Rehmat Wali347

Rehmat Wali347 Rehmat Wali347 you tube channel
Rehmat Wali347 SnackVideo account
Rehmat wali Facebook account
TikTo

26/09/2025
پچھلے دو گھنٹوں سے انڈین میڈیا اور سوشلمیڈیا دیکھ رہاہوں قسم سے پاکستان کو حاصل ہونے والی “فتح مبین “سے اتنےانڈین پریشان...
12/05/2025

پچھلے دو گھنٹوں سے انڈین میڈیا اور سوشل
میڈیا دیکھ رہاہوں
قسم سے پاکستان کو حاصل ہونے والی “فتح مبین “سے اتنے
انڈین پریشان نہی ہیں جتنے ۔۔۔

ادھر کے” مسلی “پریشان ہیں

کبھی بری فوج کو کوستے ہیں کبھی
فضائ فوج کی باتیں کرتے ہیں
کبھی کہتے ہیں انڈیا دوبارہ حملہ کردے گا
وغیرہ وغیرہ

توبہ

کمینو
فوج کا مطلب ہے
افواج پاکستان

اور افواج پاکستان
زندہ باد 

اور یہ جو تم “حسد کی آگ “
میں جل رہے ہو
دراصل یہ تمھیں اس دنیا میں ہی سزا دی جارہی ہے

جنگ بندی کی اصل وجہ بھی یہی ہے مغربی طاقتیں کیوں چاہتی ہیں کہ جنگ بندی ہو ۔یہ درست ہے کہ مشین کا کمال نہیں یہ پائلٹ کا ک...
11/05/2025

جنگ بندی کی اصل وجہ بھی یہی ہے
مغربی طاقتیں کیوں چاہتی ہیں کہ جنگ بندی ہو ۔
یہ درست ہے کہ مشین کا کمال نہیں یہ پائلٹ کا کمال ہے وگرنہ رافیل اور اس پہ لگے مزائل کمال کی مشین اور اسلحہ ہیں لیکن شاہینوں کو اللہ رب العزت نے یہ کمال عطا کیا کہ وہ جس فائیٹر جیٹ پہ بیٹھیں وہی کمال است ہو جاتا ہے
چینی اسٹریٹجک ماہر پروفیسر وکٹر ماو (انہیں چین کا غیر سرکاری ترجمان بھی کہا جاتا ہے)-
"چین کو پاکستان اور پاکستانی فوج کا شکر گزار ہونا چاہیے جس نے چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی دھاک دنیا پر بٹھا دی ہے- چین کے سپر ڈوپر ہونے کا دروازہ کھول دیا ہے- یہ بحث ابھی بہت آگے بڑھے گی"-
ایسٹ فرنٹ اطلاعات کے مطابق چین نے پاکستانی پائلٹس کو انعام دینے کا اعلان کیا ہے کیونکہ چین نے بذریعہ پاکستان گزشتہ 1 ہزار سالہ مغربی فوجی طاقت، ٹیکنالوجی اور سفارتی بالادستی کا جنازہ نکال دیا ہے یہ پاکستانی باصلاحیت پائلٹس کا کمال تھا ورنہ ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرکے دشمن کے حدود میں S-400 کی موجودگی میں کوئی مغربی پائلٹ تک پرواز نہیں کرسکتا. دنیا کو نیا چینی نیو ورلڈ آرڈر اور پاکستان کو عالم اسلام و جنوبی ایشیا میں فوجی دھاک مبارک ہو "

عنوان: پاکستان و بنگلہ دیش اتحاد — ایک اسٹریٹیجک، دفاعی اور معاشی تجویزمعزز چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان،جنرل سیدعاصم منیر ...
11/05/2025

عنوان: پاکستان و بنگلہ دیش اتحاد — ایک اسٹریٹیجک، دفاعی اور معاشی تجویز

معزز چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان،
جنرل سیدعاصم منیر صاحب

