Hamaiyon khokher

Hamaiyon khokher from Lahore

04/12/2025
30/11/2025

Some good memories of darbar sultan bahu rahmatah illah aliya

04/11/2025

*استاد کا آخری سبق*

ایک معزز استاد نے حال ہی میں ریٹائرمنٹ لی تھی۔
وہ اور ان کی اہلیہ اسلام آباد کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔
انہوں نے اپنے آبائی علاقے میں رشتہ داروں سے ملنے جانے کا فیصلہ کیا۔

روانگی سے پہلے استاد نے خود سے سوچا:
“جب ہم گھر پر نہیں ہوں گے، اگر کوئی چور آ گیا تو؟
وہ الماریاں توڑ دے گا، سارا گھر اُلٹ دے گا، حالانکہ گھر میں پیسے ویسے ہیں ہی نہیں!”

لہٰذا گھر کو نقصان سے بچانے کے لیے
انہوں نے میز پر 1000 روپے اور ایک پرچی رکھ دی، جس پر لکھا تھا:

”پیارے نامعلوم چور کے نام!

سب سے پہلے آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے میرے گھر میں گھسنے کی زحمت کی۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ میں ایک درمیانے طبقے کا شخص ہوں، جو صرف پنشن پر گزرا بسر کرتا ہے۔
اس لیے یہاں کوئی قیمتی چیز نہیں ملے گی۔

مجھے افسوس ہے کہ آپ کی محنت اور قیمتی وقت ضائع جائے گا،
اس لیے آپ کی محنت کی قدر کرتے ہوئے یہ معمولی رقم قبول کیجیے۔

ساتھ ہی آپ کے پیشے (چوری) میں مزید کامیابی کے لیے چند مشورے بھی پیش ہیں:”**

اور نیچے استاد نے “رہنمائی” میں یہ لکھا👇

آٹھویں منزل — ایک بدعنوان وزیر رہتا ہے 💼💰

ساتویں منزل — ایک بےایمان پراپرٹی ڈیلر 🏢

چھٹی منزل — ایک کوآپریٹو بینک کا چیئرمین 🏦

پانچویں منزل — ایک بڑا صنعتکار 🏭

چوتھی منزل — ایک مشہور وکیل ⚖️

تیسری منزل — ایک کرپٹ سیاستدان۔

“ان کے پاس دولت کے انبار ہیں۔
اگر آپ ان کے پاس جائیں تو ان کا کچھ نہیں بگڑے گا،
اور وہ تو پولیس کو اطلاع بھی نہیں دیں گے!”

جب استاد واپس گھر پہنچے تو دیکھا
میز پر ایک بڑا بیگ رکھا ہے۔

بیگ میں 10 لاکھ روپے اور ایک خط موجود تھا۔

**“محترم استاد جی، 🙏

آپ کی رہنمائی اور تعلیم کا بہت شکریہ۔
میں نے آپ کے مشورے پر عمل کیا اور میرا مشن کامیاب ہو گیا۔

یہ تھوڑی سی رقم آپ کی خدمت میں نذرانے کے طور پر پیش ہے۔

امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کی برکت اور رہنمائی حاصل رہے گی…

آپ کا شاگرد — چور”**

استاد نے یہ خط پڑھ کر قہقہہ لگایا اور بولے:
“میں سمجھا تھا میں ریٹائر ہو گیا ہوں،
مگر لگتا ہے میری تدریس تو ابھی جاری ہے!” 📚🤣💥

چاہیے تو یہ ایک مزاحیہ کہانی ہے،
لیکن اس میں ایک گہرا پیغام چھپا ہے:
ایک سچا استاد اپنی دانش سے ہر حال میں سکھاتا ہے — چاہے شاگرد کوئی بھی ہو!
یہ پوسٹ ایک بھائی کی ٹائم لائن سے لی ہے اچھی لگی تو لائک اور شئیر کریں

