Janisar

Janisar Hi everyone please � Follow My new

10/09/2026

پشین کے نوجوانوں کا حق آخر کون دے گا؟

محکمۂ جنگلات میں غیر مقامی تعیناتیوں کی شکایات، نوجوانوں میں شدید تشویش — پشین کے منتخب نمائندوں سے جواب طلب

تحریر: ڈاکٹر احسان اللہ خان

پشین آبادی کے لحاظ سے بلوچستان کے اہم اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کے عوام نے اپنے مسائل کے حل، نوجوانوں کے مستقبل اور علاقے کی ترقی کی امید کے ساتھ دو اراکینِ صوبائی اسمبلی کو جمعیت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر منتخب کیا۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو صرف ووٹ نہیں دیا بلکہ ان کے ہاتھ میں اپنے مستقبل کی امید بھی دی۔

مگر آج پشین کا ایک بڑا طبقہ، خصوصاً تعلیم یافتہ اور بے روزگار نوجوان، ایک بنیادی سوال پوچھنے پر مجبور ہے:

ہمارے نمائندے کہاں ہیں؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پشین کا نوجوان برسوں سے بے روزگاری کا سامنا کر رہا ہے۔ ہاتھ میں ڈگری ہے، تعلیمی اسناد ہیں، قابلیت ہے، لیکن روزگار کا دروازہ کھلنے کا نام نہیں لیتا۔ ایک نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی سال تعلیم حاصل کرنے میں صرف کرتا ہے، والدین اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، اور جب سرکاری ملازمت کی چند آسامیاں سامنے آتی ہیں تو اس نوجوان کو امید ہوتی ہے کہ شاید اب اس کے گھر میں بھی خوشی آئے گی۔

لیکن اگر ان آسامیوں پر مقامی نوجوانوں کے بجائے دوسرے اضلاع کے افراد کو تعینات کرنے کی شکایات سامنے آئیں تو اس نوجوان کی مایوسی کا اندازہ کون کرے گا؟

پشین کے محکمۂ جنگلات کا معاملہ

حالیہ طور پر پشین محکمۂ جنگلات میں فارسٹ گارڈ کی آسامیوں پر غیر مقامی افراد کی تعیناتی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اگر یہ شکایات درست ہیں تو یہ معاملہ محض چند ملازمتوں کا نہیں بلکہ پشین کے نوجوانوں کے اعتماد اور ان کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں اور عوام کو بتایا جائے کہ ان آسامیوں کے لیے کیا معیار مقرر تھا، بھرتی کا طریقہ کار کیا تھا، امیدواروں کا تعلق کن اضلاع سے تھا اور میرٹ پر انتخاب کس بنیاد پر ہوا۔

کیونکہ پشین کے نوجوان کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے۔

وہ کسی پر احسان نہیں چاہتے۔

وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اگر ان کے ضلع میں سرکاری آسامیاں نکلیں تو انہیں قانون، میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے مطابق مقابلہ کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔

ایک نوجوان سے اس کا خواب مت چھینیں

ذرا ایک ایسے نوجوان کا تصور کریں جو کئی سال تک راتوں کو جاگ کر پڑھتا رہا۔

اس کے والد نے شاید اپنی زمین بیچی۔

کسی نے قرض لیا۔

کسی ماں نے اپنے زیور بیچے۔

کسی بھائی نے اپنی ضرورت قربان کی۔

اس امید پر کہ گھر کا یہ بچہ پڑھ لکھ کر ایک دن اپنے خاندان کا سہارا بنے گا۔

وہ نوجوان امتحان دیتا ہے، تیاری کرتا ہے، فیسیں جمع کرتا ہے، ڈگری حاصل کرتا ہے اور پھر ایک دن سرکاری ملازمت کی آسامی سامنے آتی ہے۔

وہ درخواست دیتا ہے۔

امتحان دیتا ہے۔

امید لگاتا ہے۔

اور پھر اگر اسے یہ محسوس ہو کہ اس کے ضلع کی نشست پر کسی دوسرے ضلع کا امیدوار تعینات ہوگیا ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟

کیا کسی نے کبھی اس نوجوان سے پوچھا کہ اس کے خواب کی قیمت کیا ہے؟

کیا اس کے والدین سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنے بچے کو تعلیم دلانے کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں؟

سوال پشین کے دونوں ایم پی ایز سے ہے

یہاں ہم پشین کے منتخب نمائندوں سے احترام کے ساتھ مگر واضح الفاظ میں پوچھنا چاہتے ہیں:

اگر پشین کا نوجوان اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا تو پھر اس کی آواز کون بنے گا؟

منتخب نمائندے عوام کے ووٹ سے اسمبلی میں پہنچتے ہیں۔ ان کا بنیادی فرض یہی ہے کہ وہ اپنے حلقے کے مسائل اسمبلی اور متعلقہ اداروں کے سامنے اٹھائیں۔

