21/06/2026
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے آئے روز دہشتگردی کے واقعات، بم دھماکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اس حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں کہ صوبے میں سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین چیلنجز موجود ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کے ذہنوں میں کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں جن کے واضح اور تسلی بخش جوابات دینا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
سب سے تشویش ناک امر یہ ہے کہ بعض علاقوں میں مسلحہ گروہ حکومتی رٹ کو چیلنج کرکے سرعام شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کرتے ہیں، مسافروں کی تلاشی لیتے ہیں اور گھنٹوں تک اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ عناصر اتنی جرأت اور آزادی کیسے حاصل کر لیتے ہیں؟ ان کے پاس موجود جدید اور مہلک اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے؟ ان کے مالی وسائل کے ذرائع کیا ہیں؟ اور وہ کون سے عناصر یا کمزوریاں ہیں جو انہیں اس قدر منظم انداز میں سرگرم رہنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جو صرف عوام ہی نہیں بلکہ پورا ملک پوچھ رہا ہے۔ جب مسلحہ گروہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر ریاست کو چیلنج کرتے دکھائی دیں تو ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے نہ صرف ان خطرات کا مؤثر سدباب کریں بلکہ عوام کو اعتماد میں لے کر حقائق سے بھی آگاہ کریں۔
دوسری جانب بدامنی اور دہشتگردی کے خلاف صفِ اول میں قربانیاں دینے والی پولیس فورس آج بھی مطلوبہ اختیارات، وسائل اور جدید ٹیکنالوجی سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ پولیس کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں لیکن انہیں وہ مکمل قانونی اور انتظامی اختیارات فراہم نہیں کیے جا رہے جو اس جنگ میں کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔
ریاست کی مضبوطی کا پیمانہ صرف دعوے نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ جب عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو یہ صورتحال فوری توجہ اور سنجیدہ اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دہشتگردی کے اس بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مکمل اختیارات دیے جائیں اور عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم رہے گی اور کسی کو بھی قانون کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تب امن لانا ممکن ہوگا ورنہ حکومت مزید چیلنچز کا سامنا کریگی
#حافظــمروت