Juna Photo Studio

Juna Photo Studio Juna Bro internet service
electric work
& Dish work

10/04/2026
📸 کیا آپ کے بزرگوں کی اچھی تصویر موجود نہیں؟اکثر ہمارے گھروں میں بزرگوں کی یادگار تصاویر موجود ہوتی ہیں، لیکن وقت گزرنے ...
13/03/2026

📸 کیا آپ کے بزرگوں کی اچھی تصویر موجود نہیں؟

اکثر ہمارے گھروں میں بزرگوں کی یادگار تصاویر موجود ہوتی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ پرانی، دھندلی یا خراب ہو جاتی ہیں۔ بعض دفعہ تصویر صرف VCR کی ویڈیو میں موجود ہوتی ہے یا پھر صرف شناختی کارڈ پر لگی ایک چھوٹی سی تصویر ہی رہ جاتی ہے۔

اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

✨ جونا فوٹو سٹوڈیو میں ہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسی تصاویر کو HD کوالٹی کی نئی اور واضح تصویر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

ہماری سروسز:

✔ اگر آپ کے بزرگوں کی تصویر VCR ویڈیو میں موجود ہے تو ہم اس ویڈیو سے بھی HD تصویر بنا دیتے ہیں
✔ اگر کسی کے پاس صرف شناختی کارڈ والی تصویر ہے تو ہم اس کو بھی خوبصورت HD پورٹریٹ میں تبدیل کر دیتے ہیں
✔ پرانی اور دھندلی تصاویر کو صاف اور واضح بنانا
✔ فیملی کی قیمتی یادگار تصاویر کو بہتر اور محفوظ بنانا

👇 نیچے دی گئی تصویر میں آپ پہلے اور بعد کا واضح فرق خود دیکھ سکتے ہیں۔

📞 رابطہ کریں:
عامر حسین جونہ
03434057759

📍 جونا فوٹو سٹوڈیو
ڈش ریسور اینڈ فائبر انٹرنیٹ
اڈا 59 پل

اپنے پیاروں اور بزرگوں کی قیمتی یادوں کو محفوظ بنانے کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔ ❤️

09/05/2022

‏یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے۔
دفعہ 295-A* کسی مذہب کی توھین کرنا
دفعہ 295-B* قرآن پاک کی غلط تشریح کرنا
*دفعہ 295-C* توھین رسالت
*دفعہ 298-A* توھین صحابہ
*دفعہ 307* = قتل کی کوشش کی
*دفعہ 302* = قتل کی سزا
*دفعہ 376* = عصمت دری
‏*دفعہ 395* = ڈکیتی
*دفعہ 377* = غیر فطری حرکتیں
*دفعہ * = ڈکیتی کے دوران قتل
*دفعہ 120* = سازش
*سیکشن 365* = اغوا
*دفعہ 201* = ثبوت کا خاتمہ
*دفعہ 34* = سامان کا ارادہ
*دفعہ 412* = خوشی منانا
*دفعہ 378* = چوری
*دفعہ 141* = غیر قانونی جمع
*دفعہ 191* = غلط ھدف بندی‏*
دفعہ322* = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
*دفعہ 415* = چال
*دفعہ 445* = گھریلو امتیاز
*دفعہ 494* = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
*دفعہ 499* = ہتک عزت
‏*دفعہ 310* = دھوکہ دہی
*دفعہ 312* = اسقاط حمل
*دفعہ 351* = حملہ کرنا
*دفعہ 354* = خواتین کی شرمندگی
*دفعہ 362* = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (ناقابلِ ضمانت)
‏*دفعہ 309* = خودکش کوشش
*دفعہ 511* = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔

22/10/2021

Zara bach k

دس نشانیاں جو بتاتی ہیں کہ اگلا آپ سے جیلس ہے، ساڑ میں مر رہا ہے یا حسد کے دردِ قولنج میں مبتلا ہے. آپ کو جو پسند آئے جم...
13/11/2020

دس نشانیاں جو بتاتی ہیں کہ اگلا آپ سے جیلس ہے، ساڑ میں مر رہا ہے یا حسد کے دردِ قولنج میں مبتلا ہے. آپ کو جو پسند آئے جملہ رکھ لیں. کونسا پیسے خرچ ہورہے ہیں.

1. حاسد ہمیشہ آپ کی نقل کرنے کی کوشش کرے گا حالانکہ اس کے نزدیک آپ بہت برے ہیں.

2. وہ آپ کی کسی خوشی میں بھی سڑی ہوئی سی بات کریں گے. چاہے خوشی کتنی بھی معمولی ہو ان سے برداشت نہیں ہوگی.

