13/05/2026
Read caption must….
ایک عزیز انسان، ایک عظیم شاعر اور ایک پیارا دوست آج گریجویٹ ہو گیا۔ ❤️
میرے ساتھ بہت سے دوست گریجویٹ ہو چکے ہیں اور اکثر لوگوں کا یہی سوال ہوتا ہے کہ “اب تک یونیورسٹی میں کیوں ہو؟”
تو بھائی بات صرف اتنی سی ہے کہ گھر جا کر آخر کرنا کیا ہے؟ باہر کی زندگی اتنی آسان نہیں جتنی لوگ سمجھتے ہیں۔ یونیورسٹی لائف ختم ہوتے ہی زندگی ٹینشن، ذمہ داریوں اور بے روزگاری کے امتحان سے بھر جاتی ہے۔
الحمدللہ، یونیورسٹی میں رہ کر صرف وقت نہیں گزارا، جابز کے لیے اپلائی بھی کرتے رہے، چاہے پرائیویٹ ہوں یا گورنمنٹ۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ آج کل نوکریاں کیسے ملتی ہیں… نہ ٹیلنٹ دیکھا جاتا ہے، نہ میرٹ، نہ محنت۔
تو آج اپنے دوست قاسم کو “بے روزگار زندگی ” میں داخل ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اور ایک بات تو سچ ہے…
ہہمارے پٹھان اگر ایک بار یونیورسٹی آ جائیں تو پھر یا ڈگری پہ ڈگری لیتے رہتے ہیں یا پرماننٹ جاب لگنے تک وہیں کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔
سب دوستوں کو بہت بہت مبارک ہو۔
زندگی کو انجوائے کرو، خوش رہو، ہنسو، دوستیاں نبھاؤ۔
لوگ کیا کہتے ہیں اس کی فکر نہ کرو، نہ وہ ہمارے بل بھرتے ہیں نہ ہماری زندگی آسان کرتے ہیں۔
تو ایک بار پھر…
لوگوں کی باتوں کو سائیڈ پر رکھو اور اپنی زندگی کو انجوائے کرو۔
بھار میں جائیں ایسے لوگ اور ان کی ایڈوائس۔
زندگی اپنی ہے، خوشی اپنی ہے، فیصلے اپنے ہیں۔
لوگ صرف باتیں کرتے ہیں، نہ وہ آپ کے حالات جانتے ہیں نہ آپ کی جدوجہد۔
اس لیے لوگوں کی سوچ سے زیادہ اپنی خوشی اور سکون کو اہمیت دو۔ ✨🌺🌸🌺🌸