England with Wasim

England with Wasim Discover England's Essence with Wasim Liaqat 🇬🇧🎥 Explore life, jobs, and travel adventures! 🌍✨

28/11/2024

کہتے ہیں بچے من کے سچے پر آج کل کے بچے بہت بڑے ڈرامے باز ہیں۔

A life spent with you is not merely time passing by; it is a life fully lived, brimming with joy, love, and the beauty o...
18/11/2024

A life spent with you is not merely time passing by; it is a life fully lived, brimming with joy, love, and the beauty of shared moments. Every day with you transforms the ordinary into something extraordinary, turning even the simplest moments into memories that shine with happiness and meaning.

ہمارے اہل وطن کا ایک ہی رونا ہے کہ جی کام نہیں ملتا، آرڈر نہیں ملتا، انٹرنیشنل مارکیٹ کو کیسے ٹارگٹ کریں۔ یہ صاحب جن کی ...
06/11/2024

ہمارے اہل وطن کا ایک ہی رونا ہے کہ جی کام نہیں ملتا، آرڈر نہیں ملتا، انٹرنیشنل مارکیٹ کو کیسے ٹارگٹ کریں۔ یہ صاحب جن کی میں پوسٹ شئر کر رہا ہوں یہ شاید سارا دن فیس بک پر پوسٹ لگانے میں صرف کردیتے ہیں جواب ایک رٹا رٹایا جملہ ہوتا ہے۔ میرے ایک دوست جو انگلینڈ میں ٹیک اوے کا بزنس کرتے ہیں پچھلے بیس سال سے ادھر ہی مقیم ہیں میں ن ے انہیں مشورہ دیا کہ آپ اگر اپنی پرنٹنگ پاکستان سے کرواتے ہیں تو آپ کی کاسٹ کوفی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا یار مرتا مر جاؤں پاکستانیوں سے کام نہ کرواؤں پرلے درجے کے عہد شکن لوگ ہیں پروفیشنل ازم نام کو نہیں۔ میں نے بہتیرا سمجھایا اور انہیں کہا کہ ایک دفعہ ٹرائی کرکے دیکھیں اور ٹرائی کی شروعات ان صاحب سے کی انہیں مسلسل 5 دن میسجز کیے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کمال مہربانی سے ایک آٹو جنریٹڈ جواب موصول ہوجاتا تھا۔ خدا خدا کرکے ان کا ایک میسج وٹس ایپ نمبر پر موصول ہوا ان سے صرف 3 /4 میسجز کی چیٹ ہوسکی اس کے بعد بات بند ، یعنی انتہائی نان پروفیشنل رویہ، اب جن صاحب کو میں مشورہ دے رہا تھا وہ مجھے دیکھیں اور میں نظریں نہ ملا سکوں ۔ مجھے کہتے ہیں بھائی اب انگلینڈ آچکے ہو پاکستانیوں کے قصیدے پڑھنا چھوڑ دو اور اسی رائے کو مان کہ یہ ایک نمبر کے نان پروفیشنل لوگ ہیں یہاں تین گنا دام پر کام کروا لینا لیکن سستے کے چکر میں کسی پاکستانی پر اعتبار نہ کرنا۔ اب ان صاحب کو مینشن کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ کوئی کاروباری سرگرمی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور آپ پر انٹرنیشنل کسٹمر اعتبار نہیں کر رہا تو وجہ اس طرح کے احباب ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو نہ تو خود کھیلنا جانتے ہیں نہ کسی کو کھیلنے دیتے ہیں۔
وسیم لیاقت

Pakistani CNIC ki fee with postage Spain me 94$ Lee gaee hay. Jub k UK ka BRP 20£ me ap k ghr punch jata hay.This is cal...
31/07/2024

Pakistani CNIC ki fee with postage Spain me 94$ Lee gaee hay. Jub k UK ka BRP 20£ me ap k ghr punch jata hay.
This is called dil dil Pakistan.

