Shoaib Mirza Offical

Shoaib Mirza Offical Iam Professional photographer

انیس سال کی عمر میں جیل چلا گیا، اس پر الزام تھا کہ اس نے خفیہ ادارے کی سیکیورٹی توڑ کر ریاست کے کئی راز چرا لیے تھے، او...
30/10/2024

انیس سال کی عمر میں جیل چلا گیا، اس پر الزام تھا کہ اس نے خفیہ ادارے کی سیکیورٹی توڑ کر ریاست کے کئی راز چرا لیے تھے، اور اپنی چالاکی کی وجہ سے اسے "لومڑی" کا لقب دیا گیا۔

اس کا والد ایک عمر رسیدہ شخص تھا جو اکیلا رہتا تھا اور اپنے گھر کے باغیچے میں آلو لگانے کا خواہاں تھا، لیکن اپنی بڑھاپے کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے جیل میں قید بیٹے کو ایک خط بھیجا:

"میرے پیارے بیٹے، کاش تم میرے ساتھ ہوتے تاکہ اس باغیچے کو کھودنے میں میری مدد کر سکتے اور میں آلو لگا سکتا... کیونکہ میرے پاس کوئی اور نہیں جو میری مدد کر سکے۔"

کچھ وقت بعد باپ کو اپنے بیٹے کی طرف سے خط ملا جس میں لکھا تھا:

"میرے عزیز والد، براہِ کرم باغیچے کو مت کھودنا کیونکہ میں نے وہاں ایک اہم چیز چھپائی ہے۔ جب میں جیل سے باہر آؤں گا تو آپ کو بتاؤں گا کہ وہ کیا ہے۔"

خط ملنے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر خفیہ ادارے اور فوج کے اہلکاروں نے گھر کا محاصرہ کر لیا اور باغیچے کی زمین کو اچھی طرح سے کھودا، مگر انہیں کچھ بھی نہیں ملا اور وہ واپس چلے گئے۔

اگلے دن باپ کو بیٹے کی طرف سے ایک اور خط ملا جس میں لکھا تھا:

"میرے عزیز والد، امید ہے کہ زمین اچھی طرح کھود لی گئی ہوگی۔ بس اتنی مدد میں کر سکتا تھا۔ اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتائیں۔"

......لو میرج .... میرج لو ...... لو میرج جا تجھے طلاق ... بھیاھم ذرا پرانےدور کےلوگ ھیں اسلیٸےھماری سوچ بھی ذرا پرانی ھ...
19/10/2024

......لو میرج .... میرج لو ...... لو میرج جا تجھے طلاق ...
بھیاھم ذرا پرانےدور کےلوگ ھیں اسلیٸےھماری سوچ بھی ذرا پرانی ھے.ھمارےزمانےمیں شادی ھواکرتی تھی میرج ویرج کچھ نہیں ھوتی تھی
گھرکےقریب کسی خالی پلاٹ میں تمبو قناتیں لگاکر.سینکڑوں مہمانوں کودعوت کھلاکر. بینڈ باجےڈھول تاشےکےدھوم دھڑکے کےساتھ دلہن لےکر آتے تھے
اورلڑکی والےآنسوٶں آھوں اورسسکیوں کے ساتھ دعاٸیں دیتے ھوٸے بیٹی کو رخصت کرتے تھے.
دلہادلہن ایک دوسرےسےاجنبی اور ایک دوسرے کو پہلی بار دیکھتے تھے اور یہاں سے محبت کا آغاز ھوتاتھا اورپھر.
یہ شادی چلتی رھتی تھی اور ساٹھ پینسٹھ سال چلتی ھی چلی جاتی تھی. بیٹے بیٹیاں پوتےپوتیاں نواسے نواسیاں. یہ اتنا بڑاڈھیر سارا ٹبر ھوجایا کرتاتھا پھربھی اکٹھےھی جیتےمرتے تھے. لڑاٸی جھگڑےبھی ھوا کرتے تھے. لیکن تھوڈی دیر کیلٸے. میاں بیوی میں انا نام کی کوٸی چیزنہیں ھواکرتی تھی.دن میں لڑےتو رات میں اکٹھے ھو جایاکرتے تھے. بس اتنی سی دیرکی لڑاٸی بس اتنی سی دیرکا جھگڑا. اور یہ سب نتیجہ تھا.. میرج لو .. کا.یعنی محبت بعد از شادی.
لیکن بھیا اب شادی ھی نہیں ھوتی بلکہ میرج ھال میں میرج ھوتی ھے وہ بھی.. لو میرج.. یعنی محبت شادی سے پہلے. تو بھیاجب محبت شادی سےپہلے کَرکرا کے ختم ھوچکی تو ساٹھ پینسٹھ سال تو بہت دور کی بات ساٹھ پینسٹھ مہینے بھی چل جاٸے تو بڑی بات. ایک دوسرے کو کیا دیکھیں اور کیا محبت کریں سب کچھ تو پہلے سے نچھاورکرچکے
1400سوسال پرانا ھمارا مزہب.ھم پرانے لوگوں کو وہ ھی راس تھا. ماڈرن ھو کر ھمیں ماڈرن ازم راس نہیں آرھا.. اسلٸےطلاق کی ریشو بھی بہت بڑھ چکی ھے. تو بھیا ..میرج لو.. کو ھی اپناٶ اور ..لو میرج ..کو پکی پکی طلاق دےکر معاشرے سے نکالناھوگا. تب ھی گھر آباد رہ سکیں گے.