اگر پشین کے نوجوانوں کے مطابق ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو ان کے نمائندوں کو آگے بڑھ کر سوال کرنا چاہیے۔

اگر بھرتی میرٹ پر ہوئی ہے تو عوام کو میرٹ کا ریکارڈ دکھایا جائے۔

اگر کوئی قانونی یا انتظامی وجہ ہے جس کے تحت دوسرے اضلاع کے امیدوار اہل تھے تو وہ بھی عوام کے سامنے واضح کی جائے۔

لیکن خاموشی مسئلے کا حل نہیں۔

دوسرے علاقوں کے نمائندے آواز اٹھا سکتے ہیں تو پشین کے نمائندے کیوں نہیں؟

عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں کے سیاسی نمائندے اپنے علاقوں کے نوجوانوں کے روزگار کے مسائل پر کھل کر آواز اٹھاتے ہیں۔

اگر دوسرے منتخب نمائندے اپنے نوجوانوں کے لیے متعلقہ حکام سے سوال کر سکتے ہیں، اسمبلی میں آواز اٹھا سکتے ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع کی بات کر سکتے ہیں تو پشین کے منتخب نمائندوں کو بھی یہی کردار ادا کرنا چاہیے۔

یہ کسی دوسرے ضلع کے نوجوان کے خلاف جنگ نہیں۔

یہ اپنے ضلع کے نوجوان کے حق کی بات ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی دوسرے ضلع کے قابل نوجوان کو بلاوجہ محروم کیا جائے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ بھرتی کا عمل قانون، قواعد اور میرٹ کے مطابق ہونا چاہیے اور اگر کسی مخصوص آسامی کے لیے مقامی امیدواروں کا حق یا ترجیح قانونی طور پر موجود ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔

اپوزیشن صرف تقریروں کے لیے نہیں ہوتی

اگر منتخب نمائندے اپوزیشن میں ہیں تو پھر ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔

اپوزیشن کا کام صرف اسمبلی میں تقریریں کرنا یا حکومت پر تنقید کرنا نہیں۔

اپوزیشن کا اصل کام عوام کی آواز بننا ہے۔

جب کسی علاقے میں بے روزگاری ہو، جب نوجوان پریشان ہوں، جب بھرتیوں پر سوال اٹھیں، جب عوام کسی سرکاری ادارے کے فیصلے پر اعتراض کریں تو منتخب نمائندوں کو میدان میں آنا چاہیے۔

پشین کے نوجوان اپنے نمائندوں سے کسی ذاتی فائدے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔

وہ پوچھ رہے ہیں:

ہم نے آپ کو ووٹ دیا، اب ہماری آواز کون بنے گا؟

پشین کے نوجوان کب تک انتظار کریں؟

یہ سوال صرف فارسٹ گارڈ کی چند آسامیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

یہ پورے پشین کے مستقبل کا سوال ہے۔

آج ایک آسامی گئی، کل دوسری جائے گی، پھر تیسری۔

اگر ہر بار مقامی نوجوان کو یہی جواب ملے کہ “کسی اور کو ملازمت مل گئی”، تو پھر وہ نوجوان کیا کرے؟

کیا وہ اپنی ڈگری پھاڑ دے؟

کیا وہ اپنے خواب چھوڑ دے؟

کیا وہ اپنے والدین سے کہے کہ آپ نے میری تعلیم پر جو پیسہ خرچ کیا، وہ سب ضائع ہوگیا؟

نہیں!

پشین کا نوجوان اس ملک کا شہری ہے۔

اس نے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔

اس نے بھی مقابلے کے امتحانات دیے ہیں۔

اس نے بھی محنت کی ہے۔

اور اسے بھی قانون کے مطابق اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا پورا حق ہے۔

ہمارا مطالبہ واضح ہے

ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پشین محکمۂ جنگلات میں فارسٹ گارڈ کی آسامیوں سے متعلق سامنے آنے والی شکایات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔

بھرتی کا مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے۔

میرٹ لسٹ اور امیدواروں کی اہلیت واضح کی جائے۔

اگر قانون کے مطابق مقامی امیدواروں کے لیے کوئی ترجیح یا مخصوص کوٹہ موجود ہے تو اس پر عمل درآمد کی تصدیق کی جائے۔

اور اگر کسی مرحلے پر میرٹ یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ساتھ ہی پشین کے منتخب نمائندوں سے بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش رہنے کے بجائے اپنے نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور متعلقہ فورم پر ان کی آواز بلند کریں۔

