Binte Mohsin بنتِ محسن

Binte Mohsin بنتِ محسن کمنٹس کرتے ہوئے خاندانی ہونے کا ثبوت دیجئے اور بحث مباحثہ دلیل کے ساتھ کیجئیے .

Pakistan 🇵🇰 ❤️ Canada 🇨🇦 ❤️ UAE 🇦🇪 ❤️ USA 🇺🇸 ❤️ Traveler /Storyteller
لے جائیں جانے کہاں ہوائیں ✈️

اس سرابِ زندگانی میں اے خالقِ کُن فیکونمیری حقیقت ہے یہی اِنّالِلّہ وَاِنّا اِلیہ رَاجِعُون
07/04/2026

اس سرابِ زندگانی میں اے خالقِ کُن فیکون
میری حقیقت ہے یہی اِنّالِلّہ وَاِنّا اِلیہ رَاجِعُون

گریب آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اسکو مینگو شیک پسند ہوتا ہے 😇لیکن مینگو شیک بنانے سے پہلے ہی آم ختم ہو جاتے ہیں 😒🙄🏃🏻...
07/04/2026

گریب آدمی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اسکو مینگو شیک پسند ہوتا ہے 😇لیکن مینگو شیک بنانے سے پہلے ہی آم ختم ہو جاتے ہیں 😒🙄🏃🏻‍♀️

یہ وہی آیوش ملک ہیں جنہوں نے بڑی جُرأت اور اعتماد کے ساتھ میڈیا کے سامنے یہ بات کہی تھی کہ:“اگر آپ ایک بار مسلمان بن گئے...
07/04/2026

یہ وہی آیوش ملک ہیں جنہوں نے بڑی جُرأت اور اعتماد کے ساتھ میڈیا کے سامنے یہ بات کہی تھی کہ:

“اگر آپ ایک بار مسلمان بن گئے، تو پھر کبھی واپس ہندو نہیں بن سکتے؛ اور اگر آپ دوبارہ ہندو بن جائیں، تو سمجھ لیجیے کہ آپ کبھی دل سے مسلمان تھے ہی نہیں۔”

ان کے اس بیان میں ایک عجیب قسم کا یقین، ہمت اور اطمینان نظر آتا تھا۔ وہ کوئی عام بات نہیں کر رہے تھے، بلکہ اپنے ایمان، اپنے فیصلے اور اپنے عقیدے کے بارے میں پوری مضبوطی کے ساتھ بول رہے تھے۔ ایسے شخص کے بارے میں اچانک یہ خبر سننا کہ وہ واپس چلا گیا، دل کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کے پیچھے حالات کیا رہے ہوں گے؟ کتنا ذہنی دباؤ ہوگا؟ گھر والوں، سماج، ماحول، میڈیا یا دوسرے لوگوں کی طرف سے کس قدر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا؟ کیونکہ جس شخص نے اتنی صاف گوئی اور بہادری کے ساتھ اپنے موقف کا اظہار کیا ہو، اس کے بارے میں یہ مان لینا آسان نہیں کہ وہ بغیر کسی دباؤ یا مجبوری کے اتنی جلدی اپنا راستہ بدل دے گا۔

ہمیں کسی کے دل کا حال معلوم نہیں، دلوں کے راز صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ اس لیے ہمیں بدگمانی، گالی گلوچ یا جلد بازی سے فیصلہ کرنے کے بجائے دعا کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو حق سمجھنے، حق قبول کرنے اور حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

خیر، اللہ تعالیٰ عافیت والا معاملہ فرمائے، ہر طرح کے دباؤ اور آزمائش سے حفاظت فرمائے، اور ہم سب کو ایمان و ہدایت پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔

07/04/2026

پولیس کا طارق جمیل"راشد شاہ کی ایک اور مولانا کی ہوبہو انداز میں کی گئی تقریر وائرل، سوشل میڈیا صارفین کی تعریفیں

زندگی کی الجھنیں سلجھ جاتی ہیں۔ ﷲ تعالیٰ راستے نکال دیتا ہے۔ اس کی حکمت ہماری سوچ سے پرے ہے۔ ضرورت صرف یقین کی ہے....ایم...
07/04/2026

