Click Balochistan

Click Balochistan آج کی بڑی خبر کوئٹہ سے۔
📡 Daily News from the Heart of Quetta Balochistan
Stay Informed.

آواران میں انتقامی سیاست نے تمام حدیں پار کر دیں، میرٹ پر بھرتی نوجوان کو افغانستان بارڈر منتقل کر دیا گیا۔ضلع آواران می...
04/06/2026

آواران میں انتقامی سیاست نے تمام حدیں پار کر دیں، میرٹ پر بھرتی نوجوان کو افغانستان بارڈر منتقل کر دیا گیا۔

ضلع آواران میں انتقامی سیاست نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اسلم جان گچکی کے دور میں میر عبدالمجید بزنجو کے قریبی ساتھیوں میں شامل ایک جونیئر کلرک ظفیر کو لاکھڑا (لسبیلہ) جبکہ سب انجینئر محمد صادق نندوانی کو آواران سے خضدار منتقل کیا گیا تھا، جس کا ذکر آج بھی مختلف سیاسی و سماجی مجالس میں کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بیلہ، آواران اور خضدار کے درمیان فاصلے اور انتظامی صورتحال کے لحاظ سے کوئی غیر معمولی فرق موجود نہیں تھا۔

تاہم حالیہ واقعہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ محکمہ قانون بلوچستان میں سیکریٹری قانون کے دو نمائندوں اور ضلع آواران کے تین نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نے مکمل شفافیت کے ساتھ ٹیسٹ اور انٹرویو کے عمل کے بعد پذیر اقبال کو کمپیوٹر آپریٹر کے عہدے پر تعینات کرنے کی منظوری دی اور اس حوالے سے باقاعدہ منٹس بھی جاری کیے گئے۔

لیکن تعیناتی کے صرف پانچ ماہ بعد پذیر اقبال کا تبادلہ ضلع آواران سے افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ اطلاعات کے مطابق محکمہ قانون کے ایک ذمہ دار اہلکار نے ضلع قلعہ عبداللہ کے ڈسٹرکٹ اٹارنی سے رابطہ کرکے ہدایت دی کہ کسی بھی صورت میں پذیر اقبال کی تنخواہ فعال نہ کی جائے۔

ذرائع کے مطابق سابق ڈسٹرکٹ اٹارنی آواران رہ چکے ہیں، پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ایک ناکام امیدوار کے حق میں سابقہ تاریخ سے تقرری کا آرڈر جاری کریں، بصورت دیگر پذیر اقبال کی تنخواہ جاری نہیں کی جائے گی۔

یہ طرزِ عمل نہ صرف میرٹ، انصاف اور قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک نوجوان ملازم کے ساتھ کھلی ناانصافی بھی ہے۔ اہلِ علاقہ آواران وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکریٹری بلوچستان اور بلوچستان ہائی کورٹ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مذکورہ نوجوان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے، ان کا تبادلہ منسوخ کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔
اہلِ علاقہ آواران

کلک بلوچستان کی خبر پر بڑا ایکشن چلم پوائنٹ سیل ملزم گرفتار!کوئٹہ میں “چلم کلچر” سے متعلق کلک بلوچستان پر خبر نشر ہونے ک...
29/05/2026

کلک بلوچستان کی خبر پر بڑا ایکشن چلم پوائنٹ سیل ملزم گرفتار!

کوئٹہ میں “چلم کلچر” سے متعلق
کلک بلوچستان پر خبر نشر ہونے کے بعد حکومتی ادارے حرکت میں آ گئے ذرائع کے مطابق نوا کلی میں موجود متنازع چلم پوائنٹ پر کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ریسٹورنٹ اور چلم پوائنٹ کو سیل بھی کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ کلک بلوچستان پر چلنے والی خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ کوئٹہ میں چلم کلچر تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں نوجوان نسل خصوصاً لڑکیوں کو سرعام خصوصی آفرز دی جا رہی تھیں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک شخص اپنے ریسٹورنٹ کا پتہ بتاتے ہوئے لڑکیوں کے لیے چلم چائے اور دیگر سہولیات کی کھلے عام تشہیر کر رہا تھا جس پر شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔

خبر نشر ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ مقام پر چھاپہ مارا کارروائی کے دوران ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا جبکہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث چلم پوائنٹ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔

شہریوں نے کلک بلوچستان کی خبر کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ بھر میں موجود دیگر شیشہ سینٹرز چلم کیفے اور فلیور پوائنٹس کے خلاف بھی اسی طرح سخت کارروائیاں کی جائیں تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔

یہ اب تک بلوچستان کے نفسیات کو سمجھ نہیں سکے، بیانیہ سازی مہم میں ناکامی کے تسلسل میں ایک منظم سازش کے تحت کبھی بلوچ پشت...
29/05/2026

یہ اب تک بلوچستان کے نفسیات کو سمجھ نہیں سکے، بیانیہ سازی مہم میں ناکامی کے تسلسل میں ایک منظم سازش کے تحت کبھی بلوچ پشتون، کبھی برائیوئی بلوچ کی تقسیم اور اب نیا شوشا مذہبی منافرت کے گن بھی گانے لگے۔ انکو ادیب شاعروں گلوکاروں کے بعد اب پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور دانشوروں سے بھی مسئلہ پیدا ہونے لگا ہے۔

گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

سعد دہوار، مرکزی سیکرٹری سوشل میڈیا نیشنل پارٹی

حکومت کے خرچے پر پی ایچ ڈی کرنے والے پاکستان کیخلاف لمبی لمبی تحریریں لکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی  #بلوچس...
28/05/2026

حکومت کے خرچے پر پی ایچ ڈی کرنے والے پاکستان کیخلاف لمبی لمبی تحریریں لکھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

#بلوچستان

27/05/2026

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کے دوران جبری لاپتہ صغیر بلوچ اور اقرار بلوچ کی ہمشیرہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں آنکھوں میں آنسو اور دل میں امید لیے انہوں نے اپنے بھائیوں کی جلد بازیابی کی اپیل کی اور کہا کہ ان کا خاندان عید کی خوشیوں کے بجائے انتظار درد اور جدائی کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔

27/05/2026

عیدالاضحیٰ کے موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ میں لاپتہ بلوچ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا گیا۔

شرکاء نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت فوری اقدامات کرے۔

25/05/2026

عیدِ قرباں جانوروں کی دیکھ بھال اور عوامی آگاہی پر ڈی جی لائیو اسٹاک ڈاکٹر فاروق کی خصوصی گفتگو۔

24/05/2026

آئکن آرگنائزیشن کی جانب سے طلباء و طالبات کے لیے مری آباد میں ایک ایڈونچر اور ہائیکنگ ٹرپ کا انعقاد کیا گیا جہاں شرکاء نے خوبصورت پہاڑی مناظر تفریحی سرگرمیوں اور خوشگوار ماحول سے لطف اٹھایا اس موقع پر رباب کی دلکش دھنوں نے ماحول کو مزید خوبصورت بنا دیا اور شرکاء نے خوب انجوائے کیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے زیر اہتمام جاری یونٹ سازی مہم کے سلسلے میں سنگت شبیر احمد یونٹ کلی ...
24/05/2026

بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے زیر اہتمام جاری یونٹ سازی مہم کے سلسلے میں سنگت شبیر احمد یونٹ کلی جہلم کاریز کا یونٹ سازی اجلاس ضلع کوئٹہ کے آرگنائزر حاجی میر وحید لہڑی کے رہائش گاہ پر زیر صدارت ضلع کوئٹہ کے آرگنائزر حاجی میر وحید لہڑی کی منعقد ہوا۔ اجلاس کے مہمان خاص پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ اور اعزازی مہمانان پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری حاجی احمد نواز بلوچ اور بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ صمند بلوچ تھے۔ ضلع کوئٹہ کے ڈپٹی آرگنائزر ڈاکٹر جاوید انجم بلوچ، آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین حاجی محمد ابراھیم پرکانی، میر وائس مینگل، میر کاول خان مری، نعمت ہزارہ، لالا عبدالغفار مینگل، ماما نور خان کھیازئی اور رضا جان شاہی زئی، حاجی صدیق لانگو، میر بہاول خان مینگل، زکا اللہ، میر عبدالغفار بنگلزئی، صفی اللہ ساتکزئی، انجینئر یاسر بنگلزئی و دیگر نے شرکت کیا۔