کیونکہ عوام نے انہیں اسی مقصد کے لیے منتخب کیا ہے۔

آخر میں ایک سوال

پشین کے نوجوان بھیک نہیں مانگ رہے۔

وہ کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے۔

وہ کسی کے حصے کی روٹی نہیں چھیننا چاہتے۔

وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں:

ہمیں ہمارے حق کے مطابق موقع دو۔

ہمیں میرٹ پر مقابلہ کرنے دو۔

ہماری محنت کو سفارش کے نیچے دفن نہ کرو۔

اور سب سے بڑھ کر:

ہمارے منتخب نمائندے ہماری آواز بنیں۔

اگر واقعی میرٹ پر بھرتیاں ہوئی ہیں تو سب کچھ عوام کے سامنے واضح کر دیا جائے تاکہ تمام شکوک ختم ہوں۔

اور اگر کہیں ناانصافی ہوئی ہے تو اسے درست کیا جائے۔

کیونکہ ایک بے روزگار نوجوان کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے۔

آج پشین کا نوجوان سوال کر رہا ہے، کل یہی سوال پورا معاشرہ کرے گا۔

اور یہ سوال بہت سادہ ہے:

“ہم نے تعلیم حاصل کی، محنت کی، ڈگریاں لیں—اب ہمارے حق کی حفاظت کون کرے گا؟”

پشین کے نوجوانوں کو جواب چاہیے۔
میرٹ چاہیے۔
شفافیت چاہیے۔
اور اپنے منتخب نمائندوں کی عملی آواز چاہیے۔
#پشین

10/09/2026

میجر جنرل فیصل نصیر: دہشت گردی کے خلاف ایک نئی ذمہ داری، قوم کی نئی امید

پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک مشکل اور طویل جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آج اگر ملک کے کئی علاقوں میں عام شہری نسبتاً اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں تو اس کے پیچھے ہمارے ان بہادر جوانوں کی قربانیاں موجود ہیں جو اپنے گھروں، اپنے بچوں اور اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں میجر جنرل فیصل نصیر کی نئی ذمہ داری کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں انہیں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) میں نیشنل کوآرڈینیٹر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کی اہمیت موجودہ حالات میں مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردی، انتہاپسندی اور ملک دشمن عناصر کے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

میجر جنرل فیصل نصیر نے اس سے قبل بھی ملکی سلامتی کے حساس معاملات میں ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ ان کے بارے میں عوامی سطح پر یہ تاثر موجود ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور ملکی سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی نئی ذمہ داری کے بعد قوم کی نظریں ایک مرتبہ پھر ان کی کارکردگی پر ہیں۔

پاکستان کے عوام کی توقعات بہت واضح ہیں۔

عوام چاہتے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مؤثر انداز میں ختم کیا جائے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا سراغ لگایا جائے، ملک دشمن عناصر کے خلاف مربوط کارروائی کی جائے اور عام شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔

BLA ہو، TTP ہو یا کوئی اور مسلح دہشت گرد گروہ، ریاست کے لیے بنیادی اصول ایک ہی ہونا چاہیے: جو شخص پاکستان کے شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

یہ جنگ کسی قوم، نسل یا عام شہری کے خلاف نہیں ہے۔

یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو کسی خاص قوم یا عام آبادی کے خلاف نفرت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی جنگ دہشت گردی، تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف ہے۔ جو شخص قانون پسند شہری ہے، وہ چاہے کسی بھی علاقے، زبان یا پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، اسے تحفظ ملنا چاہیے۔ لیکن جو شخص بندوق اٹھا کر ریاست اور عوام کے خلاف کھڑا ہو، اس کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

یہی فرق ایک مضبوط ریاست اور انتشار کا شکار معاشرے میں ہوتا ہے۔

آج پاکستان کو صرف فوجی کارروائیوں کی نہیں بلکہ ایک مکمل اور مربوط قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انٹیلی جنس اداروں، پولیس، ایف سی، فوج، صوبائی حکومتوں اور وفاقی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

NACTA جیسے ادارے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف قومی سطح پر رابطہ کاری اور حکمت عملی کو مضبوط بنایا جائے۔ اگر تمام ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کریں، معلومات بروقت شیئر ہوں اور فیصلے تیزی سے کیے جائیں تو دہشت گردوں کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

قوم یہ بھی چاہتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کے ذریعے نہ لڑی جائے بلکہ اس کے پیچھے موجود مالی، نظریاتی اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کو بھی ختم کیا جائے۔

ایک دہشت گرد صرف وہ شخص نہیں ہوتا جو ہاتھ میں بندوق لے کر سامنے آتا ہے۔ اس کے پیچھے پیسہ دینے والے، سہولت فراہم کرنے والے، معلومات پہنچانے والے اور بعض اوقات نظریاتی طور پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے عناصر بھی موجود ہوتے ہیں۔