22/10/2025
30/09/2025

جھنگ سے بھکر

24/09/2025

Celebrating my 4th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

18/07/2025

امریکہ کسی بھی غیر ملکی انوسٹر کو تین یا چار امریکنوں کو ملازمت دینے والے کو پچاس ہزار سے لے کر ایک لاکھ ڈالرز کی انوسٹمنٹ کے عوض
E 2 and EB2
ویزہ آفر کرتا ہے
اسمیں اس غیر ملکی کو فیملی سمیت ویزہ ملتا ہے یہ تین سال کا ویزہ ہوتا ہے اور ہر تین سال بعد اس کی تجدید ہوتی ہے اور اس انوسٹر کو اپنی فیملی سمیت تمام سہولتیں میسر ہوتی ہیں جو کسی بھی امریکن سیٹیزن کو میسر ہیں
میں جب یوروپین یونین کے ساتھ بحیثیت کنسلٹنٹ کام کر رہا تھا تو رومانیہ کی یوروپین یونین میں شمولیت کے بعد چونکہ رومانیہ میں بیروزگاری باقی ایسٹرن یوروپی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی
ززیادہ تر آبادی
Gypsies ( خانہ بدوش)
پر مشتمل تھی
تو اس بیروزگاری پر قابو پانے کے لیئے
یوروپین یونین نے ایک پروگرام شروع کیا تھا کہ اگر کوئ بیرونی انوسٹمنٹ کمپنی رومانیہ میں انوسٹمنٹ کرے گی اور کم از کم دس لوگوں کو جاب دے گی تو جتنی انوسٹمنٹ وہ کمپنی کرے گی تو اس انوسٹمنٹ کے برابر یوروز یوروپین یونین اس کمپنی کو دے گی
مطلب اگر آپ کی کمپنی نے ایک ملین یوروز انوسٹمنٹ کی ہے تو یوروپین یونین آپ کے اکاؤنٹ میں ایک ملین ڈالرز ٹرانسفر کرے گی کیونکہ آپ کی کمپنی وہاں کے کم از کم دس شہریوں کو ملازمت آفر کر رہی ہے
دنیا میں اپنے لوگوں کو ملازمت یا فارن انوسٹمنٹ لانے کے لیئے کئ ممالک اس طرح کی سہولتیں بیرون ملک انوسٹرز کو دیتی ہیں
کوئ ٹیکس فری زون آفر کرتا ہے تو کوئ ملک ان انوسٹمنٹ کمپنیوں کوایکسپورٹ زون بنا کر دیتا ہے کہ ملک میں آبادی کو روزگار ملے اور زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ ملک میں آۓ
آج صبح
GNN
کے پروگرام میں چند ماہرین بتا رہے تھے کہ
آپٹما ( آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن )
کے مطابق پچھلے دو سالوں میں
15 ٹیکسٹائل ملز بجلی اور گیس میں قیمتوں میں اضافے کے سبب بند ہو چکی ہیں
ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں چار بلین ڈالرز سے زیادہ کی کمی واقع ہو چکی ہے
اور ہم اتنے ہی ڈالروں کی خاطر آئ ایم ایف کے ترلے ڈال رہے ہیں اور ان کے بناۓ ہوۓ بجٹ سے پچیس کروڑ لوگوں کی زندگی کو عذاب بنا چکے ہیں
اس کے علاوہ ہزاروں لومز بھی ویران پڑی ہیں
اور اس سے تقریبا 6 لاکھ سے زائد لوگ بیروزگار ہوۓ ہیں
اگر ٹیکسٹائل انڈسٹری سے مزدوروں کے علاوہ جڑے ہوۓ کاروبار اور ان کے ملازمین کی تعداد کو شمار کیا جاۓ تو یہ تعداد تقریبا دس لاکھ سے زائد لوگوں کی بیروزگاری پہ منتج ہوتی ہے
