Naveed ur Rehman

Naveed ur Rehman Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naveed ur Rehman, Multan.

GIS & Remote Sensing enthusiast turning spatial data into meaningful insights and real-world solutions, with a growing interest in Geo AI and modern Web GIS technologies !

پیش خدمت ہے اب کی بار عمران نیازی کی  جاندار اور شاندار سیاسی  نالائقی۔۔اس شخص نے پختونوں کو تباہ کرکے رکھا ہے۔۔ڈاکو، چو...
24/08/2025

پیش خدمت ہے اب کی بار عمران نیازی کی جاندار اور شاندار سیاسی نالائقی۔۔
اس شخص نے پختونوں کو تباہ کرکے رکھا ہے۔۔
ڈاکو، چور اور اب منتیں ترلے۔۔۔۔مل
ماشاءللہ۔۔۔۔۔۔۔
بس یہی ہو تیرے ساتھ۔۔۔۔۔

19/08/2025

Welcome to Rehman Affairs!!

Rehman Affairs
13/08/2025

Rehman Affairs

Check out Rehman Affairs’s video.

12/08/2025

Do not mind behavior of others!!

Rehman Affairs

09/08/2025

Affairs

"لوگوں کو نواز دو!" — اور مریم نے نواز دیا 💚جب نعرہ صرف الفاظ نہ رہے،جب وعدہ صرف تقریر نہ رہے،جب خدمت صرف دعویٰ نہ ہو —ت...
07/08/2025

"لوگوں کو نواز دو!" — اور مریم نے نواز دیا 💚

جب نعرہ صرف الفاظ نہ رہے،
جب وعدہ صرف تقریر نہ رہے،
جب خدمت صرف دعویٰ نہ ہو —
تو پھر کہانی بنتی ہے مریم نواز کی!

🌟 کسی نے کہا تھا:
"لوگوں کو نواز دو!"

اور مریم نے 50,000 گھرانوں کو بلا سود قرضے دے کر
اس نعرے کو حقیقت میں بدل دیا۔

🟢 یہ عمل ایک سیاسی شو نہیں —
یہ ایک بیٹی کا عزم ہے،
ایک ماں جیسا درد ہے،
اور عوام کے لیے وہ سوچ ہے جو روایتی سیاست سے آگے نکل چکی ہے۔

🔹 یہ قرضے نہیں،
یہ عزت کا راستہ ہیں،
خودکفالت کا آغاز ہیں،
نئی امیدوں کی بنیاد ہیں۔

جب معیشت مشکل میں ہو،
جب نوجوان بے روزگار ہوں،
جب خواتین محدود ہوں…
تو ایسے اقدام چراغ بن جاتے ہیں —
اندھیرے میں راہ دکھانے والے چراغ۔

👩‍👩‍👦‍👦 50,000 خاندان،
🌱 50,000 چھوٹے خواب،
💼 50,000 نئے آغاز —
اور ایک ہی سوچ:
"خوددار پاکستان، خود کفیل عوام!"

مریم نے ثابت کر دیا کہ اگر نیت ہو،
تو صرف وزارتوں سے نہیں،
دلوں سے بھی حکمرانی کی جا سکتی ہے۔

---



Rehman Affairs

✳️ پاکستان-افغانستان تعلقات، خارجہ پالیسی اور پشتون مفاد — چند اہم سوالاتآج جب افغانستان کے وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان م...
05/08/2025

✳️ پاکستان-افغانستان تعلقات، خارجہ پالیسی اور پشتون مفاد — چند اہم سوالات

آج جب افغانستان کے وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان ملتوی ہو چکا ہے، ہمیں اپنی خارجہ پالیسی، قومی مفاد، اور پشتون بیلٹ کے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں سات نکات میں وہ پہلو واضح کیے جا رہے ہیں جن پر ہر باشعور پاکستانی کو غور کرنا چاہیے:

---

🔹 1. افغان وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان ملتوی ہونا — ایک قابل غور اشارہ

افغان وزیر خارجہ کا دورہ ایسے وقت میں ملتوی ہونا تشویشناک ہے، جب پاکستان کو خطے میں پائیدار امن اور مضبوط تعلقات کی ضرورت ہے۔ پاکستان ہمیشہ افغانستان کے ساتھ احترام، برابری، اور تعاون کا خواہاں رہا ہے، لیکن ایسے مواقع پر داخلی پالیسی میں تضاد یا ادارہ جاتی تذبذب ہماری کوششوں کو متاثر کرتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف سفارتی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ سرحدی علاقوں کی معیشت اور عوامی اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے۔

