12/04/2026
آگرہ کے قلعے پر دسمبر 1530ء کی ان راتوں میں ایک ایسی پراسرار اور ماتم خیز خاموشی چھائی ہوئی تھی جس نے مغل سلطنت کے امراء اور جرنیلوں کے دلوں میں خوف کے خیمے گاڑ دیے تھے۔ دریائے جمنا کی سرد ہوائیں جب قلعے کی اونچی فصیلوں سے ٹکراتیں تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی نوحہ پڑھ رہا ہو۔ ظہیر الدین محمد بابر، وہ ببر شیر جس نے اپنی تلوار کے سائے میں فرغانہ کی وادیوں سے لے کر کابل کے برف زاروں اور پھر پانی پت کے خونی میدانوں تک ایک ناقابل شکست سلطنت کی بنیاد رکھی تھی، آج زندگی اور موت کی اس تاریک کشمکش میں مبتلا تھا جہاں انسان کی ہر طاقت اور ہر غرور دم توڑ دیتا ہے۔ بابر کی عمر اس وقت سینتالیس سال کے قریب تھی، لیکن مسلسل جنگوں، زہر خورانی کے پرانے اثرات، اور ہندوستان کی شدید گرمی نے اس کے فولادی جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔
مغل دربار کے اندرونی حلقوں میں یہ سرگوشیاں عام تھیں کہ بادشاہ کی بیماری کوئی عام بخار نہیں، بلکہ ابراہیم لودھی کی ماں کے دیے گئے اس پرانے زہر کا اثر ہے جو اب بابر کے خون میں مکمل طور پر سرایت کر چکا ہے۔ حکیم اور طبیب دن رات ایک کر رہے تھے، لیکن دوائیں اثر کرنا چھوڑ چکی تھیں۔ سلطنت کے طول و عرض میں بے چینی کا ایک طوفان پک رہا تھا۔ میر خلیفہ، جو بابر کے سب سے بااعتماد اور طاقتور وزیرِ اعظم تھے، ان کے چہرے پر پڑنے والی جھریاں سلطنت کے مستقبل کے حوالے سے ان کی پریشانی کی چغلی کھا رہی تھیں۔ میر خلیفہ کو ہمایوں کی انتظامی صلاحیتوں پر پورا اعتماد نہیں تھا اور وہ اندر ہی اندر بابر کے بہنوئی، مہدی خواجہ، کو تخت پر بٹھانے کی خفیہ سازشیں بن رہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان کا ہیروں جڑا تخت اپنے ہی دعویداروں کا خون پینے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔
ایسے میں، سنبھل کی جاگیر سے یہ لرزہ خیز خبر آگرہ پہنچی کہ بابر کا سب سے چہیتا، سب سے لاڈلا اور ولی عہد بیٹا، بائیس سالہ نصیر الدین محمد ہمایوں، ایک ایسی پراسرار اور جان لیوا بیماری کا شکار ہو گیا ہے کہ اس کا بچنا ناممکن نظر آ رہا ہے۔ جب یہ خبر بابر تک پہنچی تو اس عظیم فاتح کا دل کٹ کر رہ گیا۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ ہمایوں کو کسی بھی حالت میں کشتیوں کے ذریعے دریائے جمنا کے راستے آگرہ لایا جائے۔ جب ہمایوں کو آگرہ لایا گیا تو اس کی حالت اس قدر غیر تھی کہ وہ پہچانا نہیں جاتا تھا۔ وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والا ایک خوبصورت اور توانا شہزادہ اب ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن چکا تھا، جس کی آنکھیں اندر دھنس چکی تھیں اور سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ مغل دربار میں کہرام مچ گیا۔ وہ امراء جو کل تک ہمایوں کے خلاف سازشیں کر رہے تھے، اب اس کے بستر کے گرد کھڑے ماتم کر رہے تھے۔
بابر، جو خود بسترِ مرگ پر تھا، اس سے اپنے جوان بیٹے کی یہ اذیت ناک حالت دیکھی نہ گئی۔ اس نے اپنے دربار کے سب سے بڑے اور قابل احترام روحانی عالم، میر ابو البقا کو اپنے پاس بلایا۔ میر ابو البقا نے انتہائی دکھ بھرے لہجے میں بابر کو مشورہ دیا کہ ایسی جان لیوا اور لاعلاج بیماریوں میں خدا کی بارگاہ میں دنیا کی سب سے قیمتی چیز کا صدقہ دیا جاتا ہے، تب ہی شاید تقدیر کا لکھا بدل سکے۔ میر ابو البقا کا اشارہ بابر کے اس بے بہا اور مشہور کوہِ نور ہیرے کی طرف تھا جس کی قیمت سے پوری دنیا کو کئی دنوں تک کھانا کھلایا جا سکتا تھا۔ لیکن بابر نے وہ تاریخی اور روح فرسا جواب دیا جس نے باپ کی محبت کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ بابر نے کہا، "کوئی ہیرا یا دنیا کی کوئی دولت میرے ہمایوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔ میں اپنی سب سے قیمتی چیز، یعنی اپنی جان، اپنے بیٹے کے صدقے میں دوں گا۔"
دریا کے کنارے واقع اس شاہی خیمے میں ایک ایسا دلدوز اور مافوق الفطرت منظر دیکھا گیا جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ بابر اپنے کانپتے ہوئے پیروں پر کھڑا ہوا، اس کے چہرے پر موت کی زردی چھائی ہوئی تھی اور سانس پھول رہی تھی۔ اس نے اپنے بیمار بیٹے کی چارپائی کے گرد انتہائی عقیدت اور گریہ و زاری کے ساتھ طواف کرنا شروع کیا۔ تین بار اس چارپائی کے چکر کاٹنے کے بعد، بابر نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور ایک ایسی چیخ مار کر دعا کی جس نے خیمے میں موجود ہر انسان کو رلا دیا، "اے میرے پروردگار! اگر ایک جان کے بدلے دوسری جان کا تبادلہ ممکن ہے، تو میں، بابر، اپنے بیٹے ہمایوں کی بیماری اور اس کی موت کو اپنے ذمے لیتا ہوں! اس کی بیماری مجھے دے دے اور اسے میری زندگی عطا کر!"