زندگی کی الجھنیں سلجھ جاتی ہیں۔ ﷲ تعالیٰ راستے نکال دیتا ہے۔ اس کی حکمت ہماری سوچ سے پرے ہے۔ ضرورت صرف یقین کی ہے....ایمان کی پختگی کی ہے۔ مشکل وقت میں قانون ِ قدرت پر غور کریں کہ موسم بدلتے ہیں۔ رات اور دن بدلتے ہیں۔ انسان بھی ہمیشہ نہیں رہتے آج ہیں تو کل نہیں۔ جب بدلاؤ قدرت کا قانون ہے تو پھر حالات بھی بدلیں گے۔ان شاء ﷲ
ﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ میرے رب نے تو آگ کو بھی گلزار کر دیا۔ پانی میں سے بھی راستہ نکال دیا تو پھر کیا مشکل ہے اس کے لئے۔ صبر اور شکر کے ساتھ نئی صبح کا انتظار کیجئے اور دعا بھی کیجئے۔
نئی صبح جلد ہی طلوع ہوگی۔ ♥️
#کن فیکون

کچھ دن پہلے ہم نے پنڈی سے لاہور جانے والی ٹرین میں بکنگ کروائی۔ جہلم جانے کے لیے۔ ہم نے جب بھی جانا ہو تو ہم کافی دن پہل...
07/04/2026

کچھ دن پہلے ہم نے پنڈی سے لاہور جانے والی ٹرین میں بکنگ کروائی۔ جہلم جانے کے لیے۔ ہم نے جب بھی جانا ہو تو ہم کافی دن پہلے ہی بکنگ کروا لیتے ہیں تو وہ پوری رو تین سیٹوں کی بک کروا لیتے ہیں کیونکہ مجھے ہمیشہ سے ونڈو والی سیٹ پر بیٹھنا پسند ہے۔

صدر سٹیشن کی بجائے چکلالہ سٹیشن ہمارے گھر سے قریب پڑتا ہے تو ہم وہاں سے ہی بیٹھتے ہیں ہمیشہ۔ اس بار رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹرین جب چکلالہ سٹیشن پر رکی تو آدھے سے زیادہ ٹرین بھر چکی تھی۔

جب ہم اپنے مطلوبہ کیبن تک پہنچے تو وہاں پر آلریڈی ایک فیملی بیٹھ بیٹھ چکی تھی۔ جب ہم نے ان سے جگہ خالی کرنے کا بولا تو اُن میں سے ایک خاتون کہنے لگی کہ آپ یہ سائیڈ والی سیٹ پر بیٹھ جائیں کیونکہ بچی کو ونڈو پر سیٹ بہت پسند ہے ،اس لیے وہ وہاں بیٹھنا چاہ رہی ہے
تو آپ ادھر والی سیٹ پر بیٹھ جائیں ایڈجسٹ کر لیں آپ

مجھے برا تو بہت لگا کیونکہ وہ بچی بھی کوئی اتنی چھوٹی نہیں تھی جو ضد کرے تو اس کی مان لی جائے بلکہ 16 17 سال کی لڑکی تھی۔

پھر میں نے ان سے کہا کہ میں نے اتنے دن پہلے بکنگ اس لیے کروائی ہے کیونکہ مجھے خود بھی ونڈو سیٹ ہی پسند ہے ، لہذا آپ اپنی سیٹ پر آ جائیں اور مجھے میری سیٹ دے دیں۔

یہ سن کے وہاں پر جو آگے پیچھے سیٹوں پر لوگ بیٹھے ہوئے تھے، وہ بھی بولنا شروع ہو گئے۔ چلیں کوئی بات نہیں، آپ ایڈجسٹ کر لیں۔ کوئی بات نہیں، ایسا ہوتا رہتا ہے۔ سفر ہے، کٹ جائے گا۔

لیکن میرے لیے سفر بہت مائنے رکھتا ہے۔ مجھے ٹرین کا سفر ہمیشہ سے پسند ہے۔ میں بائے روڈ جانے کو کبھی بھی پریفیر نہیں کرتی۔

