02/06/2026
مڈل کلاس لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ تربیت ہے ۔۔۔۔ دو پیدا کریں یا چار ۔ تربیت نہیں کرتے ۔
جن کی شادیاں کررہے ہوتے ہیں انکی بھی تربیت کیا کریں کہ آپس میں نہیں نبھ رہی ۔۔۔ گزارا مشکل ہے تو مت آزمائش میں ڈالیں بچوں کو ۔ پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے فیصلہ کرلیں مل بیٹھ کے طےکرلیں کہ ساتھ رہنا ہے یا نہیں رہنا۔ دس دس بچے پیدا کرنے کے بعد ہوئی طلاقوں کا خمیازہ کئی نسلیں بھگتتی ہیں ۔
مت بچوں کو ٹارچر کریں کہ جیسے بھی ہوتی ہے شادی نبھاؤ ورنہ ہمارا مرا منہ دیکھو گے۔
شادیاں اپنی مرضی سے کیں ہیں یا کسی کے دباؤ میں کی ۔۔۔ یہ ہمارا موضوع ہی نہیں اللّٰہ نے اختیار دیا ہوا ہے آپکو ۔
لیکن جب کرلی ہے بچے ہوگئےہیں اب ماں باپ بن کے جئیں ۔کیونکہ وہ بچے آپکی وجہ سے دنیا میں آئے ہیں خود بخود نہیں پیدا ہوگئے۔
دس بارہ بچے پیدا کرنے کے بعد آپکو محبت راس آئے کہ جدائی ۔۔۔۔۔ شادی توڑنا ظلم ہے ان بچوں پر ۔
حالیہ کیس میں ماں باپ جاہل ہیں جن کو بچوں سے پہلے فیصلہ لینا نہیں آیا ۔ آٹھ بچے پیدا کرنے کے بعد ماں لاتعلق ہوکر دوسرے مرد کے ساتھ چل پڑی ہے ۔ جبکہ پیچھے جوان بچیاں ہیں انکی شادیوں کی ذمی داریاں ہیں ۔ لیکن پھر بھی ہر چیز سے لاتعلق ہوکر جارہی ہے ۔۔۔۔کیوں ۔۔؟؟؟
معلوم نہیں
دوسری طرف بچیوں کا ردعمل بھی صاف بتا رہا ہے کہ پوری طرح ٹرین کرکے عدالت لایا گیا ہے ۔ باقاعدہ سینہ کوبی کررہی ہیں جیسے انکا کوئی مر گیا ہو ۔ یہ سب بچے خود سے نہیں کرسکتے انکو سکھایا گیا ہے ۔ بچوں میں حیرانی سے زیادہ پری پلینڈ ماتم نظر آرہا ہے ۔ بھائی ماں شادی کررہی ہے مر تو نہیں گئی کہ ایسی صف ماتم بچھا لی ۔
اندر کی کہانی کیا ہے اللّٰہ ہی جانے ۔
لیکن بےجوڑ شادیوں کا انجام اکثر ایسا ہی نکلتا ہے ۔
اسلئے میں کہتی ہوں شادیاں کرو بچے پیدا کرنے کی تحریک نہ بنو ۔ شادیاں زوجین کے سکھ کا نام ہے بچوں کے ٹوکروں کا نہیں ۔
#