پچھلے سال جب میں فیصل آباد کے چیمبر میں لوگوں سے ملا تھا تو وہ بتا رہے تھے کہ ڈیڑھ بلین ڈالرز سے زائد کی ٹیکسٹائل کی مشینری ابھی تک پیٹیوں میں بند پڑی ہے جو دو سال قبل ٹیکسٹائل کے عروج کے زمانے میں انوسٹرز اور ٹیکسٹائل کمپنیوں نے امپورٹ کی تھی
اب ہوا یہ ہے کہ کچھ پرانی مشینری کی خریدار کمپنیاں ان ملوں اور لومز کی مشینری کو لوہے کے بھاؤ خرید رہی ہیں
اور ہو پتہ ہے کیا رہا ہے ؟
یہ کمپنیاں اس مشینری کو تھائ لینڈ میں اپنے وئرہاسوں
Warehouses
میں منتقل کر رہی ہیں
اور وہاں پہ اس مشینری کو خرید کون رہا ہے ؟
بنگلہ دیش
ویت نام
افغانستان
اب یہی مشینری ان تین ممالک کے انوسٹرز بلین آف ڈالرز کی مشینری کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر اپنے اپنے ممالک میں ٹیکسٹائل انڈسٹری لگا کر اپنے لوگوں کے لیئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے
ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کریں گے اور اپنے ممالک میں زرمبادلہ لے کر آئیں گے
اور ہمارے فیکٹریوں کے مالکان اس لوہے کے بھاؤ بکنے والی مشینری کو بیچ کر دبئ ، ملائیشیا اور کینیڈا کوچ کر رہے ہیں یا کر جائیں گے
اور پھر راوی چین ہی چین لکھے گا
لوگ بیروزگار ہوں گے
جرائم پھیلیں گے
اشرافیہ کے چند سو لوگ لٹو اور پھٹو کے اصول پر عمل کرتے ہوۓ دبئ یورپ اور امریکہ میں اپنی جائیدادیں بنائیں گے
ہمارے کاروباری حکمران جن کے اپنے بجلی ، اور شوگر کے کارخانے منافع میں چل رہے ہیں وہ اپنی ملازمت کی “عدت “ پوری کر کے دوبارہ لندن میں اپنے فلیٹوں میں منتقل ہو جائیں گے
اور باقی رہ گئ عوام
تو وہ نعرے لگاۓ گی کہ
بھٹو زندہ ہے
میاں جدوں آوے گا
لگ پتہ جاوے گا
ابھی مزید آپ کو پتہ لگنا ہے
چند ماہ انتظار فرمائیے
نوٹ!
یہ پوسٹ مایوسی پھیلانے کے لیئے نہیں بلکہ آپ کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لیئے انتہائ دکھ کے ساتھ لکھی ہے کہ وطنِ عزیز اور ہمارے لوگوں کا آخر مستقبل آخر کن ہاتھوں میں ہے
اور اس کے مقابلے میں افغانستان جو مسلسل چالیس سال حالت جنگ میں رہنے کے باوجود
اب انتہائ تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہاہے
اور ہم پورے خطے میں تیزی کے ساتھ تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں
اس کا حل تجویز فرمائیے
دوستوں اور ایکسپرٹس سے پوچھیئے
کہ سجوئیشن سے کیسے نکلا جاۓ
کیونکہ یہ ملک بھی آپ کا
یہ ریاست بھی آپ کی
آپ نے اور آپ کی نسلوں نے یہیں رہنا ہے