تاریخ گواہ ہے کہ قدرت کے اس پراسرار کارخانے میں وہ دعا فوراً قبولیت کے درجے پر پہنچ گئی۔ اسی دن شام سے ہمایوں کی کھوئی ہوئی صحت اور اس کے گالوں کی سرخی واپس لوٹنے لگی، اور دوسری طرف، بابر کی حالت اس قدر تیزی سے بگڑنے لگی کہ وہ بستر سے لگ گیا۔ جیسے جیسے ہمایوں موت کے منہ سے باہر آ رہا تھا، بابر موت کی ان اندھی وادیوں میں اترتا جا رہا تھا۔ چند ہی ہفتوں میں، ہمایوں مکمل طور پر صحت یاب ہو کر اپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا، جبکہ بابر کی آواز تک بند ہو گئی۔
ابر کے جسم میں اب صرف چند سانسوں کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا۔ آگرہ کے قلعے کے در و دیوار پر ایک منحوس اور دم گھونٹنے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میر خلیفہ اور دیگر امراء، جو اب تک مہدی خواجہ کو تخت نشین کرنے کی خفیہ سازشوں میں مصروف تھے، بابر کی اس بے پناہ قربانی اور ہمایوں کی معجزاتی صحت یابی کو دیکھ کر سہم گئے تھے۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ فوج اور امراء کی اکثریت ہمایوں کی طرف ہمدردی رکھتی ہے، اور اگر اس نازک موڑ پر بغاوت کی گئی تو مغل سلطنت اپنے آغاز میں ہی ایک ایسی خونی خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گی جس کا فائدہ اٹھا کر افغان اور راجپوت انہیں ہندوستان سے نکال باہر کریں گے۔ چنانچہ میر خلیفہ نے بادلِ نخواستہ مہدی خواجہ کا خیال ترک کر دیا اور ہمایوں کی بیعت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
25 دسمبر 1530ء کی وہ سرد اور ماتم خیز دوپہر آ پہنچی۔ بابر نے اپنے تمام بااعتماد جرنیلوں، امراء اور وزراء کو اپنے بسترِ مرگ کے پاس طلب کیا۔ اس کی آواز ایک مدھم اور ٹوٹتی ہوئی سرگوشی میں بدل چکی تھی۔ اس نے اپنی کانپتی ہوئی نگاہوں سے اپنے وفادار ساتھیوں کی طرف دیکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سب ہمایوں کو اپنا اگلا پادشاہ تسلیم کریں اور اس کی مکمل وفاداری کا حلف اٹھائیں۔ دربار کے وہ سخت گیر جنگجو، جنہوں نے بابر کی قیادت میں سمرقند کی برفوں سے لے کر گوالیار کے قلعوں تک خون کی ندیاں بہائی تھیں، آج اس عظیم قائد کو بستر پر لاچار دیکھ کر بچوں کی طرح رو رہے تھے۔ بابر نے انہیں تسلی دی اور پھر ہمایوں کو اپنے قریب بلایا۔
بابر نے اپنے اس نوجوان اور لاڈلے بیٹے کا ہاتھ اپنے کمزور اور سرد ہاتھوں میں لیا۔ بابر کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن اس کے لہجے میں ایک باپ کی التجا اور ایک سلطنت کے بانی کی فکر دونوں شامل تھے۔ اس نے وہ تاریخی وصیت کی جس نے ہمایوں کی پوری زندگی اور اس کی سلطنت کی تقدیر کو ایک انتہائی خونی اور پیچیدہ جال میں الجھا دینا تھا: "میرے بیٹے، میں یہ سلطنت، جس کی بنیادوں میں بے شمار قربانیاں اور خون شامل ہے، تمہارے حوالے کر رہا ہوں۔ لیکن میری سب سے بڑی فکر تمہارے بھائی ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ تخت و تاج کی ہوس انسان کو اندھا کر دیتی ہے، اور ہو سکتا ہے کل کو تمہارے بھائی تمہارے خلاف سازشیں کریں، بغاوت کریں، یا تمہاری جان لینے کے درپے ہو جائیں۔ لیکن تم مجھ سے یہ آخری اور اٹل وعدہ کرو کہ چاہے حالات جو بھی ہوں، اور چاہے وہ کیسی ہی غداری کیوں نہ کریں، تم ان پر کبھی اپنی تلوار نہیں اٹھاؤ گے، اور ان کی ہر خطائے عظیم کو ہمیشہ معاف کر دو گے۔"
ہمایوں، جو اپنے باپ سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتا تھا، اس نے زار و قطار روتے ہوئے اپنے باپ کے ہاتھ پر آنسو گراتے ہوئے یہ وعدہ کر لیا۔ اس بائیس سالہ نوجوان بادشاہ کو اس وقت ذرہ برابر بھی اندازہ نہیں تھا کہ جذبات کے اس شدید ریلے میں کیا گیا یہ وعدہ دراصل اس کی اپنی گردن میں ایک ایسا نوکیلا طوق بننے والا ہے جس کے کانٹے اسے زندگی بھر لہولہان کرتے رہیں گے۔ 26 دسمبر 1530ء کو، وہ عظیم ظہیر الدین محمد بابر، جس کے نام سے وسطی ایشیا اور ہندوستان کے راجے مہاراجے کانپتے تھے، ابدی نیند سو گیا۔ آگرہ کے محلات میں کہرام مچ گیا اور مغل فوج اپنے اس عظیم سپہ سالار کی موت پر یتیم ہو گئی۔
بابر کی موت کے صرف تین دن بعد، 29 دسمبر 1530ء کو، آگرہ کے پرشکوہ دربار میں نصیر الدین محمد ہمایوں کی تاج پوشی کا انتہائی شاندار لیکن کھوکھلا جشم منایا گیا۔ دربار کو ریشم اور کمخواب کے پردوں سے سجایا گیا تھا، اور امراء نے نئے بادشاہ کے قدموں میں نذرانے پیش کیے تھے۔ جب ہمایوں کے سر پر وہ عظیم الشان اور کوہِ نور ہیروں سے جڑا مغل تاج رکھا گیا، تو دربار میں 'پادشاہ سلامت' کے نعرے گونج اٹھے۔ لیکن یہ تاج، جو بظاہر دنیا کی سب سے قیمتی چیز نظر آ رہا تھا، اندر سے انتہائی گرم اور کانٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہمایوں کو جو سلطنت ورثے میں ملی تھی، وہ ایک سلگتا ہوا آتش فشاں تھی۔
