26/05/2026
ابراہیمی معاہدہ (Abraham Accords) کیا ہے؟
ابراہیمی معاہدہ وہ سفارتی ڈیل ہے جس کے تحت مسلم ممالک اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ باقاعدہ دوستی، تجارت اور سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں۔
یہ سلسلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پچھلے دورِ صدارت (2020) میں شروع ہوا تھا، جب متحدہ عرب امارات (UAE) اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ بعد میں سوڈان اور مراکش بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اسے "ابراہیمی" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہودیت، عیسائیت اور اسلام، یہ تینوں مذاہب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں، اس لیے اس کا نام امن کی علامت کے طور پر یہ رکھا گیا۔
ٹرمپ کا نیا مطالبہ اور پاکستان کا نام:
کل (25 مئی) ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ (Truth Social) پر ایک بڑا بم شیل گرایا ہے۔ انہوں نے صاف کہا ہے کہ:
ایران کے ساتھ جو بھی امن معاہدہ ہوگا، اس کے لیے لازمی (Mandatory) شرط یہ ہوگی کہ خطے کے دیگر بڑے مسلم ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کریں یعنی ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔
ٹرمپ نے باقاعدہ نام لے کر کہا کہ سعودی عرب اور قطر فوری طور پر اس پر دستخط کریں، اور ان کے فوراً بعد پاکستان، ترکی، مصر اور اردن بھی اس کا حصہ بنیں۔
پاکستان کے لیے یہ کیوں ایک بڑا امتحان ہے؟
پاکستان کا آفیشل اور تاریخی مؤقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ جب تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
اب ٹرمپ نے ایران کے امن معاہدے کو پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک "کوششِ لاحاصل" جیسی صورتحال ہے؛ اگر پاکستان ٹرمپ کی بات نہیں مانتا تو امریکہ ناراض ہوتا ہے، اور اگر ماننے کا سوچے بھی (جو کہ ناممکن حد تک مشکل ہے)، تو ملک کے اندر شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ آنے والے چند دن پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے تاریخ کے مشکل ترین دن ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں ایک طرف بارود برس رہا ہے اور دوسری طرف ایسی سیاسی شرائط رکھی جا رہی ہیں جنہیں تسلیم کرنا پاکستان کے لیے ممکن نہیں۔