06/03/2022
چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے احکامات پر سیاحتی مقام سردریاب میں تجاوزات کے خلاف آپریشن عمل میں لایاگیا ہے, جس میں فیملی پارک سمیت درجنوں دکانوں کو گرایا گیا ہے. آپریشن کے دوران 28کروڑ روپے سے زائد مالیت کی سرکاری اراضی قابضین سے واگزار کرائی گئی۔ آپریشن کے دوران بھاری مشینری کے ذریعے ایک ہوٹل سمیت دس دکانوں اور پانچ کچی جھونپڑیوں کو گرا کر 88 کنال سے زائد سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت سرکاری نرخ کے مطابق 28کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مزید 100کنال اراضی جس کی مالیت 30کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے پر موجود ہٹس اور ہوٹلوں کو بھی ایک ماہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور 6اپریل تک تمام ہوٹل مالکان کو رضاکارانہ طور پر اپنے ہوٹل دریا ں کنارے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔اسی طرح ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام ہوٹلز مالکان کو یہ بھی ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ وہ کسی قسم گندگی اور لیٹرین سے خارج ہونے والی گندگی دریا میں پھینکنے سے بھی گریز کریں۔ اس حوالے سے سردریاب مچھلی فروشان کے صدر جان محمد عرف جانے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کے ہدایت پر راضاکارانہ طور تمام ریسٹورنٹس کا گرانے کا عمل جاری یے. انہوں نے کہا پاکستان میں رہتے ہوئے عدلیہ اور انتظامیہ کا حکم ماننا ہم سب کا فرض ہے, آپریشن سے 2ہزار سے زائد لوگ بھی بے روزگار ہوچکے ہیں, جسکے لئے حکومت کو چاہئے کہ ان لوگوں کے ساتھ تعاون کرکے متبادل جگہ فراہم کریں. انہوں نے 6اپریل سے پہلے پہلے تمام تجاوزات ہٹانے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے.
یاد رہے کہ پشاورہائی کورٹ نے گزشتہ روز چارسدہ کے سیاحتی مقام سردریاب سے تجاوزات ہٹانے اور دریاؤں کی اصل شکل بحال رکھنے کے احکامات جاری کئے تھے س پر ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر آپریشن شروع کر دی ہے۔