بابر نے ہندوستان کے بڑے حصے تو فتح کر لیے تھے، لیکن وہ ان فتوحات کو ایک مضبوط انتظامی ڈھانچے میں نہیں باندھ سکا تھا۔ ریاست کا خزانہ تقریباً خالی ہو چکا تھا، کیونکہ بابر نے کابل کے باشندوں اور اپنے امراء میں سونے چاندی کے سکے اتنی فیاضی سے بانٹے تھے کہ خود اپنے لیے کچھ نہیں بچایا تھا۔ دوسری طرف، راجپوت، جو خانوہ اور چندیری کی جنگوں میں مغلوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست کھا چکے تھے، ابھی تک ان جنگوں کی راکھ میں انتقام کی چنگاریاں دبائے بیٹھے تھے اور کسی بھی مغل کمزوری کے منتظر تھے۔ اور سب سے خطرناک دشمن وہ افغان امراء تھے، جو ابراہیم لودھی کی موت کے بعد بکھر ضرور گئے تھے، لیکن انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا تھا۔ وہ مشرق میں بہار اور بنگال کے گھنے جنگلوں میں پناہ لیے ہوئے تھے اور مغلوں کو ہندوستان سے نکالنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ محمود لودھی اور شیر خان جیسے افغان سردار مغلوں کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
لیکن ہمایوں کا سب سے بڑا اور فوری امتحان یہ بیرونی دشمن نہیں، بلکہ وہ غدار تھے جو اس کے اپنے خون سے تعلق رکھتے تھے۔ بابر کے دیگر تین بیٹے—کامران مرزا، عسکری مرزا، اور ہندال مرزا—تخت کے اس نئے دعویدار کو کھلے دل سے تسلیم کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے۔ خاص طور پر کامران مرزا، جو کابل اور قندھار جیسے مضبوط اور اہم قلعوں کا حکمران تھا، اس کی نظریں سیدھی دہلی اور آگرہ کے تخت پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ ہمایوں کو ایک کمزور اور ناتجربہ کار نوجوان سمجھتا تھا جسے آسانی سے تخت سے ہٹایا جا سکتا تھا۔
ہمایوں اپنے باپ کی طرح ایک انتہائی بہادر، جنگی فنون میں ماہر، اور علم و ادب سے لگاؤ رکھنے والا شخص تھا، لیکن اس کے مزاج میں وہ سفاکیت، درندگی، اور خونخواری موجود نہیں تھی جو اس دور میں ایک وسیع سلطنت کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تھی۔ وہ افیون کا عادی تھا اور بعض اوقات اہم جنگی اور سیاسی فیصلوں میں تاخیر کر دیتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر وہ اپنے امراء اور بھائیوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آئے گا تو وہ اس کے وفادار رہیں گے، لیکن ہندوستان کا تخت نرم دلی نہیں، بلکہ تلوار کی دھار مانگتا تھا۔
تخت نشینی کے جشن کی گونج اور دربار میں بجنے والی نوبتوں کی آوازیں ابھی آگرہ کے محلات میں مکمل طور پر خاموش بھی نہیں ہوئی تھیں کہ شمال مغرب کی سرد اور برفانی ہواؤں نے غداری کا پہلا اور لرزہ خیز پیغام لا کھڑا کیا۔ کابل اور قندھار کے سنگلاخ قلعوں کا حکمران اور ہمایوں کا سوتیلا بھائی، کامران مرزا، اپنے باپ ظہیر الدین محمد بابر کی موت کی خبر سنتے ہی تعزیت یا سوگ منانے کے بجائے اقتدار کی اس اندھی اور خونی ہوس میں مبتلا ہو گیا جس نے مغل سلطنت کی جڑوں میں دیمک کی طرح بیٹھ جانا تھا۔ کامران مرزا جانتا تھا کہ بابر کی موت کے بعد آگرہ میں امراء کے درمیان کشمکش جاری ہے اور ہمایوں ابھی تک تخت پر مکمل طور پر اپنے قدم نہیں جما سکا۔ اس نے اس سنہری اور نازک ترین موقع کا انتہائی سفاکانہ فائدہ اٹھایا اور اپنی ایک دیوہیکل، جنگجو اور تازہ دم فوج لے کر کابل سے ہندوستان کی طرف وہ طوفانی مارچ شروع کر دیا جس کا حتمی مقصد دہلی کے تخت پر قبضہ کرنا تھا۔
کامران مرزا کی فوجیں جب پنجاب کے میدانی علاقوں میں داخل ہوئیں تو اس نے طاقت کے بجائے مکاری اور دھوکے کا وہ جال بچھایا جس نے مغل سلطنت کے سب سے اہم دفاعی قلعے کے دروازے اس کے لیے کھول دیے۔ لاہور کا گورنر، میر یونس علی، جو بابر کا ایک انتہائی وفادار اور پرانا جرنیل تھا، کامران کے اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کامران نے انتہائی شاطرانہ انداز میں اپنے چند مایہ ناز اور چالاک افسروں کو میر یونس علی کے پاس بھیجا جنہوں نے ایک جھوٹا بہانہ بنا کر اسے اپنے خیمے میں بلایا اور پھر اچانک گرفتار کر لیا۔ گورنر کے گرفتار ہوتے ہی لاہور کے اس عظیم الشان قلعے پر بغیر خون کا ایک قطرہ بہائے کامران مرزا کا قبضہ ہو گیا اور یوں پنجاب، جو ہندوستان کا سب سے اہم اور زرخیز دروازہ تھا، ہمایوں کے ہاتھوں سے نکل کر اس کے غدار بھائی کے قدموں میں گر گیا۔