خیر انہوں نے بہت منہ بنا کے اور بے دلی سے سیٹ خالی کی لیکن کافی دیر وہ پھر منہ بنا کے بیٹھے رہے آخر 15-20 منٹ بعد میں نے بات شروع کی۔ تو پھر ان کا منہ ٹھیک ہو گیا۔

آپ لوگوں کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ کسی نے اس طرح سیٹ پر قبضہ کیا ہو؟ آپ لوگ کیا کریں گے؟ چھوڑ دیں گے یا آپ اس کو فورس کریں گے کہ خالی کرے؟

مجھے تو پتہ ہے بہت سارے لوگ مجھے ہی غلط بولیں گے کیونکہ پاکستان میں ویسے بھی مینرز

کیا ہوتے ہیں اس سے کسی کو سروکار نہیں،

"ہر اس چیز کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔جو آپ کے اختیار میں ہی نہیں۔لوگ کیا سوچتے ہیں؟کون بدل گیا ؟ کون چھوڑ کر چلا جائے گ...
07/04/2026

"ہر اس چیز کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں۔
جو آپ کے اختیار میں ہی نہیں۔لوگ کیا سوچتے ہیں؟
کون بدل گیا ؟ کون چھوڑ کر چلا جائے گا ؟
کل کیا ہوگا ؟یہ سب سوال انسان کا سکون کھا جاتے ہیں۔ یاد رکھیں ہر جنگ دماغ سے نہیں جیتی جاتی کچھ چیزیں وقت اور اللہ پر چھوڑنی پڑتی ہیں۔ اپنے دل کو ہر وقت سزا دینا بند کریں۔
جو چلا گیا اسے جانے دیں
جو آپ کا ہے وہ کبھی آپ سے دور نہیں ہوگا۔😎😎

😂 😂 😂 😂 😂 😂
07/03/2026

😂 😂 😂 😂 😂 😂

کل سیف اللہ جھیل کالام پر کشتی کے ایک المناک حادثہ میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔یہ خبر پڑھ کرمجھے پ...
07/03/2026

کل سیف اللہ جھیل کالام پر کشتی کے ایک المناک حادثہ میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

یہ خبر پڑھ کرمجھے پچھلے سال ستمبر میں اپنا تجربہ یاد اگیا۔میں اپنی پوری فیملی کے ساتھ سیف الملوک جھیل پر گیا تھا۔ہم نے اپنی گاڑی جھیل کے کنارے کھڑی کی اور ڈے کیمپ لگا لیا۔
جیسے ہی آپ جھیل سیف الملوک کے کنارے پہنچتے ہیں تو کشتیوں والے،گھوڑوں والے آپ کو گھیر لیتے ہیں۔میرے بیٹے احمد نے کہا کہ اس نے کشتی کی سیر کرنی ہے۔کشتی والا غالبا آدھی جھیل کی سیر کے پندرہ سو اور پوری جھیل کی سیر کے تین ہزار مانگ رہا تھا۔اس سے پوری جھیل کی سیر کی بات طے ہوگئی۔ہم سب لوگ میں،میری بیوی،دونوں بیٹے،بہو اور دونوں پوتے کشتی میں سوار ہوگئے۔احمد کو ایک طرح سے اٹھا کر کشتی میں کرسی رکھ کر بیٹھایا۔یہ چپو والی کشتی تھی۔جیسے ہی کشتی تھوڑا پانی میں گئی تو کشتی سے مختلف آوازیں آنا شروع ہو گئیں اور مجھے ایسے لگے کہ اس کے تمام تختے الگ الگ ہو جائیں گے۔میں نے کشتی والے کو کہا کہ واپس موڑ لو۔میری فیملی نے مجھ سے پوچھا کیا وجہ ہے؟
میں نے کہا کچھ نہیں بس دل گھبرا رہا ہے۔کشتی والے نے کہا کہ سر پریشان نہ ہوں کچھ نہیں ہوتا۔ہمارا روز کا کام ہے۔میں نے کہا کہ واپس موڑو۔میں تمھیں پورے پیسے دوں گا۔پیسوں کےلیے پریشان نہ ہوں۔
اس نے واپس موڑ لی اور میں نے کشتی سے ساری فیملی کو نکال کر سکون کا سانس لیا۔
واپس پہنچ کر میں نے اپنی فیملی کو بتایا کہ مجھے کشتی کی حالت اچھی نہیں لگی۔میری بیوی نے کہا کہ کشتی میں کیوں نہیں بتایا تو میں نے کہا کہ آپ سب لوگ پریشان ہوکر کشتی کا توازن خراب کر سکتے تھے۔اس لیے نہیں بتایا۔
جب کبھی ان جھیلوں پر جائیں تو ان کشتیوں کی حالت دیکھیں ۔
ان جھیلوں پر زیادہ تر کشتیوں میں لائف جیکٹ بھی نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو وہ زیادہ مدد نہیں کر سکتی کیونکہ یہ جھیلیں گلیشیئرز کے پانی سے بنی ہیں اور پانی اتنا ٹھنڈا ہوتا ہے کہ ایک دو منٹ اس میں نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جب کبھی آپ میں سے کوئی ان جھیلوں پر کبھی جائے اور کشتی کی سیر کا ارادہ ہو تو ایک مرتبہ جھیل اور اس کی گہرائی کا اندازہ لگائیں اور کشتی کی حالت کو غور سے دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ آپ نے اس میں سوار ہونا ہے یا نہیں۔