07/07/2024

آٹے کی شکایت
پچھلے ہفتے بیگم صاحبہ نے کال کی کہ آٹا ختم ہونے والا ہے چھٹی والے دن لے آ ئیے گا۔ میں نے کہا جی نوکر کی تے نخرہ کی؟
ہم لوگ گندم کا دیسی آٹا کھاتے ہیں ریفائنڈ آٹا جسے سفید آٹا کہتے ہیں وہ ہمارے گھر میں نہیں کھایا جاتا اور وہ اٹا لینے کے لیے زرا دور جانا پڑتا ہے۔
سپر مارکیٹ جا کر میں نے سوچا کہ یہ آٹے کا دس کلو کا بیگ تو جلدی ختم ہوجاتا ہے میں چار پانچ بیگز لے جاتا ہوں تاکہ دوبارہ جلدی نہ آنا پڑے۔ لیکن سپر مارکیٹ میں اس وقت صرف دو ہی بیگز پڑے ہوئے تھے۔

میں نے کسٹمر سروس سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ میری مطلوبہ پراڈکٹ پوری مقدار میں دستیاب نہیں ہے۔
انہوں نے مجھے کہا کہ آپ یہ چیزیں ایپلیکشن سے آرڈر کر دیں یہ آپ کو گھر بھجوا دی جائیں گی۔ ڈیلیوری چارجز دو تین پاؤنڈ تھے میں نے خوشی خوشی آٹے کے پانچ بیگ آرڈر کردیے۔ اب دو دن بعد جب آٹے کے بیگ آئے تو یہ بیگ مختلف تھے۔ مطلب تین بیگ دس کلو والے دو بیگ پانچ کلو والے۔ دس کلو والے تین بیگز میں سے ایک بیگ کی قیمت ڈبل تھی۔ اور پانچ پانچ کلو والے بیگز کی قیمت بھی ساٹھ فیصد زیادہ تھی۔
میرا پارہ چڑھ گیا۔
میں نے فوری طور پر کمپنی کو ایک میل کی کہ مجھے آپ کی سروس پسند نہیں آئی اور آپ نے مجھے جو پراڈکٹس بھجوائی ہیں وہ میری مرضی کے بغیر بھجوائی ہیں اس کی وجہ سے مجھے بارہ پاؤنڈ کی ادائیگی زیادہ کرنا پڑی ہے۔
یہ نان پروفیشنل اور ان ایتھیکل رویہ ہے۔
انہوں نے مجھے ایک میں کی اور کہا کہ ہم آپ سے معذرت چاہتے ہیں اور آپ کو چھ پاؤنڈ کا ڈسکاؤنٹ واؤچر دیتے ہیں۔ میں نے کہا جی بالکل مجھے یہ آفر قبول نہیں
آپ مجھے میری مکمل ادائیگی کیجیے یا پھر میری منگوائی ہوئی پراڈکٹ کے ساتھ بھجوائی ہوئی چیز کو تبدیل کیجیے۔
اس کے بعد اگلی ای میل میں مجھ سے دوبارہ معذرت کی گئی اور مجھے آفر کیا گیا کہ میں چاہوں تو کمپنی میری پراڈکٹ کو تبدیل کردے گی چاہوں تو مجھے بارہ پاؤنڈ کا ڈسکاؤنٹ واؤچر دے دیا جائے گا۔
میں سوچ رہا ہوں یہ کمپنی ایک سال میں جتنا بزنس کرتی ہے اتنا میرے ملک کا سالانہ قرضہ ہے۔
اتنی بڑی کمپنی ایک پچاس ساٹھ پاؤنڈ کی شاپنگ کرنے والے کنزیومر کے حقوق کا خیال رکھ رہی ہے۔ یعنی میرے بچے مستقبل میں انسیکیورٹی کا شکار نہیں ہوں گے۔
انہیں انداذہ ہے کہ کوئی ان کا حق غصب نہیں کرے گا ن کے ساتھ کوئی غلط نہیں کرے گا۔
وسیم لیاقت

I've received 5,000 reactions to my posts in the past 30 days. Thanks for your support. 🙏🤗🎉
07/07/2024

I've received 5,000 reactions to my posts in the past 30 days. Thanks for your support. 🙏🤗🎉

04/07/2024

آج سےتیس چالیس سال پہلے دیہات میں شلوار،( جسے عرف عام میں ستھن کہا جاتا تھا،) کا رواج کم ہی ہوتا تھا۔ دھوتی چادر پہننا عام تھا، اور کسی کو ملازمت کی مجبوری سے یہ پہننا بھی پڑتی تھی تو گھر آتے ہی سب سے پہلے شلوار سے جان چھڑائی جاتی۔