جب ہمایوں کے جاسوسوں نے اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے آگرہ کے دربار میں یہ روح فرسا خبر پہنچائی کہ کامران مرزا نے لاہور پر قبضہ کر لیا ہے اور اب اس کی بپھری ہوئی فوجیں ستلج کے کنارے تک پہنچنے والی ہیں، تو مغل دربار میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ ہمایوں کے مایہ ناز جرنیلوں، جنہوں نے بابر کے ساتھ مل کر پانی پت میں خون کی ندیاں بہائی تھیں، انہوں نے اپنی ننگی تلواریں میانوں سے نکال لیں اور ہمایوں سے فوری اور غضب ناک مطالبہ کیا کہ اس غدار بھائی کا سر کچلنے کے لیے شاہی فوج کو حرکت میں لایا جائے۔ لیکن عین اسی لمحے، ہمایوں کی آنکھوں کے سامنے اپنے باپ بابر کا وہ موت کا بستر، وہ کانپتے ہوئے ہاتھ، اور وہ آخری التجا گھوم گئی کہ "میرے بیٹے! اپنے بھائیوں پر کبھی تلوار نہ اٹھانا۔"
ہمایوں کی نرم دلی، جذباتیت اور باپ سے کیے گئے اس وعدے نے اس موقع پر ایک ایسا خودکش اور احمقانہ فیصلہ کروایا جس کی بازگشت مغلیہ تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔ ہمایوں نے اپنی فوج کو رکنے کا حکم دیا اور کامران مرزا کے خلاف جنگ کرنے کے بجائے، اسے اپنا شاہی فرمان بھیجا جس میں نہ صرف کابل اور قندھار، بلکہ پورا پنجاب اور حصار فیروزہ کا انتہائی مالدار علاقہ بھی کامران مرزا کو تحفے میں عطا کر دیا۔ یہ بظاہر ایک بھائی کی طرف سے کی گئی فیاضی تھی، لیکن عسکری اور سیاسی لحاظ سے یہ ہمایوں کی زندگی کی سب سے ہولناک اور بھیانک غلطی تھی۔
پنجاب اور حصار فیروزہ کو کھونے کا مطلب صرف زمین کا کھونا نہیں تھا۔ حصار فیروزہ کی جاگیر ہمایوں کی اپنی ذاتی جاگیر تھی جس سے اس کی فوج کی تنخواہوں کا ایک بڑا حصہ نکلتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر، کابل اور پنجاب ہاتھ سے نکل جانے کا مطلب یہ تھا کہ اب وسطی ایشیا، افغانستان اور ترکستان سے آنے والے وہ انتہائی جنگجو، مضبوط اور خونی گھڑسوار مغلوں کی فوج میں شامل نہیں ہو سکیں گے جو بابر کی طاقت کا اصل مرکز تھے۔ ہندوستان میں مغل سلطنت کا واحد اور سب سے بڑا بھرتی کا مرکز اب کامران مرزا کے قبضے میں تھا۔ ہمایوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے دائیں بازو کو کاٹ کر رکھ دیا تھا، اور اس کا خمیازہ اسے آنے والے سالوں میں اس وقت بھگتنا پڑا جب شیر شاہ سوری کے سامنے اسے تازہ دم فوج کی ضرورت تھی اور کامران مرزا نے اسے ایک سپاہی دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔
ہمایوں ابھی پنجاب کی اس سیاسی شکست کے صدمے سے نکلا بھی نہیں تھا کہ مشرق میں بہار اور بنگال کے ان گھنے، تاریک اور پراسرار جنگلوں سے افغانوں نے ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا۔ محمود لودھی، جو پانی پت میں مارے جانے والے ابراہیم لودھی کا بھائی تھا، اس نے افغان سرداروں کو اکٹھا کر کے ایک لاکھ کے قریب فوج تیار کر لی تھی اور جونپور کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ افغانوں کی اس بڑھتی ہوئی آندھی کو روکنے کے لیے ہمایوں نے اگست 1532ء میں اپنی توپوں اور فوج کے ہمراہ مشرق کی طرف کوچ کیا۔ 'دادراہ' کے مقام پر مغلوں اور افغانوں کی ان دو دیوہیکل فوجوں کا وہ لرزہ خیز ٹکراؤ ہوا جس میں ہمایوں کی بہادری اور مغل توپ خانے کی ہیبت ناک گرج نے افغانوں کے پرخچے اڑا دیے۔ محمود لودھی اپنی جان بچا کر میدان سے فرار ہو گیا اور افغانوں کی کمر ایک بار پھر ٹوٹ گئی۔
لیکن اس فتح کے فوراً بعد ہمایوں کا سامنا ایک ایسے شخص سے ہوا جو محمود لودھی سے ہزار گنا زیادہ شاطر، مکار اور خطرناک تھا۔ وہ تھا فرید خان، جسے دنیا 'شیر خان' (اور بعد میں شیر شاہ سوری) کے نام سے جاننے والی تھی۔ شیر خان اس وقت چنار کے انتہائی مضبوط اور ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قلعے میں بیٹھا تھا۔ ہمایوں نے آگے بڑھ کر چنار کے قلعے کا چاروں طرف سے وہ فولادی محاصرہ کر لیا جس نے شیر خان کے لیے قلعے سے نکلنے کے تمام راستے بند کر دیے۔ چار مہینے تک یہ طویل اور تھکا دینے والا محاصرہ جاری رہا۔ شیر خان جانتا تھا کہ وہ کھلے میدان میں ہمایوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے اس افغان لومڑ نے ایک انتہائی شاطرانہ چال چلی۔
