LOve & FrienDship

LOve & FrienDship Pic & Video.... informative It's Not a Job,
It's a Lifestyle.

10/06/2023

ALHAMDULILLAH

22/05/2023

استاد چاہت فتح علی خان میرے پسندیدہ سنگر اب سے۔🫣😍۔۔

07/04/2023

تمہارے شہر کی گلیوں میں ہو سہل رنگ بخیر
تمہارے نقش قدم پر ہمیشہ پھول کھلتے رہیں
وہ راہ گزر جہاں تم لمحہ بھر ٹھہر کر چلو
وہاں ابر جھکیں، آسمان ملتے رہیں۔
🚩
#صاحب 🧎🏻‍♂️۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔🪦

18/03/2023

توکل کیا ہے ؟

17/03/2023

منشیات سے پاک پاکستان

بیشک منشیات کا استعمال اجتماعی معاشرتی برائ ہے جس کی وجہ سے کوئ بھی ریاست بڑی تباہی سے ہمکنار ہو سکتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر ریاست اس برائ کے بیخ کنی کےلیے ہر ممکن زرائع کا استعمال کرتی ہے ۔ حضور پاکؐ کا فرمان ہے کہ "جو چیز بھی نشہ لائے وہ حرام ہے "صحیح بخاری،حدیث نمبر۔5598 ۔
بلا شبہ نشہ انسانی ذہن پہ انتہائ منفی اثرات مرتب کرتا ہے اورانسان کی دماغی و جسمانی نشوونما کو تباہ و برباد کر دیتا ہے ۔ منشیات کا شکار شخص میں صحیح اور غلط کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ معاشرے کے لیے ناسور بن جاتا ہے ، اس معاشرتی بیماری کی وجہ سے بہت سے گھرانے تباہ و برباد ہو کر رہ گئے ہیں ۔۔۔ نشہ آور اشیاء کی بہت سی اقسام میں جن میں سے آج کل آئس ٹافی کے نام سے ایک نشہ نوجوان طبقے میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے ، آئس ٹافی (ICE Toffees) ہیروئن سے بھی ہزار گنا زیادہ مہلک، خطرناک اور تباہ کن نشہ ہے ۔ جس کا اصل نام (میتھرمتیامین) ہے اور دیکھنے میں یہ بالکل جمی ہوئی برف کی مانند چھوٹے ٹکڑوں کی طرح ہے اسی وجہ سے اسے کرسٹل میتھ یا آئس (ICE) کہتے ہیں ۔ یہ نشہ پاؤڈر کی شکل میں اسپیڈ (Speed) کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے لیکن منشیات فروش لوگ اس کو آئس ٹافی ( ICE TOFFEES) کی صورت میں زیادہ مارکیٹ میں لاتے ہیں اس نشے کو استعمال کرنے والا شخص پہلے دن سے ہی اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اس نشے کو ایک دفعہ استعمال کرنے والے پہ اس کا اثر 12 گھنٹے تک رہتا ہے ، آئس (ICE) کا نشہ استعمال کرنے والے شخص کی بقیہ عمر چھ مہینے سے ایک سال تک ہی رہ جاتی ہے. یہ بہت ہی خطرناک مہلک اور جان لیوا نشہ ہے ۔ براہِ مہربانی اپنے پیاروں اور گردونواح میں نظر رکھیں ، کیونکہ اس کا عادی شخص کچھ ہی عرصے میں ایک ڈھانچے کی طرح رہ جاتا ہے ۔
پاکستان میں منشیات کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور افسوسناک بات یہ کہ ہمارے ملک کے تعلیمی ادارے بھی اس معاشرتی بیماری سے نہیں بچے ہیں ۔۔ اب اسکول ،کالجز اور یونیورسٹیز میں نشہ آور اشیاء وافر مقدار میں بیچی اور استعمال کی جا رہی ہیں ۔ آئس ،چرس اور شیشہ عام ہو چکا ہے ۔ منشیات کی تعلیمی اداروں میں فراہمی کی روک تھام کے لیے حکومتِ وقت کو ہنگامی بنیادوں پہ اقدامات کرنا ہونگے بلکہ منشیات کی روک تھام حکومتی اداروں کا فرضِ اولین ہونا چاہیے کیونکہ منشات فروش پیسوں کی ہوس میں ہمارے مستقبل کے معماروں کو ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج کر رہے ہیں۔ قانون نافز کرنے والے اداروں کے ایک سروے کے مطابق ہمارے ملک میں 20 سے 35 سال کے افراد سب سے زیادہ نشے کا شکار ہو رہے ہیں ۔۔۔ تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے قانون نافز کرنے والے اداروں کا فوری اقدامات کرنا اشد ضروری ہے ۔ ہمارے ملک کے بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں میں صاحبِ حیثیت گھرانوں کے چشم و چراغ شروعات میں محض فیشن کے طور پر نشہ کرتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ نشے کے عادی ہو کر ناصرف اپنے خاندان کی تباہی کے باعث بنتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے سے بھی قاصر ہو جاتے ہیں ۔منشیات سے پاک معاشرے کے لیے ہمیں سب سے پہلے وہ وجوہات تلاش کرنا ہونگے جو کہ منشیات کے پھیلاو کا باعث بن رہے ہیں ۔۔۔ تاکہ ان وجوہات پہ فوری قابو پا کر ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں کھڑا کر سکیں ۔۔۔
ان وجوہات میں سے چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں ۔۔۔
1_مقصد کا تعین نہ ہونا ۔۔۔ جب تک انسان اپنی زندگی گزارنے کے لیے کوئ مقصد نہیں بناتا وہ معاشرے کا ایک ناکارہ فرد بن کر رہ جاتا ہے ۔۔۔ اس ضمن میں والدین اور اساتذہ کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔۔۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پہ مکمل توجہ دیں اور اپنی اولاد کو اس کے مقصد کے تعین کرنے میں بھرپور راہنمائ اور آگاہی فراہم کریں ۔ معاشرے کا ذمہ دار فرد بنانے میں سب سے زیادہ اہم کردار والدین اور اساتذہ کا ہی ہوتا ہے ۔ والدین کی ہمیشہ یہی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اپنی اولاد میں مثبت سوچ پیدا کریں ۔۔۔
2_مزہبی تعلیم و رہنمائ کا فقدان ۔۔ الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے پاس قرآن پاک ہے جو ایک مکمل ضابطہءحیات ہے اور سنت رسولؐ اس کا عملی نمونہ ہے ۔ والدین کو اپنی اولاد میں مذہبی تعلیم سے قربت و آگاہی پیدا کرنی چاہیے تاکہ اسے اچھے اور برے کی تمیز اور حلال و حرام کے فرق کا علم ہو اور وہ بحیثیت مسلمان ایک مضبوط اسلامی معاشرے کا ذمہ دار فرد بن سکے ۔۔۔
3_نفسیاتی مسائل ۔۔۔ نشے کی ایک بنیادی وجہ نفسیاتی مسائل کا ہونا بھی ہے ۔ بعض افراد ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جلد نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں،کچھ موروثی نفسیاتی بیماریاں بھی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ انسان پہ اثر انداز ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور ایسے افراد بہت سی نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جن میں غم ،مایوسی ،گھریلو پریشانیاں ،بے چینی ،عدم اعتماد ،ناکامی و اکتاہٹ شامل ہیں ۔ بعض اوقات تو یہ نفسیاتی بیماریاں انتہاء کو پہنچ کر خطرناک نفسیاتی بیماریوں کا روپ دھار لیتی ہیں ۔ جن میں شیزوفرینیا اور ملٹی پل پرسنالٹی جیسی بیمایاں شامل ہیں ۔ نفسیاتی مسائل سے بچنے کے لیے گھر کے ماحول اور معاشرے کا صحت مند اور پر امن ہونا انتہائ اہمیت رکھتا ہے ۔ والدین کو اپنے بچوں پہ مکمل توجہ دینی چاہیے ،ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ دوستانہ ماحول میں وقت گزارنا چاہیے یوں بچوں کو بہت سی نفسیاتی بیماریوں سے بچایا جا سکتا ہے ۔۔
