16/08/2025
بونیر پیر بابا کا المیہ – قوم کے نام ایک پکار
گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کے تاریخی اور روحانی مقام پیر بابا پر آسمان ٹوٹ پڑا۔ بارش کے بادلوں نے ایسی بے رحمی سے برسنا شروع کیا کہ چند ہی لمحوں میں ندی نالے سیلابی ریلوں میں بدل گئے اور پہاڑوں سے اُمنڈ کر آنے والا پانی پتھروں اور مٹی کے تودوں کے ساتھ گاؤں کے گاؤں بہا لے گیا۔ لمحوں میں بستیوں کی بستی صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں، اور وہ زمین جس پر کبھی اذانوں کی گونج تھی، آج ملبے اور چیخ و پکار کا منظر پیش کر رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق صرف پیر بابا اور اس کے نواحی علاقوں میں دو سو سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں یہ اعداد محض ہندسے نہیں، یہ وہ بیٹے ہیں جو ماں کی گود سے چھن گئے، یہ وہ باپ ہیں جو بچوں کے سروں سے سایہ بن کر اُٹھ گئے، یہ وہ زندگیاں ہیں جو خوابوں کے ساتھ ملبے تلے دفن ہو گئیں۔
عینی شاہدین کی آنکھوں میں اب بھی خوف اور بے بسی کی لکیریں ہیں۔ ایک مقامی شہری نے روتے ہوئے کہا کہ یہ پانی نہیں تھا، بلکہ موت کا ایک طوفان تھا جو پتھروں کے ساتھ آیا اور سب کچھ بہا لے گیا۔ سڑکوں پر تباہ حال مکان، بکھرے ہوئے سامان اور ملبے تلے دبے انسانی جسم اس آفت کی شدت کو بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں اور مقامی لوگ دن رات لاشیں نکالنے اور زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر دشوار گزار راستے اور وسائل کی کمی ان سب کوششوں کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔
آج پیر بابا کے بچے کھلے آسمان تلے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ عورتیں اپنے گمشدہ پیاروں کے انتظار میں ہیں اور بوڑھے اپنے ڈوبتے گھروں کو حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ محض ایک علاقائی حادثہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا امتحان ہے۔ جب ایک خطہ جلتا ہے تو پوری قوم کو اس کی تپش محسوس ہونی چاہیے۔
یہ وقت صرف تعزیت اور افسوس کا نہیں، بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے امداد کا اعلان کیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا چند لاکھ روپے اور وقتی امداد کافی ہے؟ جب تک ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، جب تک مضبوط ڈیم، پائیدار انفراسٹرکچر اور بروقت وارننگ سسٹم قائم نہیں کرتے، تب تک ہر سال سیلاب ہمارے گاؤں بہا لے جائے گا اور ہم صرف جنازے گننے پر مجبور رہیں گے۔
پیر بابا کا یہ سانحہ ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے۔ ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ اہلِ خیر آگے بڑھیں، نوجوان اپنے وسائل متاثرین تک پہنچائیں، اور حکومت فوری اور دیرپا منصوبہ بندی کرے۔ اگر آج ہم نے قدم نہ اٹھایا تو کل یہ قیامت کسی اور دروازے پر دستک دے سکتی ہے۔
پیر بابا کے شہداء ہمارے دلوں پر قرض ہیں۔ ان کی یاد ہمیں یہ عہد کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم نہ صرف متاثرین کی مدد کریں گے بلکہ آنے والی نسلوں کو ایسے المناک حادثات سے بچانے کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