شیر خان نے ہمایوں کے پاس امن کا پیغام بھیجا، اپنی مکمل وفاداری کا جھوٹا حلف اٹھایا اور اپنے بیٹے قطب خان کو مغل فوج کے ساتھ ایک ضمانت کے طور پر بھیجنے کی پیشکش کی، بشرطیکہ چنار کا قلعہ اسی کے پاس رہنے دیا جائے۔ ہمایوں کے تجربہ کار امراء نے بادشاہ کو خبردار کیا کہ اس افغان کی باتوں پر ہرگز اعتبار نہ کیا جائے، یہ ایک سوتا ہوا اژدھا ہے جسے اگر چھوڑ دیا گیا تو یہ کل مغل سلطنت کو نگل جائے گا۔ لیکن ہمایوں نے ایک بار پھر سیاسی دور اندیشی کی کمی اور نرم دلی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے شیر خان کی اس جھوٹی اطاعت کو قبول کر لیا اور چنار کا قلعہ اسی کے پاس چھوڑ کر آگرہ کی طرف واپسی کا طبل بجا دیا۔
ہمایوں کی اس عجلت اور شیر خان کو زندہ چھوڑنے کی ایک بہت بڑی وجہ وہ لرزہ خیز خبریں تھیں جو مغرب میں گجرات سے آ رہی تھیں۔ گجرات کا تخت ایک ایسے بپھرے ہوئے اور طاقتور حکمران، بہادر شاہ، کے پاس آ چکا تھا جو بے پناہ دولت اور پرتگالی توپوں کے نشے میں اندھا ہو کر راجپوتانہ کے قلعوں کو روندتا ہوا دہلی کی طرف آنکھیں گاڑے بیٹھا تھا۔ ہمایوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر اس نے مشرق میں زیادہ وقت لگایا، تو مغرب سے بہادر شاہ کا طوفان آگرہ کو راکھ کر دے گا۔ یہیں سے مغلیہ تاریخ کا وہ سنسنی خیز باب شروع ہونے والا تھا جہاں ہمایوں کو ایک ساتھ دو خونخوار درندوں کا سامنا کرنا تھا، ایک مشرق کی تاریکیوں میں چھپا شیر شاہ سوری، اور دوسرا مغرب کے میدانوں میں چنگھاڑتا بہادر شاہ گجراتی۔
مشرق میں چنار کے اس ادھورے اور مہلک محاصرے کو شیر خان کی جھوٹی وفاداری کے بدلے چھوڑ کر جب ہمایوں آگرہ کے محلات میں واپس لوٹا تو اسے آرام کا ایک لمحہ بھی نصیب نہ ہوا۔ مغرب سے اٹھنے والی آندھی اب ایک خوفناک اور بپھرے ہوئے طوفان کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ گجرات کا حکمران بہادر شاہ اس وقت ہندوستان کے امیر ترین اور متکبر ترین بادشاہوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس نے مالوہ کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت کی سرحدیں مغلیہ سلطنت کے دارالحکومت آگرہ کے بالکل قریب کر دی تھیں۔ بہادر شاہ کی سب سے بڑی طاقت اور اس کے تکبر کا اصل مرکز اس کا وہ ہیبت ناک، جدید اور موت اگلتا ہوا توپ خانہ تھا جسے چلانے کے لیے اس نے عثمانی ترک اور پرتگالی ماہرین کو بھاری خزانوں کے عوض اپنی فوج میں رکھا ہوا تھا۔ رومی خان نامی ایک انتہائی شاطر اور ماہر ترک توپچی اس کے توپ خانے کا انچارج تھا، جس کی کالی توپوں کی گھن گرج پر بہادر شاہ کو اس قدر غرور تھا کہ وہ ہمایوں کو محض ایک ناتجربہ کار، افیون کا عادی اور کمزور لڑکا سمجھتا تھا۔
بہادر شاہ نے مغل سلطنت کو کھلم کھلا چیلنج کرنے اور ہمایوں کی قوتِ برداشت کا امتحان لینے کے لیے ہمایوں کے سب سے بڑے دشمنوں اور غداروں کو اپنے پرشکوہ دربار میں پناہ دینا شروع کر دی۔ ان غداروں میں سب سے اہم اور خطرناک نام محمد زمان مرزا کا تھا، جو رشتے میں تو ہمایوں کا بہنوئی لگتا تھا لیکن تخت کی ہوس اور حسد میں اندھا ہو کر کئی بار مغلوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپ چکا تھا۔ جب ہمایوں کو علم ہوا کہ اس کے غدار بہنوئی اور دیگر باغیوں کو گجرات میں شاہی پناہ مل گئی ہے اور انہیں جاگیریں عطا کی گئی ہیں، تو اس نے بہادر شاہ کو انتہائی سفارتی اور شائستہ خطوط لکھے جن میں نرمی سے درخواست کی گئی کہ مغل باغیوں کو واپس کیا جائے یا کم از کم انہیں اپنے ملک کی سرحدوں سے نکال دیا جائے تاکہ دونوں سلطنتوں کے درمیان امن برقرار رہ سکے۔ لیکن دولت، طاقت اور رومی خان کی توپوں کے نشے میں اندھے بہادر شاہ نے ان خطوط کا جو جواب دیا، وہ اس قدر ہتک آمیز، توہین آمیز اور مغرورانہ تھا کہ اس نے ہمایوں کی رگوں میں دوڑتے ہوئے چنگیزی اور تیموری خون کو آگ لگا دی۔ بہادر شاہ نے اپنے خط میں واضح الفاظ میں ہمایوں کی ہنسی اڑائی، اسے کمزور قرار دیا اور ایک طرح سے جنگ کی کھلی دھمکی دے ڈالی۔