4_معاشرتی مسائل ۔۔۔ موجودہ دور میں معاشرتی مسائل بھی منشیات کے استعمال کی ایک اہم وجہ بن گئے ہیں ۔ ان میں غربت و مہنگائ ،رشتوں میں نااتفاقی ،گھریلو جھگڑے مثلاً طلاق ،عورتوں پہ ظلم ،بچیوں کو تعلیم نہ دینا ،بچوں کا استحصال ،بری صحبت شامل ہیں ۔ اگر ہم ان مسائل پہ قابو پا لیں تو نشے سے پاک معاشرہ وجود میں آنا کوئ مشکل امر نہ ہو گا ۔
پاکستان میں منشیات کی روک تھام کے لیے مکمل قوانین بنائے گئے ہیں ،اور ان قوانین کے تحت منشیات کا دھندا کرنے والے افراد کو ملکی قوانین کے مطابق سزائیں بھی دی جاتی ہیں جن میں پھانسی اور عمر قید کی سزائیں بھی شامل ہیں ۔
اس ضمن میں پاکستان میں ایک بہترین فورس اینٹی نارکوٹکس (ANTI NARCOTICS FORCE) کے نام سے موجود ہے جس کے دائرہ کار میں ملک بھر کے ہوائ اڈے ،بندرگاہیں ،اہم مقامات ،سرکاری و نجی ادارے شامل ہیں۔ جہاں یہ اینٹی نارکوٹکس فورس منشیات کے سدِ باب اور روک تھام کے لیے اپنے تمام اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے اپنے فرائض انتہائ ذمہ داری سے احسن طور پر سرانجام دے رہی ہے ۔ اس فورس کو منشیات فروشوں کے خلاف ہر طرح کی قانونی کاروائ کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔ اینٹی نارکوٹس فورس شب و روز اپنے ملک کو منشیات فروشوں سے پاک کرنے میں مصروفِ عمل ہے ۔ ANF منشیات فروشوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ،لیکن اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس جہاد میں معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ان فورسز کا ساتھ دے ۔اس اہم ملکی مسئلہ کے سلسلے میں والدین کا کردار بھی بہت اہم ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے روزمرہ کے امور پہ گہری نظر رکھیں اور اپنی اولادوں پہ مکمل توجہ دیں ، ان کے مسائل سے مکمل آگاہ ہوں اور انہیں ایک اچھا اور صحت مند ماحول فراہم کریں تاکہ وہ معاشرے کے ایک مضبوط فرد کے طور پر سامنے آئیں گے اور معاشرے میں اپنا کردار احسن طور پر سرانجام دے سکیں ۔اس سلسلے میں پاکستان کے تمام ذمہ دار اداروں اور اینٹی نارکوٹکس کو تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ قوم کے تمام تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کیا جائے اور اس حوالے سے بہت سے سیمینار ،واک اور عوامی آگاہی کے لیے پروگرامز بھی مرتب کئے جائیں ۔ میری حکومتِ وقت سے پرزور درخواست ہے کہ جو لوگ سمگلنگ اور منشیات فروشی کے کاروبار میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائ کی جائے اور ان منشیات فروشوں کو کڑی سے کڑی سزا دے کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے ۔ آئیے اس نیک مقصد میں ہم سب متحد ہو جائیں اور مل کر پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں ۔۔۔
پاکستان زندہ باد "۔

21/02/2023

Push yourself because nobody else is going to do it for you......🚩

25/01/2023

واپڈا والوں کے لیے انگلش میں سخت پیغام

07/01/2023

Hey Google

12/11/2022

کمال کا ایڈ ہے

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LOve & FrienDship posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to LOve & FrienDship:

Share

Category