01/06/2026
💔 میری ماں ہر مہینے کے آخری دنوں میں بیمار پڑ جاتی تھیں😓😓 اور مجھے پچیس سال کی عمر میں جا کر معلوم ہوا کہ وہ بیماری نہیں تھی۔ 🥹🥹
میں چودہ سال کا تھا۔
ہر مہینے ایک عجیب بات ہوتی۔
جیسے ہی مہینہ ختم ہونے لگتا، امّی کی طبیعت خراب ہو جاتی۔
کبھی سر درد۔
کبھی متلی۔
کبھی کہتیں:
"آج دل نہیں چاہ رہا، تم لوگ کھانا کھا لو۔"
ہم سمجھتے واقعی طبیعت خراب ہے۔
ابو فکر کرتے۔
چائے بنا دیتے۔
ہم بچے کھانا کھا لیتے۔
اور امّی خاموشی سے چارپائی پر لیٹ جاتیں۔
دو تین دن بعد تنخواہ آتی، راشن آتا، اور امّی کی طبیعت بھی اچانک ٹھیک ہو جاتی۔
یہ سلسلہ برسوں چلتا رہا۔
مگر بچپن سوال نہیں کرتا۔
وہ صرف مان لیتا ہے۔
وقت گزرا۔
میں بڑا ہو گیا۔
نوکری لگ گئی۔
اور ایک دن گھر کے پرانے صندوق میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے ایک چھوٹی سی ڈائری مل گئی۔
عام سی ڈائری۔
پیلا پڑا ہوا کاغذ۔
مدھم سیاہی۔
میں نے یونہی کھول لی۔
پہلے صفحے پر لکھا تھا:
"آج گھر میں صرف پانچ لوگوں کے کھانے جتنا آٹا ہے۔
ہم چھ ہیں۔
میں نے بچوں سے کہہ دیا ہے طبیعت خراب ہے۔"
میں چند لمحے ساکت بیٹھا رہا۔
پھر دوسرا صفحہ کھولا۔
"چاول کم ہیں۔
بچوں کو کھلا دیے ہیں۔
شکر ہے بیماری کا بہانہ ابھی بھی چل جاتا ہے۔"
پھر اگلا صفحہ۔
پھر اگلا۔
پھر اگلا۔
پورے تین سال...
ہر مہینے کے آخری دنوں میں...
میری ماں بیمار نہیں ہوتی تھیں۔
وہ صرف اپنا حصہ چھوڑ دیتی تھیں۔
اور ہم اتنے مطمئن تھے کہ واقعی اُن کی بیماری پر یقین کرتے رہے۔
میں کافی دیر اُس ڈائری کو ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔
بعض سچائیاں انسان کو ایک لمحے میں کئی سال بڑا کر دیتی ہیں۔
اُسی شام میں امّی کے پاس گیا۔
وہ جائے نماز پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
میں اُن کے سامنے خاموش بیٹھ گیا۔
پھر آہستہ سے پوچھا:
"امّی... آپ کو مہینے کے آخر میں ہمیشہ بیماری کیوں ہو جاتی تھی؟"
اُن کے ہاتھ رک گئے۔
تسبیح کے دانے خاموش ہو گئے۔
اُنہوں نے میری طرف دیکھا۔
پھر نظریں جھکا لیں۔
اور دھیرے سے پوچھا:
"تمہیں ڈائری مل گئی؟"
بس اتنا ہی۔
کوئی وضاحت نہیں۔
کوئی صفائی نہیں۔
کیونکہ بعض قربانیوں کو الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
میں اُن کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔
اور پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ ہم جن عورتوں کو ساری زندگی عام سمجھتے رہتے ہیں...
وہ اکثر اپنی بھوک، اپنی خواہشیں، اپنے حصے کی خوشیاں خاموشی سے دفن کر کے گھر آباد رکھتی ہیں۔
ہم سمجھتے رہے کہ امّی بیمار ہیں۔
اور امّی شکر کرتی رہیں کہ بچے بھوکے نہیں سوئے۔
بعض مائیں کھانا نہیں چھوڑتیں...
وہ اپنی بھوک چھپا لیتی ہیں