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

اس تحریر کا مقصد ایک ایسی ممکنہ اسٹریٹیجک سوچ پیش کرنا ہے جو نہ صرف امت مسلمہ کے اتحاد کی علامت ہو بلکہ خطے میں پاکستان کی پوزیشن کو دفاعی، معاشی اور سیاسی طور پر غیر معمولی فائدہ دے سکتی ہے۔ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش دوبارہ کسی شکل میں متحد ہوں — جیسے کہ کونفیڈریشن، مشترکہ دفاعی معاہدہ یا مکمل اتحاد — تو اس کے مندرجہ ذیل فوائد، نقصانات اور امکانات ہو سکتے ہیں:

1. بنگلہ دیش کو ممکنہ فوائد:

دفاعی تحفظ:
پاکستان کی ایٹمی قوت کی چھتری تلے آ جانا بھارت کی کسی بھی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط دفاعی ضمانت ہو گا۔

دفاعی اخراجات میں کمی:
اپنے دفاع پر بھاری اخراجات کرنے کے بجائے مشترکہ دفاعی نظام سے استفادہ ممکن ہوگا۔

عالمِ اسلام میں وقار:
ایک بڑی مسلم ایٹمی طاقت کے ساتھ اتحاد بنگلہ دیش کی مسلم دنیا میں سیاسی حیثیت میں اضافہ کرے گا۔

تجارتی و معاشی فوائد:
پاکستانی منڈیوں اور دیگر مسلم ممالک تک رسائی، مشترکہ منصوبے، اور اسلامی دنیا سے سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی۔

2. پاکستان کو ممکنہ فوائد:

جغرافیائی طاقت:
بنگلہ دیش کے ساتھ اتحاد سے پاکستان کو مشرقی محاذ پر اسٹریٹیجک گہرائی دوبارہ حاصل ہو سکتی ہے۔

تجارتی رسائی:
جنوب مشرقی ایشیاء تک رسائی میں آسانی ہوگی، خاص کر میانمار، تھائی لینڈ، ملائشیا اور انڈونیشیا تک۔

عالمی سطح پر اثر:
دو بڑی مسلم آبادیوں کے اتحاد سے اقوام متحدہ، OIC، اور دیگر عالمی فورمز میں پاکستان کی آواز نمایاں طور پر مضبوط ہوگی۔

دفاعی برآمدات:
پاکستان اپنی دفاعی صنعت کو بنگلہ دیش میں منتقل یا وسعت دے کر برآمدات کو فروغ دے سکتا ہے۔

3. بھارت کو ممکنہ نقصان:

اسٹریٹیجک دباؤ:
مشرق و مغرب دونوں اطراف ایٹمی قوتوں کی موجودگی بھارت کے لیے ایک مستقل دفاعی پریشانی بن جائے گی۔

علاقائی بالا دستی کو خطرہ:
بھارت خطے میں تنہا برتر قوت کے طور پر رہنا چاہتا ہے، لیکن اس اتحاد سے اس کی حکمت عملی کو دھچکا لگے گا۔

اندرونی شورشوں کا خطرہ:
کشمیر، آسام، منی پور جیسے علاقوں میں حریت پسند تحریکوں کو نئی روح مل سکتی ہے۔

4. موجودہ حالات میں امکانات و رکاوٹیں:

چیلنجز:

سیاسی و جذباتی رکاوٹیں:
بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام کی ایک بڑی تعداد اب خودمختاری کو مقدم سمجھتی ہے؛ 1971 کی تلخیاں اب بھی رکاوٹ ہیں۔

بھارتی اثر و دباؤ:
بھارت بنگلہ دیش پر سفارتی، آبی اور معاشی سطح پر اثر انداز ہے، اور ایسے کسی اتحاد کو روکنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔

عالمی قوتوں کی سیاست:
امریکہ، چین اور یورپی یونین جیسے ممالک اپنے مفادات کے تحت ایسے اتحاد کی مخالفت کر سکتے ہیں۔

ممکنات:

کونفیڈریشن یا دفاعی تعاون:
جیسے OIC دفاعی معاہدہ یا ECO طرز کی کونفیڈریشن، جہاں دونوں ممالک اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ دفاع، معیشت، اور تجارت میں شراکت کریں۔

