21/10/2024
ذرا تصویر کو غور سے دیکھیں
صرف اڑنے کی خاطر میٹروں اور سکرینوں کی بڑی اور پیچیدہ تعداد کو دیکھیں!!
تصور کریں کہ پرندے، عقاب، کبوتر اور اُلّو کے دماغ کا ایک چھوٹا سا حصہ تربوز کے بیج کے برابر ہے، اور یہ تمام پیچیدہ حسابات اسی میں کیے جاتے ہیں!!
رفتار، اونچائی، پے لوڈ، وزن، سمت، کمپاس، اوقات، خوراک کی تلاش اور دشمنوں سے بچنے کے لیے ریڈار، لینڈنگ اور ٹیک آف میٹر، اونچی اور نیچی فلائٹ میٹر، اور یہ سب بغیر کسی کنٹرول ٹاور، ریڈیو، سیٹلائٹ، یا GPS!!!
🍀اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اِلَی الطَّیۡرِ فَوۡقَہُمۡ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقۡبِضۡنَ ؔۘؕ مَا یُمۡسِکُہُنَّ اِلَّا الرَّحۡمٰنُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍۭ بَصِیۡرٌ ﴿19﴾
🟢ترجمہ:- . کیا اُنہوں نے پرندوں کو اپنے اوپر پر پھیلائے ہوئے اور (کبھی) پر سمیٹے ہوئے نہیں دیکھا؟ اُنہیں (فضا میں گرنے سے) کوئی نہیں روک سکتا سوائے رحمان کے (بنائے ہوئے قانون کے)، بے شک وہ ہر چیز کو خوب دیکھنے والا ہے۔
سورۃالملک آیت:19