واسطہ نہیں ہوتا۔

پروفیسر برنارڈ کریسپی کے مطابق، "سوشل میڈیا ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جہاں وہمات زیادہ آسانی سے پیدا اور برقرار رہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ پلیٹ فارمز اور ایپس ان عوارض کے اسباب کو تقویت دیتے ہیں، اور مؤثر حقیقت کی جانچ پڑتال کی عدم موجودگی ہے۔

اگرچہ سوشل میڈیا کے مثبت پہلو بھی ہیں، جیسے کمیونٹیز کی تشکیل اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا، لیکن یہ تحقیق بتاتی ہے کہ جو افراد پہلے سے ان عوارض کا شکار ہیں، ان پر سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

محققین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بہت سی مشہور ایپس اور پلیٹ فارمز کی خصوصیات، ذہنی اور جسمانی وہمات کو برقرار رکھتی اور بڑھاتی ہیں، کیونکہ یہ خود کو پیش کرنے کے ایسے مواقع فراہم کرتی ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتے۔

آن لائن اور حقیقی زندگی کے درمیان بڑا فرق ہے۔ حقیقی زندگی میں لوگ ایک دوسرے کے خیالات اور جذبات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ سکتے ہیں، لیکن آن لائن ایسا ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ذہنی صحت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

تحقیق کا نتیجہ ہے کہ وہمات پر مبنی عوارض میں مبتلا افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں کمی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، یہ تحقیق سوشل میڈیا کی ان مخصوص خصوصیات پر مزید تحقیق کی سفارش کرتی ہے جو وہمات کو فروغ دیتی ہیں۔

یہ تحقیق آن لائن سماجی تعاملات کو زیادہ حقیقت پسندانہ اور حقیقی زندگی کے قریب بنانے کے طریقوں کی تلاش کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، محققین آنکھ سے رابطہ کرنے والی ٹیکنالوجی، 3D نقطہ نظر، اوتارز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی صلاحیت کا حوالہ دیتے ہیں۔

ترجمہ و تلخیص: حمزہ زاہد۔
ماخذ: نیورو سائنس نیوز، فیس بک پیج.

تحقیق کا لنک: [https://shorturl.at/oxrDt](https://shorturl.at/oxrDt)

نوٹ: اس طرح کی مزید معلوماتی پوسٹس کیلئے مجھے فالو کریں۔ براہِ مہربانی اگر اس پوسٹ کو کاپی پیسٹ کریں تو اصل لکھاری کا نام ساتھ ضرور لکھیں۔.

فنگس ویول کے چہرے کی انتہائی قریب سے کی گئی منظر کشی ! 🪲فنگس ویول چھوٹے سے بیتل ہوتے ہیں جو فنگس پر گزارا کرتے ہیں اور م...
18/03/2025

فنگس ویول کے چہرے کی انتہائی قریب سے کی گئی منظر کشی ! 🪲

فنگس ویول چھوٹے سے بیتل ہوتے ہیں جو فنگس پر گزارا کرتے ہیں اور مردہ پودوں کے اجزاء کو گلنے سڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
دنیا بھر میں ان کی 3,500 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، اور یہ چھوٹے قدرتی ری سائیکلر ماحول میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں!

📷 فوٹو کریڈٹ: آندرے ڈی کیسل

18/03/2025

ایمیزون کے گھنے برساتی جنگلات، جہاں قدرت کے سب سے عجیب و غریب جاندار بستے ہیں، وہیں ایک حیرت انگیز مخلوق بھی پائی جاتی ہے"جائنٹ مانکی فراگ" اس کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کا بندروں جیسا طرزِ حرکت ہے جس کی وجہ سے اسے "مانکی فراگ" کہا جاتا ہے۔ یہ دوسرے عام مینڈکوں کی طرح زمین پر اچھلنے کے بجائے درختوں پر چڑھنے، شاخوں سے لپٹنے اور ایک شاخ سے دوسری شاخ پر مہارت سے پھلانگنے میں ماہر ہے۔ اس کے لمبے چپکنے والے پیروں اور طاقتور گرفت کی مدد سے یہ درختوں پر اسی مہارت سے حرکت کرتا ہے جیسے کوئی بندر یہ سب کرتا ہے ایک اور حیرت انگیز صلاحیت بھی موجود ہے جو اسے دوسرے مینڈکوں سے ممتاز کرتی ہے گرم اور نمی والے جنگلات میں زندہ رہنے کے لیے اس نے اپنی قدرتی سن اسکرین خود تیار کرتا ہے جو اسے سورج کی روشنی سے بچاتی ہے۔