لہٰذا کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردی کے پورے نظام کو سمجھ کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ کئی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، کئی بچوں نے اپنے والد کھوئے، کئی خواتین بیوہ ہوئیں اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک جوان جب وردی پہنتا ہے تو وہ صرف اپنی تنخواہ کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالتا۔ وہ اپنے ملک، اپنے لوگوں اور اپنے فرض کے لیے میدان میں کھڑا ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قوم کو اپنے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے۔

اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے۔ حکومت پر تنقید بھی جمہوری حق ہے، اداروں سے سوال کرنا بھی قانونی دائرے میں جائز ہے، لیکن دہشت گردی اور قومی سلامتی کے معاملے کو سیاسی لڑائی کا حصہ بنا دینا ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان کو آج سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

قوم یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کہاں تک پہنچے؟ ان کے سہولت کار کون ہیں؟ ان کی مالی معاونت کہاں سے ہوتی ہے؟ اور عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ریاست مزید کیا اقدامات کر رہی ہے؟

میجر جنرل فیصل نصیر کے لیے بھی یہ ذمہ داری ایک بڑا امتحان ہے۔

قوم ان سے توقع کرتی ہے کہ وہ اپنے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے NACTA اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی کو مؤثر بنانے، انٹیلی جنس شیئرنگ بہتر کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

قوم کو وعدوں سے زیادہ نتائج چاہییں۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین کسی دہشت گرد گروہ کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بازار، اسکول، یونیورسٹیاں، مساجد، عبادت گاہیں، سڑکیں اور سرکاری ادارے محفوظ ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک عام پاکستانی اپنے گھر سے نکلتے وقت یہ خوف محسوس نہ کرے کہ کہیں دہشت گردی کا کوئی واقعہ اس کی زندگی نہ بدل دے۔

یہ صرف حکومت یا فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

علماء، اساتذہ، والدین، صحافی، سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور عام شہری سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو انتہاپسندی سے بچانا ہوگا، جھوٹی معلومات اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کو روکنا ہوگا اور ملک دشمن عناصر کے عزائم کو سمجھنا ہوگا۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔

اب وقت ہے کہ ان قربانیوں کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔

میجر جنرل فیصل نصیر کو جو نئی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ صرف ایک فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک بڑے قومی مقصد کا حصہ ہے۔ اگر ادارے باہمی تعاون، قانون کی بالادستی، میرٹ، شفافیت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کام کریں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف مزید مضبوطی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔

قوم اپنے محافظوں سے یہی امید رکھتی ہے کہ وہ ملک کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری قوت اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔

اور قوم کی دعا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی، انتہاپسندی، فساد اور ہر قسم کے ملک دشمن عناصر سے نجات ملے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے اور پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے۔

پاکستان کے محافظ سلامت رہیں۔

پاکستان مضبوط رہے۔

پاکستان پائندہ باد۔🇵🇰
پاکستان زندہ باد۔🇵🇰
افواج پاکستان زندہ باد🇵🇰
DG ISPRSindh GovernmentGovt of PunjabMinistry of Information and Broadcasting, PakistanGovernment of PakistanGovernment of Iraq - الحكومة العراقية

اتنی خوشی افغان دہشت گردوں کو ہماری سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انجام تک پہنچانے پر نہیں ہوتی، جتنی خوشی اس فیصلے پر ہے کہ ...
10/09/2026

اتنی خوشی افغان دہشت گردوں کو ہماری سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انجام تک پہنچانے پر نہیں ہوتی، جتنی خوشی اس فیصلے پر ہے کہ افغان طلبہ کو پاکستانی جامعات سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملکی سلامتی اور قومی مفاد کے حوالے سے بروقت اور سخت فیصلے کرنے والوں کو سلام۔

سلام ہے اُس شخص کو جس نے یہ فیصلہ کیا۔

پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفاد سب سے مقدم ہیں۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

جب قومی سلامتی کا سوال ہو تو فیصلہ جذبات سے نہیں، قومی مفاد سے ہوتا ہے

کبھی کبھی قوموں کی تاریخ میں ایسے فیصلے آتے ہیں جنہیں صرف ایک انتظامی حکم، ایک نوٹیفکیشن یا ایک سرکاری اعلان سمجھنا بہت بڑی غلطی ہوتی ہے۔ ایسے فیصلوں کے پیچھے برسوں کے تجربات، حالات، سیکیورٹی کے تقاضے، عوام کے تحفظ اور ریاست کے وسیع تر مفادات چھپے ہوتے ہیں۔

پاکستان آج بھی دہشت گردی کے خلاف ایک مشکل اور طویل جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ ہماری سیکیورٹی فورسز کے جوان سرحدوں سے لے کر دور دراز علاقوں تک اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ہر چند دن بعد کسی ماں کو اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر ملتی ہے، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور کسی گھر کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ جاتا ہے۔