10/07/2025

ایک عورت اپنے شوہر کے تنگ حالات کی بنا پر ایک خوشحال آدمی کے گھر گئی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک خادم باہر آیا اور اس سے پوچھا:

"تم کیا چاہتی ہو؟"

عورت نے کہا: "میں تمہارے مالک سے ملنا چاہتی ہوں۔"

خادم نے پوچھا: "تم کون ہو؟"

عورت نے کہا: "اسے بتاؤ کہ میں اس کی بہن ہوں۔"

خادم جانتا تھا کہ اس کے مالک کی کوئی بہن نہیں ہے، تو وہ اندر گیا اور اپنے مالک سے کہا:

"دروازے پر ایک عورت ہے جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی بہن ہے۔"

مالک نے کہا: "اسے اندر لے آؤ۔"

عورت اندر آئی، مالک نے اسے خوش دلی سے استقبال کیا اور پوچھا: "تم میرے کس بھائی کی بہن ہو؟ اللہ تم پر رحم کرے۔"

عورت نے کہا: "میں آدم کی بیٹی ہوں۔"

خوشحال آدمی نے اپنے دل میں سوچا: "یہ عورت واقعی بے یارو مددگار ہے، میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کی مدد کرے گا۔"

عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے تیسری بار کہا، پھر خوشحال آدمی نے چوتھی بار کہا: "دوبارہ کہو۔"

عورت نے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے مجھے سمجھا ہے، اور دوبارہ کہنا میرے لیے ذلت ہے۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ذلیل نہیں کیا۔"

خوشحال آدمی نے کہا: "اللہ کی قسم، مجھے تمہاری بات کی خوبصورتی پسند آئی۔ اگر تم ہزار بار بھی دہراتی تو میں ہر بار کے بدلے تمہیں ہزار درہم دیتا۔"

پھر اس نے اپنے خادموں سے کہا: "اسے دس اونٹ، دس اونٹنیاں، جتنی چاہے بھیڑیں، اور جتنا چاہے مال و دولت دے دو تاکہ ہم قیامت کے دن کے لیے کچھ کام کریں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"

غریبوں کو مت بھولو، کیونکہ اللہ غنی ہے اور ہم فقیر ہیں۔

19/06/2025

*یہ بہت پرانا واقعہ ہے*
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں سیٹھ عابد اور بہت سے دوستوں کا کردار بھی بہت اہم رہا ہے جن کے نام تک سے ہم واقف نہیں!