ایک بڑی کمپنی میں سیلز مینجر کی سیٹ کے تین اُمیدوار تھے. چونکہ تینوں کی قابلیت یکساں تھی تو کمپنی نے کہا میدان میں اپنی ...
17/10/2024

ایک بڑی کمپنی میں سیلز مینجر کی سیٹ کے تین اُمیدوار تھے. چونکہ تینوں کی قابلیت یکساں تھی تو کمپنی نے کہا میدان میں اپنی قابلیت دکھاو. جو قابل ہوا یہ سیٹ اُس کی ہوگی. ان کو لکڑی کی بنی کنگھیاں دی گئیں اور کہا جاو پہاڑوں میں بنی خانقاہوں کے بھکشوؤں کو کنگھیاں بیچ کر آو. یہ ایک مذاق ہی تھا کیونکہ بھکشو اپنا سر ہی نہیں داڑھی مونچھ اور بھوئیں تک مونڈتے ہیں.

پہلا اُمیدوار واپس آیا وہ مایوسی تھا. اس نے ایک ہی کنگھی فروخت کی تھی. اس نے کہا بھکشو تو مجھ سے لڑنے کو تیار ہوگئے تھے. وہ کہہ رہے تھے تم ہمارا مذاق اڑانے آئے ہو. بڑی مشکل سے ایک کنگھی میں فروخت کر سکا وہ بھی ایک بھکشو کو خارش تھی. میں نے اسے کہا ہاتھوں کی بجائے کنگھی سے اچھی طرح یہ کھجا سکتے ہو.

دوسرا لیکن کافی خوش تھا. اس نے دس کنگھیاں فروخت کی تھیں. اُس نے کہا میں نے بھکشوؤں سے کہا تم لوگوں کے پاس جو زائرین آتے ہیں پہاڑی ہوائیں ان کے بال بکھیر دیتی ہیں. انکا حلیہ ایسا نہیں ہوتا جو خانقاہ کے معیار پر ہو. تم لوگ ان کیلئے چند کنگھیاں رکھ لو تو خانقاہ کے زائرین کا بھلا ہوگا اور تمہیں دعا دیں گے.

تیسرا لیکن سب سے بڑی خانقاہ کے بڑے پروہت کے پاس گیا. اس نے بڑے بھکشو سے کہا تم پر اللہ کرم کرے اتنے بلند پہاڑوں پر خانقاہیں آباد کر کے بیٹھ گئے ہو. دور دور سے لوگ مشکل سفر کر کے یہاں آتے ہیں. میرا مشورہ ہے ان کو اس مذہبی سفر کی کوئی یادگار دی جائے جس پر خانقاہ کی طرف سے دعائیں لکھی ہوں. وہ اسے روز دیکھیں. مثلاً میرے پاس یہ لکڑی کی کنگھیاں ہیں. کنگھی انسان روز استعمال کرتا ہے. وہ روزانہ آپ کو یاد کرے گا.

