04/06/2026
آواران میں انتقامی سیاست نے تمام حدیں پار کر دیں، میرٹ پر بھرتی نوجوان کو افغانستان بارڈر منتقل کر دیا گیا۔
ضلع آواران میں انتقامی سیاست نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اسلم جان گچکی کے دور میں میر عبدالمجید بزنجو کے قریبی ساتھیوں میں شامل ایک جونیئر کلرک ظفیر کو لاکھڑا (لسبیلہ) جبکہ سب انجینئر محمد صادق نندوانی کو آواران سے خضدار منتقل کیا گیا تھا، جس کا ذکر آج بھی مختلف سیاسی و سماجی مجالس میں کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بیلہ، آواران اور خضدار کے درمیان فاصلے اور انتظامی صورتحال کے لحاظ سے کوئی غیر معمولی فرق موجود نہیں تھا۔
تاہم حالیہ واقعہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ محکمہ قانون بلوچستان میں سیکریٹری قانون کے دو نمائندوں اور ضلع آواران کے تین نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نے مکمل شفافیت کے ساتھ ٹیسٹ اور انٹرویو کے عمل کے بعد پذیر اقبال کو کمپیوٹر آپریٹر کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دی اور اس حوالے سے باقاعدہ منٹس بھی جاری کیے گئے۔
لیکن تعیناتی کے صرف پانچ ماہ بعد پذیر اقبال کا تبادلہ ضلع آواران سے افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ اطلاعات کے مطابق محکمہ قانون کے ایک ذمہ دار اہلکار نے ضلع قلعہ عبداللہ کے ڈسٹرکٹ اٹارنی سے رابطہ کرکے ہدایت دی کہ کسی بھی صورت میں پذیر اقبال کی تنخواہ فعال نہ کی جائے۔
ذرائع کے مطابق سابق ڈسٹرکٹ اٹارنی آواران رہ چکے ہیں، پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایک ناکام امیدوار کے حق میں سابقہ تاریخ سے تقرری کا آرڈر جاری کریں، بصورت دیگر پذیر اقبال کی تنخواہ جاری نہیں کی جائے گی۔
یہ طرزِ عمل نہ صرف میرٹ، انصاف اور قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک نوجوان ملازم کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہے۔ اہلِ علاقہ آواران وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکریٹری بلوچستان اور بلوچستان ہائی کورٹ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مذکورہ نوجوان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے، ان کا تبادلہ منسوخ کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔
اہلِ علاقہ آواران