29/03/2025
دال میں کچھ کالا ہے....غریبوں اور مظلوموں کی اواز .مظلوموں کا ساتھ دینے والے صحافی
چند دن پہلے ایک سوشل ورکر اور صحافی اپنی جان مال عزت خطرے میں ڈال کر پولیس کی شہریوں پر زیادتیوں کی مخالفت کرتا ہے اور مظلوم کا ساتھ دیتا ہے. اس میں واضح طور پر پولیس کی غلطی ہوتی ہے لیکن پولیس کے متعلق اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور الٹا اس پر اسی صحافی و سوشل ورکر کو دھمکیاں دی جاتی ہیں.
اس کے چند ہی دن بعد اسی شخص پر گاڑی میں عورت کو چھیڑنے کا الزام لگتا ہے کہ ایک پردہ پوش عورت شور مچاتی ہے اور فوری طور پر ایف آئی آر ہو جاتی ہے. تشدد ہوتا ہے. پھر اسی بندے کی تصویر اسی وقت حوالات میں لے کر فوراً وائرل کی جاتی ہے.
ہمیں یہ سارا معاملہ مشکوک لگتا ہے. ایسے لگ رہا ہے کہ ایک بندے کو پولیس کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے کی پاداش میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. صحافی ناہید اختر ایک سلجھا ہوا صحافی ہے اور اس کے زندگی بھر کے کردار کے ہزاروں گواہ ہیں.
لہذا ہم ڈی پی او سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد اس واقعہ کی صاف اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں. کیونکہ ہمیں یہ بالکل واضح طے شدہ ڈرامہ لگتا ہے جس میں عورت کو بھی استعمال کیا گیا ہے. اور ظاہر ہے ہم سب اپنے ملک کی پولیس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ انتقامی کارروائی میں کس حد تک جا سکتے ہیں.