ایسے ماحول میں جب ریاست قومی سلامتی کے حوالے سے کوئی سخت فیصلہ کرتی ہے تو اس فیصلے کو صرف سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ اس فیصلے کے پیچھے قومی سلامتی کا کیا تقاضا ہے؟

اور یہی وجہ ہے کہ افغان طلبہ کے حوالے سے پاکستانی جامعات میں کیے جانے والے اقدامات پر بھی جذبات کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں بات ہونی چاہیے۔

خوشی کس بات کی ہے؟

سچ یہ ہے کہ دہشت گردی کی کسی کارروائی کے نتیجے میں کسی انسان کی جان جانا خوشی کی بات نہیں۔ دہشت گرد چاہے کسی بھی ملک، علاقے یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اس کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے اور عوام کی حفاظت سب سے اہم ہے۔

لیکن ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے اس بات پر زیادہ اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ ریاست اب ایسے معاملات میں قومی سلامتی کو ترجیح دینے کے لیے مشکل فیصلے کرنے سے گریز نہیں کر رہی۔

اگر کسی ملک کے شہریوں، اداروں، سرحدی صورتحال یا کسی خاص ماحول سے متعلق سیکیورٹی خدشات پیدا ہوں تو ریاست کو ان خدشات کا جائزہ لینے کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے:

کسی افغان طالب علم کا افغان ہونا اسے دہشت گرد نہیں بناتا، لیکن اسی طرح کسی سیکیورٹی خدشے کو صرف اس بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ افراد طلبہ ہیں۔

ریاست کو ہر فرد کے معاملے کو قانون، دستاویزات اور سیکیورٹی کے اصولوں کے مطابق دیکھنا چاہیے۔

پاکستانی عوام سے بھی ایک سوال

ہم اپنے سیکیورٹی جوانوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟

ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری سرحدوں کی حفاظت کریں۔

ہم چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کریں۔

ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے شہروں میں امن قائم رکھیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ جب کوئی خطرہ ہمارے دروازے تک پہنچے تو وہ سب سے پہلے ہمارے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہوں۔

لیکن پھر جب ریاست سیکیورٹی کے کسی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی مشکل فیصلہ کرتی ہے تو ہم فوراً سیاسی بحث شروع کر دیتے ہیں۔

آخر کیوں؟

کیا ہماری سیکیورٹی فورسز کو صرف اس وقت یاد کیا جائے گا جب وہ شہید ہوں؟

کیا ان کے خون کا احترام صرف جنازے کے دن کیا جائے گا؟

کیا قومی سلامتی کے فیصلوں کا مطالبہ صرف تقریروں تک محدود رہے گا؟

اگر ہم واقعی اپنے شہداء اور اپنے محافظوں سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی صرف سرحد پر بندوق اٹھانے کا نام نہیں؛ قومی سلامتی کے لیے انتظامی، سفارتی، قانونی اور تعلیمی سطح پر بھی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

تعلیم کا دروازہ اور ریاست کی ذمہ داری

پاکستان نے برسوں سے مختلف ممالک کے طلبہ کو اپنی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دیے ہیں۔ تعلیم ایک مثبت عمل ہے۔ ایک طالب علم کو صرف اس کی قومیت کی بنیاد پر برا سمجھنا بھی درست نہیں۔

لیکن یونیورسٹی صرف تعلیم کی جگہ نہیں ہوتی؛ یہ حساس ادارے بھی ہوتے ہیں جہاں ہزاروں پاکستانی نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

اگر کسی خاص صورتحال میں ریاست کو یہ محسوس ہو کہ کسی طبقے، ادارے یا دستاویزی نظام کے حوالے سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں تو حکومت کو ان معاملات کی جانچ پڑتال کا اختیار حاصل ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ فیصلہ قانونی، شفاف اور انفرادی بنیادوں پر ہو۔

جو طالب علم بے قصور ہے، اس کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔

اور اگر کسی فرد کے حوالے سے حقیقی سیکیورٹی خدشات موجود ہیں تو محض طالب علم ہونے کی وجہ سے ان خدشات کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

یہی ایک ذمہ دار ریاست کا اصول ہے۔

سلام اس فیصلے پر نہیں، اس سوچ پر ہے

جب میں کہتا ہوں:

“سلام ہے اس شخص کو جس نے یہ فیصلہ کیا”

تو میرے نزدیک اس کا مطلب کسی قوم کے خلاف نفرت نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سلام ہے اس سوچ کو جو قومی مفاد کو ذاتی، سیاسی اور وقتی مفادات سے اوپر رکھنے کی کوشش کرے۔