بڑے بھکشو کو آئیڈیا پسند آیا. اس نے ایک ہزار دعائیہ کنگھیاں خرید لیں. دُنیا اچھے آئیڈیا کی قدردان ہوتی ہے. جن کے پاس آئیڈیا نہیں ہوتا وہ دکاندار بنتے ہیں. صرف ضرورت مند ہی ان کے پاس آتا ہے. جن کے پاس آئیڈیا ہوتا ہے وہ تاجر بنتے ہیں. اور جن کے پاس نہ صرف آئیڈیا بلکہ ایک مکمل پلاننگ بھی ہوتی ہے ایسے لوگ برانڈ بنتے ہیں. ہمارے معاشرے میں دکاندار اور تاجر دونوں موجود ہیں بس پلاننگ میں ہم کمزور ہیں. اسی لئے یہاں برانڈ نہیں بنتے. یہی فرق دُنیا میں ہمارا مقام طے کرتا ہے.

‏ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پا...
15/10/2024

‏ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔

یہ کہانی ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔

پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے تو ٹیچر نے بچے سے کہا کہ بلی والی بات پھر سے کہیے، بچے نے کہا ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں۔ ٹیچر نے بوکھلا کر کہا ہفتہ بھر پہلے تو تم نے اس طرح بات نہیں کی تھی، بچہ بولا جی ہاں مگر اب بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔

یہ کہانی سیاسی جماعتوں کے ان عہدیداروں کے نام جو پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں سابقہ پارٹی میں اس طرح کیڑے نکالتے ہیں جیسے پارٹی بدلتے ہی ان کی آنکھیں کھلی ہیں۔

ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟ عورت نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔ دیہاتی عورت نے جواب دیا۔ آپ بھی میرے شوہر ’’شیرو‘‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔

یہ کہانی ان ماہرین کے نام جو پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔

ایک مولوی صاحب کسی گاؤں پہنچے۔ انھیں تبلیغ کا شوق تھا۔ جمعہ کا خطبہ پورے ایک ہفتے میں تیار کیا لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن صرف ایک نمازی مسجد میں آیا۔ مولوی صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم واحد آدمی ہو جو مسجد آئے ہو۔ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ شخص بولا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں۔ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اگر بھینسوں کے لیے چارہ لے کر پہنچوں گا اور وہاں صرف ایک بھینس ہو تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے بھی چوڑی تقریر کر ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے دیہاتی سے پوچھا کہ بتاؤ خطبہ کیسا تھا؟ دیہاتی نے لمبی جمائی لی اور کہا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر میرے سامنے ایک بھینس ہوگی تو میں ساری بھینسوں کا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالوں گا۔

یہ سبق پاکستان میں نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں کے لئے ہے۔

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔

یہ قصہ پاکستان میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں طرح طرح سے بے وقوف بنایا جاتا ہے.اور وہ سب دیکھنے کے باوجود ہر بار بےوقوف بن بھی جاتے ہیں۔

15/10/2024

She is no more 😿💔
ہم انسان نہیں ہیں 🤬

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ ...
11/06/2023

ملازم بڑا ہی تابعدار تھا۔ مالک نے خوش ہو کے اس کی پانچ ہزار تنخواہ بڑھا دی۔ تابعداری میں فرق نہیں آیا لیکن وہ بہت زیادہ مشکور بھی نہیں ہوا۔
مالک کو بڑا غصہ آیا کہ میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی لیکن یہ ہے کہ اچھے سے شکریہ بھی ادا نہیں کیا۔ اس نے اگلے ماہ تنخواہ پانچ ہزار کم کر دی۔
ملازم کی ‏تابعداری اب بھی وہی رہی کوئی شکایت نہیں کی۔
مالک نے اسے بلوا بھیجا اور کہا، "بڑے عجیب انسان ہو، میں نے تمھاری تنخواہ پانچ ہزار بڑھائی، پھر کم کر دی۔ تم جوں کے توں رہے۔ یہ سب کیا ہے؟"
ملازم بولا، "اوہ! آپ نے خود کو رازق سمجھ لیا تھا؟
میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو اس سے اگلے دن آپ نے تنخواہ پانچ ‏ہزار بڑھا دی۔ میں سمجھ گیا کہ جس خالق نے بچہ دیا اسی نے رزق کا انتظام بھی ساتھ ہی کر دیا ہے، سو اسی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر جس دن آپ نے تنخواہ کم کر دی اسی دن میری والدہ وفات پا گئیں۔ میں نے جان لیا کہ وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے گئیں۔ سو تب بھی اللہ کا شکر ادا کر کے مطمئن رہا۔"
پھر بولا، "صاحب، ‏یہ روزی روٹی کے فیصلے کہیں اور ہی ہوتے ہیں۔ ہم تو بس مہرے ہیں جنہیں آگے پیچھے کرکے اسباب پیدا کیا جاتے ہیں۔"
سبحان اللہ ، الحمدللہ ، اللہ اکبر☝

