18/04/2026
ٹرمپ بھی غزہ میں سوسائٹی بنانا چاہتا ہے ۔۔۔۔
وزیرداخلہ اسلام آباد محسن علی نقوی صاحب نے فرمایا ھے کہ وزیرِاعظم ہاؤس کے پیچھے، مارگلہ کی پہاڑیوں کے ساتھ ایک “نیا شہر” بنائینگے جسے شنگھائی اور مین ہیٹن کے طرز پر تعمیع کیا جائیگا ۔ بڑے بڑے ہوٹلز، مشترکہ منصوبے، ٹیکس چھوٹ، اور ملکی و غیر ملکی بڑے تاجروں لیے ترقیاتی منصوبے۔۔ اور تقریبا 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائیگی۔
مگر جن کی قبروں پر یہ شہر آباد ہو گا، جن کی زمینوں کو زبردستی چھین کر غیر مقامی پٹھان پنجابی اشرافیہ اور بیوروکریسی حکومتی زور سے مقامی لوگوں کو بے دخل کر کے بے آسرا اور دربدر کر رہی ہے تف ہے ایسی ترقی پر۔۔۔
لیکن ! اب غزہ کی طرح
مقامی لوگ اچانک سے آسمان سے زمین پر آ گرے ہیں۔
اسلام آباد کے جدی مالکان نے اپنی زمینوں کو اس ملک پر قربان کیا ہے مگر اسلام آباد پر مسلط پٹھان پنجابی اسٹیبلشمنٹ اسرائیل جیسی سفاکیت لئے اسلام آباد کے مقامی لوگوں پر مسلط ہو چکی ہے کیونکہ یہ غیر مقامی لوگ ہیں اس لئے ان کے دل میں اسلام آباد کے مقامی لوگوں کے لئے بعض بھرا ہے۔
اسلام آباد کو بچانا ہے تو۔۔
اسلام آباد میں ہزاروں سالوں سے رہائشی مالکان مقامی خاندانوں کے بارے میں بھی سوچئیے ! ہزاروں خاندانوں کے سر پر چھت نہیں رہے گی وہ سب بے آسراء رہ جائیں گے انکا متبادل انتظام بھی فرما دیجئے ۔ ظلم کی بنیاد پر کھڑی کوئی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔۔۔
ورنہ۔۔۔!
نہ چنگیز خان رہا نہ ہٹلر نہ ہی ٹرمپ رہے گا اور ظلم تو مٹ ہی جاتا ہے ۔۔۔