Kn24hd news

Kn24hd news Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Kn24hd news, Karachi.

“پاکستان کے این 24 ایچ ڈی نیوز (Digital) چینل ‘سچ کی آواز’ کا بنیادی مقصد ملک کے دفاع، قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہونا، عوام الناس کی فلاح و بہبود، انسانیت کی خدمت اور معاشرے کو سچ کا آئینہ دکھانا ہے۔”

15/08/2026

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰

معروف شخصیت یونس امین کو کراچی ڈویژن پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن PJA کا سینئر نائب صدر منتخب ہونے پر دلی مبارکباد!

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (PJA) کراچی ڈویژن کی جانب سے یونس امین کو سینئر نائب صدر کی اہم ذمہ داری ملنے پر نیک خواہشات کا اظہار۔

🎙️ صحافت کی آزادی، عوام کی آواز اور حق و سچ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

گرینڈ آپریشن کیا ہے؟ اس کی حقیقت اور مقاصد جاننے کے لیے مکمل ویڈیو دیکھیں۔

🇵🇰 پاکستان زندہ باد — جشنِ آزادی مبارک!14 اگست 2026

15/08/2026
🚨 بریکنگ نیوز 🚨اورنگ آباد، ناظم آباد میں چھوٹے پلاٹوں پر مبینہ طور پر تعمیرات کی انتہا! *رپورٹ: ٹیم سچ کی آواز*  ذرائع ک...
15/08/2026

🚨 بریکنگ نیوز 🚨

اورنگ آباد، ناظم آباد میں چھوٹے پلاٹوں پر مبینہ طور پر تعمیرات کی انتہا!
*رپورٹ: ٹیم سچ کی آواز*
ذرائع کے مطابق نمبر تین نمبر 5 , *40 گز* کے چھوٹے پلاٹوں پر مبینہ طور پر کئی کئی منزلہ کمرشل یونٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں، جس سے شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔

علاقے میں پہلے ہی پانی، گیس اور سیوریج کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں چھوٹے پلاٹوں پر غیر معمولی بلند و بالا تعمیرات کے حوالے سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

عوامی مطالبہ ہے کہ:

🔴 ڈی جی SBCA
🔴 کمشنر کراچی
🔴 ڈپٹی کمشنر سینٹرل
🔴 ایس ایس پی سینٹرل

اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ تعمیرات کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشوں اور SBCA کی اجازت کی مکمل جانچ کرائیں۔

اگر کسی تعمیر میں قانون یا منظور شدہ نقشے کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔

عوام کا سوال:
کیا 40 گز کے پلاٹوں پر کئی کئی منزلہ کمرشل تعمیرات قانونی منظوری کے ساتھ ہو رہی ہیں؟
متعلقہ ادارے حقائق عوام کے سامنے لائیں۔

15/08/2026

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (PJA) کراچی ڈویژن کی یومِ آزادی کی تقریب میں خصوصی شرکت

کراچی: پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (PJA) ڈسٹرکٹ سینٹرل کے صدر اور K21 کے سینئر صحافی جناب جنید ساگر کی خصوصی دعوت پر یومِ آزادی پاکستان کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں PJA کراچی ڈویژن کے صدر محمد ارسلان فاروقی نے کراچی ڈویژن کے عہدیداران کے ہمراہ خصوصی شرکت کی۔

اس موقع پر پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن کی جانب سے جناب جنید ساگر کو عمرے کی سعادت حاصل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کی گئی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی عبادت اور حاضری کو قبول فرمائے اور انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ مزید خوشیاں عطا فرمائے۔

تقریب میں پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن سندھ کے جوائنٹ سیکریٹری جناب اصغر خان کھوسہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صحافتی برادری کے باہمی روابط، اتحاد و یکجہتی، تنظیمی استحکام اور صحافیوں کے پیشہ ورانہ امور سمیت مختلف اہم معاملات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے صحافی برادری کے اتحاد، فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ وقار اور حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

جاری کردہ:
عمران عزیز قریشی
انفارمیشن سیکریٹری، کراچی ڈویژن
پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (PJA)

ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ
14/08/2026

ٱلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ ٱللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ

14/08/2026

فوری نوٹس کا مطالبہ 13 اگست 2026 تھانہ سائیڈ اے ایریا

پولیس کا قبلہ کب درست ہوگا؟
صحافی پر مبینہ تشدد، حراست اور نقدی چھیننے کا الزام؛

شواہد کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر سنگین سوالات
تھانہ سائٹ ایریا اے کے اہلکاروں پر صحافی دانیال سومرو کو مبینہ طور پر تشدد، حراساں کرنے، غیر قانونی طور پر روکنے اور 6 ہزار روپے نقدی سے محروم کرنے کا الزام؛

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن
کراچی ڈویژن کا آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ساؤتھ اور ایس ایس پی کیماڑی سے فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ

کراچی (رپورٹ: محمد اصغر خان کھوسہ)

اگر قانون کی حفاظت پر مامور اہلکار ہی قانون کی حدود سے تجاوز کرنے کے الزامات کی زد میں آجائیں اور شکایت، شواہد اور احتجاج کے باوجود فوری کارروائی دکھائی نہ دے تو سوال صرف ایک صحافی کا نہیں رہتا، سوال پورے نظامِ انصاف، پولیس کے احتساب اور شہریوں کے بنیادی تحفظ کا بن جاتا ہے۔
تھانہ سائٹ ایریا اے کی حدود میں پیش آنے والے مبینہ واقعے نے پولیس کے کردار، اختیارات کے استعمال، شہری آزادیوں اور محکمہ پولیس کے اندرونی احتساب کے نظام پر متعدد سنجیدہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن (PJA) کراچی ڈویژن کے مطابق 13 اگست کی شب اورنگی ٹاؤن سے ایک پروگرام کی کوریج مکمل کرکے واپس جانے والے صحافی اور PJA ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے جنرل سیکرٹری دانیال سومرو کو میٹرو سپر اسٹور، سائٹ ایریا کے قریب پولیس ناکے پر مبینہ طور پر روکا گیا۔
متاثرہ صحافی کے بیان کے مطابق پولیس موبائل SPG-103 میں موجود ہیڈ کانسٹیبل اسداللہ، ڈرائیور امتیاز، پولیس اہلکار بچل ڈہری اور موٹر سائیکل سوار اہلکار حمزہ سمیت دیگر اہلکاروں نے مبینہ طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، حراساں کیا، بہت دیر تک اپنی تحویل میں رکھا اور ان سے 6 ہزار روپے نقدی مبینہ طور پر چھین لی۔
یہ الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی حقیقت کا تعین محض داخلی سطح کی زبانی وضاحتوں سے نہیں بلکہ شفاف، غیر جانب دار اور قابلِ اعتماد تحقیقات سے ہونا چاہیے۔

شواہد موجود ہیں تو تحقیقات کیوں نہیں؟

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن کے ارکان رات گئے تھانہ سائٹ ایریا اے پہنچے اور پولیس حکام کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن
کے مطابق متاثرہ صحافی نے واقعے سے متعلق دستیاب شواہد بھی پولیس حکام کے سامنے پیش کیے۔ تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ شکایت اور شواہد سامنے آنے کے باوجود متعلقہ اہلکاروں کے خلاف تاحال کوئی ایسی مؤثر قانونی یا محکمانہ کارروائی سامنے نہیں آئی جس سے متاثرہ فریق اور صحافتی برادری کو یہ یقین ہوسکے کہ معاملہ غیر جانب داری سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ ایک معمول کی شکایت سے نکل کر محکمہ پولیس کے احتسابی نظام کا امتحان بن جاتا ہے۔

ایس ایچ او اور نائٹ ڈیوٹی افسر کے کردار پر بھی سوالات

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن
کراچی ڈویژن نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ سائٹ ایریا اے میر محمد لاشاری اور نائٹ ڈیوٹی افسر سب انسپکٹر شاہد نے مبینہ طور پر اپنے ماتحت اہلکاروں کو تحفظ فراہم کیا۔
یہ الزام بھی اپنی جگہ ایک الگ اور اہم تحقیق کا متقاضی ہے۔ اگر یہ الزام غلط ہے تو شفاف تحقیقات کے ذریعے اسے واضح کیا جائے، اور اگر کسی اہلکار نے اختیارات سے تجاوز یا شواہد چھپانے کی کوشش کی ہے تو اس کا تعین بھی غیر جانب دار تفتیش کے ذریعے کیا جائے۔
ایسے معاملات میں سب سے اہم اصول یہی ہے کہ تحقیقات کرنے والا فریق خود الزام کے دائرے میں نہ ہو۔