3. آپ کی کامیابی کو ہمیشہ چھوٹا جانیں گے. نہ صرف جانیں گے بلکہ اس کا اظہار بھی کریں گے.

4. ان کی عید آپ کی شکست میں ہے.

5. ان کو آپ کے ہر اچھے کام میں بھی برائی نظر آجائے گی.

6. آپ کی ہر کامیابی ان کے نزدیک صرف گڈ لک ہے. چاہے آپ نے اس کامیابی کے لیے کتنی بھی محنت کیوں نہ کی ہو.

7. اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ساڑ یا حسد کی کوئی وجہ بھی ہوسکتی ہے تو آپ غلط ہیں. یہ بیر اللہ واسطے کا بھی ہوسکتا ہے.

8. وہ ہر وقت آپ سے مقابلے کی دوڑ میں ہوتے ہیں.

9. اپنی محرومیوں اور نارسائیوں کا بدلہ آپ کی ذات کو پنچنگ بیگ بنا کر لیں گے.

10. وہ لوگوں کو آپ کے خلاف کرنے کے لیے کسی حد تک بھی گر سکتے ہیں. جس طرح حسد کی حد نہیں، اسی طرح گراوٹ کی بھی کوئی حد نہیں. الزام تراشی، بہتان، جھوٹ کچھ بھی ان کے نزدیک ناجائز نہیں.

اپنے حاسدین کی ہدایت کے لیے ہمیشہ دعا کیجیے کیونکہ کوئی تو ان کے لیے بھی دعا کرنے والا ہو.

دعاگو

منقول

06/11/2020

آرائیں کہاں سے آئے تھے؟

آرائیں ایک ذات (Caste) ہے۔ اس ذات کے لوگ پاکستان اور بھارت میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔آپ میں سے بھی بہت سے دوست آرائیں قوم سے تعلق رکھتے ہوں گے۔
آرائیں ذات کے آباؤاجداد اریحائی فلسطینی عرب تھے، جو 712ء ميں دریائے اردن کے کنارے آباد شہر اريحا سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ محمد بن قاسم کے ساتھ برصغير ميں داخل ہونے والی فوج کی تعداد 12,000 تھی، جس میں سے 6,000 اریحائی تھے۔ محمد بن قاسم تقریباً 4 سال تک سندھ میں رہے۔ اسی دوران گورنر عراق حجاج بن یوسف اور خلیفہ ولید بن عبدالملک کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا۔ خليفہ سلیمان بن عبدالملک نے تخت نشینی کے بعد حجاج بن یوسف کے خاندان پر سخت مظالم ڈھائے۔ اسی دوران اس نے محمد بن قاسم کو بھی حجاج بن یوسف کا بھتیجا اور داماد ہونے کے جرم میں گرفتار کرکے عرب واپس بلایا، جہاں وہ 7 ماہ قید میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔

خليفہ کی ان ظالمانہ کارروائيوں کی وجہ سے اریحائی فوجیوں نے اپنے آبائی وطن واپس نہ جانے اور برصغیر ہی میں ہی قيام کا فيصلہ کرليا۔ خلیفہ کے عتاب سے بچنے کیلئے انہوں نے فوج کی ملازمت چھوڑ دی اور کھیتی باڑی کواپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔ کچھ عشروں بعد وہ آہستہ آہستہ وسطی اور مشرقی پنجاب کی طرف چلے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی اگلی نسلیں پورے برصغیر میں پھیل گئیں۔

اریحائی یا الراعی سے آرائیں
صدیوں تک غیرعرب علاقے میں رہنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ گھل مل جانے کی وجہ سے عرب اریحائی جہاں اپنی عربی زبان چھوڑ کر عجمی ہوگئے، وہاں انہوں نے برصغیر کی مقامی زبانوں پر بھی گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر کی زبانوں میں بےشمار عربی الفاظ شامل ہوتے چلے گئے۔ مقامی لوگوں کیلئے عربی کے حرف ’ح‘ کا اصل تلفظ کرنا مشکل تھا اور لفظ اریحائی وقت کے ساتھ ساتھ ’’ارائی‘‘ پھر ’’ارائیں‘‘ اور پھر بالآخر آرائیں بن گیا۔