ایک سردار جی کے لطیفے نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ مکمل طور پر قائل کر دیا کہ سدا بہار لطیفے دراصل اپنے تصوف کا ایک پوش...
30/05/2023

ایک سردار جی کے لطیفے نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ مکمل طور پر قائل کر دیا کہ سدا بہار لطیفے دراصل اپنے تصوف کا ایک پوشیدہ پرتو رکھتے ھیں۔

لطیفہ کچھ یوں ھے کہ ایک سردار جی نہایت اھتمام سے چائے پی رھے تھے۔ وہ ایک گھونٹ بھرنے کے بعد چائے کو ایک چمچے سے خُوب ھلاتے، چمچہ چائے میں پھیر کر ایک گھونٹ بھرتے اور پھر مسکرانے لگتے۔ وہ یہ عمل بار بار دُھراتے رھے۔ ھر گھونٹ کے بعد چائے کو چمچے سے ھِلاتے ، ایک اور گھونٹ بھرتے اور مُسکرانے لگتے۔

نزدیک بیٹھے ایک صاحب نے پُوچھا کہ، ”سردار جی آپ ھر بار چائے کو چمچے سے ھِلا کر گھونٹ بھرنے کے بعد مُسکراتے کیوں ھیں؟“

تو سردار جی نے کہا کہ، ”ایک بات آج ثابت ھو گئی ھے، چائے میں اگر چینی نہ ڈالو تو لاکھ اُسے چمچے سے ھِلاؤ وہ کبھی بھی میٹھی نہیں ھو گی“۔

اگر نیک اعمال کی چینی آپ کی حیات میں نہ ھو تو آپ لاکھ عبادتیں کریں ، تسبیح پھیریں، فیصلہ تو اعمال کی چینی سے ھو گا ورنہ روزِ حشر آپ کی اگلی پُوری زندگی پھیکی ھی رھے گی۔

شاہ حسین اور بابا بلھے شاہ کے اکثر شعروں میں یہی پیغام ھے، ”کہ اگر عمل مفقُود ھے تو تم پھیکے کے پھیکے رہو گے، کبھی میٹھے نہ ہوگے“۔

دو گروپوں میں لڑائی کا ایک سچا واقعہ،،چار کنال زمین کے قبضے کی لڑائی اپنے عروج پر تھی کہ ایک قابض دعوے دار کی فائرنگ سے ...
29/05/2023

دو گروپوں میں لڑائی کا ایک سچا واقعہ،،

چار کنال زمین کے قبضے کی لڑائی اپنے عروج پر تھی کہ ایک قابض دعوے دار کی فائرنگ سے مخالف دعوے دار کا جوان بیٹا مارا گیا ۔لوگ منتشر ہونا شروع ہو گئے ۔
مقتول کا باپ بہت دکھی تھا ۔انتقام اور موقع کی تلاش میں رہا
کچھ عرصہ بعد موقع پا کر اس نے مخالف کا جوان بیٹا قتل کر دیا ۔۔
مخالف اپنے بیٹے کے قتل کا سن کر انتہائی رنجیدہ ہوا
وہ اپنے مخالف دشمن کے پاس چلا گیا اور اسے وہ تاریخی الفاظ کہے

" اللّہ قسم اگر مجھے پتہ ہوتا کہ جوان بیٹے کے مرنے کا اتنا دکھ ہوتا ہے تو میں کبھی تمہارے بیٹے کا قتل نہ کرتا ۔۔
لیکن آپ کو تو پتہ تھا کہ بہت صدمہ ہوتا ہے!
پھر تم نے کیوں میرے بیٹے کو مارا""

ہم دوسروں کو تکلیف دیتے وقت اور بدلہ لیتے وقت اگر صرف یہ احساس کر لیں کہ جس صدمے سے میں گزرا میرا دشمن بھی نہ گزرے
تو پھر اجر عظیم اللّہ پاک دیتا ہے ۔
اللّہ پاک سارے دوستوں کو احساس کی دولت سے مالا مال کرے آمین
خوش رہیں آباد رہیں،
Copied

