10/09/2026
پشین کے نوجوانوں کا حق آخر کون دے گا؟
محکمۂ جنگلات میں غیر مقامی تعیناتیوں کی شکایات، نوجوانوں میں شدید تشویش — پشین کے منتخب نمائندوں سے جواب طلب
تحریر: ڈاکٹر احسان اللہ خان
پشین آبادی کے لحاظ سے بلوچستان کے اہم اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کے عوام نے اپنے مسائل کے حل، نوجوانوں کے مستقبل اور علاقے کی ترقی کی امید کے ساتھ دو اراکینِ صوبائی اسمبلی کو جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر منتخب کیا۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو صرف ووٹ نہیں دیا بلکہ ان کے ہاتھ میں اپنے مستقبل کی امید بھی دی۔
مگر آج پشین کا ایک بڑا طبقہ، خصوصاً تعلیم یافتہ اور بے روزگار نوجوان، ایک بنیادی سوال پوچھنے پر مجبور ہے:
ہمارے نمائندے کہاں ہیں؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پشین کا نوجوان برسوں سے بے روزگاری کا سامنا کر رہا ہے۔ ہاتھ میں ڈگری ہے، تعلیمی اسناد ہیں، قابلیت ہے، لیکن روزگار کا دروازہ کھلنے کا نام نہیں لیتا۔ ایک نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی سال تعلیم حاصل کرنے میں صرف کرتا ہے، والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، اور جب سرکاری ملازمت کی چند آسامیاں سامنے آتی ہیں تو اس نوجوان کو امید ہوتی ہے کہ شاید اب اس کے گھر میں بھی خوشی آئے گی۔
لیکن اگر ان آسامیوں پر مقامی نوجوانوں کے بجائے دوسرے اضلاع کے افراد کو تعینات کرنے کی شکایات سامنے آئیں تو اس نوجوان کی مایوسی کا اندازہ کون کرے گا؟
پشین کے محکمۂ جنگلات کا معاملہ
حالیہ طور پر پشین محکمۂ جنگلات میں فارسٹ گارڈ کی آسامیوں پر غیر مقامی افراد کی تعیناتی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو یہ معاملہ محض چند ملازمتوں کا نہیں بلکہ پشین کے نوجوانوں کے اعتماد اور ان کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں اور عوام کو بتایا جائے کہ ان آسامیوں کے لیے کیا معیار مقرر تھا، بھرتی کا طریقہ کار کیا تھا، امیدواروں کا تعلق کن اضلاع سے تھا اور میرٹ پر انتخاب کس بنیاد پر ہوا۔
کیونکہ پشین کے نوجوان کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے۔
وہ کسی پر احسان نہیں چاہتے۔
وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اگر ان کے ضلع میں سرکاری آسامیاں نکلیں تو انہیں قانون، میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے مطابق مقابلہ کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔
ایک نوجوان سے اس کا خواب مت چھینیں
ذرا ایک ایسے نوجوان کا تصور کریں جو کئی سال تک راتوں کو جاگ کر پڑھتا رہا۔
اس کے والد نے شاید اپنی زمین بیچی۔
کسی نے قرض لیا۔
کسی ماں نے اپنے زیور بیچے۔
کسی بھائی نے اپنی ضرورت قربان کی۔
اس امید پر کہ گھر کا یہ بچہ پڑھ لکھ کر ایک دن اپنے خاندان کا سہارا بنے گا۔
وہ نوجوان امتحان دیتا ہے، تیاری کرتا ہے، فیسیں جمع کرتا ہے، ڈگری حاصل کرتا ہے اور پھر ایک دن سرکاری ملازمت کی آسامی سامنے آتی ہے۔
وہ درخواست دیتا ہے۔
امتحان دیتا ہے۔
امید لگاتا ہے۔
اور پھر اگر اسے یہ محسوس ہو کہ اس کے ضلع کی نشست پر کسی دوسرے ضلع کا امیدوار تعینات ہوگیا ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟
کیا کسی نے کبھی اس نوجوان سے پوچھا کہ اس کے خواب کی قیمت کیا ہے؟
کیا اس کے والدین سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنے بچے کو تعلیم دلانے کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں؟
سوال پشین کے دونوں ایم پی ایز سے ہے
یہاں ہم پشین کے منتخب نمائندوں سے احترام کے ساتھ مگر واضح الفاظ میں پوچھنا چاہتے ہیں:
اگر پشین کا نوجوان اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا تو پھر اس کی آواز کون بنے گا؟
منتخب نمائندے عوام کے ووٹ سے اسمبلی میں پہنچتے ہیں۔ ان کا بنیادی فرض یہی ہے کہ وہ اپنے حلقے کے مسائل اسمبلی اور متعلقہ اداروں کے سامنے اٹھائیں۔
اگر پشین کے نوجوانوں کے مطابق ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو ان کے نمائندوں کو آگے بڑھ کر سوال کرنا چاہیے۔
اگر بھرتی میرٹ پر ہوئی ہے تو عوام کو میرٹ کا ریکارڈ دکھایا جائے۔
اگر کوئی قانونی یا انتظامی وجہ ہے جس کے تحت دوسرے اضلاع کے امیدوار اہل تھے تو وہ بھی عوام کے سامنے واضح کی جائے۔
لیکن خاموشی مسئلے کا حل نہیں۔
دوسرے علاقوں کے نمائندے آواز اٹھا سکتے ہیں تو پشین کے نمائندے کیوں نہیں؟
عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں کے سیاسی نمائندے اپنے علاقوں کے نوجوانوں کے روزگار کے مسائل پر کھل کر آواز اٹھاتے ہیں۔
اگر دوسرے منتخب نمائندے اپنے نوجوانوں کے لیے متعلقہ حکام سے سوال کر سکتے ہیں، اسمبلی میں آواز اٹھا سکتے ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع کی بات کر سکتے ہیں تو پشین کے منتخب نمائندوں کو بھی یہی کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ کسی دوسرے ضلع کے نوجوان کے خلاف جنگ نہیں۔
یہ اپنے ضلع کے نوجوان کے حق کی بات ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی دوسرے ضلع کے قابل نوجوان کو بلاوجہ محروم کیا جائے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ بھرتی کا عمل قانون، قواعد اور میرٹ کے مطابق ہونا چاہیے اور اگر کسی مخصوص آسامی کے لیے مقامی امیدواروں کا حق یا ترجیح قانونی طور پر موجود ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔
اپوزیشن صرف تقریروں کے لیے نہیں ہوتی
اگر منتخب نمائندے اپوزیشن میں ہیں تو پھر ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
اپوزیشن کا کام صرف اسمبلی میں تقریریں کرنا یا حکومت پر تنقید کرنا نہیں۔
اپوزیشن کا اصل کام عوام کی آواز بننا ہے۔
جب کسی علاقے میں بے روزگاری ہو، جب نوجوان پریشان ہوں، جب بھرتیوں پر سوال اٹھیں، جب عوام کسی سرکاری ادارے کے فیصلے پر اعتراض کریں تو منتخب نمائندوں کو میدان میں آنا چاہیے۔
پشین کے نوجوان اپنے نمائندوں سے کسی ذاتی فائدے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔
وہ پوچھ رہے ہیں:
ہم نے آپ کو ووٹ دیا، اب ہماری آواز کون بنے گا؟
پشین کے نوجوان کب تک انتظار کریں؟
یہ سوال صرف فارسٹ گارڈ کی چند آسامیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
یہ پورے پشین کے مستقبل کا سوال ہے۔
آج ایک آسامی گئی، کل دوسری جائے گی، پھر تیسری۔
اگر ہر بار مقامی نوجوان کو یہی جواب ملے کہ “کسی اور کو ملازمت مل گئی”، تو پھر وہ نوجوان کیا کرے؟
کیا وہ اپنی ڈگری پھاڑ دے؟
کیا وہ اپنے خواب چھوڑ دے؟
کیا وہ اپنے والدین سے کہے کہ آپ نے میری تعلیم پر جو پیسہ خرچ کیا، وہ سب ضائع ہوگیا؟
نہیں!
پشین کا نوجوان اس ملک کا شہری ہے۔
اس نے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔
اس نے بھی مقابلے کے امتحانات دیے ہیں۔
اس نے بھی محنت کی ہے۔
اور اسے بھی قانون کے مطابق اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا پورا حق ہے۔
ہمارا مطالبہ واضح ہے
ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پشین محکمۂ جنگلات میں فارسٹ گارڈ کی آسامیوں سے متعلق سامنے آنے والی شکایات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
بھرتی کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے۔
میرٹ لسٹ اور امیدواروں کی اہلیت واضح کی جائے۔
اگر قانون کے مطابق مقامی امیدواروں کے لیے کوئی ترجیح یا مخصوص کوٹہ موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کی تصدیق کی جائے۔
اور اگر کسی مرحلے پر میرٹ یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ساتھ ہی پشین کے منتخب نمائندوں سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے اپنے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور متعلقہ فورم پر ان کی آواز بلند کریں۔
کیونکہ عوام نے انہیں اسی مقصد کے لیے منتخب کیا ہے۔
آخر میں ایک سوال
پشین کے نوجوان بھیک نہیں مانگ رہے۔
وہ کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے۔
وہ کسی کے حصے کی روٹی نہیں چھیننا چاہتے۔
وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں:
ہمیں ہمارے حق کے مطابق موقع دو۔
ہمیں میرٹ پر مقابلہ کرنے دو۔
ہماری محنت کو سفارش کے نیچے دفن نہ کرو۔
اور سب سے بڑھ کر:
ہمارے منتخب نمائندے ہماری آواز بنیں۔
اگر واقعی میرٹ پر بھرتیاں ہوئی ہیں تو سب کچھ عوام کے سامنے واضح کر دیا جائے تاکہ تمام شکوک ختم ہوں۔
اور اگر کہیں ناانصافی ہوئی ہے تو اسے درست کیا جائے۔
کیونکہ ایک بے روزگار نوجوان کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔
آج پشین کا نوجوان سوال کر رہا ہے، کل یہی سوال پورا معاشرہ کرے گا۔
اور یہ سوال بہت سادہ ہے:
“ہم نے تعلیم حاصل کی، محنت کی، ڈگریاں لیں—اب ہمارے حق کی حفاظت کون کرے گا؟”
پشین کے نوجوانوں کو جواب چاہیے۔
میرٹ چاہیے۔
شفافیت چاہیے۔
اور اپنے منتخب نمائندوں کی عملی آواز چاہیے۔
#پشین