07/12/2024
کل رات سونے لیٹا تو آئی پیڈ پر ڈاکٹر محمود احمد غازی کا مضمون "مولانا مودودیؒ اور امام ابن تیمیہؒ" پڑھنا شروع کردیا۔
میرے توقعات کے عین مطابق وہی ہوا جس کا میں نے فیس بک پر اس مضمون کے چرچا ہونے کے بعد سوچا تھا یعنی رائی کا پہاڑ اور پر کا کوّا بنایا گیا تھا۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی کے پورے مضمون میں کوئی ایسی بات موجود ہی نہیں تھی جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سید مودودی کو ابن تیمیہ سے متفوق قرار دیا ہے۔
ترجمان القرآن مئی ۲۰۰۴ء میں ڈاکٹر غازی کا یہ مضمون فقط ایک تقابل تھا سید مودودی اور علامہ ابن تیمیہ کے کام کے سلسلے میں اور مضمون کی ہر سطر چیخ چیخ کر یہی بتارہی ہے کہ امام مودودی اور امام ابن تیمیہ میں یہ تقابل بطور مقابلہ بازی نہیں بلکہ بصورت مماثلت کیا گیا تھا۔
یعنی دعوتِ دین کے سلسلے میں علامہ ابن تیمیہ اور سید مودودی کے حالات اور دینی ادب میں کیا کیا مماثلتیں موجود تھیں؟
باقی مضمون کا طرز تحریر و استدلال مترشح کردیتا ہے کہ جس جس جگہ ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سید مودودی کے حالات کو علامہ ابن تیمیہ کے حالات پر فوقیت دی ہے تو وہاں ذاتی شخصیت نہیں بلکہ حالات کے تحت بات کی گئی ہے۔
مثال کے طور پر سید مودودی کو اردو کے دینی ادب میں ایک بلند مقام پر رکھنے کے بعد ڈاکٹر محمود احمد غازی نے یہ بتایا ہے کہ جو مقام اردو کے دینی ادب میں بطور ادیب سید مودودی کو حاصل تھا وہ علامہ ابن تیمیہ کو عربی کے دینی ادب میں بطور ادیب حاصل نہ ہوسکا تھا اور آگے اس کی توضیح بھی لکھ دی ہے کہ
"شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عربی زبان کی عمر اردو سے کم از کم آٹھ گنا زیادہ ہے اور عربی زبان میں اعلیٰ ترین دینی ادب تخلیق کرنے والوں کی تعداد شاید اردو زبان کے مقابلے میں کئی ہزار گنا ہو۔ ان حالات میں شاید ابن تیمیہ اور مولانا مودودی کا یہ تقابل مبنی بر انصاف نہ ہو۔"
رہی بات علامہ ابن تیمیہ کے افکار کی ۶۰۰ سال بعد ایک نہایت بڑے پیمانے پر حکومتی سرپرستی میں ترویج و اشاعت اور سید مودودی کی زندگی میں ہی ان کے افکار کے ماننے والوں کا کثیر تعداد میں موجود ہونا تو یقین جانئے کہ جس پراپیگنڈائز طور پر اس بات کو سوشل میڈیا پر اچھالا گیا ہے، مضمون کے آخر سے قبل کے دو پیراگراف جن میں اس بات کا ذکر موجود ہے، ان کو پورے مضمون کے ساتھ پڑھ لینے سے قاری پر مترشح ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر غازی مرحوم کی بات کو کس مذموم طریقے سے اس کے منشا سے ہٹا کر پیش کرنے کی جسارت کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں غلط بیانی کس طور سے کی گئی ہے اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑنے کے لیے ۹ صفحات پر مشتمل اس مضمون کا ڈاونلوڈ لنک پہلے کمنٹ میں دیا جارہا ہے۔ ہر صاحبِ انصاف یہ مضمون پڑھے اور خود جان لے کہ ہمارے ہاں بلا امتیازِ مسلک دین کے داعی کس طور سے شخصیات کے لیے اپنی حساسیت اور مبنی بر غلو عقیدت کے ضمن میں بلا خوفِ خدا علمی خیانتوں کی جسارتیں کرتے پائے جاتے ہیں۔
اس مضمون کو لیکر دونوں اطراف سے جو بھی واویلا مچایا گیا ہے وہ کچھ نہیں فقط اپنی اپنی پسندیدہ شخصیت کے لیے بے جا حساسیت اور مبنی بر غلو عقیدت ہے۔
نوٹ: میرے لیے اس امر میں کوئی دلچسپی نہیں کہ سید مودودی کا کام زیادہ وقیع ہے یا پھر علامہ ابن تیمیہ کا۔ شخصیات پر وہ لڑیں جن کا دین نظریات نہیں شخصیات کا مرہونِ منت ہو۔ اس تحریر کا مقصد فقط ایک وفات شدہ بزرگ عالمِ دین کی طرف غلط بات کی نسبت کو رفع کرنا تھا۔ اگر ڈاکٹر محمود احمد غازی حقیقتاً بھی سید مودودی کو علامہ ابن تیمیہ سے متفوق بتلا جاتے تو یہ ان کی ذاتی رائے سمجھ کر میرے دل میں ان کے علمی کاموں کے سبب ان کا احترام اسی قدر رہتا جتنا آج ہے۔
مضمون کو پہلے کمنٹ میں دئیے گئے لنک سے ڈاؤنلوڈ کرکے مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ یقیناً جو شخص بے جا عقیدت اور شخصیات کے لیے مذموم حساسیت کا شکار نہ ہوگا، اس کو اس مضمون میں وہ کچھ نظر نہ آئے گا، جس کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ اہلحدیثوں کے لیے علامہ ابن تیمیہ اور جماعتِ اسلامی والوں کے لیے سید مودودی ریڈ لائن بن چکے ہیں اور ان دونوں گروہوں کے متشدد حضرات اس بابت حساسیت کے زیر اثر اپنے مزاج کے برخلاف کچھ بھی سن کر برافروختہ ہوجاتے ہیں۔
ویسے مزے کی بات بتاوں، یہ سب محض مبنی بر غلو عقیدت مندی اعر شخصیت پرستی ہے، جس کا عدل و انصاف اور اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ حساسیت اس وقت در کیوں نہیں آتی جب انہیں دو گروہوں کے اکابرین ایک صحابی رسولﷺ جن کو قرآن نے راشد قرار دیا ہے، ملوکیت کا پروردہ اور ایک تابعی کو اس کے مقابلے میں خلیفہ راشد قرار دیتے ہیں جبکہ بقول ابن مبارک اس تابعی کا کُلؔی رتبہ اتنا بھی نہیں جتنا کہ اُس صحابی کے اس گھوڑے کی ناک میں پڑنے والی دھول کا تھا جو نبیﷺ کی معیت میں کیے گئے غزوے کے دوران اس صحابی کے گھوڑے کے نتھنوں میں پڑی تھی۔
تحریر: محمد فھد حارث