wow.life

wow.life may � life may roll �

25/10/2025

پنجاب کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر اپکو جدت اور ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت دے رہا ہے جبکہ سندھ میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور تباہ حال انفراسٹرکچر سندھ کے عوام کا منہ چڑھا رہا ہے

23/10/2025

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے “سرکاری سکول، معیاری سکول” پروگرام کے تحت گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول چک نمبر 22-DB، بہاولپور کی تزئین و آرائش مکمل ہو چکی ہے۔ جدید کلاس رومز، نیا فرنیچر اور بہتر سہولیات نے طلبہ کے لیے تعلیم کا ماحول یکسر بدل دیا ہے۔

‏"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا ...
23/10/2025

‏"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔

‏جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔

‏خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔

‏تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔

‏میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔

‏تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

‏مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”

‏سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)

19/10/2025

Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

18/10/2025

“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔

لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟” -

ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2026)

18/10/2025

امن و قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔پنجاب کا مستقبل انتہا پسندی اور تشدد کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ریاست کے خلاف چیلنج کرنے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

18/10/2025

مذہب کے نام پر انتشار پھیلانے والوں نے معاشرے کا امن برباد کر دیا ہے۔ عوام کھلے لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ یہ انتہا پسند گروہ دین نہیں، نفرت اور فساد پھیلا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ گروہ صرف اپنے مفادات کیلیے مذہب کو استعمال کر رہا ہے، عوام کیلیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، پولیس اہلکاروں پر حملے کر رہا ہے، سڑکوں کو میدانِ جنگ بنایا ہے۔ ایسے عناصر کا دین سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ دین امن، عدل اور انسانیت کا درس دیتا ہے، فساد کا نہیں۔

17/10/2025

😭 *آنکھوں کے خواب سب خاک ہو گئے*
💔 *چاہنے والے ہی بے وفا ہو گئے*
🌑 *جیتے ہیں بس سانسوں کے سہارے*
🕯️ *ورنہ ہم تو کب کے فنا ہو گئے*
`Agree`

*👉🏻Yes🥲💔❤️ 👉🏻No 🙏🏻*- *୯๏☔❤️‍🔥🌸🌾ᚓᝰ*

_تـم پسنـد آئـے یـہ اتفـاق تـھا 🥹🫂"_
_تـم ہـی پسنـد رہ گـئے یـہ عشـق ہــے 💍❤️‍🔥"_

- `Agree`
*👉🏻Yes❤️ 👉🏻 No😢*
Salman bhatti 🙏

کبھی ہم بھی... بڑے امیر ہوا کرتے تھےہمارے بھی جہاز چلا کرتے تھے۔ہوا میں بھی، پانی میں بھی۔دو حادثے ہوئے،اور سب کچھ ختم ہ...
17/10/2025

کبھی ہم بھی... بڑے امیر ہوا کرتے تھے
ہمارے بھی جہاز چلا کرتے تھے۔

ہوا میں بھی، پانی میں بھی۔

دو حادثے ہوئے،
اور سب کچھ ختم ہو گیا۔

پہلا حادثہ!

جب کلاس میں کاغذ کا ہوائی جہاز اُڑایا،
ٹیچر کے سر سے جا ٹکرایا۔
اسکول سے نکالنے کی نوبت آ گئی۔
قسم دلائی گئی،
اور جہاز بنانا اور اُڑانا سب چھوڑنا پڑا!

دوسرا حادثہ!

بارش کے دن تھے،
امی نے ایک "اٹھنی" دی — چائے کے لیے دودھ لانے کو۔
کوئی مہمان آیا تھا۔
ہم نے وہ اٹھنی گلی کی نالی میں تیرتے
اپنے کاغذی جہاز میں رکھ دی۔
خود بھی اس کے ساتھ ساتھ
فخر سے، خوشی خوشی چلنے لگے۔

اچانک،
تیز بہاؤ آیا،
جہاز ڈوب گیا،
ساتھ میں اٹھنی بھی ڈوب گئی۔
ڈھونڈنے سے نہ ملی۔

مہمان بغیر چائے کے واپس چلے گئے۔
پھر جم کے پٹائی ہوئی۔
گھنٹہ بھر مُرغہ بنایا گیا۔
اور ہمارا پانی میں جہاز چلانا بھی ختم ہو گیا۔
آج جب ہوائی سفر یا کروز کی باتیں ہوتی ہیں،
تو وہ دن یاد آتے ہیں…

وہ بھی کیا زمانہ تھا!

اور آج کے زمانے میں —
میرے بچوں نے جب
پندرہ ہزار کا موبائل کھو دیا تو...

امی بولیں: کوئی بات نہیں،
ابّو دوسرا لے آئیں گے۔
ہمیں اپنی "اٹھنی" والی سزا یاد آ گئی۔

پھر بھی حال یہ ہے کہ آج بھی
ہمارے سر ماں باپ کے قدموں میں جھکتے ہیں —
عقیدت سے۔

اور ہمارے بچے؟
"یار پاپا!" "یار ممی!"
کہہ کر بات کرتے ہیں۔

ہم ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ہو گئے ہیں۔
بچپن میں پیسے کم تھے،
مگر اُس بچپن میں دم تھا…

ہمارے بچپن میں کپڑے تین ہی طرح کے ہوتے تھے:

اسکول کے

گھر کے

اور خاص موقع کے

اب تو:
کیژوئل، فارمل، نارمل،
سلیپ ویئر، اسپورٹس ویئر،
پارٹی ویئر، سوئمنگ، جاگنگ، موسیقی ڈریس —
وغیرہ وغیرہ!

ہم زندگی آسان بنانے چلے تھے،
مگر وہ بھی کپڑوں کی طرح پیچیدہ ہو گئی ہے۔

بچپن میں پیسے ضرور کم تھے،
مگر اُس بچپن میں دم تھا۔

آج جیب میں مہنگا سے مہنگا موبائل ہے،
مگر وہ بچپن والی "مسکراہٹ" نہیں ہے۔

نہ گلیکسی، نہ وڈیلال، نہ نیچرل آئس کریم تھی،
مگر گھر پر جمی ہوئی آئس کریم کا مزہ ہی الگ تھا۔

آج اپنی بائیکس اور گاڑیوں میں گھومتے ہیں،
مگر کرائے کی سائیکل کا مزہ ہی کچھ اور تھا!
بچپن میں پیسے ضرور کم تھے —
مگر یارو، اُس بچپن میں دم تھا…! 😊🙏🏻
منقول

Gourious Actress ❤️ Kira Shannon
17/10/2025

Gourious Actress ❤️
Kira Shannon

Address

Multan
59201

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when wow.life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category