03/08/2026
پاکستان میں بہت سے لوگوں کی کتابیں پڑھنے میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے اور وہ دولت کے حصول کی دوڑ میں مگن ہو چکے ہیں۔ روزگار کا حصول ضروری ہے، لیکن جب دولت کی ہوس ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ بن جائے تو اکثر علم، حکمت اور اخلاقی اقدار کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنی بنیادی ضروریات وقار کے ساتھ پوری کرنے کے قابل ہو، تو پھر زندگی کو مزید دولت کے حصول کی مسلسل کشمکش کیوں بنا دیا جائے؟ جو معاشرہ صرف دولت کو اہمیت دیتا ہے، اس میں انسانیت کھو جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ترقی کا حقیقی معیار یہ نہیں کہ ہم کتنی دولت جمع کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنی سمجھ بوجھ، ہمدردی اور کردار سازی کرتے ہیں۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: کیا ہم محض مادی کامیابی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، یا ہم واقعی ایک انسان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں؟
کیا ہم پاگل ہیں؟