سب سے زیادہ اس موئی شلوار سے تنگ پرائمری سکول کے ماسٹر ہوا کرتے تھے کیوں کہ سرکار کی طرف سے سخت ہدایات تھیں کہ دوران ڈیوٹی شلوار پہنی جائے۔ اب سرکاری احکامات کی مجبوریاں وہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں سرکار سے پالا پڑا ہے۔
لیکن جہاں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے وہاں راستہ نکالنا بھی آنا چاہیئے تو بہت سے اساتذہ نے اسکا یہ حل نکالا تھا کہ سکول میں ایک عدد شلوار ناڑا ڈال کر لٹکا دیتے تھے اور دور سے ہی کسی افسر کو آتا دیکھتے تو فورا کمرے میں جا کر شلوار کو دھوتی سے بدل دیتے۔
ہمارے ایک محترم استاد نے بھی ایک عدد سفید شلوار کمرے میں رجسٹروں کی الماری کے ساتھ کیل پہ لٹکائی ہوئی تھی۔ اب شومئی قسمت کہ کئی ماہ تک کسی افسر کو معائنہ کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ اور اس تمام عرصہ میں شلوار بھی ہر قسم کی زحمت سے بچی رہی۔ گرمیوں کی چھٹیوں سے دو تین دن پہلے ایک نابکار قسم کے افسر کو معائنہ کی سوجھی تو ٹپک پڑا اور ماسٹر صاحب کو بھی تب پتہ چلا جب افسر صاحب سکول میں قدم رنجہ فرما چکے تھے ، چھڑی پھینک فورا کمرے کو بھاگے کہ شلوار زیب تن کر کے فرائض منصبی ادا کریں جیس ہی شلوار میں دونوں ٹانگیں ڈال کر ناڑا باندھنا چاہا تو شلوار کے اندر طوفان برپا ہو گیا کیونکہ عرصہ زیادہ ہونے کی وجہ سے بھڑوں ( ہمارے ہاں پیلے ڈیموں ) یعنی بھونڈوں نے شلوار کے اندرونی علاقوں کو سرکاری زمین سمجھ کر اپنا گھروندا بنا لیا تھا۔
اسکے بعد کیا ہو اسے آپکے تخیل کی پرواز پر چھوڑتے ہیں کیوں کہ قلم میں اظہار کی تاب نہیں!!

😂😂😂

آج انگلینڈ میں جنرل الیکشنز تھے اور میں نے انگلینڈ آنے کے بعد اپنا پہلا ووٹ کاسٹ کیا، کچھ حیران کن باتوں کا تجربہ ہوا جو...
04/07/2024

آج انگلینڈ میں جنرل الیکشنز تھے اور میں نے انگلینڈ آنے کے بعد اپنا پہلا ووٹ کاسٹ کیا، کچھ حیران کن باتوں کا تجربہ ہوا جو دوستوں کے ساتھ شئیر کروں گا۔
1: پولنگ سٹیشن پر کوئی ہائی الرٹ سیکیورٹی نہیں تھی کوئی ڈھو سپاہی فرائض نجام نہیں دے رہا تھا۔
2: میں اپنی بیٹی کو جس کی عمر دس سال تھی پولنگ سٹیشن کے اندر لے کر گیا اور پوچھا کیا یہ میرے ساتھ جا سکتی ہے، عملے نے کہا ضرور لے کر جائیں ایک دن اس نے بھی اس پراسیس سے گزرنا ہے۔
3: بیلٹ پیپر کسی خاص پرنٹگ پریس کے پیپر پر پرنٹ نہیں تھا سادہ پرنٹر والے پیپر پر پرنٹ کیا گیا تھا۔
4: اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے صرف لیڈ پنسل سے کراس کا نشان لگانا تھا۔
5: کسی نے میری انگلی پر نشان نہیں لگایا کہ کہیں یہ دوبارہ نہ ا جائے۔
6: مجھ سے صرف فوٹو آئی ڈی مانگا گیا وہ شناختی کارڈ ہو پاسپورٹ ہو یا ڈرائیونگ لائسنس
7: یعنی یہ سارا سسٹم شفاف اس لیے ہے کہ عوام ایماندار ہے اور دھاندلی کو قومی اور اخلاقی جرم مانا جاتا ہے

ان کے متعلق ایک جملہ
01/07/2024

ان کے متعلق ایک جملہ

30/06/2024
ایک تازہ ہوا کا جھونکا
29/06/2024

ایک تازہ ہوا کا جھونکا

Address

Blenheim Crescent
Luton
LU31HA

Telephone

+447884987416

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when England with Wasim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to England with Wasim:

Share