17/08/2026
مدینے کی ریاست — ایک تصور، ایک کردار
عمران خان کہا کرتے تھے کہ وہ پاکستان کو مدینے کی ریاست کے اصولوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔ مدینے کی ریاست صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ قربت، سادگی، انصاف اور خدمت کا نام ہے۔
یہی وہ تصور تھا جس کی ایک جھلک اس وقت نظر آتی تھی جب ایک وزیراعظم غیر ضروری پروٹوکول سے دور، عوام کے درمیان پہنچتا، خود گاڑی چلاتا، عام لوگوں سے ملتا، غریبوں کا حال پوچھتا اور ان کے مسائل اور مشکلات سنتا تھا۔
ہم پاکستان میں بھی ایسی ہی ریاست چاہتے ہیں، جہاں امیر اور غریب میں فرق نہ ہو، حکمران اور عوام کے درمیان فاصلے نہ ہوں۔ ہمارا لیڈر عوام کے درمیان بغیر غیر ضروری پروٹوکول کے جائے، ان کے مسائل سنے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہو۔
ہمیں ایسا ہی لیڈر چاہیے، جیسا جناب عمران خان صاحب تھے۔ یہی مدینے کی ریاست کا اصل تصور ہے—سادگی، انصاف، عوام سے قربت اور خدمت۔ یہی ہمارا مطالبہ ہے، اور کچھ نہیں۔
Suriya Bibi
Muhammad Sohail Afridi