Ahmar Awan

Ahmar Awan Let’s explore the world together ✈️🌎

امام ابن حجر ؒ نقل کرتے ہیں؛”رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے“۔...
30/08/2026

امام ابن حجر ؒ نقل کرتے ہیں؛

”رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا، وباؤں اور دیگر بڑی مصیبتوں کے خاتمے کا بہت بڑا سبب ہے“۔

[بذل الماعون:333]

30/08/2026

ایک شخص نے حضرت یحییٰ بن معاذؒ کے سامنے یہ آیت پڑھی:

﴿فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا﴾
“پس تم دونوں اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا۔”
(سورۂ طٰہٰ: 44)

یہ سن کر حضرت یحییٰ بن معاذؒ رو پڑے اور فرمایا:

“اے میرے اللہ! یہ تیرا اُس شخص کے ساتھ لطف و نرمی کا معاملہ ہے جو کہتا تھا: ‘میں
خود ہی رب ہوں’، تو پھر اُس شخص کے ساتھ تیری رحمت و نرمی کا کیا عالم ہوگا جو کہتا ہے: ‘اے اللہ تو ہی میرا معبود میرا رب ہے’؟!”

15/08/2026
ترک عثمانی عہد میں بننے والی مسجد الحرام کے گرد عمارت جسے "رواقِ عثمانی" کہا جاتا ہے۔
14/08/2026

ترک عثمانی عہد میں بننے والی مسجد الحرام کے گرد عمارت جسے "رواقِ عثمانی" کہا جاتا ہے۔

اللّٰہُ اکبر 🌸💓
03/08/2026

اللّٰہُ اکبر 🌸💓

اصحابِ فیل: ہاتھیوں کیلئے بنا مخصوص راستہاصحاب فیل کا واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، نصرت اور حکمت کی روشن دلیل ہے۔ جسے اللہ...
19/07/2026