جائنٹ مانکی فراگ (Giant Monkey Frog) اپنی جلد سے ایک ویکس نما مادہ خارج کرتا ہے جو UV شعاعوں سے بچانے والا، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خصوصیات رکھتا ہے۔ یہ ویکس نہ صرف جلد کو سورج کی تپش سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ جسم سے پانی کے اخراج کو کم کر کے مینڈک کو زیادہ دیر تک نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔

یہ مینڈک اپنے پیروں کی مدد سے اس ویکس کو جلد پر رگڑ کر ایک حفاظتی تہہ بناتا ہے، جو خاص طور پر درختوں پر رہنے والے مینڈکوں کے لیے ضروری ہے۔ یہ عمل اسے سخت جنگلی ماحول میں شکاریوں اور بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے، جو اس کی بقا کے لیے اہم ہے۔

یہ صلاحیت قدرت کے حیرت انگیز نظام کی بہترین مثال ہے جہاں ایک جاندار کو اس کے ماحول کے مطابق ڈھال دیا جاتا ہے۔ جائنٹ مانکی فراگ کا قدرتی سن اسکرین بنانا ظاہر کرتا ہے کہ کیسے جاندار مشکل حالات میں زندہ رہنے کے لیے منفرد مہارتیں حاصل کرتے ہیں۔ تمام جاندار وقت کے ساتھ اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہو کر بقا کے منفرد طریقے اپناتے ہیں اور یہ مینڈک اس کا ایک شاندار مظہر ہے۔
This blog post written by OWAIS using writing tools

معلوماتی پوسٹ14 جنوری 1798 دنیا میں پہلا سیزریہ دنیا کے پہلے سی سیکشن کی تاریخ ہے.... ایک امریکی سرجن جیسی پینٹ کے ہاتھ ...
05/02/2025

معلوماتی پوسٹ
14 جنوری 1798 دنیا میں پہلا سیزر
یہ دنیا کے پہلے سی سیکشن کی تاریخ ہے.... ایک امریکی سرجن جیسی پینٹ کے ہاتھ سےہوا
ماں کے رحم کو کھولنے اور بچے کو نکالنے کا معاملہ زمانہ قدیم سے جانا جاتا ہے.. پہلا سیزرین آپریشن جولیس سیزر کی پیدائش تھا... جب انہوں نے اس کی مرتی ہوئی ماں کا پیٹ کھولا .. اسی لیے وہ آپریشن کو سیزرین کہتے ہیں.... یہ جولیس سیزر کے نام سے منسوب ہے
جیسی پینٹ اس عمل میں پیٹ کی تہوں کو سلائی کرنے میں کامیاب ہو گیا جیسے ہی اس نے اسے کھولا اور اس نے اسے بند بھی کر دیا۔
اس تاریخ سے اور اب تک... سی سیکشن دنیا میں کیے جانے والے سب سے زیادہ جراحی طریقہ کار کی نمائندگی کرتا ہے......

‏ہُدہُد وہ واحد پرندہ ہے جو زندگی میں صرف ایک بار شادی کرتا ہےاور اپنے جیون ساتھی کی وفات کے بعد اکیلے ہی زندگی گزارتا ہ...
02/02/2025

‏ہُدہُد وہ واحد پرندہ ہے جو زندگی میں صرف ایک بار شادی کرتا ہے

اور اپنے جیون ساتھی کی وفات کے بعد اکیلے ہی زندگی گزارتا ہے۔

یہ اپنی مادہ مہر کو کھانے کی کوئی چیز پیش کرتا ہے۔ اگر وہ اسے کھا لےتو اس کا مطلب یے کہ وہ شادی کے لیے راضی ہے۔

پھر نر اس مادہ کو اپنے گھونسلے کی طرف لے کر جاتا ہے

جو اس نے اکثر اوقات کسی درخت میں سوراخ کرکے کھو میں بنایا ہوتا ے۔

اگر اس کو پسند آ جائے تو دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جاتے ہیں۔

مادہ ہمیشہ ہر موسم میں عموماً چھ سے آٹھ انڈے دیتی ہے اور بچے پیدا ہونے کے بعد دونوں باری باری خوراک کا بندوست کرتے ہیں۔۔

عجیب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی کو خوراک کی چیز مل جائے تو وہ اسے اکیلے نہیں کھاتے۔