درخواست وصول ہونا کافی نہیں، انصاف کا عملی آغاز ضروری ہے

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن
کے احتجاج کے بعد ایس ایچ او تھانہ سائٹ ایریا اے میر محمد لاشاری کی جانب سے متاثرہ صحافی کی درخواست وصول کیے جانے کی اطلاع ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ درخواست وصول ہونے کے بعد اگلا قدم کیا اٹھایا گیا؟

کیا واقعے کی باقاعدہ انکوائری شروع ہوئی؟

کیا مبینہ طور پر موجود پولیس موبائل اور متعلقہ اہلکاروں کا ریکارڈ محفوظ کیا گیا؟

کیا ڈیوٹی روسٹر، وائرلیس لاگ اور متعلقہ پولیس ریکارڈ کی جانچ کی گئی؟

کیا جائے وقوعہ کے اطراف موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج فوری طور پر محفوظ کی گئی؟

اور سب سے اہم سوال: کیا کسی غیر جانب دار افسر کو معاملے کی تحقیقات سونپی گئی ہیں؟

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی بار بار درخواست پر پولیس موبائل اور اہلکاروں کو نہیں بلایا گیا نہ ان سے پوچھا گیا
الٹا ایس ایچ او اور ڈیوٹی آفیسر اپنے تھانے کی کالی بھیڑوں کا دفاع کرتے دیکھائی دئے

پولیس کی وردی اختیار کی علامت ہے، استثنا کی نہیں
پولیس ریاستی اختیار کی علامت ہے۔ اسی اختیار کے ساتھ عوام پولیس سے تحفظ، انصاف اور قانون کی پاسداری کی توقع کرتے ہیں۔
اگر کسی پولیس اہلکار پر کسی شہری یا صحافی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے، غیر قانونی طور پر روکنے، حراساں کرنے یا رقم چھیننے جیسے سنگین الزامات سامنے آئیں تو پولیس کا ادارہ خود اس معاملے کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے لینے کا پابند ہونا چاہیے۔
کیونکہ ایک اہلکار کے خلاف شفاف کارروائی پوری پولیس کی ساکھ کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ شکایت کو دبانا پورے ادارے پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
صحافی کو تحفظ دینا ریاستی ذمہ داری ہے
صحافی کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ جرائم، بدعنوانی، انتظامی ناکامی اور عوامی مسائل کو سامنے لاتا ہے۔
اگر کسی صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرنے کے بعد واپسی پر مبینہ طور پر تشدد، حراسانی یا غیر قانونی روک ٹوک کا سامنا کرنا پڑے اور پھر اسے انصاف کے حصول کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑے تو یہ صورتحال صرف صحافتی برادری ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہے

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن کا اعلیٰ پولیس حکام سے دوٹوک مطالبہ۔

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ساؤتھ اور ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کیماڑی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور تحقیقات تھانہ سائٹ ایریا اے کے متعلقہ افسران کے بجائے کسی ایسے غیر جانب دار اور سینئر افسر کے سپرد کی جائیں جو معاملے کے تمام پہلوؤں کا آزادانہ جائزہ لے سکے۔

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن
نے مطالبہ کیا ہے کہ:
متاثرہ صحافی کا تفصیلی بیان قانونی طریقے سے ریکارڈ کیا جائے۔
پیش کیے گئے تمام شواہد کو تحویل میں لے کر محفوظ کیا جائے۔
جائے وقوعہ اور اطراف کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج فوری طور پر محفوظ کی جائے تاکہ ممکنہ شواہد ضائع نہ ہوں۔

متعلقہ پولیس موبائل SPG-103 کا ڈیوٹی ریکارڈ، لاگ اور متعلقہ اہلکاروں کی تعیناتی کی تفصیلات کی جانچ کی جائے۔