اصحابِ فیل: ہاتھیوں کیلئے بنا مخصوص راستہ

اصحاب فیل کا واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، نصرت اور حکمت کی روشن دلیل ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے خود قرآنِ مجید میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہ وہ واقعہ تھا جس نے نہ صرف بیت اللہ کی عظمت کو دنیا پر آشکار کیا بلکہ آنے والے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کے لیے ایک عظیم تمہید بھی ثابت ہوا۔
مورخین، خصوصاً امام ابن اسحاقؒ کے مطابق یہ واقعہ 571ء میں، یعنی اسی سال پیش آیا جس سال رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق یہ واقعہ آپ ﷺ کی ولادت سے تقریباً پچاس دن پہلے پیش آیا۔ یوں گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی آمد سے پہلے ہی دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ جس گھر سے آخری رسول ﷺ کا ظہور ہوگا، اس کی حفاظت خود ربِ کائنات فرمائے گا۔
یمن کا حبشی حکمران ابرہہ صنعاء میں ایک عظیم الشان گرجا تعمیر کر چکا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ عرب حج کے لیے مکہ کے بجائے اسی گرجے کا رخ کریں، لیکن جب اس کی یہ آرزو پوری نہ ہوئی اور کسی نے جا کر یمن کے اس جعلی کعبے میں گندگی کر دی تو ابرہہ آپے سے باہر ہوگیا۔ اس نے مکی کعبے کو منہدم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک بڑا لشکر تیار کیا، جس کے ساتھ ہاتھی بھی تھے۔ عربوں نے اس سے پہلے کبھی جنگ میں ہاتھی نہیں دیکھے تھے، اس لیے یہ لشکر ان کے لیے خوف کی علامت بن گیا۔
ابرہہ نے یمن سے مکہ تک اپنے لشکر کی آسانی کے لیے قدیم شاہراہ کو مزید ہموار کیا، خاص طور پر ان دشوار گزار مقامات پر جہاں ہاتھیوں کا چلنا مشکل تھا۔ آج بھی اس تاریخی راستے کے بعض آثار مکہ مکرمہ سے تقریباً تین سو کلومیٹر جنوب میں، سعودی عرب کے علاقے الباحہ میں موجود ہیں۔ یہ شاہراہ دراصل بہت قدیم تھی، جسے یمن کے تبابعہ بادشاہوں نے تعمیر کیا تھا، جبکہ ابرہہ نے اس پر ہاتھیوں کی آمدورفت کے لیے پتھروں کی باقاعدہ فرش بندی کرائی۔ بعد میں یہی راستہ صدیوں تک یمن سے آنے والے حجاج کرام کے قافلوں کی گزرگاہ بھی بنا رہا۔
جب ابرہہ کا لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو قریش کے پاس اس عظیم فوج کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ قریش کے سردار عبد المطلب نے بیت اللہ کا دروازہ پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے اس کے گھر کی حفاظت کی دعا کی اور لوگوں کو پہاڑوں کی طرف چلے جانے کا حکم دیا۔ ان کا ایمان تھا کہ اس گھر کا ایک رب ہے اور وہی اس کی حفاظت فرمائے گا۔
پھر ایسا ہی ہوگیا۔ حق تعالیٰ کا فرمان ہے:
ترجمہ "کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ کیا اس نے ان کی چال کو ناکام نہیں بنا دیا؟ پھر اس نے ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے، جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے کنکریاں برسا رہے تھے، پھر انہیں ایسا کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا۔"
(سورۂ الفیل)
اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی فوج کو، جو طاقت، اسلحے اور ہاتھیوں کے غرور میں ڈوبی ہوئی تھی، نہ کسی انسانی لشکر کے ذریعے شکست دی اور نہ کسی بادشاہ کی مدد سے، بلکہ ننھے پرندوں کے ذریعے نیست و نابود کر دیا۔ یوں پوری دنیا کو یہ سبق دے دیا گیا کہ جب اللہ کی نصرت آتی ہے تو بڑے سے بڑا لشکر بھی بے بس ہو جاتا ہے۔
علامہ ابن قیمؒ اس واقعے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اصحابِ فیل کا واقعہ دراصل رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا ایک مقدمہ تھا۔ اس میں ایک عظیم راز یہ بھی تھا کہ ابرہہ اور اس کے ساتھی اہلِ کتاب تھے، جبکہ اس وقت مکہ کے اکثر لوگ بت پرست تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کے مقابلے میں مشرکینِ مکہ کے مقدس گھر کی حفاظت فرمائی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اس گھر سے بہت جلد وہ آخری رسول ﷺ مبعوث ہونے والے ہیں جن کے ذریعے دنیا کو مکمل ہدایت ملنے والی ہے اور بیت اللہ کو قیامت تک مرکزِ توحید بننا ہے۔
امام ابن اسحاقؒ لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا تو پورے عرب میں قریش کی عزت اور بڑھ گئی۔ لوگ کہا کرتے تھے: "یہ اللہ والے ہیں، اللہ نے خود ان کے گھر کا دفاع کیا اور ان کے دشمن کو ہلاک کر دیا۔"
اس واقعے نے عربوں کے دلوں میں بیت اللہ کی عظمت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کر دی۔ چند ہی ہفتوں بعد اسی مقدس سرزمین پر وہ ہستی دنیا میں تشریف لائے جن کے ذریعے توحید کی روشنی پوری دنیا میں پھیلنی تھی۔
طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ، لشکر اور وسائل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ جب بندہ اپنے رب پر بھروسا کرتا ہے تو وہ ایسے اسباب پیدا فرما دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔
اصحابِ فیل کا واقعہ قیامت تک کے لیے یہ اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین، اپنے گھر اور اپنے برگزیدہ بندوں کی حفاظت پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ تاریخ بدلتی رہتی ہے، سلطنتیں بنتی اور مٹتی رہتی ہیں، مگر اللہ کا وعدہ کبھی نہیں بدلتا۔ یہی اس واقعے کا سب سے بڑا سبق اور سب سے روشن پیغام ہے۔
اس واقعہ اتنا مشہور ہوا کہ عرب شعرا نے بھی اسے اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اس زمانے کا مشہور شاعر اُمیہ بن ابی الصلت کہتا ہے:
حبس الفيل بالمغمس حتى
ظل يحبو كأنه معقور
لازماً حلقة الجران كما
قطر من صخر كبكبٌ مَحدور
"ہاتھی کو مغمس کے مقام پر روک دیا گیا، یہاں تک کہ وہ زخمی جانور کی طرح گھسٹنے لگا۔ وہ اپنی جگہ اس طرح جم گیا جیسے پہاڑ سے لڑھک کر آنے والا ایک بھاری پتھر رک گیا ہو۔"
إن آيات ربنا ثاقبات
لا يماري فيهن إلا الكفور
"بے شک ہمارے رب کی نشانیاں نہایت روشن ہیں، ان میں صرف وہی شخص شک کرتا ہے جو ناشکرا ہو۔"
یہ اشعار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اصحابِ فیل کا واقعہ عربوں کے حافظے میں اس قدر گہرائی سے نقش ہو چکا تھا کہ اسلام سے پہلے ہی اسے اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی اور بیت اللہ کی حفاظت کے معجزے کے طور پر یاد کیا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ امیہ بن ابی الصلت الثقفی طائف کا رہنے والا تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے کا مشہور شاعر تھا، لیکن آپ ﷺ کی نبوت کا زمانہ بھی پایا۔ اس کا شمار ان چند عرب اہل علم میں ہوتا ہے جو بت پرستی سے نفرت کرتے تھے اور حضرت ابراہیمؑ کے دین (حنیفیت) کی طرف مائل تھے۔ وہ یہود و نصاریٰ کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرتا تھا اور اسے یقین تھا کہ آخری نبی کی بعثت قریب ہے۔ بعض روایات کے مطابق وہ خود امید رکھتا تھا کہ شاید یہی نبوت مجھے ملے گی۔ جب نبوت حضرت محمد ﷺ کو ملی تو اس نے آپ ﷺ پر ایمان نہیں لایا۔ اس کا انتقال 9 ہجری (630ء) کے آس پاس ہوا۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:
"اس کی شاعری تو ایمان کے قریب تھی، لیکن اس کا دل ایمان نہ لا سکا۔"
امیہ بن ابی الصلت کے یہ اشعار تاریخی اعتبار سے اہم سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ وہ واقعۂ فیل کے قریبی زمانے کا شاعر تھا۔ اس کی شاعری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ عربوں کے حافظے میں کس قدر تازہ اور عظیم تھا۔

