14/07/2026
🖤 | پاکستان کی بیٹی
🔰 رسانہ ریحانہ (KHAMENEI.IR) کی جانب سے قم میں رہبرِ شہیدِ انقلاب کے جنازے کی تشییع کے موقع کی مختصر روداد؛ 16 تیر 1405
▪️ خانم طیبہ بلوارِ پیامبرِ اعظمؐ کے کنارے بیٹھی تھیں۔ انہوں نے اپنا سر لکڑی کی لاٹھی کے دستے پر ٹکایا ہوا تھا اور موکب سے نشر ہونے والی نوحہ خوانی کے ساتھ آہستہ آہستہ اشک بہا رہی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اکیلی آئی ہیں؟ تو انہوں نے ایک سید روحانی کی طرف اشارہ کیا جو قریب ہی کرسی پر بیٹھے تھے، اور کہا:
"میں اپنے والد کے ساتھ آئی ہوں۔ چھبیس برس بعد ایران آنے کا موقع ملا ہے۔ ہمیں آپ لوگوں سے ایک دن بعد معلوم ہوا کہ آقا شہید ہو گئے ہیں۔ میرے والد لاہور کی ایک مسجد کے امامِ جمعہ ہیں۔ جب پاکستان میں ہمیں آقا کی شہادت کی خبر ملی تو غم و غصے سے بھرے نوجوان امریکی سفارت خانے کی طرف نکل پڑے، اور اس واقعے میں تقریباً چالیس افراد شہید ہوئے۔"
▪️خانم طیبہ لاہور میں ایک حوزۂ علمیہ کی مدیرہ ہیں۔ اگر وہ خود یہ نہ بتاتیں تو بھی ان کے الفاظ کے انتخاب، گفتگو کے انداز اور وقار سے ان کے پیشے کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ وہ نہایت سکون، ٹھہراؤ اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرتی تھیں، گویا ایک خطبہ دے رہی ہوں۔
▪️رخصت ہوتے وقت انہوں نے کہا:
"آقا کی شہادت کے بعد میرے والد نے اپنے آخری خطبۂ جمعہ میں لوگوں سے صرف ایک جملہ کہا تھا:
'آج تک ہماری تحریک حسینی تھی، اور آج کے بعد ہماری تحریک زینبی شروع ہو چکی ہے۔'"
✍️ معصومہ سادات صدری
📆 شمارہ 191