بلکہ دونوں اکھٹے ہونے کے بعد ہی اسے کھا تے ہیں۔

ہُڈہُد کی چھٹی حِس یا نگاہ اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کے اوپر سے ہی زیرِپانی کو محسوس کر لیتا ہے

اسی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے زیر زمین پانی ڈھونڈنے کا کام لیتے تھے۔

ہُدہُد ہزاروں میل کا سفر بغیر رکے طے کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

اسی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے ذریعے دوسرے ملک ملکہ بلقیس کو خط لکھ کر بھیجا تھا۔

ہُدہُد کی ازدواجی زندگی آج کے دور کی انسانوں کے لیے ایک مثال ہے۔۔

لالچی تاجر اور منصف جج!لالچ اور کنجوسی انسان کو کس حد تک گرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، اس کی ایک شاندار مثال 1506 میں فرینک...
26/01/2025

لالچی تاجر اور منصف جج!

لالچ اور کنجوسی انسان کو کس حد تک گرنے پر مجبور کر سکتے ہیں، اس کی ایک شاندار مثال 1506 میں فرینکفرٹ کے ایک واقعے میں دیکھنے کو ملی۔

ایک تاجر، جو تجارت کے لیے فرینکفرٹ آیا تھا، بدقسمتی سے اپنا بٹوہ کھو بیٹھا۔ بٹوے میں 800 گولڈن تھے، جو اُس وقت ایک بڑی رقم تھی۔ اتفاقاً یہ بٹوہ ایک دیندار اور ایماندار بڑھئی کو مل گیا۔ بڑھئی، جو اپنی دیانتداری کے لیے مشہور تھا، کسی کو بھی بٹوے کے بارے میں نہیں بتاتا اور سوچتا ہے کہ شاید مالک خود اسے ڈھونڈنے آئے۔

اگلے دن گرجا گھر میں اعلان ہوتا ہے کہ ایک تاجر نے اپنا بٹوہ کھو دیا ہے اور جو اسے لوٹائے گا، اسے 100 گولڈن انعام دیا جائے گا۔ بڑھئی خوشی خوشی بٹوہ لے کر پادری کے پاس پہنچتا ہے، تاکہ تاجر کو اس کا حق واپس مل جائے۔

تاجر بٹوہ وصول کرتا ہے، لیکن لالچ میں آ کر بڑھئی کو انعام دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ بڑھئی پر الزام لگاتا ہے کہ بٹوے میں اصل رقم 900 گولڈن تھی، اور بڑھئی نے اس میں سے 100 گولڈن چرا لیے ہیں۔ حالانکہ بڑھئی بار بار اپنی ایمانداری کی قسم کھاتا ہے، لیکن تاجر اپنی بات پر اڑا رہتا ہے۔

معاملہ طول پکڑتا ہے اور آخرکار عدالت میں پہنچتا ہے۔ جج نے مقدمے کی سماعت شروع کی اور دونوں فریقوں سے قسم لینے کا فیصلہ کیا۔ تاجر نے بلا جھجک بائبل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ بٹوے میں 900 گولڈن تھے۔ دوسری طرف، بڑھئی نے بھی بائبل پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ اسے صرف 800 گولڈن ملے تھے۔

عدالت میں سنّاٹا چھا گیا۔ سب جج کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے۔ جج نے اپنی گہری نظر اور منصفانہ عقل سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا:
"یہ ثابت ہو چکا ہے کہ تاجر نے 900 گولڈن کھوئے تھے، اور بڑھئی کو جو بٹوہ ملا اس میں 800 گولڈن تھے۔ لہٰذا یہ دونوں بٹوے الگ الگ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو بٹوہ بڑھئی کو ملا وہ کسی اور کا ہے اور بڑھئی کا حق ہے۔ اور تاجر اپنے 900 گولڈن کی تلاش جاری رکھ سکتا ہے۔"

یوں، ایک لالچی تاجر، جو ایک غریب اور ایماندار بڑھئی کو دھوکہ دینا چاہتا تھا، اپنی چالاکی میں خود ہی پھنس گیا۔ انصاف کی فتح ہوئی، اور بڑھئی اپنی دیانت کا صلہ پا گیا۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ لالچ اور دھوکہ ہمیشہ انسان کو رسوا کرتے ہیں، جبکہ ایمانداری اور انصاف کی روشنی ہمیشہ غالب رہتی ہے۔

Address

8
Islamabad
554432

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jawad ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Jawad ali:

Share

Category