اسی گاؤں میں ایک ماں، ایک بہن، ایک بیٹی پانچ پانچ گھنٹے
بچوں کو گھر میں بھوکا چھوڑ کر
بیس لیٹر پانی کے لیے
پتھروں پر بیٹھی ہوتی ہے…
اس کے ہاتھ چھل جاتے ہیں،
اس کی آنکھوں میں تھکن ہے۔
اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے،
اس کی آنکھوں میں آنسو سوکھ جاتے ہیں…
مگر وہ پانی لاتی ہے،
کیونکہ اس کے بچے پیاسے ہوتے ہیں!
اور افسوس!
اسی گاؤں کے مرد…
پورا سال
اپنے اپنے سیاسی لیڈروں کے نعرے لگاتے ہیں،
ان کے استقبال کرتے ہیں،
جلوس نکالتے ہیں،
جھنڈے اٹھاتے ہیں،
گاڑیاں سجاتے ہیں!
کیا کبھی کسی نے
اس ماں کے لیے نعرہ لگایا؟
کیا کبھی کسی جلوس میں
پانی کا مطالبہ کیا؟
کیا کبھی کسی لیڈر سے پوچھا کہ
"ہمیں نعرے نہیں، ہمیں پانی چاہیے!"
غیرت کا تقاضا یہ نہیں کہ
کسی کے نام پر شور مچایا جائے،
غیرت یہ ہے کہ
اپنے گھر کی عورت کو
پتھروں پر بیٹھنے سے بچایا جائے!
ایک دنیا
جہاں عورت کی عزت
پانی کی بوند سے بھی سستی ہے۔
اور دوسری دنیا
جہاں مردوں کی غیرت
صرف نعروں میں زندہ ہے۔
اگر آج بھی ہم خاموش رہے،
تو کل ہماری بیٹیاں بھی
اسی طرح پیاس کے لیے
پتھروں پر بیٹھیں گی
اور ہم پھر نعرے لگاتے رہ جائیں گے
کیا ڈھول کی آواز
بوڑھی ماں کی سسکیوں سے زیادہ اہم ہے؟
کیا سیاست دان کی مسکراہٹ
اس عورت کی پیاس سے قیمتی ہے؟
Be the first to know and let us send you an email when ShakeelAwan109 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.