پاکستان میں دو بھائی جو قبروں سے مردے نکال کر کھاتے تھے جیل سے اسی ماہ باہر آنے والے ہیں !رات کا اندھیرا تھا...پنجاب کے ...
07/03/2026

پاکستان میں دو بھائی جو قبروں سے مردے نکال کر کھاتے تھے جیل سے اسی ماہ باہر آنے والے ہیں !
رات کا اندھیرا تھا...پنجاب کے ضلع بھکر کے ایک خاموش گاؤں میں اچانک ایک ایسی بدبو پھیلنے لگی جس نے پورے علاقے کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ پولیس ایک چھوٹے سے گھر میں داخل ہوئی...اور پھر جو منظر سامنے آیا، اس نے ہر اہلکار کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔
گھر کے اندر انسان کی لاش کے اعضا موجود تھے۔

تفتیش شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ دونوں سگے بھائی، محمد عارف اور فرمان علی، قبروں سے لاشیں نکالتے اور ان کا گوشت کھاتے تھے۔ دونوں سارا دن گھر میں بند رہتے اور صرف رات کے وقت نکلتے تھے . قبرستانوں میں اونچے درختوں پر بیٹھ کر تازہ دفن ہونے والے مردوں کی طاق میں رہتے . اور اندھری رات ہوتے ہی ان مردوں کو یا تو وہیں یا پھر نکل کر گھر لے آتے .
سننے میں یہ کسی ہارر فلم کی کہانی لگتی ہے...
لیکن یہ پاکستان کی حقیقی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ پہلی گرفتاری کے بعد انہیں صرف تقریباً دو سال قید ہوئی، کیونکہ پاکستان میں انسانی گوشت کھانے کا کوئی مخصوص قانون موجود ہی نہیں تھا۔

لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی...
رہائی کے کچھ عرصے بعد ایک بار پھر پولیس نے انہی بھائیوں کے گھر پر چھاپہ مارا۔
اس بار بھی قبروں کی بے حرمتی اور ایک نومولود کی لاش سے متعلق ہولناک شواہد سامنے آئے۔
اس کے بعد انہیں 11 سال 4 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

اور اب...

اتنے برس گزرنے کے بعد وہ سزا مکمل کر چکے ہیں، جس کے بعد ان کی رہائی کی خبریں ایک بار پھر پورے پاکستان میں بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔

سوال یہ ہے...
اگر کسی جرم کے لیے قانون ہی موجود نہ ہو، تو کیا انصاف مکمل ہو سکتا ہے؟
آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا انہیں ہمیشہ کیلئے جیل میں رکھنا چاہئیے یا اس سے بھی زیادہ کی کوئی سزا ہے ؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں.

Address

Toronto, ON

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Binte Mohsin بنتِ محسن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share