اسٹیج سیکرٹری کے فرائض رضا جان شاہی زئی نے انجام دیے۔جبکہ تلاوتِ قرآن پاک کی سعادت لالا عبدالغفار مینگل نے حاصل کی۔

اس موقع پر الیکشن کمیٹی نعمت ہزارہ کی سربراہی میں بنائی گئی، جس کے ممبران میر کاول خان مری اور ماما نور خان کھیازئی تھے۔ الیکشن کمیٹی نے یونٹ کے انتخابات کرائے، جن کے مطابق صدام حسین لہڑی یونٹ سیکرٹری، ظفر احمد ڈپٹی یونٹ سیکرٹری اور حاجی میر وحید لہڑی، حاجی میر تنویر لہڑی، حاجی فیصل لہڑی، مقبول احمد ضلعی کونسلران منتخب ہوئے۔

پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری حاجی احمد نواز بلوچ، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ صمند بلوچ، ضلع کوئٹہ کے آرگنائزر حاجی میر وحید لہڑی، آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین حاجی محمد ابراھیم پرکانی، میر وائس مینگل اور سابق ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سنگت شبیر احمد اور نعمان لہڑی عرف بابا جان کی سیاسی، سماجی اور علاقائی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل، نوجوانوں کی رہنمائی اور قومی شعور اجاگر کرنے کے لیے عملی جدوجہد کی، جس پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

جامعہ بلوچستان میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر و دیگر اساتذہ کی عدم بازیابی اور پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کیخلاف احت...
23/05/2026

جامعہ بلوچستان میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر و دیگر اساتذہ کی عدم بازیابی اور پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کیخلاف احتجاجی واک۔

کوئٹہ: بی ایس او، پی ایس او، بی ایس او پجار، بساک، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے کی جانب سے جامعہ بلوچستان کے اندر جامعہ گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر منظور احمد، فیکلٹی ممبران ارشاد احمد بلیدی اور حاتم بلوچ کی فوری بازیابی کے مطالبے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف مشترکہ پُرامن احتجاجی واک کا انعقاد کیا گیا۔احتجاجی واک جامعہ بلوچستان کے اکیڈمک بلاک کے سامنے سے شروع ہوئی اور یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹو بلاک کے سامنے اختتام پذیر ہوئی، جس میں سینکڑوں طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام اور مختلف تنظیموں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جبکہ نعرے بازی کے ذریعے جامعہ گوادر کی اغوا شدہ انتظامیہ کی فوری بازیابی اور پروفیسر غمخوار حیات سمیت ماضی میں شہید کیے گئے تمام اساتذہ و پروفیسرز کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔احتجاجی واک میں طلبہ تنظیموں کی مرکزی قیادت کے علاوہ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور آفیسرز ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کا مسلسل اغوا اور قتل انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جامعہ گوادر کی انتظامیہ کی بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔مقررین نے مزید کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت بلوچستان کے تعلیم یافتہ، علمی اور دانشور طبقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو آنے والی نسلوں کے مستقبل کے خلاف ایک خطرناک سازش ہے۔ انہوں نے حکومت کے رویے اور کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں بلوچستان کے تعلیمی اداروں اور ان سے وابستہ اساتذہ و طلبہ کا تحفظ شامل نہیں، جس کی واضح مثال حکومتی وزراء کے جامعات اور علمی حلقوں کے حوالے سے منفی اور دھمکی آمیز بیانات ہیں، جن کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔مقررین نے جامعہ گوادر کی انتظامیہ کے اغوا اور پروفیسرز کے قتل کو موجودہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر اغوا شدہ اساتذہ و پروفیسرز کو بازیاب اور قتل شدہ اساتذہ کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس میں بلوچستان بھر کی جامعات کی بندش اور سڑکوں پر پُرامن احتجاج شامل ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صوبائی حکومت اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوگی۔آخر میں احتجاجی شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعہ گوادر کی انتظامیہ کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور پروفیسر غمخوار حیات کے قاتلوں کو فوری گفتارِ اور بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں سے وابستہ اساتذہ، طلبہ اور علمی شخصیات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

Address

Quetta City
Quetta
87300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Click Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Click Balochistan:

Share