سلام ہے اس سوچ کو جو یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

سلام ہے اس سوچ کو جو ہمارے شہداء کے خاندانوں کے درد کو سمجھتی ہے۔

سلام ہے اس سوچ کو جو یہ سوال پوچھنے کی ہمت رکھتی ہے کہ اگر ہمارے جوان اپنی جان دے کر ہماری حفاظت کر سکتے ہیں تو ریاست بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے بروقت فیصلے کیوں نہیں کر سکتی؟

ہمیں ہر فیصلے کی اندھی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔

ریاستی فیصلوں پر سوال بھی ہونے چاہئیں۔

مگر سوال ثبوت، قانون اور دلیل کے ساتھ ہونے چاہئیں۔

صرف سیاسی فائدے کے لیے ہر سیکیورٹی اقدام کو متنازع بنانا بھی درست نہیں۔

دہشت گرد اور عام طالب علم میں فرق ضروری ہے

ایک اور بات بہت واضح ہونی چاہیے۔

ہمیں دہشت گردی کے خلاف سخت ہونا ہے، مگر کسی پوری قوم یا تمام افغان شہریوں کو دہشت گرد سمجھنا درست نہیں۔

ایک طرف وہ شخص ہے جو معصوم لوگوں کو قتل کرتا ہے، سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتا ہے اور ملک میں خوف پھیلاتا ہے۔

دوسری طرف وہ طالب علم ہے جو کتاب اٹھا کر یونیورسٹی جاتا ہے اور اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتا ہے۔

ان دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا انصاف نہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ افراد اور جرائم کے خلاف ہونی چاہیے، قومیتوں کے خلاف نہیں۔

لیکن اس اصول کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں ریاست کو خطرات کی جانچ پڑتال اور احتیاطی اقدامات کا حق حاصل ہے۔

یہ توازن ہی ایک مضبوط ریاست کی پہچان ہے۔

ہمارے شہداء کا قرض

آج اگر ہم کسی یونیورسٹی کے گیٹ پر کھڑے ہو کر تعلیم، آزادی اور مستقبل کی بات کر سکتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو ہماری حفاظت کرتے ہوئے اپنا مستقبل قربان کر گئے۔

کسی شہید کی ماں سے پوچھیں کہ اس کے لیے “قومی سلامتی” کا کیا مطلب ہے۔

کسی شہید کے بچے سے پوچھیں کہ امن کی قیمت کیا ہے۔

کسی جوان کی بیوہ سے پوچھیں کہ ریاست کی حفاظت کے لیے قربانی کیا ہوتی ہے۔

تب شاید ہمیں اندازہ ہو کہ سیکیورٹی پالیسی صرف سرکاری فائل کا لفظ نہیں۔

یہ کسی کا بیٹا ہے۔

کسی کا بھائی ہے۔

کسی کا شوہر ہے۔

کسی کا باپ ہے۔

اور جب وہ شہید ہوتا ہے تو اس کے گھر میں صرف ایک فرد نہیں مرتا، پورا خاندان ایک نئے دکھ کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کرتا ہے۔

اسی لیے جب ریاست قومی سلامتی کے لیے کوئی قدم اٹھاتی ہے تو ہمیں کم از کم اتنا ضرور کرنا چاہیے کہ پہلے اس فیصلے کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔

پاکستان پہلے

آج پاکستان کو ایک ایسی قومی سوچ کی ضرورت ہے جو ہر معاملے کو پارٹی، قومیت یا ذاتی پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد کی بنیاد پر دیکھے۔

ہمیں افغان عوام سے نفرت نہیں کرنی۔

ہمیں افغان طلبہ سے نفرت نہیں کرنی۔

ہمیں کسی قوم کے خلاف تعصب نہیں پھیلانا۔

لیکن ہمیں یہ حق ضرور حاصل ہے کہ اپنے ملک کی سلامتی، اپنے شہریوں کے تحفظ اور اپنی سرزمین کے امن کو اولین ترجیح دیں۔

جو افغان طالب علم قانون کے مطابق پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، اس کے ساتھ قانون اور انسانیت کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔

اور جہاں حقیقی سیکیورٹی خدشات موجود ہوں، وہاں ریاست کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا پورا اختیار ہونا چاہیے۔

یہی انصاف ہے۔ یہی توازن ہے۔ اور یہی ایک ذمہ دار ریاست کا راستہ ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہنا ہے:

ہم اپنے شہداء کی قربانی نہیں بھول سکتے۔

ہم اپنے سیکیورٹی جوانوں کے خون کو معمولی نہیں سمجھ سکتے۔

ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سیاسی مصلحتوں کی نذر نہیں کر سکتے۔