یہ وہ وقت تھا جب بہادر شاہ کے غرور نے آسمان کو چھونا شروع کیا اور اس نے راجپوتانہ کی طرف آنکھیں اٹھاتے ہوئے چتور کے اس عظیم الشان، پرشکوہ اور ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قلعے پر اپنی دیوہیکل فوج اور توپ خانے کے ساتھ ایک قیامت خیز دھاوا بول دیا۔ چتور پر اس سے پہلے بھی سلاطین دہلی کے کئی حملے ہو چکے تھے اور اسے فتح کرنا جان جوکھوں کا کام تھا، لیکن رومی خان کے توپ خانے نے قلعے کی مضبوط فصیلوں کو ریت کی دیواروں کی طرح اڑانا شروع کر دیا۔ رومی خان کی اندھا دھند گولہ باری نے چتور کے اندر محصور راجپوتوں پر قیامت ڈھا دی۔ اس انتہائی نازک، موت اور تباہی کے لمحے میں، چتور کی بے بس، لاچار لیکن غیرت مند راجپوت رانی، کرماوتی، نے تاریخ کا وہ سب سے جذباتی، حیرت انگیز اور رلا دینے والا قدم اٹھایا جس کی گونج آج تک ہندوستان کے تاریخی اوراق میں سنائی دیتی ہے۔ رانی کرماوتی نے دہلی کے تخت پر بیٹھے اس مسلمان مغل پادشاہ، ہمایوں، کی طرف ایک 'راکھی' بھیجی۔ ہندو عقائد کے مطابق یہ راکھی محض ایک ریشمی دھاگہ نہیں تھا، بلکہ ایک بے بس بہن کی طرف سے طاقتور بھائی کو پکارنے کی وہ دلدوز اپیل تھی جس کے بعد ایک سچے بھائی پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر اور اپنے تخت کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنی بہن کی عزت، جان اور اس کے سہاگ کی حفاظت کرے۔
جب آگرہ کے دربار میں وہ راکھی اور رانی کرماوتی کا وہ دردناک پیغام ہمایوں کے ہاتھوں میں پہنچا، تو اس ببر شیر کے بیٹے کا دل بھر آیا۔ ہمایوں، جو اپنے نرم دل اور شدید جذباتیت کے لیے جانا جاتا تھا، اس نے فوراً اس راجپوت رانی کو اپنی سگی بہن تسلیم کیا اور گجراتیوں کا غرور خاک میں ملانے کی وہ تاریخی قسم کھا لی جس نے مغل امراء کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔ ہمایوں نے آگرہ سے اپنی بپھری ہوئی مغل فوج کو فوراً کوچ کی تیاری کا حکم دیا اور ایک دیوہیکل طوفان کی طرح چتور کی طرف روانہ ہوا۔ مغل فوج کے ہزاروں گھوڑوں کی ٹاپوں نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اب بہادر شاہ کے پرخچے اڑ جائیں گے اور وہ چتور کی فصیلوں کے نیچے مغل تلواروں کا نشانہ بنے گا۔ ہمایوں اپنی فوج لے کر انتہائی تیزی سے گوالیار اور پھر سارنگ پور کے مقام تک پہنچ گیا، جو چتور سے زیادہ دور نہیں تھا۔
لیکن عین اسی مقام پر، تقدیر نے ایک بار پھر ہمایوں کی اس نفسیاتی کمزوری اور مذہبی جذباتیت کا وہ لرزہ خیز اور بھیانک فائدہ اٹھایا جس نے چتور کو ہمیشہ کے لیے راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔ بہادر شاہ، جو ایک شاطر اور انتہائی چالاک حکمران تھا، جانتا تھا کہ اگر اس وقت ہمایوں کی فوج چتور پہنچ گئی تو وہ آگے سے راجپوتوں اور پیچھے سے مغلوں کے دو طرفہ حملے میں چکی کے پاٹوں کی طرح پس جائے گا۔ اس نے فوراً ہمایوں کو ایک قاصد کے ذریعے خط بھیجا جس میں اس نے ہمایوں کے مذہبی جذبات کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ "اے بادشاہ! میں اس وقت کافروں کے خلاف جہاد کر رہا ہوں اور اسلام کا جھنڈا بلند کر رہا ہوں۔ اگر تم نے اس نازک موڑ پر مجھ پر حملہ کیا، تو روز قیامت خدا کو کیا جواب دو گے کہ تم نے کفار کی مدد کے لیے ایک مسلمان بادشاہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپا اور اسلام کے دشمنوں کا ساتھ دیا؟"
یہ ایک انتہائی مکارانہ، جھوٹی اور نفسیاتی چال تھی، کیونکہ جنگ کا مقصد اسلام نہیں بلکہ گجرات کی سلطنت کو وسعت دینا تھا۔ ہمایوں کے وہ تجربہ کار جنگجو امراء جو خون بہانے اور بہادر شاہ کا سر کاٹنے کے لیے بے تاب تھے، انہوں نے بادشاہ کو ہاتھ جوڑ کر سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ محض ایک سیاسی جنگ ہے، حکومتوں کی لڑائی میں ایسے جذباتی اور مذہبی خطوط کو اہمیت نہیں دی جاتی، اور اگر آج ہم رک گئے تو چتور کی رانی کو دیا گیا وعدہ ٹوٹ جائے گا۔ لیکن ہمایوں اپنے دور کے مذہبی ضابطوں، علماء کے دباؤ اور اپنے جذبات کے اس اندھے جال میں مکمل طور پر پھنس گیا۔ اس نے ایک ایسا دل چیر دینے والا فیصلہ کیا جس پر ہندوستان کی تاریخ آج بھی ماتم کرتی ہے۔ ہمایوں نے اپنی بپھری ہوئی فوج کو سارنگ پور میں ہی رکنے کا حکم دے دیا اور اعلان کیا کہ جب تک بہادر شاہ چتور کا محاصرہ ختم کر کے فارغ نہیں ہو جاتا، ایک مسلمان بادشاہ ہونے کے ناطے ہم اس پر پسپا حملہ نہیں کریں گے۔