مسجدِ نبوی ﷺ کے پُر نور نظارے ❤️
17/07/2026

مسجدِ نبوی ﷺ کے پُر نور نظارے ❤️

اللھم صل علٰی محمد ﷺو آل محمد ﷺ❤️
17/07/2026

اللھم صل علٰی محمد ﷺو آل محمد ﷺ❤️

حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا 🌿امہات المؤمنین میں سے وہ عظیم ہستی جن کی زندگی عبادت، صبر اور اخلاص کا روشن نمونہ ...
01/07/2026

حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا 🌿
امہات المؤمنین میں سے وہ عظیم ہستی جن کی زندگی عبادت، صبر اور اخلاص کا روشن نمونہ ہے۔
مکہ مکرمہ کے قریب یہ بابرکت مقام ہمیں ان پاکیزہ ہستیوں کی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے اپنی زندگیاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں گزار دیں۔
اللّٰہ ہمیں بھی ایسی پاکیزہ زندگی نصیب فرمائے اور اپنے گھر کی بار بار حاضری عطا کرے۔ آمین 🤍
حضرت Maymunah bint al-Harith رضی اللہ عنہا کا مزار النواريه میں واقع ہے، جو مکہ مکرمہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر مدینہ منورہ جانے والی سڑک پر ہے۔

22/02/2026

Address

Lahore

Telephone

+923007317236

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmar Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ahmar Awan:

Shortcuts

Share

Category