ایک دوسرے امکان کے مطابق پہلے اریحائی لفظ الراعی سے تبدیل ہوا، جو عربی کا ہی ایک لفظ ہے، جس کے معنی چرواہے کے ہیں۔ الراعی میں ’ر‘ حرف شمشی ہے، جب اس سے پہلے ’الف لام‘ لگتا ہے تو ’الف‘ بولا جاتا ہے اور ’ل‘ حذف ہوجاتا ہے، یوں ’الراعی‘ سے اراعی ہوگیا۔ عجم حرف ’ع‘ کی ادائیگی نہیں کرتے، اس لئے حرف ’ع‘ حرف ’ء‘ کے ساتھ تبدیل ہوگیا، یوں ارائی سے جمع کی صورت میں ارائیں ہوگیا۔

ایک اور ضیعف روایت کے مطابق یوں بھی بعض کتب میں لکھا ہے کہ آرائیں آریان تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، جس کا پتہ ہڑپہ سے چلتا ہے، جہاں وہ لوگ تین ہزار قبل مسیح آباد تھے۔اس کے علاوہ ایک اور روایت بھی موجود ہے کہ یہ لوگ وسط ایشیائی ریاستوں سے برصغیر آئے تھے۔

مذکورہ بالا ضعیف روایات کی تردید میں آج کی آرائیں ذات کو ماضی کے اریحائی ثابت کرنے والے کہتے ہیں کہ برصغیر میں بسنے والے دیگر مسلمانوں کے برخلاف آرائیوں کی سو فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اگر یہ کسی آریان تہذیب کی نسل سے ہوتے تو دیگر نومسلم ذاتوں کی طرح ان کی اتنی کثیر آبادی کا بیس تیس فیصد حصہ یقیناً ہندو یا سکھوں پر مشتمل ہوتا۔

محمد بن قاسم (علیہ رحمہ)کے لشکر سے آرائیں لفظ کی تشریح راجہ داہر کی قید میں ایک مسلمان لڑکی کی آواز پر لبیک کہنے والا بارہ ہزار عوام کا اسلامی لشکر چار حصوں پر مشتمل تھا پہلا حصہ کا نام مقدمتہ الجیش تھا جو کہ تھوڑے سے آدمیوں پر مشتمل تھا اور لشکر سے تین چار میل آگے سے راستہ کی راہنمائی کر رہا تھا ۔باقی دائیں طرف کا لشکر (میمنہ) اور بائیں طرف والا (میسرہ) اور درمیان والے لشکر کا نام( قلب )تھا ۔ ہر اسلامی لشکر کے پاس ایک جھنڈا ہوتا تھا جس کو فوج ہر صورت میں بلند رکھتی ہے ۔اور جنگ کے اختتام پر یہ مفتوحہ زمین پر گاڑ دیا جاتا ہے ۔اس جھنڈے کا ذکر نبی اکرم محمد ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) نے جو غزوات خود لڑے ان میں بھی ہے اور صحابہ اکرام (ر ضوان اللہ تعالی اجمعین )نے ان کو گرنے سے بچانے کے لیے شہادتیں نوش فرمائیں ہیں ۔ اس فتح کے نشان والے جھنڈے کا نام (الرائیہ) ہوتا تھا ۔ فتح کے بعد اس شامی فوج کے سپاہی کو الرائیہ کی نسبت سے الرائیی کہا جانے لگا لفظ الرائیی عربی میں جب بولا جاتا ہے تو سننے میں آرائیں ہوتا ہے کیونکہ اسکے بعد ل بولی نہیں جاتی ۔الرائیی لفظ کو انگلش میں آرین کہتے ہیں ۔ انگلش تاریخ دانوں نے جو یہ لکھا ہے کہ آرین A***n نے یورپ سے آکر یہاں حملہ کیا اور آباد ہوئے بالکل ٹھیک لکھا ہے کیونکہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت شام میں اسلامی خلافت اور دنیا کی سپر پاور تھی اور اس سلطنت کے علاقے یورپ میں بھی تھے اس وقت جب یہ لشکر شام کے جس علاقے سے بھیجا گیا وہ آج بھی شامی علاقہ یورپ کی حدود میں واقعہ ہے.۔خلاصہ کلام یہ کہ آرائیں قوم برصغیر پاک وہند میں عرب سے محمد بن قاسم کی قیادت میں ہی آئی تھی۔جو بعد میں مستقل طور پریہاں رہائش پذیر ہوگئی۔ان میں زیادہ تر لوگ آج بھی کھیتی باڑی کے شعبے سے ہی منسلک ہیں۔
واللہ اعلم

Address

Ada 59Pul , Sunny Market Chanu Road
Mian Channu

Telephone

03457620859

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Juna Photo Studio posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Juna Photo Studio:

Share