مہر جان بلوچ

مہر جان بلوچ بلوچ بلوچستان

03/07/2026

‏تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قلم، علم اور پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی گئی، حقیقت اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئی۔ میں ایک بار پھر واضح کرتی ہوں کہ یہ الزامات ہمیں نہیں روک سکتے کیونکہ ہماری قومی مزاحمت ہی ہماری زندگی کا مقصد بن چکا ہے اور بلوچ عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

قبروں پہ گلاب نہیں، بغاوت کی خوشبو ہے،ہر پھول میں اک فریاد، ہر رنگ میں لہو ہے۔زیشان گیا، مگر اس کی صدا باقی ہے،ظلم کے ای...
03/07/2026

قبروں پہ گلاب نہیں، بغاوت کی خوشبو ہے،
ہر پھول میں اک فریاد، ہر رنگ میں لہو ہے۔
زیشان گیا، مگر اس کی صدا باقی ہے،
ظلم کے ایوانوں میں، آج بھی صدا باقی ہے۔

اک بہن ہے، جو سنگِ مزار سے لپٹی ہے،
آنسو نہیں، انگارے اس کی آنکھوں میں بپھرتے ہیں۔
کہتی ہے:
"بھائی تم چراغ نہیں، قافلے کا نشان تھے،
تمہیں شھید کر وہ سمجھ بیٹھے، سچ کو دفنا دیا؟"

یہ قبر نہیں، انقلاب کا آغاز ہے،
یہ مٹی نہیں، بغاوت کا را

اے ریاست!
تو نے لاش دی، تو نے سایہ چھینا،
مگر یاد رکھ،
ہم نے رستہ چُن لیا ہے،
جہاں قبریں بولتی ہیں، اور مائیں خاموش نہیں رہتیں۔




03/07/2026
03/07/2026

سید بی بی بلوچ کی گرفتاری شرمناک عمل ہے، بلوچستان پولیس اب ریاستی بلوچ نسل کش اداروں کا براہِ راست حصہ بن چکی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رکن سید بی بی کے خلاف جاری ریاستی کارروائیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست اختلافِ رائے سے اس قدر خوفزدہ ہو چکی ہے کہ اب ایک بیوہ ماں اور اس کے معصوم بچوں کو بھی اپنی انتقامی سیاست کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں، بلکہ انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور بلوچ عوام کی اجتماعی سیاسی آواز پر حملہ ہے۔

سید بی بی کو یکم جولائی کی رات ساڑھے نو بجے بغیر کسی قانونی جواز کے حراست میں لیا گیا اور تقریباً 24 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔ تاہم رہائی کے بعد دوبارہ فون کر کے انہیں طلب کیا گیا۔ رہائی کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد، جب وہ گھر پہنچی، ریاستی فورسز نے انہیں فون کر کے دوبارہ پیش ہونے کو کہا۔ سید بی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ابھی پولیس کی تحویل سے واپس آئی ہیں، اس لیے اس وقت نہیں آ سکتی، صبح حاضر ہوں گی۔ اس پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے انہیں گرفتاری کی دھمکی دی۔ اس دھمکی کے بعد وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر سے نکلیں اور کوئی دوسری محفوظ جگہ نہ ملنے کے باعث پوری رات اپنے شوہر کی قبر کے سرہانے، قبرستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ ایک بیوہ ماں کا اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ خوف اور عدم تحفظ کے عالم میں قبرستان میں رات گزارنا اس ریاستی جبر کی سنگینی کو بے نقاب کرتا ہے۔

سید بی بی گزشتہ ایک سال سے ہر ہفتے سی ٹی ڈی کے دفتر میں پیش ہوتی رہی ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف مسلسل ہراسانی، دھمکیوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ گزشتہ شب ان کے گھر پر پولیس نے دھاوا بولا، توڑ پھوڑ کی، اور اس کے بعد ان کی والدہ کے گھر بھی گئی، جہاں ان کے بھائی کو جبری گمشدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ رات قبرستان میں پناہ لینے کے بعد سید بی بی جب گھر پہنچی تو گھر کی حالت دیکھ کر اور اپنے رشتہ داروں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف تربت پریس کلب پہنچی ، جہاں انہوں نے پریس کانفرنس کی۔
اس کے بعد وہ خود سی ٹی ڈی دفتر گئی تاکہ انویسٹی گیشن کے لیے پیش ہوں، مگر وہاں انہیں گرفتار کر کے 3-MPO کے تحت ایک ماہ کے لیے تربت سینٹر جیل منتقل کر دیا گیا۔

یہ اقدامات واضح کرتے ہیں کہ ریاست قانون کو انصاف کے لیے نہیں بلکہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ایک سیاسی کارکن اور ایک بیوہ ماں کو بار بار نشانہ بنانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی سید بی بی کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ اگر ان کی جان، سلامتی یا صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ ریاستی اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔

Address

Sharjah

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مہر جان بلوچ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category