غریب کی لڑکی ؛-ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ توڑ دیا ہے ۔میں نے پوچھا کہ کیوں توڑا رشتہ ؟کہ...
26/12/2022

غریب کی لڑکی ؛-
ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ توڑ دیا ہے ۔
میں نے پوچھا کہ کیوں توڑا رشتہ ؟
کہنے لگا کہ میرے ابو رمضان میں بیمار ہوے تھے تو میرے سسرال والے عیادت کے لیے آۓ تھے مگر کچھ لاۓ نہیں نہ پھل نہ ہی کوئی روپیہ پیسہ دے کر گۓ ۔۔
میرے باپ نے کہا کہ آج یہ لوگ ایسے ہیں تو کل کیا کریں گے مطلب نہ عیدی نہ شب بارات دن گے .اس لئے میں نے رشتہ ہی توڑ دیا ۔۔۔
۔۔۔
مگر میں نے کہا کہ یار یہ بتاٶ کہ اس لڑکی کے گھر والوں کے حالات کیسے تھے ۔۔
کہنے لگا کہ بہت غریب لوگ ہیں کام کاج کرتے ہیں تو دو ٹایم کی روٹی با مشکل کھاتے ہیں ۔۔
۔۔۔
میں نے کہا کہ میرے بھائی جب آپ ان کی غربت کے بارے میں سب جانتے ہیں ۔۔
تو کیا آپ یہ جانتے ہیں جس سے رشتہ توڑا ہے ان ماں باپ پہ کیا گزری ہوگی ؟ ۔۔
اس بیچاری لڑکی پہ کیا گزری ہوگی کہ مجھے غربت کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ۔
یا ر میرے ابو کہتے ہیں کہ اب رشتہ امیر گھرانے میں کرواؤں گا جو جہیز ، شب برات عید سب دے سکیں جو تمہیں کاروبار سیٹ کروا سکیں
میں مسکرایا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ تمہارے ابو کہتے ہیں یا تمہارا دل کہتا ہے ۔۔
جاؤ یار جو اپنے زور بازو پر یقین نہ کر سکے وہ دوست تو کیا انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں
آج اگر بیٹی والوں کا رشتہ ٹوٹ جاۓ تو لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ شاید ان کی بیٹی میں کوئی خامی ہے ۔۔
اگر بیٹے والوں کا رشتہ ٹوٹ جاۓ تو وہ فخر سے کہتا ہے یار مجھے پسند نہیں تھی میں چھوڑ دیا ۔۔۔
خدارا بیٹی والوں پے ایسا ظلم نہ کریں میرے پوسٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو لڑکے ابھی جوان ہیں وہ کبھی بھی کسی لڑکی کو اس کی غربت پہ نہ چھوڑین نہ اس کے جزبات سے کھیلیں ۔۔
یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ہمیں دنیا میں لائی اور یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے قدموں سے ہمیں جنت ملے گی بس روپ بدل لیتی ہے ماں کا بیوی کا بہن کا مگر ہوتی تو عورت ہی ہے نا ۔۔
۔۔
جن کو میری پوسٹ بری لگی ان سے معذرت 🇵🇰🇵🇰

چیتے نے کتے سے پوچھا: تم نے انسانوں کو کیسا پایا؟کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا کہتے ہیںچیتا: ...
19/12/2022

چیتے نے کتے سے پوچھا: تم نے انسانوں کو کیسا پایا؟
کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا کہتے ہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے بچوں کو کھایا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے انہیں دھوکہ دیا؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کے مویشی مارے؟؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کا خون پیا؟؟
کتا: نہیں
چیتا: کیا تم نے ان کو میرے حملوں سے بچایا؟؟
کتا: ہاں
چیتا: انسان بہادر اور ہوشیار کو کیا کہتے ہیں؟
کتا: وہ اسے چیتا کہتے ہیں
چیتا: کیا ہم نے تمہیں شروع سے مشورہ نہیں دیا تھا کہ ہمارے ساتھ چیتا بن کر رہو مگر تم نے انسانوں کے تحفظ کا ٹھیکے دار بننا پسند کیا۔ میں ان کے بچوں اور مویشیوں کو مارتا ہوں، ان کا خون پیتا ہوں، ان کے وسائل اور محنت کھا جاتا ہوں، اس کے باوجود نہ صرف وہ مجھ سے ڈرتے ہیں بلکہ اپنے ہیروز کو چیتے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
تمہیں یہ سیکھنا چاہیے کہ “انسان اپنے جلادوں کے سامنے سرتسلیم خم کر لیتے ہیں اور اپنے وفاداروں اور ہمدردوں کی توہین کرتے ہیں۔”...