ہمایوں کا یہ توقف چتور کے لیے موت کا پروانہ اور قیامت خیز ثابت ہوا۔ قلعے کے اندر محصور راجپوت جو ہر صبح اس امید پر فصیل کی دیواروں سے باہر دور تک جھانکتے تھے کہ ان کا منہ بولا مغل بھائی، ہمایوں، اپنی فوج اور کالی توپوں کے ساتھ ان کی مدد کو پہنچے گا، بالآخر مایوسی کے ان اندھے اور تاریک غاروں میں ڈوب گئے۔ رومی خان کی بھیانک توپوں نے چتور کی فصیل میں ایک بہت بڑا اور ناقابلِ مرمت شگاف ڈال دیا اور گجراتی فوج ایک بھوکے بھیڑیے کی طرح قلعے میں داخل ہونے لگی۔ جب راجپوتوں کو یقین ہو گیا کہ اب موت یقینی ہے اور دہلی سے کوئی مدد نہیں آئے گی، تو قلعے کے اندر 'جوہر' اور 'ساکہ' کی وہ انتہائی لرزہ خیز، خوفناک اور جلا دینے والی رسم ادا کی گئی جسے سن کر آج بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رانی کرماوتی اور چتور کی ہزاروں بہادر راجپوت عورتوں، شہزادیوں اور بچیوں نے دشمنوں کے ہاتھ لگنے، اپنی عصمتوں اور اپنے وقار کو بچانے کے لیے، اپنے آپ کو ایک دیوہیکل اور بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں زندہ جلا دیا۔ آسمان تک اٹھتے ہوئے اس بدبودار دھوئیں نے چتور کے سورج کی روشنی کو بھی ماتم خیز کر دیا۔ اور پھر راجپوت مردوں نے اپنی عورتوں کو جلتا دیکھ کر زعفرانی کپڑے پہنے، قلعے کے دروازے کھول دیے اور گجراتی فوج پر وہ خودکش اور دیوانہ وار حملہ کیا جس میں وہ کٹتے چلے گئے، یہاں تک کہ چتور میں موت کا ایک خونی سناٹا اور خاک چھا گئی۔
جب چتور کی راکھ، رانی کرماوتی کے جلنے، اور اس کی راکھی کی لاج نہ رکھ پانے کی خبر سارنگ پور میں ہمایوں کے کیمپ تک پہنچی، تو اس پادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور اسے بہادر شاہ کی اس انتہائی مکاری اور اپنی اس ہولناک تاخیر اور غلطی کا وہ شدید اور جان لیوا احساس ہوا جس نے اس کے سینے میں انتقام کی ایک ایسی بھڑکتی ہوئی آگ جلا دی جو اب صرف گجرات کے خزانوں، رومی خان کی توپوں اور بہادر شاہ کے خون سے بجھنے والی تھی۔ ہمایوں نے انتہائی غضب ناک حالت میں اپنی فوج کو فوراً کوچ کا حکم دیا۔ اب اس کے راستے میں کوئی مذہبی خط، کوئی التجا یا کوئی نفسیاتی رکاوٹ نہیں بن سکتی تھی۔ وہ ایک بپھرے ہوئے طوفان اور زخمی شیر کی طرح مانڈو اور گجرات کی طرف بڑھا جہاں منڈسور کے تاریک اور گرد آلود میدانوں میں مغلوں اور گجراتیوں کا وہ دیوہیکل اور قیامت خیز ٹکراؤ ہونے والا تھا جس کی دھمک نے پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دینا تھا۔
چتور کی راکھ اور رانی کرماوتی کے جوہر کی اس خونی آگ نے ہمایوں کے سینے میں جو انتقام کا طوفان کھڑا کیا تھا، وہ اب ایک ایسے بپھرے ہوئے سیلاب کی شکل اختیار کر چکا تھا جسے دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی توپ خانہ نہیں روک سکتا تھا۔ منڈسور کے وسیع اور گرد آلود میدانوں میں بالآخر مغلیہ سلطنت کی بپھری ہوئی فوج اور بہادر شاہ گجراتی کے اس دیوہیکل اور مغرور لشکر کا آمنا سامنا ہو گیا۔ بہادر شاہ کو اپنی طاقت، اپنے کثیر خزانوں اور خاص طور پر رومی خان کی قیادت میں چلنے والی ان جدید اور موت اگلنے والی کالی توپوں پر اس قدر اندھا اور متکبرانہ غرور تھا کہ اس نے کھلے میدان میں مغلوں کے مدمقابل آنے کے بجائے ایک دفاعی اور بزدلانہ خندق کھودنے کا فیصلہ کیا۔ رومی خان نے مشورہ دیا کہ مغل فوج کو قریب آنے دیا جائے اور پھر توپوں کے جہنمی گولوں سے ان کے پرخچے اڑا دیے جائیں۔ گجراتی کیمپ کو خندقوں، توپوں اور سینکڑوں جنگی ہاتھیوں سے اس قدر محفوظ کر لیا گیا کہ وہ ایک لوہے کا قلعہ محسوس ہونے لگا۔
لیکن بہادر شاہ یہ بھول گیا تھا کہ اس کا مقابلہ کسی ناتجربہ کار لڑکے سے نہیں، بلکہ ظہیر الدین محمد بابر کے اس بیٹے سے ہو رہا تھا جس کی رگوں میں منگولوں کی شاطرانہ عسکری حکمت عملی اور ترکوں کی عقابی پھرتی دوڑ رہی تھی۔ ہمایوں نے جب بہادر شاہ کی اس فولادی قلعہ بندی اور ہیبت ناک توپ خانے کو دیکھا تو اس نے سیدھا اور احمقانہ حملہ کر کے اپنی فوج کو موت کے منہ میں جھونکنے کے بجائے ایک ایسی حیرت انگیز، شاطرانہ اور خاموش جنگی چال چلی جس نے گجراتیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ہمایوں نے اپنے تیز رفتار مغل اور قزلباش گھڑسواروں کو چھوٹے چھوٹے دستوں میں تقسیم کیا اور انہیں حکم دیا کہ بہادر شاہ کے کیمپ کو چاروں طرف سے کئی میل کے دائرے میں گھیر لیا جائے اور باہر سے آنے والی خوراک، غلہ اور رسد کا ایک ایک راستہ، ایک ایک سڑک اور ایک ایک پگڈنڈی مکمل طور پر کاٹ دی جائے۔
ہمایوں کی یہ اندھی اور فولادی ناکہ بندی اس قدر قاتلانہ اور خوفناک ثابت ہوئی کہ چند ہی ہفتوں کے اندر بہادر شاہ کے اس پرشکوہ اور دیوہیکل کیمپ میں بھوک، پیاس اور قحط کا وہ لرزہ خیز اور عبرتناک رقص شروع ہو گیا جس نے گجراتی فوج کے ہوش اڑا دیے۔ باہر سے اناج کا ایک دانہ بھی کیمپ میں نہیں آ سکتا تھا اور جو کوئی باہر نکلنے کی کوشش کرتا، وہ مغلوں کی تلواروں کا نشانہ بن جاتا۔ گجراتی فوج کے وہ طاقتور اور چنگھاڑتے ہوئے جنگی ہاتھی اور گھوڑے بھوک سے اس قدر پاگل اور حواس باختہ ہو گئے کہ وہ اپنے ہی خیموں کو روندنے اور اپنے ہی سپاہیوں کو کچلنے لگے۔ فوجیوں نے گھوڑوں کا گوشت کھانا شروع کر دیا اور جب وہ بھی ختم ہو گیا تو فاقوں نے انہیں ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا۔ کیمپ میں بیماری اور موت کی بدبو پھیلنے لگی۔ بہادر شاہ جو کل تک مغلوں کے سر کاٹنے کے مغرور دعوے کر رہا تھا، اب موت کے اس اندھے خوف اور بھوک کی شدت سے کانپنے لگا۔
