ڈوگ درہ

ڈوگ درہ sorry

kia samjy😃😃
27/02/2019

kia samjy😃😃

27/02/2019

شعیب ملک کےعلاوہ تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ انڈیا کی کوئی چیز استعمال نہ کریں..

26/02/2019

درخت تھے بندر تھے جو بھی تھے پاک سرزمین پر
حملہ ہواہے


— feeling confident.

16/02/2019
ستا د سبا وعده منم!! په تا باور هم لرم‏زه مې د خپل وجود !! سبا باندې باور نه لرم‏جلال امرخېل😢
29/12/2018

ستا د سبا وعده منم!! په تا باور هم لرم

‏زه مې د خپل وجود !! سبا باندې باور نه لرم

‏جلال امرخېل😢

.ماشااللہ ....سبحان اللہلکہ ونہ مستقل پہ خپل مقام یمکہ خزان راباندے راشی کہ بہار خزانے د بادشاہانو دے نصیب شہما عاجز لرہ...
29/12/2018

.ماشااللہ ....سبحان اللہ

لکہ ونہ مستقل پہ خپل مقام یم
کہ خزان راباندے راشی کہ بہار
خزانے د بادشاہانو دے نصیب شہ
ما عاجز لرہ کافی دہ رب دیدار

سہ اوشو کہ جمے دے اوس ھم وطن خکولے دے
28/12/2018

سہ اوشو کہ جمے دے
اوس ھم وطن خکولے دے

28/12/2018

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ ۔
آج ڈوگدرہ برڈوگ میں ایک اھم اجلاس ھوا جس میں علاقہ کے مشران اور نوجوانوں نے شرکت کی۔اجلاس میں فحاشی کے خلاف بات چیت ھوا۔اور عورتوں کو بازار جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ۔کہ جس دکان کو سودا کیلئے عورتیں آگئے۔تو اس دکاندارکے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی اور اس کو اپنا کاروبار کو ختم کرنا پڑےگا .لہذا اپ لوگ یی پیغام سب کو پہنچاے
منجاب ۔نوجوانان محافظ وطن Dir U

27/12/2018

ناکامی کا خوف
ایک سیاح کو سری لنکا کے شہر کینڈی میں ہاتھیوں کے تحفظ کی پناہ گاہ میں جانے کا اتفاق ہے جہاں پر اُن ہاتھیوں کے بچوں کو رکھا جاتا ہے جن کے والدین کو شکاریوں نے مار دیا تھا ۔ اِن میں سے کچھ ہاتھی بہت بڑے اور وزن میں بہت بھاری تھے ۔ اُن کے ایک پاؤں میں زنجیر بندھی ہوئی تھی ۔ سیاح نے ہاتھیوں کا خیال رکھنے والے سے پوچھا کہ کیایہ بھاگنے کی کوشش نہیں کرتے تو اُس نے جواب دیا کہ جب یہ چھوٹے تھے تو ان کے پاؤں میں زنجیر باندھی جاتی تھی تب یہ بھاگنے کی کوشش کرتے تھے لیکن یہ ناکام ہو جاتے تھے ۔ اب ہاتھی بڑے بھی ہوگئے ہیں لیکن وہ آزادی کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ ہاتھیوں کو اس بات کا یقین تھا کہ ہمیں کبھی آزادی نہیں مل پائے گی کیونکہ زنجیر نے ان کو سوچ کو بھی تالا لگا دیا تھا ۔ اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ خوف کا اثر سب سے پہلے سوچ پر ہوتا ہے اور ناکامی کا خوف کامیابی سے دور کر دیتا ہے ۔
کامیابی کی راہ میں حائل ہونے والی سب سے بڑی رکاوٹ کا نام خوف ہے۔دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی خوف میں مبتلا ہے۔خوف زیادہ تر غیرحقیقی اور بے بنیادہوتے ہیں۔انسان دنیا میں صرف بلندآوازکا خوف اور بلند ی سے گرنے کا خوف لے کر پیدا ہواہے دیگر خوف اُس نے فرضی اپنائے ہوتے ہیں۔فرضی خوف انسان کے اندراپناہی احترام کم کر دیتے ہیں اور خود احترامی کی کمی ذاتی بہتری کے عمل کو روک دیتی ہے۔خوف زدہ انسان اپنی ذات پر اعتماد نہیں کرتا ۔انسانی ذہن میں ایک پاور ہاؤس کی طرح توانائی ہوتی ہے اور خوف زدہ انسان کی توانائی مثبت کام کی بجائے خوف پر صرف ہوجاتی ہے۔حالت خوف میں ذہن کے خلیوں کو پورا خون اور آکسیجن نہیں ملتی ہے تو ذہن اپنے افعال بہترطورپر انجام نہیں دے پاتاہے۔مختلف انسان مختلف خوف میں مبتلاہوتے ہیں جو کہ انسان کی زندگی کو متاثرکرتے ہیں۔ان میں سے ایک خوف ناکامی کا خوف بھی ہے۔ناکامی کا خوف ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے روک دیتی ہے۔
ناکامی کے خوف کی ایک وجہ والدین کا غیر صحت مندانہ رویہ بھی ہوتا ہے۔جب والدین بچوں کے نئے تجربات کی ناکامی پر ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں تو بچوں میں ناکامی کا خوف نمو پا جاتا ہے۔ناکامی کی ایک وجہ ناکام تجربہ بھی ہوتا ہے،مثال کے طور پر ایک فردکئی مہینے پہلے بڑے مجمے کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں ناکام ہو گیا توفرد میں ناکامی کا خوف اتنازیادہ بڑھ گیا کہ وہ نئے تجربات کرنے سے ڈرتا ہے۔اس خوف کا انداز انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب انسان کوئی نئے پراجیکٹ لینے سے گھبراتاہے ناکامی کی وجہ سے اُس میں خود اعتمادی کی کمی ہو جاتی ہے اور ڈرتاہے کہ وہ بہترطورپران کو مکمل نہیں کر پائے گا۔انسان کو اگر بہترین حالات بھی مل جائیں تو بھی آگے بڑھ نہیں پاتے ۔ناکامی کاخوف انسان کے اندر مایوسی،غصہ،اُداسی،پچھتاوااور شرم کے احساسات کو جنم دیتا ہے ۔ انسان یہ سوچنا شروع ہوجاتا ہے کہ لوگ اس کے اور اس کی قابلیت کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ و ہ سیکھنے کے نئے مواقع بھی کھو دیتا ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیت متاثرہوتی ہے۔وہ سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان ناکامی کے خوف میں اس قدرمبتلاہو جاتاہے کہ اس کے جسمانی نظام میں تبدیلیاںآنا شروع ہوجاتی ہیں جیسا کہ سردرد، نظام انہضام کا خراب ہو نااوردل کی دھڑکن کا بڑھ جاناوغیرہ۔
ناکامی انسان کو تب ہی آگے بڑھنے سے روکتی ہے جب انسان ناکامی کے خوف کواپنے اُوپر حاوی کر لیتا ہے۔اب یہ انسان پرمنحصر ہے کہ وہ ناکام ہونے پر کس طرح کے ردعمل کا اظہار کرتاہے ۔دنیا میں ایسے بہت سے کامیاب افرادکی مثالیں موجودہیں جنہوں نے ناکام ہونے کے بعدبے شمار کامیابیاں سمیٹیں،جیسا کہ مائیکل جورڈن جو کہ باسکٹ بال کا عظیم کھلاڑی ہے،اس کو سکول کے کوچ نے یہ کہہ کر ٹیم سے نکال دیاتھاکہ اس میں باسکٹ بال کھیلنے کی مہارت نہیں ہے۔آج والٹ ڈزنی پوری دنیا میں اپنے منفرد کارٹون کرداروں کی وجہ سے مشہور ہے اسکو اخبار میں کارٹونسٹ کی نوکری سے اس لیے برخاست کر دیا گیاکہ اس میں تخلیقی صلاحیت موجود نہیں ہے۔