---

🔹 2. پاک-افغان تعلقات میں مشکلات — داخلی پالیسی کی کمزوری یا دوہرا معیار؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان رشتہ محض سرحدی نہیں بلکہ نسلی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہے۔
جب بھی ان تعلقات کو بہتر بنانے کی بات آتی ہے، ہمارے پالیسی ساز شکوک و شبہات کا جال بچھا دیتے ہیں۔
کیا یہ رویہ پاکستان کے مفاد میں ہے؟ یا یہ صرف پرانے نظریاتی خوف ہیں جن کا آج کی دنیا میں کوئی عملی فائدہ نہیں؟
خطے میں امن، تجارت اور استحکام صرف باہمی عزت اور اعتماد سے ممکن ہے، نہ کہ شک پر مبنی پالیسی سے۔

---

🔹 3. ہندوستان سے تعلقات میں نرمی — جبکہ افغانستان سے محتاط رویہ؟

یہ ایک کھلا تضاد ہے کہ ہندوستان کی طرف سے تعلقات کی بحالی کی بات آتے ہی ہماری فارن پالیسی فوراً حرکت میں آ جاتی ہے، باوجود اس کے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
اس کے برعکس، افغانستان کے ساتھ دوستانہ بات چیت کی ہر کوشش کو سیکورٹی خطرات اور سیاسی حساسیت کے پردے میں چھپا دیا جاتا ہے۔
یہ دوہرا معیار پاکستان کے اندر بھی بےچینی اور قوم پر سوالات پیدا کر رہا ہے۔
کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو علاقائی حقائق اور عوامی جذبات کے مطابق ترتیب دیں؟

---

🔹 4. پاکستان کی فارن پالیسی کا عالمی انحصار — خود مختاری یا مجبوری؟

ہماری خارجہ پالیسی طویل عرصے سے امریکہ، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف دیکھتی رہی ہے۔
مگر یہ پالیسی ہمیں خطے میں تنہا کر رہی ہے۔
جب تک ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ برابری اور خودمختاری کی بنیاد پر تعلقات قائم نہیں کرتے، ہم کبھی عالمی سطح پر باوقار مقام حاصل نہیں کر سکتے۔
افغانستان جیسے قریبی ملک کو نظرانداز کرنا، صرف اس لیے کہ مغربی دنیا اسے تسلیم نہیں کرتی، ایک خودساختہ پالیسی کمزوری ہے۔

---

🔹 5. پشتون قوم کا مؤقف — نظرانداز کیوں؟

افغانستان اور پاکستان کے درمیان پشتون قوم ایک قدرتی پل کا کردار ادا کر سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے اسی قوم کو ہر بار قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔
جب تعلقات خراب ہوں تو سرحدی پشتون سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں — بارڈر بند، کاروبار ختم، شناخت مشکوک، اور سیاسی آواز دبا دی جاتی ہے۔
کیا یہ پالیسی درست ہے؟ کیا ہم ایک باشعور، محب وطن قوم کو اپنے ہی ملک میں اجنبی بنانے کی پالیسی پر چل رہے ہیں؟
پشتونوں کو پاکستان کے اندر بھی عزت دی جائے اور ان کی سرحد پار رشتہ داریوں کو سفارتی ورثہ سمجھا جائے، نہ کہ سیکیورٹی رسک۔

---

🔹 6. پاکستان کے قومی مفادات — امن، تجارت اور ہمسائیگی

پاکستان کا حقیقی فائدہ اسی میں ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ، بااعتماد اور پائیدار تعلقات قائم کرے۔
یہ تعلقات نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط کریں گے بلکہ سرحدی علاقوں میں غربت، بے روزگاری اور شدت پسندی کو بھی کم کریں گے۔
سی پیک، وسطی ایشیائی تجارت، اور علاقائی روابط کا خواب تبھی پورا ہو گا جب ہم افغانستان کو ایک شراکت دار کے طور پر دیکھیں نہ کہ محض ایک مسئلہ۔

---

🔹 7. آگے کا راستہ — خارجہ پالیسی میں خود داری، توازن اور حقیقت پسندی

اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اپنی فارن پالیسی کو نئے اصولوں پر ترتیب دے:

ہندوستان کی طرح افغانستان کے ساتھ بھی برابری اور اعتماد کی بنیاد پر بات ہو۔

پشتون قوم کو سیاسی اور سفارتی سسٹم کا حصہ بنایا جائے، صرف سیکیورٹی زاویے سے نہ دیکھا جائے۔

فارن پالیسی کو عوامی مفاد اور قومی خودمختاری پر مبنی بنایا جائے، نہ کہ عالمی دباؤ یا وقتی فائدے پر۔

🔚 فیصلہ اب قوم کو کرنا ہے — غلامی یا خودداری؟

اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو امریکہ، اقوام متحدہ یا عالمی مالیاتی اداروں کے اشاروں پر نہیں، بلکہ اپنے قومی مفاد، زمینی حقیقتوں اور علاقائی وحدت پر استوار کرے۔

افغانستان ہمارے دروازے کے ساتھ جڑا ہوا برادر ملک ہے۔ اس کے ساتھ احترام، برابری اور تعاون کا رشتہ نہ صرف ہماری ضرورت ہے، بلکہ خطے کے امن اور ترقی کی ضمانت بھی ہے۔
ہندوستان جیسے ملک سے تعلقات کی بحالی پر ہم ہر سطح پر تیار ہو جاتے ہیں، مگر افغانستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر ہمیں شکوک اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ دوہرا معیار ہمیں عالمی اسٹیج پر کمزور اور خطے میں تنہا کر رہا ہے۔

جہاں تک پشتون قوم کی بات ہے، تو وہ ہمیشہ پاکستان کی یکجہتی، سرحدی استحکام، اور ثقافتی ہم آہنگی کا اہم جز رہی ہے۔
افغانستان کے ساتھ تاریخی رشتوں کو بنیاد بنا کر، پشتون بیلٹ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن، تجارت، تعلیم اور سفارت کاری کا پُل بن سکتا ہے —
اگر ہم انہیں شک سے نہیں، اعتماد سے دیکھیں۔

پشتون قوم کو صرف سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا ایک تنگ نظری ہے۔
انہیں پاکستان کے اندر ایک فعال، محب وطن، اور ترقی پسند شراکت دار کی حیثیت دی جانی چاہیے —
کیونکہ وہ نہ تو ریاست سے باہر ہیں، نہ ریاست کے مخالف۔ وہ اسی وطن کا حصہ ہیں، اور اسی کی ترقی میں ان کا خون شامل ہے۔

لہٰذا اب سوال یہ نہیں کہ افغانستان سے تعلق رکھنا چاہیے یا نہیں،
بلکہ سوال یہ ہے:

کیا ہم آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں یا ہمیشہ دوسروں کی مرضی پر چلنا؟

کیا ہم ہمسایوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں یا ہمیشہ تنہائی میں رہنا؟

کیا ہم ہر قوم کو باوقار شراکت دار بنانا چاہتے ہیں یا مخصوص شناختوں پر شک کرتے رہیں گے؟

> ❝ سوال اٹھانا حب الوطنی ہے، خاموشی اگر غداری نہیں تو بزدلی ضرور ہے ❞
❝ وقت آ گیا ہے: ہم اپنی خارجہ پالیسی کو قوم کے ہاتھ میں دیں — یا اسے ہمیشہ غلامی میں رہنے دیں ❞

#خودمختارپاکستان #پاکستانکیخارجہپالیسی

Rehman Affairs
Pakhtoon Digital Geo News Urdu Afghanistan News.Net

02/08/2025


Editing
Drama Ehd e Wafa mn Kia dikaya giya h?