جب اسے یقین ہو گیا کہ اب موت یقینی ہے اور اس کی فوج مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، تو اس مغرور بادشاہ نے انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ رات کے اس گھپ اندھیرے میں فرار ہونے کا وہ بزدلانہ فیصلہ کیا جس نے اس کے وقار کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا۔ اس نے اپنی ان قیمتی اور جان سے پیاری توپوں میں میخیں ٹھونک کر انہیں ناکارہ کیا تاکہ وہ مغلوں کے ہاتھ نہ لگیں، اور اپنے چند سو وفادار ساتھیوں کے ہمراہ ایک گیدڑ کی طرح مانڈو کی طرف بھاگ نکلا۔ اگلی صبح جب مغلوں کو اس فرار کا علم ہوا تو وہ گجراتی کیمپ پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے اور رہی سہی گجراتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ ہمایوں نے بہادر شاہ کا پیچھا نہیں چھوڑا، مانڈو کو فتح کیا اور پھر اسے کھدیڑتا ہوا چمپانیر کے اس تاریخی اور ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قلعے تک لے آیا۔ بہادر شاہ وہاں سے بھی خوفزدہ ہو کر سمندر کی طرف دیو (Diu) فرار ہو گیا، لیکن اس کا سارا خزانہ اور اس کی طاقت چمپانیر کے اس قلعے میں محصور ہو کر رہ گئی۔
چمپانیر کا قلعہ آسمان سے باتیں کرتی ہوئی ایک ایسی عمودی، چکنی اور خطرناک چٹان پر واقع تھا جسے فتح کرنا اس وقت کی جنگی تاریخ میں دیوانگی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ہمایوں نے یہاں اپنی بہادری اور جنون کا وہ عروج دکھایا جس پر مغل امراء بھی دنگ رہ گئے۔ رات کے گہرے اور ماتم خیز سناٹے میں، جب قلعے کے پہرے دار گہری نیند سو رہے تھے، ہمایوں نے خود اپنے چند درجن انتہائی مایہ ناز، موت سے بے خوف اور جانثار ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس پھسلتی ہوئی چٹان میں لوہے کی میخیں گاڑنے کا وہ ناممکن اور جان لیوا کام شروع کیا۔ یہ مغل جنگجو عقابی پھرتی، خاموشی اور فولادی اعصاب کے ساتھ ان میخوں اور رسیوں کے سہارے اس خونی چوٹی پر چڑھے۔ ہمایوں خود ان پہلے چندتیس افراد میں شامل تھا جنہوں نے قلعے کی فصیل پر قدم رکھا۔ اندر داخل ہوتے ہی مغلوں نے گجراتیوں پر ایک ایسا قیامت خیز، اچانک اور فلک شگاف حملہ کیا کہ دشمن کے ہوش اڑ گئے اور وہ سمجھے کہ مغل آسمان سے اتر آئے ہیں۔ چند ہی گھنٹوں کی خونی لڑائی کے بعد چمپانیر کا قلعہ ہمایوں کے قدموں میں تھا۔
اس قلعے کے تاریک تہہ خانوں اور خفیہ غاروں سے ہمایوں کو گجرات کا وہ دیوہیکل، بے پناہ اور صدیوں پرانا خزانہ ملا جسے دیکھ کر مغلوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ سونے اور چاندی کی اینٹیں، ہیرے، جواہرات اور ریشم کے وہ انبار لگے کہ گنتی کرنا ناممکن ہو گیا۔ ہمایوں کی یہ فتح اتنی عظیم الشان تھی کہ اس نے ہندوستان کی تاریخ میں مغلوں کی دھاک بٹھا دی اور گجرات و مالوہ پر اس کا مکمل قبضہ ہو گیا۔ لیکن تاریخ کا وہ سب سے بھیانک، تاریک اور سبق آموز پہلو یہ ہے کہ یہی وہ شاندار فتح اور بے تحاشا دولت تھی جس نے اس نوجوان اور جذباتی بادشاہ کی زندگی میں ایک ایسا زہریلا زوال لکھ دیا جس نے اس کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔
بے پناہ دولت، عظیم الشان فتح اور کوئی دشمن سامنے نہ ہونے کے اس نشے میں ہمایوں مکمل طور پر غرق ہو گیا۔ اس نے مالوہ اور گجرات کے ان پرشکوہ، ٹھنڈے اور رنگین محلات میں افیون، شراب اور عیش و عشرت کی وہ طویل اور مدہوش کر دینے والی محفلیں سجا لیں جنہوں نے اسے ایک فاتح جنگجو سے ایک غافل بادشاہ بنا دیا۔ کئی مہینوں تک مغل دربار میں صرف ناچ گانے اور جشن کا شور سنائی دیتا رہا۔ ہمایوں کو اس بات کی کوئی خبر نہ رہی کہ اس کی اس جان لیوا غفلت اور افیون کی اس کالی مدہوشی کا فائدہ اٹھا کر، مشرق کی ان تاریک اور گھنی وادیوں میں، شیر شاہ سوری ایک لومڑ سے ایک خونخوار اور ناقابل تسخیر اژدھے کا روپ دھار چکا تھا اور اس نے ہمایوں کے گلے میں وہ موت کا پھندا ڈالنے کے لیے بہار اور بنگال کے راستوں پر اپنا خونی جال بچھا دیا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