قومی سلامتی پر فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کبھی ایسے فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں جن پر کچھ لوگ ناراض ہوتے ہیں، کچھ سیاسی جماعتیں اعتراض کرتی ہیں اور کچھ حلقے تنقید کرتے ہیں۔

لیکن اگر کوئی فیصلہ واقعی پاکستان کے شہریوں کے تحفظ، ملکی سلامتی اور مستقبل کے امن کے لیے کیا گیا ہے تو اسے دلیل اور قانون کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے، محض جذبات یا سیاست کی بنیاد پر نہیں۔

ہمیں نفرت نہیں چاہیے، ہمیں امن چاہیے۔

ہمیں تعصب نہیں چاہیے، ہمیں قانون چاہیے۔

ہمیں سیاسی تقسیم نہیں چاہیے، ہمیں قومی اتحاد چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر—

ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں کوئی دہشت گرد ہمارے شہریوں کو نشانہ بنانے کی جرات نہ کرے، جہاں ہمارے جوان اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جانیں قربان نہ کریں، اور جہاں ریاست اپنے ہر فیصلے میں پاکستان کے مفاد کو سب سے مقدم رکھے۔

پاکستان پہلے۔
پاکستان ہمیشہ۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
پاک فورسز زندہ باد⚔️

09/09/2026

عوام کے نام پر جلسے، یا عوام اور اداروں کے درمیان نفرت کی سیاست؟

07 ستمبر 2026، بروز پیر، ملک کے مختلف علاقوں میں آل پارٹیز کے اجلاس، جلسے اور جلوس منعقد ہوئے۔ بظاہر ان اجتماعات کا مقصد عوام کے تحفظ، عزت اور حقوق کی بات کرنا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مقصد عوام کی حفاظت تھا، یا عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان نفرت پیدا کرنا؟

عوام کے حقوق کی بات کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ حکومت سے سوال کرنا، پالیسیوں پر تنقید کرنا اور اپنے مطالبات پیش کرنا جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ لیکن جب یہی سیاسی سرگرمیاں ان اداروں اور جوانوں کے خلاف نفرت انگیز نعروں میں تبدیل ہو جائیں جو اپنی جانیں داؤ پر لگا کر عوام کی حفاظت کر رہے ہیں، تو پھر سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ آخر اس سیاست کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟

کیا عوام کو تحفظ دینے کے نام پر عوام اور ان کے محافظوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا واقعی عوام دوستی ہے؟

ذرا ان جوانوں سے بھی پوچھیں

ہم ان سیاسی جماعتوں اور آل پارٹیز اجتماعات کے منتظمین سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتے ہیں:

کیا آپ اپنے بچوں کو 30 یا 40 ہزار روپے ماہانہ کے لیے یتیم چھوڑنا پسند کریں گے؟

آج Pakistan Army، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی فورسز میں خدمات انجام دینے والا ایک جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ اس کی تنخواہ چاہے 30 یا 40 ہزار روپے ہو، لیکن کیا وہ صرف اس معمولی تنخواہ کے لیے موت کے منہ میں جاتا ہے؟

ہرگز نہیں۔

اگر مقصد صرف 30 یا 40 ہزار روپے کمانا ہوتا تو آج کے دور میں انسان اپنے گھر کے قریب رہ کر محنت مزدوری، دکان، کاروبار یا کوئی دوسرا کام کرکے بھی اتنی رقم کما سکتا ہے۔

پھر یہ جوان اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالتا ہے؟

کیونکہ اس کے سامنے صرف تنخواہ نہیں ہوتی۔

اس کے سامنے وطن ہوتا ہے۔

اس کے سامنے اپنے عوام کی حفاظت ہوتی ہے۔

اس کے سامنے اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔

اور بہت سے جوانوں کے لیے یہ خدمت اپنے ایمان، ملک اور قوم کے ساتھ وفاداری کا عہد ہوتی ہے۔

ایک جوان کی شہادت کے پیچھے پورا خاندان ہوتا ہے

ہم جب خبر سنتے ہیں کہ کوئی جوان دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں شہید ہوگیا تو شاید چند لمحوں بعد اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

لیکن اس جوان کے گھر میں کیا ہوتا ہے؟

ایک ماں اپنے بیٹے سے محروم ہوجاتی ہے۔

ایک باپ اپنے سہارے سے محروم ہوجاتا ہے۔

ایک بیوی اپنے شریکِ حیات سے محروم ہوجاتی ہے۔

اور بچے اپنے باپ کے سائے سے محروم ہوجاتے ہیں۔

اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بعض واقعات میں ان جوانوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں تک کی بے حرمتی کی گئی، حتیٰ کہ انہیں جلانے جیسے انسانیت سوز واقعات بھی سامنے آئے۔

جو جوان عوام کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دے، کیا کم از کم اتنا حق بھی نہیں رکھتا کہ قوم اس کی قربانی کا احترام کرے؟