عقل بیچ کر روٹی خریدییہ ملک اب سائنس، ٹیکنالوجی، اور تعلیم کا مرکز نہیں، بلکہ ترجیحات کے جنازے کا میدان ہے۔یہاں خواب نہی...
21/07/2025

عقل بیچ کر روٹی خریدی

یہ ملک اب سائنس، ٹیکنالوجی، اور تعلیم کا مرکز نہیں، بلکہ ترجیحات کے جنازے کا میدان ہے۔
یہاں خواب نہیں بکتے، رکشے اور ریڑھیاں بانٹی جاتی ہیں۔

➊ سائنسدان = ریڑھی بان

جس نے لیبارٹری میں دماغ جلایا، اسے اب چنے بیچنے کی اجازت ہے۔
ریڑھی پر لکھا ہوگا:
"PhD in Physics – Buy 1 samosa, get 1 quantum free"
سائنس اگر بھوکا مار رہی ہو، تو دہی بڑے ہی کافی ہیں۔

➋ انجینئر = مرغا فارم اسکالر

ڈیم، پل، اور سڑکیں بعد میں، پہلے دو بھینسیں، پانچ مرغیاں۔
"سول انجینئر" اب "سوپ انجینئر" بن چکا۔
جس نے آٹوکیڈ سیکھا، وہ اب چارہ کاٹ رہا ہے۔

➌ آئی ٹی ایکسپرٹ = ٹریکٹر ڈرائیور

چھوڑ، ہل تھام۔python
!Machine Learning = زمین کو برابر کرنے کی مشین
اگر ائے۔Wifi کوڈنگ کے بجائے کھاد ڈالو، شاید فصل میں

➍ پوزیشن ہولڈر = رکشہ راج

ٹاپ کرو، گولڈ میڈل لو، اور انعام میں... رکشے کی چابی!
یونیورسٹی سے نکل کر اسٹینڈ پر کھڑے ہو جاؤ:
"ٹاپر رکشہ، ذہین کرایہ دار"

➎ عوام = لنگر سیریز

دو وقت کی روٹی؟ آ جاؤ، لنگر حاضر ہے۔
سوچنا چھوڑ دو، سوال نہ کرو، بس پلیٹ پکڑو اور چپ رہو۔
ریاست کہتی ہے:
"بھوک تو مٹ رہی ہے، باقی سب بعد کی بات ہے!"

---

یہ وہ نظام ہے جہاں عقل، ہنر، تعلیم سب نیلام۔
بس ایک ہی نعرہ گونجتا ہے:
"عقل بیچ کر روٹی خریدی"



















حق کے راستے میں رکاوٹیں اور عبدالعلی خان کا روشن کردارجب حق بات کہنے والا زبان کھولتا ہے تو ظالموں کے ایوان ہلنے لگتے ہی...
17/07/2025

حق کے راستے میں رکاوٹیں اور عبدالعلی خان کا روشن کردار

جب حق بات کہنے والا زبان کھولتا ہے تو ظالموں کے ایوان ہلنے لگتے ہیں، اور یہی کچھ عبدالعلی خان کے ساتھ ہوا۔ ایس ایچ او عبدالعلی خان، جو اپنے فرائض میں دیانت، شرافت، قانون پسندی اور عوامی خدمت کے اعلیٰ معیار پر فائز رہے، اُنہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا۔

شاندانہ گلزار، جو خود کو عوامی نمائندہ کہتی ہیں، اُنہوں نے عبدالعلی خان کے خلاف ایسی حرکات کیں جنہیں "کالے کرتوت" کہنا بھی کم ہوگا۔ نہ صرف وہ حق کے راستے میں رکاوٹ بنی رہیں بلکہ اپنی سیاسی طاقت کو استعمال کر کے ایک فرض شناس افسر کے وقار کو مجروح کرنے کی کوشش کی۔ جب ان کی سازشیں بے نقاب ہوئیں اور عوام نے عبدالعلی خان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، تو شاندانہ گلزار نے احتجاجی ریلی نکالنے کی دھمکیاں دیں تاکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

لیکن سچ ہمیشہ چمکتا ہے۔

عوام عبدالعلی خان کو ایک ایماندار، باکردار اور فرض شناس پولیس افسر کے طور پر جانتی ہے جنہوں نے نہ صرف قانون کی بالادستی کو برقرار رکھا بلکہ علاقے کے لوگوں کو تحفظ کا احساس بھی دیا۔ ان کے کردار کی گواہی عوامی حمایت اور سوشل میڈیا پر اُٹھنے والی آوازیں دے رہی ہیں۔

ہم شاندانہ گلزار جیسے کرداروں کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں اور عبدالعلی خان جیسے سپاہیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو ظلم کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔

✊ انصاف کے لیے آواز بلند کرتے رہیں۔
📢 عبدالعلی خان کے ساتھ کھڑے ہوں، حق کے علمبردار بنیں۔

Address

Multan
80000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naveed ur Rehman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share