عوامی رائے سازی:
اگر دونوں ممالک میں دینی، قومی، اور اتحادِ امت کے جذبات کو بیدار کیا جائے تو عوامی حمایت ممکن ہو سکتی ہے۔

5. مستقبل کی سمت — ایک اسلامی فیڈریشن کا تصور:

یہ اتحاد نہ صرف بنگلہ دیش تک محدود ہو بلکہ مستقبل میں افغانستان، ترکی، ملائشیا، آذربائیجان، ایران یا دیگر اسلامی ممالک کو شامل کر کے اسلامی اسٹریٹیجک فیڈریشن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، جس میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی، تعلیم، اور میڈیا میں تعاون کی نئی جہتیں کھلیں۔

خلاصہ (Table Summary):

پہلو فائدہ / نقصان

بنگلہ دیش دفاعی تحفظ، معاشی فوائد، مسلم دنیا میں مقام
پاکستان مشرقی اسٹریٹیجک گہرائی، عالمی اثر، دفاعی تجارت
بھارت دفاعی دباؤ، خطے میں پوزیشن کمزور، اندرونی شورش کا خطرہ
عملی امکان کم لیکن دینی و قومی جذبات، اعتماد، عوامی حمایت سے ممکن

آخر میں، یہ تجویز ایک طویل المدتی وژن کا حصہ ہے جو اگر دانشمندانہ حکمت عملی اور عوامی شعور سے آگے بڑھائی جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

والسلام،
آپ کا مخلص،
ڈاکٹر ولی خان المظفر 🇵🇰
سعیدعالم خان 🇵🇰

اِسرائیل کی صرف 90 لاکھ آبادی 45 کروڑ عربوں کے سامنے کھڑی ھے۔انڈیا 1 ارب 30 کروڑ کا ملک ھے، پاکستان 24 کروڑ کا۔ لیکن پور...
10/05/2025

اِسرائیل کی صرف 90 لاکھ آبادی 45 کروڑ عربوں کے سامنے کھڑی ھے۔

انڈیا 1 ارب 30 کروڑ کا ملک ھے، پاکستان 24 کروڑ کا۔ لیکن پورے خطے میں صرف پاکستان ہی ھے جو 78 سال سے انڈیا کے سامنے ڈٹے ہوئے ھے، بغیر کسی ڈر یا احساسِ کمتری کے۔

ہماری ریاست سے غلطیاں ہوئیں، جیسے ہر ملک سے ہوتی ہیں۔ انڈیا کچھ پہلوؤں میں بہتر ہو سکتا ھے، مگر ہم کبھی اس سے مرعوب نہیں ہوئے۔ پاکستان اتنا ہی نڈر ھے جتنا ایک عام پاکستانی—یعنی بالکل بےخوف۔

دنیا میں ہمیشہ طاقت کی زبان چلی ھے، اور آگے بھی چلے گی۔ ریاستیں مفادات دیکھتی ہیں، رومان نہیں۔ ہمیں سیکھنا سب سے چاہئے، لیکن ڈرنا کسی سے نہیں۔ طاقت کا مقابلہ طاقت سے ہی ممکن ھے۔

ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن ذلت بھی قبول نہیں۔
اگر جنگ ھے تو ٹھیک، اور اگر نہیں، تو اور بھی بہتر۔

پاکستان پائندہ باد
پاکستانی زندہ باد
افواجِ پاکستان زندہ باد

شیخ الاسلام حفظہ اللہ کا مولانا فضل الرحمن صاحب کو خراج تحسین اور قوم کو مبارکباد❤👌
21/10/2024

شیخ الاسلام حفظہ اللہ کا مولانا فضل الرحمن صاحب کو خراج تحسین اور قوم کو مبارکباد❤👌

I have reached 300 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
21/10/2024

I have reached 300 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

19/08/2024

M***i Asad mehmood Aman jalsy sy khitab krty howy

Surah kahf or darood pak
16/08/2024

Surah kahf or darood pak

Address

Karachi

Telephone

+923082358191

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rehmat Wali347 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rehmat Wali347:

Share