حوصلہ افزائی کے بجائے نفرت کیوں؟

یہاں ہمارا سوال سیاسی جماعتوں سے ہے۔

اگر یہی فورسز آپ کی، ہماری اور عام شہریوں کی حفاظت کرتی ہیں؛ اگر انہی کے جوان دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی اور شہید ہوتے ہیں؛ اگر ان کے خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے ہیں؛ اگر کوئی جوان اپنی ڈیوٹی کے دوران جان دے دیتا ہے—

تو پھر ایسے وقت میں اس کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے اسی فورس کے خلاف نفرت کے نعرے کیوں؟

آپ حکومت پر تنقید کریں، پالیسیوں پر سوال کریں، سیاسی اختلاف کریں، احتجاج کریں—یہ سب آپ کا جمہوری حق ہے۔

لیکن ایک عام سپاہی کو اپنی سیاسی لڑائی کا فریق بنانا کہاں کی انصاف پسندی ہے؟

ایک جوان جو آج اپنی پوسٹ پر کھڑا ہے، وہ کسی سیاسی جماعت کا دشمن نہیں۔

وہ بھی اسی ملک کا شہری ہے۔

وہ بھی کسی ماں کا بیٹا ہے۔

وہ بھی کسی گھر کا سہارا ہے۔

اور جب وہ شہید ہوتا ہے تو اس کے خون پر سیاست نہیں، احترام ہونا چاہیے۔

اصل منافقت کیا ہے؟

اگر ایک طرف ہم عوام کے تحفظ کی بات کریں اور دوسری طرف انہی لوگوں کے خلاف نفرت پیدا کریں جو عوام کی حفاظت پر مامور ہیں، تو پھر ہمیں اپنے رویے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

اگر ایک جوان ہماری حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو، اس کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جائے، اس کی لاش تک جلائی جائے، اور ہم اس کے خاندان اور ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے انہی کے خلاف کھڑے ہو جائیں—

تو پھر اسے عوام دوستی کیسے کہا جا سکتا ہے؟

اختلافِ رائے جمہوریت ہے۔

تنقید جمہوریت ہے۔

احتجاج بھی جمہوریت ہے۔

لیکن اپنے ہی محافظوں کے خلاف نفرت پیدا کرنا، شہداء کی قربانیوں کو نظر انداز کرنا اور ایک پوری فورس کو سیاسی دشمن بنا دینا قومی یکجہتی کے لیے خطرناک راستہ ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا

پاکستان آج سیاسی تقسیم سے زیادہ قومی اتحاد کا محتاج ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اور حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ملک باقی رہتا ہے۔

اختلاف ضرور کریں، مگر اپنے محافظوں کو دشمن نہ بنائیں۔

سوال ضرور کریں، مگر شہداء کی قربانیوں کی توہین نہ کریں۔

احتجاج ضرور کریں، مگر عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان ایسی نفرت نہ پیدا کریں جس کا نقصان بالآخر اسی عوام کو اٹھانا پڑے۔

کیونکہ جس ملک کے محافظوں کا حوصلہ توڑ دیا جائے، اس ملک کے دشمنوں کا حوصلہ خود بخود بلند ہوجاتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ان جوانوں کے ساتھ کھڑے ہوں جو اپنی جانوں کی قیمت پر ہمارے امن کی حفاظت کر رہے ہیں۔

سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن شہید کی عزت سب پر فرض ہے۔

پاکستان کے محافظوں کو سلام۔
پاکستان کے شہداء کو سلام۔
اور ان کے خاندانوں کو پوری قوم کی طرف سے سلامِ عقیدت۔

پاکستان زندہ باد۔🇵🇰
پاک آرمی پاک فورسز زندہ باد⚔️
DG ISPRGovernment of Iraq - الحكومة العراقيةSindh GovernmentGovt of PunjabMinistry of Information and Broadcasting, PakistanGovernment of PakistanDGK

09/09/2026

جب تک ہم ایک قوم ایک پاکستانی نہیں بنےگے تب تک دشمن اس صورتحال سے فائدہ اٹھا تے رہنئگے اج کا دن بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ جب قوم 1965میں ایک قوم کے طرح اتفاق اور اتحاد پر قائم تھی تب جیت قوم کی جیت تھی اج بھارت اسرائیل خاص طور پر ہمارے ملک میں سرگرم ہے ائے روز ہمارے پاک فوج کے جوان اور سویلین شہید ہورہے ہیں لیکن ہم انکو باور کراناچایتے ہیں کہ پاکستان اور بلوچستان کسی کاباپ بھی نہیں توڑ سکتا

09/09/2026

Adresse

France � 58M
Paris
75000

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Janisar publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Raccourcis

Partager