ناکام ہونے کے فائدے بھی ہیں،سب سے پہلافائدہ تو یہ ہے کہ جو انسان ناکام نہیں ہوتاوہ کامیابی سے صحیح معنوں میں لطف اندوزنہیں ہو پاتا ۔ناکام ہونے سے انسان کو پتا چلتا ہے کہ وہ کتنا مضبوط ہے اور کون سے لوگ اس کے ساتھ مخلص ہیں ناکامی کے خوف پر قابو پانے کے لیے سب سے اہم ہے کہ انسان ناکامی پر شرم محسوس نہ کرے بلکہ ناکامی کو حوصلے سے قبول کرے۔ اپنے اوپر یقین کریں اور سوچ کا مثبت انداز اپنائیں تاکہ منفی سوچیں ذہن میں جگہ نہ بنائیں۔ ناکامی سیکھاتی ہے کہ کامیاب کیسے ہونا ہے ایڈسن جب بار بار بلب بنانے میں نا کام ہواتوتنقیدکاایڈسن نے جوجواب دیا وہ مثبت سوچ کی بہترین مثال ہے ’’میں نے بلب بنانے کے ایک ہزار ایسے طریقے سیکھے ہیں جن سے بلب نہیں بنایاجا سکتا‘‘ سب سے پہلے چیک کریں کہ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا وہ حقیقی طور پر حاصل کرنا ممکن ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو ناکامی کی وجوہات پر نظر ڈالیں جو کام کرتے ہوئے غلطیاں ہوئیں ان کو نہ دہرائیں۔ اپنے بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کے راستے میں چھوٹے چھوٹے مقصد بنا لیں‘ پھر ان کو حاصل کر یں اس طرح جب وہ مقصد حاصل ہو جائیں گے تو اعتماد میں اضافہ ہو گا۔اپنی مہارتوں میں کمال حاصل کریں ، مائیکل گلڈ ویل کا کہنا ہے ’’کسی بھی کام میں جو مہارت حاصل کرنی ہے تو کم ازکم دس ہزار گھنٹے اُسے دیں‘‘ اپنے آپ سے مثبت گفتگو کریں۔ پر امید اور باہمت رہیں اپنے خوف اور ڈر کے حوالے سے قابل بھروسہ دوستوں سے مشورہ لیں اس طرح خود اعتمادی حاصل کر لیں گے اور خوف ختم ہو جائے گا۔

26/12/2018

څنګه په کړس خندا دې وکړه،
په زړه دې نشته د یارۍ سوي داغونه..!!

26/12/2018

‏په تا میئن نه یمه هسې مې عادت داسې دی!
زه چې هر چا لــره کاتــــه کوم خـــواږه کومه

گل وطن

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ڈوگ درہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ڈوگ درہ:

Share