واقعے کے وقت موجود اہلکاروں کے بیانات الگ الگ قلم بند کیے جائیں۔

مبینہ طور پر چھینی گئی رقم اور دیگر الزامات کی بھی تحقیقات کی جائیں۔
اگر کسی پولیس افسر یا اہلکار کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، تشدد، غیر قانونی حراست یا کسی جرم میں ملوث ہونے کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
اگر کسی افسر پر ماتحت اہلکاروں کو مبینہ طور پر تحفظ دینے یا تحقیقات پر اثرانداز ہونے کا الزام درست ثابت ہو تو اس کا بھی تعین کیا جائے۔
متاثرہ صحافی کو تحقیقات کی پیش رفت سے باقاعدہ آگاہ کیا جائے۔

اعلیٰ حکام کی خاموشی خود ایک سوال بن سکتی ہے

پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن
کراچی ڈویژن کا کہنا ہے کہ وہ کسی فرد کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینے کے بجائے قانونی، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔

یہی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔
نہ کسی پولیس اہلکار کو محض الزام پر مجرم قرار دیا جائے اور نہ کسی وردی کو ایسی چھتری بننے دیا جائے جس کے نیچے کسی شکایت کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش ہی نہ کی جائے۔
تحقیقات ہوں، شواہد دیکھے جائیں، ذمہ داری متعین ہو اور قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے
یہ واقعہ محکمہ پولیس کی قیادت کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔
غیر جانب دار تحقیقات کے ذریعے حقیقت سامنے لائی جائے تاکہ پولیس اہلکاروں کی عزت اور ادارے کی ساکھ بحال ہو۔
اور اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو پھر وردی، عہدہ یا اثر و رسوخ کسی اہلکار کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔
کیونکہ عوام کا اعتماد صرف تقریروں سے نہیں بلکہ احتساب کے عملی مظاہرے سے بحال ہوتا ہے۔
پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن کراچی ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران مبینہ تشدد، حراسانی، غیر قانونی روک تھام یا کسی بھی قسم کے دباؤ کا سامنا ناقابلِ قبول ہے۔ تنظیم نے عندیہ دیا ہے کہ مؤثر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ ۔ پولیس کا قبلہ کب درست ہوگا؟

آج سوال صرف دانیال سومرو کا نہیں۔
سوال ہر اس شہری کا ہے جو پولیس کی وردی کو تحفظ کی علامت سمجھتا ہے۔
سوال ہر اس صحافی کا ہے جو رات گئے عوام کے مسائل کی کوریج کرکے اپنے گھر واپس لوٹتا ہے۔
سوال ہر اس خاندان کا ہے جو مشکل وقت میں پولیس کو اپنی آخری امید سمجھتا ہے۔
اور سوال خود محکمہ پولیس سے ہے:
اگر قانون کے محافظوں پر قانون شکنی کے الزامات لگیں تو ان کا احتساب کون کرے گا؟
اگر شکایت کے ساتھ شواہد بھی پیش کیے جائیں تو کارروائی کا آغاز کب ہوگا؟
اگر ایک صحافی بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو عام شہری کس دروازے پر دستک دے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ پولیس کا قبلہ درست کرنے کے لیے صرف دعوے نہیں، عملی احتساب دکھایا جائے۔
پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن
کراچی ڈویژن نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا اعلیٰ سطح پر فوری نوٹس لیا جائے،
غیر جانب دار تحقیقات کرائی جائیں اور قانون کے مطابق ذمہ داروں کا تعین کرکے کارروائی کی جائے۔

13/08/2026

کراچی کے مختلف اضلاع کے عہدیداران و ممبران میں تقسیم تنظیمی کارڈز کی پروقار تقریب صوبائی آفس سندھ میں منعقد ہوئی،

بریکنگ نیوز بلڈرز کا بھتہ خوروں نے جینا محال کردیا چیئرمین  آباد حسن بخشی
13/08/2026

بریکنگ نیوز
بلڈرز کا بھتہ خوروں نے جینا محال کردیا چیئرمین آباد حسن بخشی

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 10:00 - 22:00
Tuesday 10:00 - 22:00
Wednesday 10:00 - 22:00
Thursday 10:00 - 22:00
Friday 10:00 - 22:00
Saturday 10:00 - 22:00
Sunday 10:00 - 22:00

Telephone

+923463505413

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kn24hd news posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kn24hd news:

Shortcuts

Share