02/23/2026
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ڛ تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں الله کی راہ میں خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے!
February 23, 2026
قرآن و حدیث کی روشنی میں......... کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھاکر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اَجر ہے-
سامعین و قارئین کرام! آج کی خاص بات : سورہ آل عمران آیت ٩٢ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ڛ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ :تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا- تمام نیکیوں میں انفاق مال کو ایک اہم خصوصیت حاصل ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انفاق مال کو بہت پسند فرماتا ہے -اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب تک تم اللہ کی راہ میں ایسا مال خرچ نہ کرو گے جو تمہیں محبوب اور پسندیدہ ہے۔ اس وقت تک تم نیکی کی وسعتوں کو پا نہیں سکتے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بیرحا کا باغ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لئے صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' وہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دو ' چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے سے انہوں نے اسے اپنے اقارب اور عم زادوں میں تقسیم کر دیا-آج ہمارے معاشرے میں جب ا نفاق فی سبیل اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے تو عموماً لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ یہ مالداروں کے لئے ہے-ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق انفاق کرے اوراس کارخیر میں حصہ لے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقدار نہیں بلکہ اخلاص دیکھا جاتا ہے۔ آپؐ نے فرمایاجہنم کی آگ سے بچو خواہ ایک کھجور کے آدھے حصے کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔ انفاق کرنے سے جہاں ایک طرف حقوق اللہ ادا ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف حقوق العباد بھی ادا ہوجاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اس میں باہمی الفت و محبت بھی پیدا ہوتی ہے- الله کی راہ میں انفاق کرنا پسندیدہ عمل ہے- يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے ، اِس میں سے خرچ کرو -۔ ایک دفعہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا صدقہ اجر کے لحاظ سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو تندرستی کی حالت میں کرے، حرص رکھتا ہو، فقر سے ڈرتا ہو اور دولت کی امید رکھتا ہو، لہذا صدقہ کرنے میں جلدی کرو ایسا نہ ہو کہ جاں لبوں پہ آجائے تو کہنے لگے کہ اتنا فلاں کو دے دو اور اتنا فلاں کو۔ حالانکہ اس وقت یہ مال اس کا نہیں اس کے وارثوں کا ہوتا ہے -
انفاق عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ۔ عام طور پر جو چیز خرچ کرو اس میں کمی واقع ہوتی ہے لیکن انفاق کا معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے اس کو خرچ کرنے سے نہ صرف اس میں زیادتی ہوتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل بندے کو فراہم کرتا ہے-‘خرچ کرنا یعنی انفاق دراصل منافقت کا علاج ہے-انفاق سے نفاق جیسا روگ دور ہوتا ہے -نفاق قول اور فعل میں تضاد کو کہتے ہیں۔ یعنی ایک شخص جو بات زبان سے کہے یا دوسروں سے جس بات کی توقع کرے اس پر استطاعت کے باوجودعمل نہ کرے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کلمہ پڑھ لے لیکن خدا کو معبود کہنے کے باوجود اس کی اطاعت نہ کرے اور زنا، شراب، جھوٹ جیسے دیگر گناہوں میں ملوث رہے۔ یا پھر یہ کہ کہ ایک شخص لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کرے اور خود ان باتوں پر عمل نہ کرے۔ وہ فیس بک وہاٹس اپپ پر اچھی پوسٹیں لگائے لیکن اس کا عمل اس کے برخلاف ہو، وہ دوسروں کو نصیحت کرے لیکن خود ان باتوں پر عمل نہ کرے ،دوسروں کی خامیوں کو اجاگر کرے لیکن اپنی خامیوں کو نظر انداز کر دے- سورہ الحدید آیت ١١ کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھاکر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اَجر ہے- جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے فرمایا: اے رسول اللہ کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ تو آپؐ نے جواب دیا: ہاں ابو الدحداح۔ انھوں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ انہوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا‘‘حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں چھ سو درخت تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور ان کا گھر بھی اسی میں تھا۔ آپؐ کے پاس سے جب وہ لوٹے تو باغ کے باہر ہی سے آواز دی۔ اے دحداح کی ماں باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔ وہ بولیں: دحداح کے باپ تم نے نفع کا سودا کیا اور پھر اسی وقت اس باغ کو چھوڑ دیا۔