‏جنرل اور چرواہا یہ 1917 کی بات ہے عراق کے پہاڑوں میں برطانوی جنرل سٹانلی ماودے کا ایک چرواہے سے سامنا ہواجنرل چرواہے کی...
19/12/2022

‏جنرل اور چرواہا

یہ 1917 کی بات ہے عراق کے پہاڑوں میں برطانوی جنرل سٹانلی ماودے کا ایک چرواہے سے سامنا ہوا
جنرل چرواہے کیطرف متوجہ ہوئے اور اپنے مترجم سے کہا ان سے کہہ دو کہ جنرل تمہیں ایک پاونڈ دےگا بدلے میں تمہیں اپنے کتے کو ذبح کرنا ہوگا.کتا چرواہے کے لئے بہت اہم ہوتا ہے
‏یہ اس کی بکریاں چراتا ہے،دور گئے ریوڑ کو واپس لاتا ہے،درندوں کے حملوں سے ریوڑ کی حفاظت کرتا ہے،لیکن پاونڈ کی مالیت تو آدھا ریوڑ سے بھی زیادہ بنتی ہے چرواہے نے یہ سوچا اس کے چہرے پر لالچی مسکراہٹ پھیل گئی،
اس نے کتا پکڑ لایا اور جنرل کے قدموں میں ذبح کر دیا.‏جنرل نے چرواہے سے کہا اگر تم اس کی کھال بھی اتار دو میں تمہیں ایک اور پاونڈ دینے کو تیار ہوں،چرواہے نے خوشی خوشی کتے کی کھال بھی اتار دی،جنرل نے کہا میں مزید ایک اور پاونڈ دینے کے لئے تیار ہوں اگر تم اس کی بوٹیاں بھی بنا دو چرواہے نے فوری یہ آفر بھی قبول کرلی جنرل چرواہے کو ‏تین پاونڈ دے کر چلتا بنا.
جنرل چند قدم آگے گئے تھے کہ اسے پیچھے سے چرواہے کی آواز سنائی دی وہ پیچھے پیچھے آ رہا تھا اور کہہ رہا تھا جنرل اگر میں کتے کا گوشت کھا لوں آپ مجھے ایک اور پاونڈ دیں گے؟
جنرل نے انکار میں سر ہلایا کہ میں صرف تمہاری نفسیات اور اوقات دیکھنا چاہتا تھا ‏تم نے صرف تین پاونڈ کے لئے اپنے محافظ اور دوست کو ذبح کر دیا اس کی کھال اتار دی،اس کے ٹکڑے کیا اور چوتھے پاونڈ کے لئے اسے کھانے کے لئے بھی تیار ہو،اور یہی چیز مجھے یہاں چاہئے.
پھر جنرل اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوئے کہ اس قوم کے لوگوں کی سوچیں یہ ہیں لہذا تمہیں ان سے خوفزدہ ہونے ‏کی ضرورت نہیں ہے
آج یہی حال مسلم ملکوں اور معاشروں کا ہے،اپنی چھوٹی سی مصلحت اور ضرورت کے لئے اپنی سب سے قیمتی اور اہم چیز کا سودا کر دیتے ہیں
اور یہ وہ ہتھیار ہے جسے ہر استعمار،ہر قابض،ہر شاطر دشمن ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا ہےاسی کے ذریعے اس نے حکومت کی ہے اور اسی کے ذریعے ‏آج ہمارے درمیان ہمارے ملکوں میں کتنے ہی ایسے 'چرواہے' ہیں جو نہ صرف کتے کا گوشت کھانے کے لئے تیار ہیں بلکہ اپنے ہم وطن بھائیوں کا گوشت کھا رہے ہیں اور چند ٹکوں کے عوض اپنا وطن بیچ رہے ہیں.

ڈاکٹر علی الوردی کی عربی کتاب "لمحات اجتماعية من تاريخ العراق" سے ماخوذ .!!!
منقول

Address

Phalia

Telephone

+923462687712

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shoaib Mirza Offical posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share