عبداللہ بھٹی "سمگلر"
اور آج کے IPPs کے " محب وطن مالکان" سیاستدان۔۔۔

یہ ستمبر 1948 کی بات ہے
جب ہندوستان نے ریاست جونا گڑھ پر یہ کہہ کر قبضہ کرلیا کہ
ریاست کا حکمران (نواب مہابت خان) لاکھ مسلمان سہی مگر
ریاستی عوام کی اکثریت تو ہندو ہے
قصہ مختصر یہ کہ جونا گڑھ پر بھارتی قبضہ کے بعد نواب مہابت خان بمشکل تمام اپنی
اور اپنے اہلِ خانہ کی جان بچا کرکسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور
کھارادر کراچی میں قیام کیا
نواب صاحب اپنےسرکاری خزانے میں 48 من سونا چھوڑ آئے تھے
اور وہ ایسی جگہ پرمحفوظ تھا
جس کا علم نواب صاحب کے سوا کسی کو نہیں تھا
اگر ہندوستانی افواج پورا محل بھی کھود دیتی تو انہیں سونا نہ ملتا
نواب صاحب کی خواہش یہ تھی کہ وہ سونا کِسی طرح پاکستان لایا جاسکے
تو وہ اُس کا نصف حصہ حکومت پاکستان کے خزانہ میں جمع کرا دیں گے
‏ان دِنوں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار تھا
نواب صاحب خلوص دل کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرنا چاہتے تھے
مگر اسے پاکستان لائیں کیسے ؟
اب کردار شروع ہوتا ہے
کھوٹے سکے کا وہ تھا اُس دور کا مشہور اسمگلرحاجی عبد اللّٰه بھٹی جو سمندر پار بستی
صالح آباد میں رہائش پذیر تھا
یہ بستی کراچی کی بندرگاہ کیماڑی سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر واقع ہے
عبد اللہ بھٹی اس وقت 80 سال کے تھےاوراپنا پیشہ ترک کرکے یاد الہی میں مصروف تھے
نواب مہابت خان نے لیاقت علی خان سے کہا کہ وہ عبد اللّٰه بھٹی کو اِس بات پر راضی کرلیں کہ سوناجونا گڑھ کے خزانے سے نکال لائے
عبد اللّٰه بھٹی نے وزیر اعظم کے کہنے پر حامی بھر لی اوراپنے بیٹوں قاسم بھٹی اور عبد الرحمن بھٹی کو ساتھ لیکر سمندر کےراستے تیز رفتار لانچوں کے ذریعےجونا گڑھ روانہ ہوگئے سمندر کے راستے یہ فاصلہ 300 کلو میٹر ھے
پاکستانی فوج کے چند کمانڈوز بھی ‏اُن کے ساتھ تھے
اِن لوگوں نے ایک بجے دوپہر کو
بحری سفر شروع کیا
اور خفیہ راستوں سے ہوتے ہوئے
جونا گڑھ کےساحل پر پہنچ گئے
اس وقت رات کے10بجے تھے
شاہی محل ساحل سمندر سے زیادہ دور نہ تھا
پاکستانی کمانڈوز نےمحل پر متعین بھارتی فوج کے افسران
اور سپاہیوں کا خاتمہ کیا
جب عبداللہ بھٹی نے خان لیاقت علی خان کی موجودگی
میں 48 من سونا نواب مہابت خان کے حوالے کیا تو نواب صاحب نےحسب وعدہ 24 من سونا حکومت پاکستان کے حوالے کیا اور اپنے حصے میں آنے والے 24 من سونے میں‌ سے
4 من سونا حاجی عبد اللّٰه بھٹی کو بطور ‏اِنعام پیش کیا
حاجی عبد اللّٰه بھٹی نے یہ سونا لینے سے انکار کردیا اور زار و قطار روتے ہوئے بولے سائین بابا (سندھی کا ادب کے ساتھ مخاطب کرنا)
میں نے ساری زندگی اسمگلنگ کی مگر وہ انگریز کا زمانہ تھا
اب میں نے اسمگلنگ نہیں کی
بلکہ پاکستانی ھونے کا حق ادا کیا ھے
میں اسمگلر ضرور ہوں
مگر مادر وطن کی دولت نہیں لوٹوں گا ‏پھر دوبارہ رونے لگ گئے اور کہا میں نے ساری عمر میں سمنگلنگ سے 3 من سونا جمع کیا ھے یہ میں وزیر اعظم کو پیش کرتا ھوں
اِس کے علاوہ میرے پاس ذاتی
3 من سونا ہے جو اِس مقدس دیس کی نذر ہے
اب آنسو بہانے والوں میں حاجی عبداللہ بھٹی نواب مہابت خان اور وزیر اعظم لیاقت علی خان بھی شامل تھے
لیکن یہ خوشی کے آنسو تھے
یہ کہانی پاکستان کے حرام خوروں کے منہ پر طماچہ ھے جو ملک کی دولت لوٹ کر باھر لے گئے ھیں یا آج بھی مفت بجلی مفت پٹرول مفت ھوائی سفر بیرون ملک مفت سیرو تفریح اور علاج معلجے کے نام پر اس ملک کو دونوں ھاتھوں سے لوٹ رھے ھیں
(یہ اقتباس اردو ڈائجسٹ سے لیا ھے)
آئیے ان محب وطن لوگوں کو سلام پیش کریں اور رب العزت سے دعا کریں کہ ان نیک لوگوں کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور اس ملک کے لٹیروں کو نیست و نابود کردے
*اس تحریرv کو اپنے پاس نا رکھیں آگے روانہ کریں شاید کسی کی غیرت جاگ جائے*
❣️🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰❣️
Like and shere plz

Address

Muslim Colony
Lahore

Telephone

+923017977009

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hamaiyon khokher posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hamaiyon khokher:

Share